ناکامیاں پی ٹی آئی کے سر ہی کیوں؟


جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے آج کل اپنی توپوں کا سارا رخ موجودہ حکومت کی جانب موڑ رکھا ہے اور تقریباً ہر روز ان کی جانب سے حکومت پر زبردست گولہ باری کی جا رہے۔ ثمر باغ میں ورکرز کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ”ملک میں تبدیلی کے نام پر آنے والی تباہی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ لوگوں کی مشکلات اور مصیبتوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ بے روزگاری نے لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں۔

ہر طرف پریشانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ سابق حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی اشرافیہ کی مسلط کردہ ہے جس کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ اب عوام کے سوچنے اور ظلم و جبر کے اس نظام کے خلاف اٹھنے کا وقت ہے۔ حکومت نے کچھ کیا ہوتا تو وزرا کو بار بار پریس کانفرنسیں نہ کرنا پڑتیں۔ پی ٹی آئی حکومت معیشت کے حوالے سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے، ترقی کا پہیہ الٹا گھوم رہا ہے۔ کراچی ڈوب رہا ہے لیکن حکمران مخالفین پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں ”۔

امیر جماعت اسلامی کی کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جس کی حقانیت سے کسی کو انکار ہو اس لئے کہ پی ٹی آئی کی 25 ماہ کی کارکردگی میں پاکستان بھر میں صرف توڑ پھوڑ کے علاوہ اور کچھ بھی دیکھنے میں نہیں آ سکا۔ بستیاں توڑ دو، دکانیں مسمار کردو، بازار ڈھا دو، شادی ہال زمین بوس کردو، ہنستے مسکراتے گھر کے گھر اجاڑ دو، بل بورڈ گرا دو اور مساجد کو قبضے کی جگہ قرار دے کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دو۔ اگر تعمیری کام کوئی نظر بھی آیا تو یہی کہ گردوارے بنا دو، پرانے گردواروں اور مندروں کی پھر سے تزئین و آرائش کر کے انھیں ”سرخ گھوڑی لال لگام“ کا ہم مثل بنا دو اور دارالحکومت تک میں صرف 165 ہندوؤں کے لئے بیسیوں ایکٹر پر مندر تعمیر کر کے پاکستان کو اسلامی دنیا کا سب سے بڑا ملک بنا کر مقصد پاکستان کی تکمیل کردو تاکہ لاکھوں شہدائے پاکستان کی روحوں کو سکون حاصل ہو سکے۔

یہ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں تنہائی میں جھانک لیا جائے تو کوئی ہرج بھی نہیں۔ وہاں سنجیدگی سے جھانک لینے سے انسان کی بڑی اصلاح ہو جاتی ہے۔ اسے اپنی بہت ساری کوتاہیاں دکھائی دینے لگتی ہیں اور تب اسے یہ جان کاری ہوتی ہے کہ جن جن عیوب کو وہ دوسروں میں تلاش کرتا رہا ہے وہ سارے خود اس کے اندر موجود ہیں اور شاید ان سے بھی سوا ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی میں بہت ساری خامیاں ہیں۔ پی ٹی آئی ہو یا پاکستان کی کوئی بھی سیاسی و مذہبی جماعت اور اس میں شامل کوئی بھی فرد، سب انسانوں کی جماعتیں ہیں اور اس کے کارکنان انسان ہی ہیں فرشتہ نہیں۔ دنیا کے سارے انسان نیکی و بدی کا امتزاج ہیں۔ کوئی فرق انسانوں اور انسانوں کے درمیان اگر ہے تو وہ ان میں نیکی و بدی کم یا زیادہ ہونے کا ہے۔ پاکستان کی بڑی چھوٹی سیاسی جماعتیں ہی نہیں، جتنے بھی ادارے ہیں وہ کسی اور معاشرے سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ان کے کارکنان اور اہل کار اسی معاشرے سے نکل کر جماعتوں اور اداروں میں شامل ہوئے ہیں لہٰذا معاشرے کی جو جو اچھائیاں اور برائیاں ہیں وہ سب کی سب ان میں موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کو 2013 کے الیکشن میں پہلی مرتبہ ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی اور وہ کے پی کے میں ایک اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی تھی۔ اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود وہ دیگر چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر ہی صوبائی حکومت تشکیل دے سکتی تھی۔ ایسے موقع پر جماعت اسلامی کی 7 صوبائی نشستیں اہمیت اختیار کر گئیں۔ اگر جماعت پی ٹی آئی کی اتحادی نہ بنتی تو پی ٹی آئی صرف صوبائی حکومت ہی سے محروم نہ ہوجاتی بلکہ شاید اس کے سیاسی پاؤں پاکستان میں اتنی مضبوطی سے نہ جم پاتے جو اسے 2018 کے الیکشن میں ایک بڑی سیاسی جماعت بنا دیتے۔

یہی نہیں 2013 کے الیکشن میں بھی امیر جماعت عمران خان کے ساتھ خیبر سے لے کر کراچی تک کندھے سے کندھا ملا کر سیاسی سرگرمیوں میں شریک نظر آئے اور 2018 میں تو لگتا ہی ایسا تھا کہ جماعت اور پی ٹی آئی ایک ہی نظریاتی پارٹی ہیں۔ کراچی والے اس وقت کے این اے 246 کا ضمنی الیکشن تو کبھی بھول ہی نہیں سکتے جس میں امیر جماعت اور عمران خان کے فرق کو پہچاننا بھی مشکل ہو کر رہ گیا تھا۔ مختصراً یہی کہا جا سکتا ہے کہ کے پی کے میں پی ٹی آئی کا اتحادی بننے سے لے کر 2018 کے الیکشن تک جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی ہم پیالہ و ہم نوالہ ہی نظر آئیں۔

خاص طور سے کراچی کی 14 نشستیں پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈالنے کی تمام تر ذمہ داری بہر صورت جماعت اسلامی کو قبول کرنی ہی چاہیے۔ کراچی میں موجود جماعت کے حامیوں، کارکنوں اور ارکان کی ایک واضح اکثریت نے نہ صرف کھل کر پی ٹی آئی کی حمایت کی بلکہ اپنا ووٹ بھی اس کے پلڑے میں ڈالا۔ جس واحد پارٹی کے بے پناہ تعاون کی بدولت کسی پارٹی کی کامیابیاں یقینی ہوئی ہوں وہ حکومت کی ناکامی اور پاکستان کی تباہی و بربادی کا واحد ذمے دار صرف اور صرف پی ٹی آئی کو قرار دے، انصاف نہیں کہلایا جاسکتا۔

جماعت کو ایک سیاسی پارٹی ہونے کے ناتے بے شک پی ٹی آئی پر بھر پور تنقید کرنے کا مکمل حق حاصل ہے لیکن ایک بات بہت ہی ضروری ہے کہ 2013 کے الیکشن سے لے کر 2018 کے الیکشن تک وہ پی ٹی آئی کے ساتھ جس انداز کا تعاون کرتی رہی ہے اس پر پوری قوم اور خصوصاً اہل کراچی سے معافی مانگنا چاہیے بصورت دیگر جوابدہی شاید مشکل ہو جائے۔

Facebook Comments HS