پیش منظر کا پس منظر
کیا پیش منظر اور پس منظر کا وجود ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ پیش منظر کو سمجھنے کے لئے، کیا پس منظر جاننا ضروری ہے اور اسی طرح، کیا پس منظر، پیش منظر کا پیش خیمہ ہے۔
کسی منظر کو سمجھنے اور جاننے کے لئے، اس پس و پیش کی گہرائی، وسعت اور ان کے آپس کے تعلق کو، کیوں کر تولا یا ماپا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے دور اندیشی ہی لازمی ہے یا قرب ذہانت سے ہی کام چل سکتا ہے۔ ایک ہی منظر مختلف سطح کی ذہانت کے حامل کو ایک ہی سا دکھائی دیتا ہے یا اس کے لیے بلا واسطہ اور بالواسطہ، مخفی اور نمایاں سطح پر، شعوری اور عقلی مہم جوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ مختلف ذہنی حیثیت اور کیفیت ایک ہی مرکز پر کیوں کر یکسو ہو سکتی ہے۔
یہ سوالات ہمیں اس پرانی کہاوت کی طرف لے جاتے ہیں جہاں چھ نابیناؤں کو ہاتھی کی شناخت کا مرحلہ طے کرنا پڑا اور ان کے لئے، ان کا اپنا تجربہ ( اور حس) ہی ان کی رائے اور ممکنہ تصورات کا ماخذ بنی، جس سے انھوں نے اپنی اپنی سطحی مگر حتمی رائے گڑھی جو ایک دوسرے سے یکسر متضاد تھی۔ بصری طور ہر، ایک دوسرے سے علیحدہ رہ کر، قائم کی جانے والی ان سب کی رائے، اپنی اپنی جگہ، محدود دائرے میں، درست کہی جا سکتی ہے، گو حقیقتاً وہ مجموعی طور پر غلط تھی۔
ایک ہی ہاتھی کو پنکھا، سانپ، دیوار، نیزہ، درخت اور رسی قرار دینا، تصورات اور تجربات میں موجود انتہائی فرق کو اجاگر کرنے کے لئے کافی ہے۔
کہاوت کا یہ پہلو بھی اپنے اندر توجہ کی پوری گنجائش رکھتا ہے کہ ان چھ افراد نے نہ صرف یہ کہ اپنی اپنی انفرادی رائے قائم کی بلکہ اس کی تائید میں ابتدا ”ایک دوسرے سے تلخ کلامی کی اور انتہا یہ، کہ بات ہاتھا پائی تک بھی پہنچی۔
یہ کہاوت انسانی معاشرے میں، رائے بننے، رائے سمجھنے، رائے پھیلنے اور رائے ماننے کے بہت سے پہلوؤں کا بے حد دانشمندانہ احاطہ کرتی ہے۔ اس میں جہاں دیدہ وروں کو کوتاہ بینی سے گریز کا اشارہ ہے، وہاں کسی بھی رائے کی محدودیت اور معروضیت کے پہلوؤں کو نہایت سلیقے سے نمایاں کیا گیا ہے۔
اس کہاوت کو اگر ہم اپنے معاشرے میں، سر دست جنم لینے والے اور مستقبل میں پوشیدہ، ممکنہ حالات کے تناظر میں دیکھیں، تو پس منظر اور پیش منظر کا تعلق کسی طور واضح ہوتا نظر آتا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ پس منظر کے عوامل سے کیسے اور کیا اکتساب کیا جائے۔
تاریخ سے سبق نہ لینے کی انسانی جبلت اپنی جگہ، مگر دانائی، دانش اور ( سب سے بڑھ کر ) دردمندی کے ساتھ ماضی کے تجربات کو مستقبل کے امکانات سے جوڑنے کے عمل میں، محض خود ساختہ رائے ( یا آرا ) پر اصرار اور انحصار، کن نتائج کا باعث ہو سکتا ہے، اس پر جتنا پیشگی غور و فکر ہو، اتنا ہی بہتر معاملہ فہمی کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔
پس منظر کی اہمیت بتاتی ہے کہ پیش منظر میں کم و بیش وہ ہی نمودار ہو گا جس کی نشو و نما کی گئی۔ خواہش، خواب اور خیال آرائی، حقیقت کو بدلنے کی قوت سے عاری ہوتی ہے۔
اس کہاوت کا شاید ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہاتھی کو چھ نام دینے سے، نہ ہاتھی کی شناخت ختم ہوتی ہے، نہ اس کے حجم میں کمی آتی ہے۔ خواہ، مشاہدہ سے عاجز، وہ چھ افراد اپنے مغالطے کو اپنی مستند رائے منوانے پر کتنے ہی مصر کیوں نہ ہوں۔
سو دیدہ بینا کے لئے لازم ہے کہ ہر قسم کی چشم پوشی سے اجتناب کرتے ہوئے پس منظر پر گہری نظر ہو تاکہ پیش منظر حقیقت پسندانہ، دیانت دارانہ اور ذمہ دارانہ عوامل کا آئنہ دار ہو۔


