سرائیکی حقوق کی تحریک کا ایک جائزہ


2017 کی مردم شماری کے مطابق کم از کم ڈھائی کروڑ پاکستانی شہری سرائیکی زبان بولتے ہیں۔ زیادہ تر سرائیکی آبادی جنوبی پنجاب، جنوبی پختونخوا اور سندھ میں مقیم ہے۔ سرائیکی خطہ ایک قدیم تاریخ اور ثقافت کا حامل ہے لیکن بدقسمتی سے سیاسی، معاشی اور تعلیمی لحاظ سے انتہائی پسماندگی کا شکارہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس خطے کی سب سے بڑی محرومی شناخت کا بحران ہے۔ سرائیکی کو پنجابی کا لہجہ قرار دے کر اس خطے کو سیاسی اور ثقافتی طور پر یتیم رکھا گیا ہے۔

سرائیکی زبان پنجابی سے کافی مماثلت ضرور رکھتی ہے لیکن یہ ایک مکمل طور پر علیحدہ زبان ہے۔ کسی بھی زبان کی شناخت کے لئے اس زبان میں ادب کی تخلیق ضروری ہے اور سرائیکی زبان اس حوالے سے کافی خوش قسمت رہی ہے۔ اسے شاکر شجاع آبادی اور مخمور قلندری جیسے شعراء ملے ہیں۔ اس کے علاوہ ناول اور افسانہ نگاری میں بھی بڑے بڑے نام ہمارے سامنے ہیں۔ شناخت کے بحران کے بعد سب سے بڑا مسئلہ سیاسی ہے۔ بدقسمتی سے سرائیکی خطے کو کوئی مخلص سیاستدان نہیں ملا۔

یوسف رضا گیلانی، وزیراعظم پاکستان، شاہ محمود قریشی، وزیر خارجہ کے عہدوں تک پہنچنے کے باوجود اس خطے کے مسائل سے لاتعلق رہے۔ ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ پچھلی دو دہائیوں میں سرائیکی تحاریک وجود میں آئیں اور اس مسئلے کو سب کے سامنے رکھا۔ ان تحاریک میں میرے کافی عزیز دوست شامل ہیں اور میں بطور سرائیکی ان کی خدمات کا معترف ہوں۔ اب ان تحاریک کا جائزہ لیا جائے تو ان سب کے مقاصد کافی واضح ہیں اور تقریباً سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سرائیکی حقوق کا مسئلہ سرائیکی صوبے کے حصول کے بغیر ممکن نہیں۔

بات یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن کیا تمام موجودہ سرائیکی قوم پر ست تحریکیں درست سمت میں جا رہی ہیں اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے اور قوم پرست تحریکوں کا غور سے مشاہدہ کیا جائے تو چند باتیں سامنے آتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ تحریک کاسیاسی اثر بہت ضروری ہے۔ کوئی بھی تحریک اگر سیاسی طور پر غیر موثر ہے تو وہ بالکل بے جان ہے۔ بدقسمتی سے سرائیکی تحریک کا سیاسی اثر بہت کم ہے۔ جاگیردارانہ نظام کی وجہ سے اکثر حصوں پر وڈیروں کا قبضہ ہے اور کوئی موثر سیاسی آواز منظر عام پر نہیں آئی۔

سیاسی اثر نہ ہونے کی وجہ سے حکمرانوں کو اس تحریک میں دلچسپی نہیں ہے اور مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ سیاسی ہونے سے مراد اپنے حقوق کا شعور، مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کی جدوجہد ہے۔ سیاسی شعور کی آگہی کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ایک بڑے پیمانے پر تعلیمی بیٹھکوں کا اہتمام کیا جائے۔ جب تک تمام نوجوان اپنے حقوق اور مسائل سے نابلد ہیں تحریک بے جان رہے گی۔ تمام سرائیکی رہنماوؤں کو چاہیے کہ اپنے اپنے علاقوں میں نوجوانوں کو اکٹھا کر کے باقاعدگی سے سٹڈی سرکل منعقد کریں اور ہر نشست میں ایک مخصوص موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی جائے۔

اس سے نوجوانوں میں کتب بینی، تنقیدی سوچ اور حقوق کا شعور بیدا ر ہوگا۔ کسی بھی تحریک کے لئے سب سے ضروری چیز مخلص اور دوراندیش لیڈرشپ ہے۔ سرائیکی تحریک میں اس کا سب سے بڑا فقدان ہے۔ ایک گاؤں میں رہنے والے عام سرائیکی کے لئے کوئی ایسی لیڈر شپ یا مثال نہیں جس کے نقش قدم پر چل کر وہ اپنے خطے کی خدمت کر سکے۔ لیڈرشپ کے بغیر جدوجہد کی کوئی سمت نہیں رہتی اور وہ ایک کٹی پتنگ کی مانند ہوا میں بھٹکتی رہتی ہے۔

سرائیکی خطہ پاکستان کے لئے بہت اہم ہے اس کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس خطے کی شناخت کو تسلیم کرے اور اس کے مسائل کو حل کرے۔ سرائیکی عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھیں۔ کوئی بھی تحریک سیاسی اثر، حقوق کے شعور اور لیڈرشپ کے بغیر بے اثر رہتی ہے۔ اگر سرائیکی رہنما ان باتوں کو سامنے رکھ کر جدوجہد کریں تو شاید منزل جلد حاصل ہو جائے۔

Facebook Comments HS