صحافت یا خارش

مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ کے ساتھ ریاست کا چوتھا ستون ہونے کا شرف کسی ڈاکٹر، انجینئر، مولوی یا بھانڈ و مسخرے کی بجائے آپ کو حاصل ہے۔ یہ صرف پیشہ نہیں کار عظیم ہے کہ قلم کی حرمت قائم رکھیں، قوم کی سمت متعین کریں، انہیں سوچنا سکھائیں، واچ ڈاگ بن کر عوام کے حقوق کی حفاظت کریں۔ رائے سازی کا بارگراں اٹھایا تھا آپ نے، صحافت کی حرمت آپ کے قلم کی مرہون منت تھی، آپ کے کہے گئے الفاظ

Read more

تم سے نہ ہو پائے گا

بڑی بڑی باتیں بڑے لوگوں کے لیے چھوڑ دیجئے۔ سیاستدان وہی کر رہے ہیں جو فی زمانہ رائج ہے۔ یہ درست ہے کہ سیاسی لیڈران کو اخلاقی و علمی لحاظ سے معاشرے کی عمومی سطح سے بلند ہونا چاہیے، انہیں عوامی امنگوں کا ترجمان بننا چاہیے، فیصلوں پر ثابت قدم رہنا چاہیے مگر یہ حسرت کیا ہمارے جیسی سوسائٹی میں پوری ہو سکتی ہے؟ کون منافق ہے کون مومن یہ بتانا آپ کا کام نہیں ہے۔ برطانوی ممبر پارلیمنٹ و

Read more

عصر میں روزہ نہیں توڑتے

جہاں کوئی قانون نہ ہو اسے جنگل کہتے ہیں۔ جنگل میں طاقت کا قانون ہوتا ہے۔ شہروں میں اسے عرف عام میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے نام سے پہچانتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ، سینئر بیوروکریسی، بزنس ٹائیکون، جاگیردار طبقہ، میڈیا مالکان اور سیاسی اشرافیہ اس طاقت کی مختلف شکلیں ہیں۔ مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے ان کا گٹھ جوڑ اسٹیٹس کو کہلاتا ہے۔ اس طرح کے معاشرے میں کسی صحافی و میڈیا پرسن یا مڈل کلاس سیاسی جماعت

Read more

جنریشن زیڈ اور الیکشن 2024

پاکستان میں 2001 سے ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے عوامی محرومی کے پکتے ہوئے لاوے کو پیرایہ اظہار دے دیا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ متبادل میڈیا یا سوشل میڈیا طاقت کی نئی جہت کے طور پر اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ حق و باطل یا خیر و شر کے آئیڈیل پیمانے سے قطع نظر جدید میڈیا کے رجحانات کو انتخابی عمل یا رائے سازی کے ضمن میں لازمی مضمون کے طور پر سامنے رکھنا ہو

Read more

ہماری دیگ کا پیندا ہلکا ہے

آہ! کراچی اختیارات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کوئی ہے جو مرض کی تشخیص کرے؟ اس کا علاج تجویز کرے؟ صد حیف کہ طاقتوروں کی اس لڑائی کراچی وینٹیلیٹر تک آن پہنچا۔ شکایت کس سے کریں؟ یہاں کچھ ٹھیک کرنے کا عزم ہی دکھائی نہیں دیتا۔ اہل کراچی محض ایندھن ہیں۔ عاجز کو آج 5 گھنٹے لگے ہیں جان پر کھیل کر ناظم آباد سے زندہ سلامت گلشن پہنچنے میں۔ اس جاں گسل سفر کے دوران ہر علاقہ منتخب و غیر

Read more

کراچی والوں کا آئٹم سونگ

قانونی ڈیڑھ کروڑ، غیر تسلیم شدہ ساڑھے تین کروڑ اور متوقع 4 سے 5 کروڑ آبادی کا کماؤ پوت کراچی یتیم ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ملک کی کل آمدنی کا 65 سے 70 فیصد کنٹری بیوٹ کرنے والا قائد اعظم کا دارالحکومت صد فیصد لاوارث ہے۔ شاید اہل کراچی کو منی پاکستان میں حب وطنیت کی سزا کے طور پر بغض عصبیت کا تاوان تا عمر چکانا ہوگا۔

سوچنا یہ ہے کہ قافلہ کیونکر لٹا؟ کیا راجہ صاحب محمود آباد جیسے جہاندیدہ و دوراندیش، عقل سے عاری و کم ہمتی انسان تھے کہ جد و جہد آزادی کی دیوی کے چرنوں میں میں اپنی پوری کی پوری راجدھانی کی بھینٹ چڑھا کر ہجرت کا کشٹ اٹھایا مگر تقسیم کے ابتدائی سالوں میں ہی لندن کوچ کر جانے کا اذیت ناک فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے۔ کتابیں اوڑھنا بچھونا تھیں سو تادم مرگ ایک لائبریری سے وابستہ رہے، وہیں دفن ہونا پسند کیا۔ اس کے برعکس وہ رہبران و سرفروشان ملت پرامید نے جنہوں نے کشتیاں جلا کر رخصت ہوتی بیٹی کی طرح باپ کی نصیحت، ”تمہارا دکھ سکھ خوشی غمی سب سسرال سے وابستہ ہے۔ اب یہی تمہارا گھر ہے، مر کر ہی نکلنا، سدا سہاگن رہو۔ ۔ ۔“ کو پلو سے لگا کر رکھا، کہیں کے نہیں رہے۔

Read more