وزیراعظم صاحب کم از کم اپنے منصب کا ہی لحاظ رکھ لیں


وزیراعظم عمران خان نے اے آر وائی نیوز کے اینکر ارشد شریف کو انٹرویو دیتے ہوئے ہوئے بہت سی باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ”اندرون سندھ سے منتخب ہو کر لوگ کراچی پہ حکومت کرتے ہیں وہ کراچی پہ پیسہ نہیں لگاتے اس لیے کراچی کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے اندرون سندھ والے کراچی کے مسائل کو سمجھ نہیں سکتے“ وزیراعظم صاحب کے ان روشن خیالات نے سندھ کی عوام میں پی ٹی آئی کے لیے پہلے سے موجود تحفظات اور ناپسندیدگی کو شدید نفرت میں تبدیل کر دیا ہے، خان صاحب اس سے پہلے بھی انتخابات کے فوری بعد سندھ کی عوام کے مینڈیٹ کو روندنے کی کوششوں میں لگے رہے ہیں مگر سندھ کی عوام اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے شدید ردعمل نے انہیں کسی بھی مہم جوئی سے شاید روکا ہوا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اتنے بڑے منصب پہ بیٹھ کر ایسی بات کہہ گئے کہ جس کے مضمرات ان کے اپنے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اندرون سندھ سے کراچی پہ حکومت کرنے کا طعنہ دیتے وقت وہ بھول گئے کہ ان کے اپنے وزیر اعلیٰ تونسہ شریف جیسے پسماندہ علاقے کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان سے تعلق رکھتے ہیں، کم پڑھے لکھے نان ٹیکنیکل اور بقول خود بزدار صاحب کے غیر تربیت یافتہ ہیں لیکن وہ بارہ کروڑ عوام کے صوبے کے چیف ایگزیکٹو بنے ہوئے ہیں، محمود خان صاحب سوات کی چھوٹی سی تحصیل مٹہ سے منتخب ہو کر پشاور پہ اپنا سکہ جمائے ہوئے ہیں وہ بھی خان صاحب کی نظر میں کوئی بری بات نہیں اور لسبیلہ سے جام کمال صاحب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بن کر راج کر رہے ہیں وہ بھی درست مگر سندھ کے ایک بڑے شہر قلندر کی نگری کے انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینیئر سید مراد علی شاہ اندورن سندھ سے صوبے کے وزیر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں یہ بات ان کو کھائے جا رہی ہے۔

جناب وزیراعظم کی خدمت میں عرض ہے کہ جناب آپ بھی میانوالی جیسے پسماندہ ضلع سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو کر وزیراعظم کے عہدے پہ براجمان ہیں، سید مراد علی شاہ کے آبا و اجداد بھلے ہی سیہون شریف سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کی جائے پیدائش حیدرآباد کا علاقہ ہیر آباد ہے وہ حیدرآباد سے کراچی تک اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے بیرون ملک مزید تعلیم کے لیے گئے مگر ان کے جد امجد سندھ کی دھرتی سے ہی تعلق رکھتے ہیں، سیہون سندھ دھرتی کے ایک بہت بڑے اللہ والے حضرت لعل شہباز قلندر کی نگری ہے اور وہاں کی عوام نے مراد علی شاہ کو اور مجموعی طور پر سندھ کی عوام نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر بالکل اسی طرح منتخب کر کے سندھ پہ حاکمیت کا حق دیا ہے جس طرح آپ کو میانوالی سے منتخب کروا کر ملک پہ اور آپ کے دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اپنے اپنے صوبوں کے مختلف اضلاع سے منتخب کروا کر اپنے اپنے صوبوں پہ حاکمیت کا حق دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اور ان کے کچھ مہم جو قسم کے اکابرین ان کو آئین سے ماورا کوئی قدم اٹھانے پہ مسلسل اکسا رہے ہیں، اور وزیراعظم صاحب آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں جس سے وفاق اور صوبوں میں فاصلے کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں، پچھلے دو سالوں میں خان صاحب نے اپنی شعلہ بیانیوں اور متکبرانہ طرز حکمرانی سے عوام کے دل جیتنے کے بجائے ان کو خود سے اور تحریک انصاف سے بہت دور کر دیا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سندھ سے کم نشستیں ملنے کے غم کو عزم میں بدل کر خان صاحب سندھ کی عوام کی محرومیاں دور کرنے ان کے ساتھ روا رکھی گئی نا انصافیوں کا ازالہ کرنے پہ توجہ دیتے، سندھ کی عوام کے دل جیتنے کے لیے سندھ کی تعمیر و ترقی کے لیے بھرپور اقدامات اٹھاتے جیسا کہ وہ پیپلز پارٹی پہ سندھ کو تباہ کرنے کے الزامات لگاتے ہیں مگر پچھلے دو سالوں میں سندھ کی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے ان کے زخموں کو مزید گہرا کر دیا۔

حالیہ طوفانی بارشوں سے ہونے والی تباہی کے بعد خان صاحب کو وزیراعظم پاکستان بن کر اپنے ملک کی ہر اکائی کا برابری کی بنیاد پہ ساتھ دینا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے خان صاحب نے ایک طرف تو وزیر اعلیٰ سندھ کو تعاون کا یقین دلایا اور پھر اسی روز ایسے الفاظ بھی کہہ گئے جو بارش کی تباہ کاریوں سے پہنچنے والے زخموں کو اور ہرا کر گئے، خان صاحب نے سندھ حکومت سے نہیں بلکہ سندھ کی عوام سے اپنی روایتی نفرت و بیزاری کا اظہار ان الفاظ کے ذریعے کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان چند روز قبل خود ہی کہہ چکے ہیں کہ کراچی میں مسائل اس وقت پیدا ہونا اور تیزی سے بڑھنا شروع ہوئے جب ایم کیو ایم کا وجود عمل میں آیا اور بانی ایم کیو ایم کی نسل پرستانہ سیاست اور عقائد، ان کے، اپنے مخالفین کے خلاف متشدد نظریات اور کارروائیوں نے کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا۔ حالیہ طوفانی بارشوں نے جہاں کراچی سمیت سندھ بھر کو شدید نقصان پہنچایا وہیں ملک کے دیگر علاقوں سیالکوٹ، جہلم، راولپنڈی، لاہور، سوات، کوہستان، چترال سمیت کئی اضلاع یہاں تک کہ اسلام آباد جیسے جدید شہر کو بھی طوفانی بارشوں سے شدید نقصانات اٹھانے پڑے، سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی۔

کراچی میں اس بار سو سالہ تاریخ کی سب سے زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی جس کی وجہ سے کئی دہائیوں کے پیدا کردہ مسائل ایک دم سے ابھر کر سامنے آ گئے، کراچی کے سیوریج اور برساتی گزرگاہوں پہ قبضے کروا کر ہاؤسنگ اسکیمز، بڑے بڑے پلازے، بنگلے، سرکاری دفاتر، سپریم کورٹ کی کار پارکنگ، محتسب کا دفتر، گراؤنڈز، جماعت خانے پیپلز پارٹی نے نہیں بنوائے بلکہ ان لوگوں نے بنوائے جو اس شہر کے مینڈیٹ کے دعویدار رہے ہیں اور جو اب خان صاحب کی پارٹی کے پاس ہے۔

خان صاحب نے اقتدار میں آنے کے لیے ماضی کے را ایجنٹوں سے اتحاد کرتے وقت ان سے کراچی کے مسائل کے حل کا وعدہ کیا تھا بالکل اسی طرح کیا تھا جس طرح انہوں نے پاکستانیوں سے ترقی یافتہ جدید ترین پاکستان بنانے کا وعدہ کیا تھا، خان صاحب نے کراچی کے لیے 160 ارب دینے کا وعدہ کیا تھا وہ بھی ابھی تک وفا نہیں ہوا، لیکن پھر بھی قصور اندرون سندھ سے منتخب ہو کر کراچی پہ حکومت کرنے والوں کا ہے، خان صاحب جب کراچی پہ حکومت کرنے کی بات کرتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ کراچی سندھ ہے اگر پیپلز پارٹی اور ان کے دیگر مخالفین یہ کہیں کہ اندرون پنجاب اور اندرون خیبرپختونخوا والے لاہور پہ اور پشاور پہ حکومت کر رہے ہیں تو انہیں کیسا لگے گا۔

وزیراعظم عمران خان صاحب اکثر جوش تکلم میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اب وہ صرف پی ٹی آئی کے چیئرمین نہیں رہے وہ اب اس بائیس کروڑ عوام کے وزیراعظم بن چکے ہیں اور ایسی نفرت انگیز گفتگو کرنے سے پہلے کم از کم ایک بار اپنے منصب کی اہمیت، عزت و تکریم کا ہی خیال کر لیا کریں۔

Facebook Comments HS