ہماری دیگ کا پیندا ہلکا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آہ! کراچی اختیارات کی بھینٹ چڑھ گیا۔

کوئی ہے جو مرض کی تشخیص کرے؟ اس کا علاج تجویز کرے؟ صد حیف کہ طاقتوروں کی اس لڑائی کراچی وینٹیلیٹر تک آن پہنچا۔

شکایت کس سے کریں؟ یہاں کچھ ٹھیک کرنے کا عزم ہی دکھائی نہیں دیتا۔ اہل کراچی محض ایندھن ہیں۔

عاجز کو آج 5 گھنٹے لگے ہیں جان پر کھیل کر ناظم آباد سے زندہ سلامت گلشن پہنچنے میں۔ اس جاں گسل سفر کے دوران ہر علاقہ منتخب و غیر منتخب ضلعی، صوبائی و وفاقی نمائندگان کی رسہ کشی کی عملی تصویر بنا ہوا تھا۔ مجال ہے جو عوام کی داد رسی کے لئے کوئی نوری یا خاکی مخلوق کا نام و نشان بھی ملا ہو۔

ناظم آباد سے نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، ناگن، سرجانی، ایف بی ایریا، ایف سی ایریا، لیاقت آباد، سب کا سب غرقاب۔ ملیر، کورنگی، لانڈھی و دیگر مضافاتی بستیاں نجانے کس بدترین حال میں ہوں گی۔

سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ اس شہر میں بسنے والے لوگ کس طرح سوچتے ہیں؟

مسائل کے حل کے لئے جو کوئی آواز اٹھاتا ہے، لوگ عصبیت و مخالفت کا لٹھ اٹھا کر اس کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔ سازشی نظریات تراشنے لگتے ہیں۔

چاہے خود مر رہے ہوں، سسک رہے ہوں، کیڑے مکوڑوں کی طرح مسلے جا رہے ہوں، ہم آنکھیں کھولنے پر تیار نہیں۔ اسے بے حسی کا نام دیں، لاتعلقی کا، نفسیاتی بگاڑ کا یا بے انتہا مایوسی کا، کہ شہری اپنے جائز حقوق کے لئے آواز ہی نہیں اٹھاتے۔ ظلم پر ظلم سہتے ہیں مگر بغاوت نہیں کرتے۔ دنیا کے ہر مسئلے کا حل چٹکیوں میں پیش کردیتے ہیں۔ لیکن کسی سنجیدہ کوشش کا حصہ نہیں بنتے۔

گھنٹوں بجلی نہیں ملتی، ٹرانسپورٹ و صفائی کے شدید مسائل، پینے کا پانی نہیں، نوکری نہیں، مگر لوگ اپنے منتخب نمائندوں، ذمے داران کا گریبان پکڑنے کو پھر بھی تیار نہیں۔ کبھی اپنی گلی کے مین ہول کے ڈھکن کی عدم دستیابی کا ذکر چھیڑ کر آزما لیجیے۔ ہر ایک اپنی پارٹی کا وکیل صفائی بن جائے گا۔ اپنے مخالف پر الزام دھر کر اپنے گناہ سے بری الذمہ ہو جائے گا۔

دوسری طرف سازشی نظریات کی بے پر اڑانے والے رائے ساز مخنچو عوام کو روز کسی نئے ٹرک کی لال بتی کے پیچھے دوڑا دیتے ہیں۔ البتہ بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔

عوام کا وہ باشعور طبقہ جو براہ راست ان مسائل سے متاثر ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر بھڑاس نکالنے کے سوا مکمل بے بس نظر آتا ہے۔ شاید کسی کی امیدوں کا گھروندا ٹوٹا تو کوئی ماضی کی غلط کاریوں کا شریک کار ہونے کے قلق میں مبتلا ہے۔ اس شہر ناپرساں میں تقسیم در تقسیم اور بد انتظامی و بدنیتی کے نتیجے میں ایک ایسی فضا بن چکی ہے جہاں مسائل کوڑھ کی طرح بھبھک رہے ہیں۔ اور ہم مکھیوں کی طرح ان کے گرد بھنبھنا رہے ہیں۔

ہم پاکستان کی دلی ہیں، مسلسل لٹ رہے ہیں۔

معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہماری محرومیوں کی دیگ بے اعتنائی کے جس چولہے پر پکے رہی ہے یا تو اس کا پیندا ہلکا ہے یا پھر ڈھکن میں دم نہیں۔ پریشر پوری طرح بنتا نہیں کہ بھاپ نکل جاتی ہے یا نکال دی جاتی ہے۔ واللہ علم بالصواب۔

آئیے سوچتے ہیں کہ کیا ان مسائل کا حل یہ ہے کہ کئی دہائیوں تک اس شہر کی رگوں میں جو زہر انڈیلا گیا ہے، اس کا تریاق ان منصفوں سے مانگیں جو خود قتل کی اس مکروہ سازش کے ذمے دار ہیں یا پھر از سر نو امکانات کا جہاں بسا کر اپنی دنیا آپ پیدا کی جائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد عمیر انصاری، کراچی کی دیگر تحریریں