فیض: انقلابِ چین سے انقلابِ ایران تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اشتراکی دُنیا میں ترمیم پسندی اور بنیادی پرستی کے درمیا ن کشمکش زوروں پر تھی- فیض صاحب رُوس سے وطن واپسی پر راولپنڈی تشریف لائے تھے اور پاک چین دوستی کی انجمن کے سربراہ ڈاکٹر ایوب مرزا کے دولت کدے پر اپنے پرستاروں اور مداحوں میں گھرے بیٹھے تھے- ایسے میں قدرتی طور پرسوویٹ یونین اور چین میں اشتراکی نظریہ و عمل کی باہم متصادم تفسیر و تعبیر کا سوال اُٹھایا گیا- حاضرین میں سے چند ایک افراد یہ جاننے کو بیتاب تھے کہ فیض صاحب چین اور روس میں سے کس کو حق بجانب سمجھتے ہیں؟اس پر فیض صاحب نے انتہائی بیزاری کے ساتھ کہا تھا : ’ہٹاؤ بھئی! یہ بھی شیعہ سُنّی ہو گئے‘-یوں یہ سوال تاریخ کے ڈسٹ بِن کی نذر ہو کر رہ گیااور شعر و شاعری کا دور شروع ہو گیا- اِس پر مجھے فیض کے مجموعہءکلام ”دستِ تہِ سنگ “میں تین منظومات پر مشتمل اُن کا ”سفرنامہ چین“ بے ساختہ یاد آیا- فیض صاحب نے یہ سفر وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے دورِ اقتدار میں اختیار کیا تھا- وہ جولائی 1956ء میں پاکستان کے مدیرانِ جرائد کے ایک وفد کے قائد کی حیثیت میں چین گئے تھے- وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کراُن کی حیرت اور مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ چین کے وہ عوام جوافیون کے نشے میں مست رہا کرتے تھے اب بندگانِ عمل مست کا انقلابی کردارادا کرنے میں منہمک ہیں-

 فیض کایہ سفرنامہءچین ’ پیکنگ‘ اور’سِنکیانگ‘کے ذیلی عنوانات سے دو نظموں اور ایک غزل پر مشتمل ہے – یہ تینوں تخلیقات ماؤزے تنگ کی قیادت میں اشتراکی فکرو عمل کی سرسبزی و شادابی سے پھوٹی ہیں- نظم ’پیکنگ‘ میں فیض صاحب رجائیت کی لَے پرنغمہ زن ہیں:

 یوں گماں ہوتا ہے بازو ہیں مرے ساٹھ کروڑ
اور آفاق کی حد تک مرے تن کی حد ہے
دل مرا کوہ و دمن دشت و چمن کی حد ہے
میرے کِیسے میں ہے راتوں کا سیہ فام جلال
میرے ہاتھوں میں ہے صبحوں کی عنانِ گلگوں
میری آغوش میں پلتی ہے خدائی ساری
میرے مقدور میں ہے معجزہء کن فیکوں

’سِنکیانگ‘ پہنچے تو اِس یقینِ محکم کی دولتِ نایاب پائی کہ:

اب کوئی طبل بجے گا، نہ کوئی شاہسوار
صبحدم موت کی وادی کو روانہ ہوگا!
اب کوئی جنگ نہ ہوگی نہ کبھی رات گئے
خون کی آگ کو اشکوں سے بجھانا ہوگا
کوئی دل دھڑکے گا شب بھر نہ کسی آنگن میں
وہم منحوس پرندے کی طرح آئے گا
سہم، خونخوار درندے کی طرح آئے گا
اب کوئی جنگ نہ ہو گی مے و ساغر لاؤ
خوں لٹانا نہ کبھی اشک بہانا ہوگا
ساقیا! رقص کوئی رقصِ صبا کی صورت
مطربا! کوئی غزل رنگِ حنا کی صورت

اِس پر مطرب نے جو نشاطیہ غزل عطا کی اُس کا مطلع اور مقطع پیشِ خدمت ہے:

بساطِ رقص پہ صد شرق و غرب سے سرِشام
دمک رہا ہے تری دوستی کا ماہِ تمام
ملے کچھ ایسے، جُدا یوں ہُوے کہ فیض اب کے
جو دل پہ نقش بنے گا وہ گل ہے داغ نہیں

مگر افسوس ،صد افسوس فقط چند برس کے بعد فیض صاحب کی یہ رجائیت دھندلانے لگی اور بالآخر نوبت یہاں آ پہنچی ِکہ اُجالا پہلے داغ داغ ہوا اور پھر تاریکی میں بدل کر رہ گیا- یوں فیض صاحب کو اشتراکی دنیا میں بنیاد پرستی اور ترمیم پسندی کے مباحث مسلمانوں میں شیعہ سُنّی کی سی فرقہ آرائی نظر آنے لگی- مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے لینن انعام سے سرفراز ہونے کی بدولت سوویٹ یو نین میں بار بار آنے جانے اور وہاں کی سیاسی اور معاشرتی زندگی کے مشاہدات اور تجربات نے اُن کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا- روسی دانشور لُدمیلا وسیلیﺅا نے اپنی کتاب ”پرورشِ لوح و قلم: فیض ،حیات و تخلیقات“ میں اِس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ:

 ” فیض نے دوسرے ترقی پسند مصنفین کے برعکس ”سوویت موضوع“ پر بہت کم شعر لکھے- ان کے ہم عصر ترقی پسند شعراءاور ادیبوںکو دیکھا جائے تو ان میں کوئی ایسا شاید ہی ملے گا جس کی تخلیقات میں ماسکو، سٹالن، لینن، سُرخ میدان جیسے عنوانات پر نظم یا افسانہ نہ ہو- سوویت یونین سے اپنی آشنائی کے طویل برسوں کے دوران فیض نے غالباً دو ہی اردو نظمیں لکھی ہیں جو صریحاً سوویت ملک سے وابستہ ہیں- ان میں سے ایک ہے ”اکتوبر انقلابِ روس کی سالگرہ“- دراصل یہ ایک فرمائشی نظم ہے جواکتوبر انقلاب کی پچاسویں سالگرہ کے موقعے پر لکھی گئی- ….. صرف عنوان سے اِس نظم کا تعلق رُوس سے ہے- نہ جانے کس وجہ سے یہ نظم فیض کی شاعری کے کسی مجموعے میں درج نہیں کی گئی-“

 اپنے استدلال کو آگے بڑھاتے ہوئے لُدمیلا ایک بار پھرفیض کی اسی فرمائشی نظم کا ذکر کرتی ہیں:

 ”1970ء میں سوویت یونین میں لینن کی صد سالہ سال گرہ کے موقعے پر منجملہ دوسری کتابوں کے، لینن پر اُردو شعراء کی نظموں کی کتاب تیار کی جا رہی تھی- فیض سے لینن پر نظم لکھنے کی فرمائش ہوئی- فیض لینن کی شخصیت اور ان کی تعلیمات سے عقیدت رکھتے تھے لیکن (علامہ اقبال کے برعکس!) وہ لینن کو غالباً اپنی شاعری کے کردار کی حیثیت سے کسی بھی طرح قبول نہیں کر سکے ہوں گے! وہ اپنی شاعرانہ صلاحیت پر زور نہیں ڈال پائے- چونکہ سوویت اعلیٰ عہدہ داروں کی رائے میں لینن پر اردو نظموں کی کتاب ایک واحد لینن امن انعام یافتہ اردو شاعر کی نظم کے بغیر چھاپنا ممکن نہ تھا ’نوائے لینن‘میں وہی، اکتوبر انقلاب پر فیض کی نظم درج کر دی گئی- “

 یہاں مجھے ایک مرتبہ پھر فیض کے اِس بیزار کن تاثر نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے: ”ہٹاؤ بھئی! یہ بھی شیعہ سُنّی ہو گئے“- مسلمانوں کی تاریخ میں فرقہ وارانہ جنگ و جدل کی ابتدا جس زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی تھی وہی زوال اب اشتراکی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا تھا- ایسے میں فیض احمد فیض کواسلام کے عروج و زوال کا خیال رہ رہ کے یاد آنے لگا- اب کمیونسٹ مینی فیسٹوکی بجائے لوحِ ازل پر لکھی ہوئی تحریریں فیض کا سرچشمہ فیضان بن گئیں اور وَّیَبقٰی وَجہُ رَبِّک کی سی نظمیں وجود میں آنے لگیں جن کے عنوان قرآن مقدس سے مستعار ہیں اور جن کے مطالب قرآن حکیم کی تعلیمات کے ترجمان ہیں- اب انھیں خلقِ خدا کے ہمہ مقتدر ہو جانے کا وہ وعدہ رہ رہ کر یاد آنے لگتا ہے جو لوحِ ازل میں لکھا ہے:

 ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طر ح اُڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے ،حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ،ناظر بھی
گونجے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو!

  اشتراکی انسان دوستی کی منزل سے اسلامی انسان دوستی کی منزل تک کا یہ سفر ہنوز فیض شناسوں کی توجہ کا منتظر ہے- ہمارے مارکسی اور سیکولردانشوروں نے

ن م راشد اور فیض احمد فیض

تو اس نظم کا اصل عنوان ہی بدل کر رکھ دیا ہے- وہ اس عہدآفریں نظم کوہمیشہ اُس کے اصل عنوان وَّیَبقٰی وَجہُ رَبِّک کی بجائے” ہم دیکھیں گے “ کے عنوان سے پیش کرتے ہیں- خود فیض نے ایران کے اسلامی انقلاب کو اِس نظم کا سرچشمہ فیضان قرار دیا تھا- آغا ناصر نے فیض صاحب پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ:

 ’فیض صاحب سے ایک شاعر صحافی مرحوم حسن رضا نے انٹرویو کرتے ہوئے دریافت کیا تھا کہ ایرانی انقلاب کے بارے میں آپ کے کیا تاثرات ہیں؟ فیض صاحب نے جواب دیا تھا- ”یہ اپنی قسم کا بڑا انقلاب ہے- انقلابِ فرانس کے بعد اس قسم کا انقلاب دنیا میں نہیں آیا- روس، چین، ویت نام وغیرہ کے انقلابوں میں طرفین کی فوجوں کے درمیان جنگ تھی- ایران میں براہِ راست عوام کی فوج اور حکومتی اداروں سے لڑائی ہوئی ہے- یہاں پر عوام نے فوج کو ہرایا ہے-‘

 روس اور چین میں اشتراکی انقلاب پر ایران میں اسلامی انقلاب کی برتری کا یہ اعتراف مجھے ایک مرتبہ پھر درج بالا نظم کے درج ذیل مصرعے دُہرانے ، بار بار دُہرانے اور دُہراتے چلے جانے کا جذب و جنوں عطا کرتا ہے:

 گونجے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو!

 انسانی تاریخ میں انا الحق کا نعرہ سب سے پہلے منصور حلّاج نے بلند کیا تھا- منصور حلّاج ایک جولاہے کا بیٹا تھا- بغداد کے غریب ترین اور انتہائی مفلوک الحال باشندوں کے محلے میں رہتا تھا- سلاطین و ملوک نے خود کوظلِ الہ (خداکا سایہ) قراردے کر خلقِ خدا پر اپنی خدائی قائم کر رکھی تھی- ایسے میں ایک غریب جولاہے کے بیٹے کا خود کو انا الحق کہنا گویا سلاطین و ملوک پر عام آدمی کی خدائی کا بلند بانگ اعلان تھا- فیض کی تفہیم و تعبیر کے مطابق لوحِ ازل پر لکھے ہوئے اللہ کے پیغام کی رو سے عوامی انقلاب ہی منشائے خداوندی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *