سنگین دیوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چھ مہینہ بعد آج میں اپنے گاؤں واپس آیا ہوں۔ یہاں داخل ہوتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سڑک جس کے دونوں طرف ہمارا گاؤں آباد ہے اس کے ٹھیک بیچوں بیچ ایک قد آدم دیوار کھڑی ہے۔

میں اپنے گھر آ گیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے اپنا بیگ پیک ایک ٹیبل پر ڈال دیا اور اپنے بائیں ہاتھ کی کلائی سے گھڑی نکالتے ہوئے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ ارے اس کمبخت دیوار نے تو نزہت کی کھڑکی کو بھی ڈھانپ لیا۔ میں نے دل ہی دل میں کہا۔

میرے اور نزہت کے درمیان اب اینٹ اور گارے کی ا یک د یوار بھی حائل ہے۔ مجھے اچانک سے اس دیوار پہ غصہ آنے لگا۔ میرا جی چاہا کہ ایک پھاؤڑا لے کر جاؤں اور اپنی کھڑکی کے سامنے کی دیوار کو توڑ ڈالوں۔ لیکن سماج کے ذریعہ کھڑی کی گئی دیوار کو مسمار کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ میں شکست و ریخت سے دوچار ہو گیا۔ اور مجھے گھٹن کا احساس ہونے لگا۔

نزہت پہ ایک بار بھی نظر نہیں پڑی۔ اس سے ملاقات کے تمام راستے مسدود ہیں۔ پتہ نہیں وہ کہاں ہوگی؟ کس حال میں ہوگی؟ میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی؟

گو نزہت میری پڑوسن تھی لیکن اس سے پہلی ملاقات ایک ٹیوشن سینٹر میں ہوئی جہاں ہم دونوں کیمسٹری پڑھنے جایا کرتے تھے۔ ایک رسمی تعارف سے ہم دونوں کے بیچ ایک تعلق بنا اور رفتہ رفتہ یہ تعلق، تعلق خاطر میں تبدیل ہو گیا۔

وہ پڑھائی میں مجھ سے بہتر تھی۔ مجھے کیمسٹری کے نیومیریکل میں کبھی کوئی دقت پیش آتی تو وہ میری مشکل بآسانی حل کر دیا کرتی تھی۔

ہم دونوں ٹیوشن سینٹر وقت سے ذراپہلے پہنچ جایا کرتے اورکیمسٹری سمجھنے سمجھانے کے ساتھ ساتھ آپسی بونڈ کو بھی مضبوط کرنے کی سعی کرتے تھے۔ کلاس ختم ہونے کے بعد بھی ہم دونوں ساتھ ساتھ گھر کو روانہ ہوتے اور راستہ میں بھی بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا۔

نزہت روایتی معنوں میں خوبصورت نہ تھی لیکن وہ ایک دلکش شخصیت کی مالک تھی۔ اس کے چہرے پہ ملاحت تھی۔ ناک نقشہ انتہائی متناسب تھا۔ قد دراز تھا نہ پست۔ طبیعت میں شوخی تھی نہ کم آمیزی۔ غرض شکل و شباہت، قد و قامت اور طرز و ادا ہر چیز سے اعتدال نمایاں تھا۔

نزہت سے آشنائی کیا ہوئی میری زندگی کا مرکز و محور تبدیل ہو گیا تھا۔ میری تمام سرگرمیوں کا حاصل یہ ٹھہرا کہ کیسے اس سے ایک ملاقات ہو جائے یا کم از کم اس کی ایک جھلک ہی دیکھ لوں۔ خواب ہو یا عالم بیداری، خلوت ہو یا انجمن، میں بس اسی کے خیال میں گم رہتا تھا۔ ہر حسین شے اور ہر دلکش منظر میں اسی کا چہرہ دکھائی دیتا تھا۔ اس سے ملاقات کے وقت میرا دل مسرت اور شادمانی کے سمندر میں غوطہ کھانے لگتا تھا۔

نزہت سے راہ و رسم پیدا ہونے کے بعد قدرت کی تمام نشانیوں میں ایک عجیب سی دلکشی محسوس ہونے لگی تھی۔ کئی بار تو ایسا لگا کہ آج سے پہلے یا تو میں مردہ تھا یا یہ سورج چاند تارے، پیڑ پودے، کھیت کھلیان، ندی تالاب، چرند پرند سب بے جان تھے۔

ہماری محبت پروان چڑھ رہی تھی کہ وہی ہوا جو محبت کی داستانوں میں اکثرہوتا ہے۔ اسے زمانے کی نظر لگ گئی۔ ایک دن جب ہم دونوں ٹیوشن سینٹر سے واپس آرہے تھے تو جس سڑک پر ہمارا گھر واقع تھا وہاں پہنچنے سے پہلے ہم دونوں حکمت عملی کے تحت الگ الگ ہو گئے، ہمیشہ کی طرح۔ عین اسی وقت مجھے اپنے ہے پڑوس کے تین لوگ مل گئے۔ یہ تینوں عمر میں مجھ سے بڑے تھے۔ ان میں سے ایک تو میرا رشتہ دار تھا۔

میرے رشتہ دار نے نہایت حقارت آمیز لہجے میں مجھ سے کہا: ’کارے جولہا کی بیٹی کے ساتھ گھومائی تاڑا۔ لاج شرم سب کھتم۔ سارا شیخ کے بدنام کرے کے ارادہ ہو؟‘

’بھیاپڑہل لکھل آدمی ہو کے ایسن بات؟‘ میں نے کہا۔

’جارے بکیتی نہ کرا۔ پڑھل لکھل کے کا مطلب؟ تو کا چا ہا تا رے کی جولہا کی بیٹی سے شادی کا کے اپن باپ دادا کے نام خراب کا لو۔‘

میں نے دل ہی دل میں کہا کہ ان جیسے لوگوں سے بحث کرنا فضول ہے۔ اور میں سلام کرکے وہاں سے رخصت ہو گیا۔

اوریوں مجھے پتہ چلا کی ہم لوگ زمانے کی رڈار پہ آچکے ہیں۔

ایسے ہی ایک دفعہ اور ہوا۔ میں اپنی سائیکل لے کر گھر سے باہر کسی کام سے نکلا تھا۔ ابھی کچھ ہی دور گیا تھا کہ ایک بوڑھے میاں نے رکنے کا حکم صادر فرمایا۔

’ماسٹر فضل وارث کے بیٹاہونا جی؟‘
’جی۔‘ میں نے ادب کے ساتھ جواب دیا۔
’کیا نام ہے تمہارا؟‘
’جی میرا نام فراست ہے۔‘
’گاؤں میں تمہارے باپ کی عزت ہے اسے مٹی میں نہ ملاؤ۔‘
’کیا بات ہو گئی، چچا؟‘ میری تیوری پہ بل پڑ گیا۔
’نہیں۔ تم خود ہی سمجھدار ہو۔‘ یہ کہ کر بوڑھے میاں کنارے کو ہو لیے۔

میرا اور نزہت کا ٹیوشن چلتا رہا اور ادھر گاؤں میں ہمارے بارے میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں چلتی رہیں۔ ایک دن یہ ہوا کہ کسی نے میرے باپ کو جا کرکہا کہ ’صاحبزادے تو گل کھلا رہے ہیں اور وہ بھی پڑوس کی جولاہن کے ساتھ۔‘

میرے باپ انتہائی کڑیل مزاج کے آدمی ہیں اور ذات پات کے معاملے میں کسی مصلحت یا مصالحت کے قائل نہیں ہیں۔ یہ بات سنتے ہی چراغ پا ہو گئے۔ میری خبرگیری سے پہلے وہ لٹھ لے کر نزہت کے گھر جا دھمکے اور اس کے باپ کا نام لے کر تیز تیز آواز میں پکارنے لگے : ’صغیر! اے صغیر! باہر آؤ۔‘

جب نزہت کے باپ جو خود ایک پرائمری اسکول میں ٹیچر ہیں اپنے بڑے لڑکے کے سا تھ باہر آئے تو میرے باپ نے انہیں سخت سست کہنا شروع کر دیا۔

’اپنی بیٹی کو سنبھال کر نہیں رکھتے ہو۔ اسی لئے پڑھا رہے ہو تاکہ شیخ کے گھر کی بہو بن سکے۔ تمہارا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ ۔ ۔‘

’بشارت صاحب! کیا اناپ شناپ بولے جا رہے ہیں؟ بات کا کوئی سر پیر تو ہونا چاہیے۔ اور خبردار جو میری بیٹی کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تو۔‘ نزہت کے ابا بگڑ کر بولے۔

میرے باپ کو طیش آ گیا۔ انہوں نے اپنی لاٹھی چلا دی۔ لاٹھی کے وار کو نزہت کے بھائی نے اپنے ہاتھوں سے روک لیا اور پھر دھینگا مشتی شروع ہو گئی۔ اسی بیچ میرے باپ کا پیر پھسلا اور وہ اپنے بائیں ہاتھ کے بل زمین پر گر پڑے۔ نتیجتاً ان کا بایاں ہاتھ ٹوٹ گیا۔

میرے باپ کا ہاتھ کیا ٹوٹا نزہت سے میرا رابطہ یکسر ٹوٹ گیا۔ دامودری گاؤں سے مجھے نکالا دے دیا گیا۔ اور میری رہائش کا انتظام مظفر پور شہر کے کچی سرائے محلہ کی مسجد کے نزدیک واقع ایک ہاسٹل میں کروا دیا گیا۔ گھر والوں نے میرے بارے میں یہ طے کیا کہ میراداخلہ لنگٹ سنگھ کالج میں کر وا دیا جائے گا۔

آج میں گاؤں آیا تو پتہ چلا کہ شیخ اور انصاری برادریوں کے بیچ کی لڑائی ایک بڑا روپ دھارن کر چکی تھی۔ یہ دیوار اس بات کی گواہ ہے۔

گاؤں میں انصاری برادری کے کسی فرد کے یہاں حال ہی میں شادی تھی۔ ایک دوسرے گاؤں سے بڑے دھوم دھام کے ساتھ بارات آئی تھی۔ باجہ گاجہ، ڈھول تاشہ، آتش بازیاں، گانے بجانے والوں کی ایک ٹولی نے گاؤں کی رونق میں چار چاند لگا دیا تھا۔ دولہا اور اس کے کچھ قریبی لوگ تین چار گھوڑوں پہ سوار ہو کر آئے تھے۔

شیخ برادری کے بڑے بوڑھوں کو انصاری لوگوں کی ٹھسک ایک آنکھ نہ بھائی۔ انہوں نے اسے فضول خرچی اور بے راہ روی قرار دیا اور جم کر اس کی مخالفت کی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ آپس میں لاٹھی لٹھول ہو گئی۔ کچھ کے سر پھوٹے۔ کچھ کے ہاتھ ٹوٹے۔ دونوں فریق نے تھانے جاکر رپٹ لکھوائی۔

اس واقعہ کے بعد دامودری گاؤں دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ ایک حصہ شیخ ٹولی کہلایا اور دوسرا انصار نگر کے نام سے موسوم ہوا۔ کچھ لوگوں نے چین کا سانس لیا۔

میرے دوست ابصار نے کہا کہ ’یار ٹھیک ہی ہوا کہ دونوں ذات والے الگ الگ ہو گئے ورنہ آئے دن ایک قصہ ہوتا تھا اور ایک نئے جھگڑے کی بنا پڑتی تھی۔ معمولی معمولی باتوں پر لاٹھیوں کو چمکایا اور گنڈاسوں کو صیقل کیا جانے لگتا تھا۔‘

’باپ رے دیکھا تا لیکا کے تھپڑ مار دے لکھ۔ ایکرا ہاتھ میں کوڑھ پھوٹ جاؤ۔‘ ایک ذات والے کبھی واویلا کرتے۔

’دیکھ تا، ہمرا مرگی اور بطک نہ لوکا ئی تھو۔ اکھینئے چورائیلے ہو۔ کا جانے کہیا مرتئے سب۔‘ کبھی دوسری ذات والے ہاہا کار مچاتے۔

گاؤں کی مسجد انصار نگر میں چلی گئی۔ ویسے بھی یہ جگہ عبادت خانہ کم اور اکھاڑہ زیادہ تھی۔ دراصل مسجد پہلے ہی دو حصوں میں منقسم تھی۔ دائیں جانب شیخ لوگوں کی جگہ متعین تھی اور بائیں طرف انصاری برادری کے لوگ نماز پڑھا کرتے تھے۔ مسجد کی تعمیر میں زیادہ تر سرمایہ انصاری لوگوں کا لگایا ہوا تھا۔ امام اور مؤذن بھی اسی برادری کے تھے اور نمازیوں کی اکثریت بھی انصاری لوگوں پر مشتمل تھی۔ لہٰذاشیخ ٹولی میں اپنی مسجد بنانے، اپنے بچوں کو حافظ بنانے اور اپنے نوجوانوں کو مازی بنانے کی مہم زوروں پہ ہے۔

جب انصاری برادری کے افراد کی دینداری، خوشحالی اور تعلیم کا ذکر آتا ہے تو شیخ برادری کے بڑے بوڑھے کا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ ’ہاں، ان کے یہاں یہ سب چیزیں تو آ گئی ہیں مگر آج بھی وہ لوگ تہذیب و ثقافت کے معاملہ میں کورے ہیں۔‘ کچھ زیادہ مذہبی قسم کے لوگ اس کی توجیہ یوں فرماتے ہیں : ’ویسے بھی جب بڑی کنکریاں نیچے اورچھوٹی کنکریاں اوپر آ جائیں تو یہ قرب قیامت کے آثار میں سے ہے۔‘

خیر، مجھے آئے ہوئے آج تیسرا دن ہوگیا نزہت پہ ایک بار بھی نظر نہیں پڑی۔ میں اپنے کمرے میں ٹہلتے ٹہلتے کھڑکی کے قریب جا کر کھڑا ہو جاتا ہوں اور دیر تک اس منحوس دیوار کو یوں تکتا رہتا ہوں گویا اپنی تیز نظروں سے اس میں چھید کر دوں گا۔ کبھی کبھی میں بھاگ کر اپنی چھت پہ چلا جاتا ہوں کہ شاید وہ بال کھولے سر بام کھڑی ہو۔ مگر حیف، اس دروبام پہ تو خاک برس رہی ہے۔ اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں۔

کل میں ٹیوشن سینٹر بھی گیا تھا مگر پتہ چلا کہ نزہت نے وہاں جانا بند کر دیا ہے۔ آخر وہ گئی کہاں؟ کہیں اسے اس کے گھر والوں نے اپنے کسی رشتہ دار کے یہاں تو نہیں بھیج دیا؟ کہیں اسے اپنے ہی گھر کے کسی کمرے میں محبوس تو نہیں کر دیا گیا ہے؟ کہیں اس کے باپ بھائی یا ماں نے اسے جسمانی یا ذہنی اذیت تو نہیں پہنچائی ہے؟ بھانت بھانت کے بچھو میرے دماغ کو ڈس رہے ہیں۔ میرے دماغ میں ورم آ چکا ہے۔

اسی اثنا میں اچانک بجلی کوندی اور لوح ذہن پہ لکھی ہوئی ایک عبارت روشن ہو گئی: سماج کی یہ دیوار اونچی ضرور ہے مگر ناقابل عبور تھوڑے ہی ہے۔ بس کچھ دنوں کا صبر درکار ہے۔

میں بذریعہ بس مظفر پور آ گیا۔

آج جمعہ کا دن ہے۔ میں نے غسل کیا، کرتہ پاجامہ زیب تن کیا، ٹوپی لگائی، خوشبو استعمال کیا اور شہر کی جامع مسجد آ گیا۔

مولانا صاحب نہایت فصاحت کے ساتھ تقریر فرمارہے ہیں : ’خدا کا شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ آپ دیکھیں کہ برادران وطن کے یہاں پیدائش کی بنیاد پر انسانوں میں تمیز اور تفریق روا رکھی جاتی ہے۔ لوگ مختلف خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ کوئی اونچی ذات والا ہے۔ کوئی نیچی ذات والا ہے۔ اور کوئی اچھوت ہے۔ لیکن ہم لوگ ذات پات کی لعنت سے پاک ہیں۔ ہمارا مذہب ہمیں مساوات کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے یہاں چھوت چھات کا کوئی کانسپٹ نہیں ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

تمام انسان ایک ہی آدم اور حوا کی اولاد ہیں۔ ہمارے یہاں کوئی شریف اور رزیل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری قوموں کے دبے کچلے لوگ ہمارے مذہب میں پناہ لیتے ہیں۔ ’

بلند آہنگ تقریر جاری ہے اور میں بیک وقت اضطراب، افسردگی اور بدمزگی سے دوچار ہوں۔ مجھے صرف دیوار ہی دیوار نظر آ رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •