حضرت امام حسینؓ کی شہادت اور دو زاویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میں اس نتیجے پہ پہنچی ہوں کہ حضرت امام حسین ابن علی کی شہادت دنیا کے ہر مذہب کے لئے ہی غیر معمولی اور مثالی ہے۔ اس شہادت کے دو غیر معمولی پہلو ہیں

نمبر 1۔ انہوں نے بہادری کی انتہا کردی، حق بات پہ ڈٹے رہے لیکن باطل کو کسی صورت نہ اپنایا، نہ کوئی مطلب پرستی کا مظاہرہ کیا، نہ کوئی اپنے مفاد کی بات کی، نہ مال و دولت کی، بہادری کے ساتھ حق کے لئے ڈٹے رہنا اور آخر تک اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹ کر پوری دنیا کے لئے مثال اور تمام مسلمانوں کے لیے فخر کا باعث بن کر ایسے بادشاہ کا رتبہ حاصل کیا کہ بغیر تاج و کرسی کے ہی تمام دنیا پہ قیامت تک کے لئے بادشاہت حاصل کرلی کہ رہتی دنیا تک ان کی حکومت تمام لوگوں کے دلوں پر رہے گی۔

ان کے ایسے اعمال اور اقدام کی وجہ سے لوگوں کو ان پر فخر ہے اور اس پر بھی فخر ہے کہ نبی کے نواسے نے دین کو بچا کر جام شہادت نوش فرما لیا۔

نمبر :2 یزید کی جانب سے انہیں ظلم کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے ساتھیوں اور نبی کے پورے گھرانے کو شہید کرکے ظلم سے بھرپور تاریخ رقم کی۔ ظالم اور مظلوم کے اس معرکے میں یزیدی ظالم و جابر بنے رہے، اور حضرت امام حسین اور ان کا گھرانہ جس میں معزز خواتین و بچے بھی شامل تھے وہ سب کے نہایت مظلوم تھے، ان کے حق پہ ہونے کی وجہ سے ان پہ بے رحمی اور ظلم کی انتہا کی گئی اور طاقت کے نشے میں دھت یزیدیوں نے بالکل بھی مظلوم و معصوموں پہ رحم نہ کھایا۔

اسی ظلم کی اندھیری تاریخ میں یزیدیت مردہ باد ہوئی، ظلم طاقتور ہو کر بھی میدان میں ہی شکست پا گیا اور مظلوم شہادت پاکر بھی تاحیات بادشاہت پہ قیام پذیر ہوئے جن کو نہ کوئی تاریخ سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی ہمارے دلوں سے۔

میرے مندرجہ بالا نظریہ کے تحت جو لوگ حق و باطل کی جنگ کے زاویئے سے دیکھتے ہیں اور حضرت امام حسین اور ان کے گھرانے کو حق پرست ہونے پہ، ایسی شہادت پانے پہ فخر محسوس کرتے ہیں وہ اس زاویے سے بالکل درست ہیں اور ان کا حق ہے کہ وہ رہتی دنیا تک ایسی عظیم ہستی کے عظیم اقدام پہ فخر و رشک کریں۔

اور جو لوگ ظالم و مظلوم کی جنگ کے زاویے سے دیکھتے ہیں ان کو حق ہے کہ وہ مظلوم کو مظلوم جانیں اور ظالم کو لعنت بھیج کر مظلومیت کو دل سے محسوس کرتے ہوئے نم دیدہ رہیں۔ بے شک ظالم و مظلوم کی جنگ میں حضرت امام حسین اور ان کا معزز گھرانہ رہتی دنیا تک تاریخ اور دلوں میں مظلوم ہی جانا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •