انٹرنیٹ پر وقت ضائع کرنے سے کیسے بچا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سوشل میڈیا ڈسٹریکشن (خلفشار) سے متعلق انٹرنیٹ پر ہزاروں آرٹیکلز موجود ہیں کہ کیسے ہم خود کو ان سوشل میڈیا سائٹس سے دور رکھ سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم آج بھی اپنا اتنا ہی وقت ان سائٹس پر ضائع کر رہے ہیں۔ آج بھی لوگ گھنٹوں بیٹھ کر فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اور ان آرٹیکلز میں جو بھی طریقے بتائے گئے ہیں درحقیقت ہم ان طریقوں پر بمشکل چار دن ہی عمل کر پاتے ہیں اور پانچویں دن ہم اپنی پرانی روش پر پھر سے لوٹ آتے ہیں۔ پر میرے پاس اس مسئلہ کا ایک گارنٹی شدہ حل ہے جو آپ کا ذرا سا بھی وقت ضائع نہیں ہونے دے گا۔

سننا چاہیں گے؟

سیل فون توڑ کر پھینک دیں۔ لیکن دیکھا جائے تو یہ بھی ایک جز وقتی حل ہی ہے۔ کیونکہ آج کی تاریخ میں سیل فون اتنا اہم ہے کہ ہم توڑ کر پھینک نہیں سکتے اور دوسری بات اگر توڑ کر پھینک بھی دیتے ہیں تو آج کے دور میں فون اتنا سستا ہے کہ پھر سے ہم اگلے مہینے خرید لیں گے۔ تو اس تحریر میں ہم یہ بات نہیں کریں گے کہ کیسے ہم خود کو ان سائٹس پر وقت ضائع کرنے سے محفوظ کر سکتے ہیں۔ بلکہ ہم یہ جانیں گے کہ ان سائٹس سے ہم ڈسٹریکٹ ہی کیوں ہوتے ہیں؟ آخر کیا ہوتا ہے ان سائٹس میں جو ہمیں ان کو باربار کھولنے پر مجبور کردیتا ہے؟ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ گئے کہ ہم ڈسٹریکٹ / خلفشار کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں تو کیسے ڈسٹریکٹ نہیں ہونا وہ آپ خود ہی پتا کر لیں گے۔

پہلی چیز جو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ممکنہ طور پر پورا کا پورا انٹرنیٹ ہی کسی نشے کی لت کی مانند ہے جسے ڈیزائن ہی اس طرح کیا جاتا ہے کہ ہم اسے مجبوراً استعمال کریں۔ بلاشبہ مواد بھی اہمیت کا حامل ہے۔ جو سائٹس زیادہ دلچسپی کی حامل ہوتی ہیں وہ زیادہ نشہ آور ہوتی ہیں اور جو کم دلچسپی کی حامل سائٹس ہیں ان کو کم استعمال کیا جاتا ہے ۔ مگر دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی سرفہرست بیس سائٹس، وہ انسٹاگرام ہو، یوٹیوب ہو، ٹمبلر یا پھر ٹیوٹر سب کی سب نشہ طاری کر دینے والی ہیں۔ حتٰی کہ وکی پیڈیا اور ایمازون بھی نشہ آور ہو سکتی ہیں۔ لیکن حیران کن طور پر مسئلہ ان ساری ویب سائٹس کے ساتھ نہیں ہے کچھ تین سے چار ہی ویب سائٹس ہیں جہاں ہم اپنا وقت ضائع کرتے ہیں جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب وغیرہ۔

میں گوگل کو کیوں نشہ طاری کر دینے والی سائٹس میں شمار نہیں کر رہا؟ دیکھا جائے تو گوگل انٹرنیٹ کے تالے کی چابی ہے یا پھر اسے انٹرنیٹ کا بلند دروازہ کہہ لیجیے۔ وہاں آپ جو چاہو گے وہ ملے گا۔ جس چیز کی تصویر چاہیے اس چیز کی تصویر ملے گی، دلچسپ مقامات، پیارے چرندپرند، اداکار، اداکاراؤں سے لے کر فحش مواد تک سب۔ اور یہ سب آپ کو اتنی مقدار میں ملے گا کہ آپ پورا دن بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں پر ایسا تو کوئی بھی نہیں کرتا۔

کچھ لوگ کہیں گے کہ گوگل سماجی رابطے کی سائٹ نہیں اس وجہ سے لوگ ایسا نہیں کرتے۔ فیس بک، انسٹاگرام تو سماجی رابطے کی سائٹس ہیں وہاں ہمارے دوست ہیں جن سے ہم بات چیت کرتے ہیں۔ تو اس حساب سے تو یوٹیوب بھی سماجی رابطے کی سائٹ نہیں تو ہم وہاں کیوں پھنس جاتے ہیں؟ لنکڈ ان بھی ایک سوشل میڈیا کی سائٹ ہے وہاں پر کیوں کوئی اپنا وقت ضائع نہیں کرتا؟ آپ انسٹاگرام میں تصاویر دیکھتے ہیں، ایک اور سائٹ ہے ”پنٹیرسٹ“ پتا نہیں آپ میں سے کتنوں نے اس سائٹ کو استعمال کیا ہے۔

اس میں بھی آپ کو منفرد اور جدید تصاویر ملیں گی اور ایسی تصاویر ملیں گی جو گوگل پر بھی شاید نہ ملیں پر یہاں پر کوئی اپنا وقت ضائع نہیں کرتا۔ اور اس کی صرف ایک وجہ ہے وہ یہ کہ جب بھی ہم گوگل، ایمازون، لنکڈ ان اور مزید ایسی سائٹس جہاں ہم اپنا وقت ضائع نہیں کرتے، ان کو استعمال کرنے سے پہلے ہمیں درحقیقت پتا ہوتا ہے کہ ہم اس سائٹ کو کیوں استعمال کر رہے ہیں۔ آپ جب بھی گوگل پر جاتے ہیں آپ کو پتا ہوتا ہے کہ آپ کو کیا تلاش کرنا ہے، آپ جب بھی ایمازون یا دراز پر جاتے ہیں آپ کو پتا ہوتا ہے کہ آپ کو کیا خریدنا ہے۔ لنکڈ ان ہم جب بھی استعمال کرتے ہیں تو پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں کرتے ہیں۔

پر جب ہم فیس بک، انسٹاگرام او ر یوٹیوب کو وزٹ کرتے ہیں تو زیادہ تر وقت ہمیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم وہاں جا کیوں رہے ہیں۔ بس یونہی چلے جاتے ہیں اور جب آپ کو خود ہی پتا نہیں کہ اس سائٹ سے آپ کو کیا چاہیے تو اس سائٹ کی جو کوڈنگ ہوتی ہے جسے ایلگورتھم کہا جاتا ہے، وہ آپ کے لیے فیصلہ کرتی ہے کہ آپ کو کیا چاہیے اور جب وہ ایلگورتھم آپ کے لیے فیصلہ کرتی ہے تو وہ کمپنی کے فائدے کے مطابق ہوتا ہے۔ اورکمپنی کا فائدہ اس میں ہے آپ گھنٹوں ایسے ہی بیٹھے رہو اور اس سائٹ کو استعمال کرتے رہو۔

آپ فیس بک اور انسٹاگرام پر دو تین بلیوں کی وڈیوز کو لائک کر دیں اس کے بعد وہ سائٹ آپ کو کیوٹ جانوروں کی وڈیوز دکھا دکھا کر دن بھر وہیں پھنسا کر رکھے گی۔ اور فیس بک، انسٹاگرام او ر یوٹیوب کوئی چھوٹا سا تالاب تو ہے نہیں جو آپ ادھر سے ڈبکی لگاؤ اور پانچ منٹ میں ادھر سے نکل جاؤ، یہ ایک گہرا سمندر ہے آپ کی پوری زندگی اس سے باہر نکلنے میں لگ سکتی ہے۔ اور اگر ہماری زندگی میں سوشل / معاشرتی کلاک نہیں بنا تو ہم ایسا ہی کریں گے۔

سوشل / معاشرتی کلاک سے مراد ہے ہماری روزمرہ کی ذمہ داریاں ہیں جیسے سکول جانا، آفس جانا۔ ہم دن بھر ان سائٹس میں ہی گھسے پڑے رہیں گے۔ اور ایسا نہیں کہ صرف ان تین سائٹس پر لوگ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ریڈاٹ پر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، کچھ لوگ پنٹیرسٹ پر بھی کرتے ہیں، کچھ لوگ لنکڈ ان پر بھی کرتے ہوں گے۔ گوگل پر بھی کرتے ہوں گے شاید۔ اکثر تو شاپنگ ویب سائٹس پر بھی اپنا وقت ضائع کرتے ہیں اور ان کے لیے بھی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ان سائٹس سے ان کو چاہیے کیا۔

آپ کے دوستوں میں کوئی ایسا ضرور ہوگا جو گھنٹوں بیٹھ کر کسی سائٹ پر شرٹس، پینٹ یا جوتے دیکھتا رہتا ہو گا کیونکہ اسے پتا ہی نہیں کہ اس کو خریدنا کیا ہے۔ سائٹ اس کو جو دیکھا رہی ہے وہ دیکھتا رہتا ہے اور اسے وقت گزرنے کا علم ہی نہیں ہوتا۔ تو جیسا کہ میں نے کہا کہ پورا کا پورا انٹرنیٹ ہی نشہ طاری کر دینے والا ہے بس فرق اتنا ہے کہ کچھ سائٹس پر ہم کام کرنے جاتے ہیں اور کام کر کے اسے بند کر دیتے ہیں جبکہ کچھ سائٹس پر ہم ٹائم پاس کرنے کی غرض سے جاتے ہیں اور ٹائم پاس کرنے کے چکر میں کب چار سے پانچ گھنٹے نکل جاتے ہیں ہمیں پتا ہی نہیں چلتا۔ تو آپ جب بھی فیس بک، انسٹاگرام او ر یوٹیوب کو وزٹ کرتے ہیں یا ان کے علاوہ کوئی بھی ایسی سائٹ جہاں آپ کو لگتا ہے کہ آپ اپنا وقت ضا ئع کرتے ہیں، اس سائٹ کو وزٹ کرنے سے پہلے آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ درحقیقت وہاں سے آپ کو چاہیے کیا۔

کیا آپ کو کسی کو میسج کرنا ہے، کوئی نوٹیفکیشن چیک کرنا ہے، تصاویر دیکھنی ہیں یا ان کو اپلوڈ کرنا ہے یا پھر اپنے پسندیدہ یوٹیوبر کی وڈیو دیکھنی ہے۔ اور جب آپ اس ارادے کے ساتھ اس سائٹ کو وزٹ کریں گے، اگر آپ وہاں پھنس بھی جاتے ہیں تو آپ کے دماغ میں ایک ریمائنڈر رہتا ہے کہ یار اب ہم اوور ٹائم کر رہے ہیں۔ اب وقت ضائع ہو رہا ہے۔ تو شاید آپ ایک اضافی وڈیو دیکھ لیں گے، دو وڈیوز دیکھ لیں گے یا پھر تین لیکن بالآخر آپ خود ہی اس سائٹ کو بند کردیں گے لیکن اگر آپ یہ فیصلہ کیے بغیر اس سائٹ کو وزٹ کرتے ہیں تو آپ کا کام تمام ہے آپ چار گھنٹے بعد ہی باہر نکلیں گے جب پانی سر سے گزر چکا ہو گا۔

یہ زندگی آپ کی ہے، آپ کا وقت ہے۔ اپنے وقت کی قدر کریں اور اگر آپ اپنے وقت کی قدر نہیں کریں گے تو یہ توقع بالکل مت کریں کہ کوئی دوسرا بھی آپ کے وقت کی قدر کرے گا۔ کم از کم ان سائٹس کے مالکان تو نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عدیل ایزد کی دیگر تحریریں