معجزات سامری جادوگر کی جادوگری نہ بن جائیں
پاکستان ایک ایسا معجزاتی ملک ہے کہ خود اس کا وجود میں آنا، پھر دولخت ہوجانا، پھر خراب ترین اقتصادی بد حالی اور اور امن و امان کی صورت حال کے باوجود اس کا بر قرار رہنا، پھر اچانک باقی ماندہ ملک میں ایک اور صوبہ تشکیل پاجانے کے باوجود جغرافیائی نقشے میں کسی 5 ویں صوبے کا کوئی ذکر ہی موجود نہ ہونا، پھر سروے آف پاکستان کے نقشے میں خود بخود کشمیر کی وادی کا ایک بڑا حصہ پاکستان سے باہر دکھایا جانا اور اچانک پاکستان کا ایک نیا نقشہ سامنے آنا جس میں نہ صرف کشمیر کے سارے کھوئے ہوئے حصوں کا ابھر کے نظر آنے لگنا، یہاں تک کہ جن خطہ زمین سے پاکستان کی نئی نسل آگاہ تک نہیں تھی کہ 1947 کی تقسیم ہند کے نتیجے میں یہ سارے خطے پاکستان کا حصہ قرار دیے گئے تھے، وہ سب کے سب شامل ہوجانا جیسے معجزات کا ظہور پاکستان میں ہی ہوتا دیکھا گیا ہے دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا معجزہ تو معجزہ، کسی پیر کی کرامت تک ایسا منظر کبھی پیش کرتی نظر نہیں آ سکی ہے۔
جو ملک معجزات در معجزات سے بھرا پڑا ہو وہاں اگر پاکستان کے سب سے بڑے منصف کی اپنی ”ذاتی“ آنکھ کسی شراب کی بوتل میں لبالب بھری شراب پر نظر بھر کر پڑ کر اسے شہد میں تبدیل کردے اور ایک اداکارہ کے پاس سے شراب کی دوبوتلوں کے بر آمد ہوجانے کے 9 سال بعد وہی عدالت جس نے دو بوتل شراب کی بر آمدگی پر از خود نوٹس لینے کے فیصلے پر یہ فیصلہ سنایا ہو کہ جب ان بوتلوں کو دوبارہ دکھائے جانے کے لئے سر بمہر ٹرنک کا تالہ کھول کر دیکھنا چاہا تو وہ شراب سمیت ہوا میں تحلیل ہو چکی تھیں اس لئے ایسی معتبر ہستی جس کے پاس کبھی شراب سے بھری دوبوتیلں دیکھی گئیں تھیں اس کی پردہ داری اگر قدرت کو اس حد تک مطلوب ہے کہ ان کو فضاؤں میں تحلیل کردے تو ہم گناہگار لوگ کون ہوتے ہیں کہ اسے ملک کے قوانین کے مطابق کوئی سزا سنائیں۔
ایک جانب اس بات کا غلغلہ ہے کہ ملک میں جرائم مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اور دوسری جانب انصاف کا یہ حال ہے کہ شراب یا تو شہد بن جاتی ہے یا 2 بوتل شراب کی برآمدگی کا فیصلہ 9 برس کا فاصلہ طے کر کے سنایا جاتا ہے، کئی کئی برس بعد جن مجرموں کو عدالت رہائی کے پروانے جاری کرتی ہے وہ بہت پہلے ہی تختہ دار پر کھینچے جا چکے ہوتے ہیں، عدالت کے اندر قتل ہو جاتے ہوں، مجرم عین قتل کے وقت گرفتار بھی کر لئے جاتے ہوں اور قاضی وقت ان کے خلاف ثبوت طلب کر رہا ہوتا ہو، ماڈل ٹاؤن کے قاتل ہزاروں کیمروں میں محفوظ ہوں، احکامات دینے والے آنکھوں کے سامنے ہوں، حافظین سر عام بے دردی کے ساتھ قیمہ بنا دیے جاتے ہوں، باپ کاری کہہ کر اپنی بیٹی کو آگ میں جھونک چکا ہو، جیتے جاگتے میاں بیوی کو اینٹوں کے بھٹے میں پورے گاؤں کے سامنے بھون دیا جاتا ہو، میر مرتضیٰ بھٹو کو سرکاری اہل کار بیچ سڑک پر گھیر کر مار رہے ہوں، سانحہ ساہیوال کا واقعہ سر عام ظہور پذیر ہوا ہو اور سانحہ بلدیہ فیکٹری میں 3 سو زندہ انسانوں کو کوئلہ کر دیا ہو لیکن تحقیقاتی ادارے ثبوت تلاش کرنے میں ناکام ہوں تو پھر اس بات کی توقع رکھنا کہ پاکستان میں جرائم کم ہو جائیں گے، احماقانہ سوچ کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
بیشمار جرائم ایسے ہیں جن میں تاخیر عقل و سمجھ سے باہر ہے۔ قتل خواہ عام انسانوں میں سے کوئی کرے یا سرکاری اہل کاروں کے ہاتھوں ہو۔ گرفتاری پولیس کرے یا ایجنسیاں کسی کو اٹھالیں، گرفتار کرلینے کے بعد کسی کو ہلاک کر کے اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی کی جا چکی ہو جس میں مرنے اور مارنے والے افراد صاف نظر آ رہے ہوں، کوئی باپ، بھائی یا شوہر پورے پورے خاندان کو تیز دھار آلے سے ذبح کر جائے اور موقعہ واردات پر گرفتا بھی ہو جائے یا معصوم بچیوں کو ورغلا کر لیجانے والا، ان کے ساتھ درندگی بھی کرے اور پھر ان کو ہلاک بھی کر دے، سی سی ٹی وی کی مدد سے اس کی گرفتاری بھی عمل میں آ جائے پھر بھی عدالت برس ہا برس ثبوت مانگتی رہے اور درندے آزاد ہوتے رہیں تو معاشرہ مجرموں سے کس طرح پاک صاف ہو سکتا ہے۔
بے شک جن سفاکین کا علم نہ ہو پائے اور محض شک کی بنیاد پر ان کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہوں ان کو اپنی بے گناہی کا موقع دیا جانا عین انصاف کے مطابق ہے لیکن ایسے تمام درندے جن کو موقعہ واردات پر ہی گرفتا کر لیا جائے ان کو اگر ان کے گھروں کے دروازوں پر بنا مقدمہ چلائے قتل کیا جاتا رہے تو شاید ہی کسی کی ہمت جرم کرنے کی ہو سکے۔
جب تک اس معجزاتی ملک میں شراب کا شہد بن جانا، شراب کی بوتلوں جیسے مقدمات کا فیصلہ کرنے میں نو نو سال لگ جانا، آئین و قانون کو توڑنے والوں کا اندرون اور بیرون ملک عیش و آرام سے زندگی گزارنا، سفارت خانوں تک کا فروخت ہوجانا، جزیروں، لندن میں فلیٹوں، معمولی پولیس انسپکٹروں کا دوبئی میں جائیدادوں اور ملک کے خزانوں کو لوٹنے والوں پر برسوں مقدمات کا چلتے رہنے کا سلسلہ جاری رہے گا اس وقت تک کوئی کرنل جنرل ہو، سیاستدان ہو یا ڈیم والا چیف جسٹس، کسی کا کا کچھ نہ بگڑ سکے گا البتہ پاکستان جس تیزی کے ساتھ تباہی و بربادی کی جانب گامزن ہے، اس کی رفتار پر شاید ہی قابو پایا جا سکے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ شراب شراب ہی رہے اورشراب کی بوتیلں ہوا میں تحلیل نہ ہوں ورنہ کچھ پتا نہیں کہ معجزات کب سامری جادو گر کے کالے عمل میں تبدیل ہو جائیں۔


