کیا منی ٹریل دینا صرف ججوں اور سیاست دانوں پر لازم ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سی پیک اتھارٹی کے چئیر مین اور وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کے بارے میں سیاست دانوں کے علاوہ حکومت کی مکمل خاموشی سے سناٹے کی ایسی کیفیت پیدا ہوئی ہے جو خوف میں مبتلا کرتی ہے۔ یہ خوف ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو یکساں طور سے محسوس کرنا چاہئے۔ عوام کو اگر سوالوں کا جواب بھی نہیں دیے جائیں گے اور اگر سوشل میڈیا مہم کے ذریعے صحافی کی کردار کشی کے ذریعے آگے بڑھا جائے گا تو حبس کا ایسا ماحول پیدا ہوگا جو لوگوں کی مایوسی اور اشتعال میں اضافہ کرے گا۔ حکمرانوں کو عوام کے اس غصہ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت ہے۔
یہ سوال اہم نہیں ہے کہ احمد نورانی نے اپنی رپورٹ میں جو انکشافات کئے ہیں اور جن کے دستاویزی ثبوت بھی فراہم ہوئے ہیں، وہ کس حد تک درست ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ملک کا کوئی ذمہ دار شخص اس معاملہ پر زبان کھولنے اور تبصرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جنرل عاصم باجوہ نے ایک تردیدی ٹوئٹ کے بعد خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور ویسا ہی اندوہناک چپ ملک کے بیشتر سیاست دانوں اور حکمرانوں کی طرف سے دیکھنے میں آئی ہے۔ حالانکہ اس رپورٹ میں کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا بلکہ بعض ’حقائق‘ پیش کیے گئے ہیں۔ دولت کمانا، کاروبار کرنا یا بیرون ملک املاک خریدنا ملکی قانون کے مطابق جرم نہیں ہے البتہ پانامہ لیکس کیس میں یہ اصول ضرور طے ہؤا ہے کہ اگر کسی اہم عہدیدار کے بارے میں یہ خبر سامنے آئے کہ اس کی ملکیت معلوم وسائل سے زیادہ ہے یا یہ کہ اس کا ملک سے باہر کاروبار ہے تو اسے منی ٹریل فراہم کرنا ہوگی۔ یعنی اس بات کے دستاویزی شواہد پیش کرنا ہوں گے کہ وہ دولت کہاں سے میسر ہوئی اور اگر مذکورہ وسائل پاکستان سے بیرون ملک بھیجے گئے تھے تو اس کی ترسیل کا ثبوت دیا جائے۔
حال ہی میں پارلیمنٹ نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے متعدد تقاضے پورے کرنے کے لئے کئی قوانین منظور کئے ہیں۔ ان میں سے دو قوانین سینیٹ میں اپوزیشن کی مخالفت کی وجہ سے منظور نہیں ہوسکے جس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ اگر ایف اے ٹی ایف نے خدا نخواستہ پاکستان کو بلیک لسٹ کردیا تو اس کی ساری ذمہ داری اپوزیشن پارٹیوں پر عائد ہوگی۔ وزیر اعظم عمران خان بھی سینیٹ میں اس ناکامی پر اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے تاکہ ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے کے لئے یہ قوانین منظور کر وائے جاسکیں۔ اس سلسلہ میں اپوزیشن پر شدید دباؤ ہے۔ بکھری پریشان حال اپوزیشن پارٹیوں سے اس موقع پر مزاحمت کی امید نہیں کی جاسکتی حالانکہ اپوزیشن کے ترجمانوں کا کہنا تھا کہ یہ دونوں بل ایف اے ٹی ایف کے بہانے ملک میں شہری آزادیوں کو محدود کرنے کے لئے پیش کئے گئے ہیں۔
جان لینا چاہئے کہ ایف اے ٹی ایف دہشت گردی کی حوصلہ شکنی اور انتہا پسند تنظیموں کو فراہم ہونے والے وسائل کی روک تھام کے لئے دنیا بھر کے ملکوں کو مؤثر قوانین نافذ کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔ وہی ممالک ا س کی گرے لسٹ میں آتے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ منی لانڈرنگ کو روکنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت ختم کرنے میں ناکام ہے۔ پاکستان کے کسی بھی سیاست دان اور عہدیدار کے بارے میں جب بیرون ملک اثاثوں کی بات سامنے آتی ہے تو ان کے جائز یا ناجائز ہونے سے بھی پہلے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ دولت ملک سے باہر کیسے بھیجی گئی۔ اگر متعلقہ شخص کے پاس اسے باقاعدہ بنکنگ سسٹم کے ذریعے باہر بھیجنے کا ریکارڈ اور ثبوت موجود نہ ہو تب ہی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ دولت بدعنوانی سے حاصل کی گئی ہوگی۔ اس میں سب سے اہم نکتہ منی لانڈرنگ کا ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھی شخص غیر قانونی طریقے سے وسائل ملک سے باہر بھجوا سکتا ہے تو قومی سطح پر سب سے بڑی تشویش یہ ہوتی ہے کہ ملک میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کا مؤثر نظام موجود نہیں ہے۔ ایسی ہی ترسیلات کی وجہ سے عالمی ادارے بھی خبردار ہوتے ہیں اور ان معلومات کو پاکستان جیسے ملکوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بدعنوانی سے دولت جمع کرنے کا سوال سامنے آتا ہے۔ معاملہ کا یہ پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ یہ بات طے ہے کہ سرکاری اختیارات اور پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر دولت جمع کرنے والے لوگ دو طرح سے وسائل کسی دوسرے ملک میں جمع کرسکتے ہیں۔ ایک طریقہ منی لانڈرنگ یعنی غیر قانونی ذرائع سے دولت باہر بھیجنے کا ہے تو دوسرا طریقہ کسی تیسرے فریق کو سرکاری اختیار استعمال کرتے ہوئے کوئی فائدہ پہنچا کر کمیشن کی وصولی کا ہوتا ہے۔ یہ کمیشن بیرون ملک کمپنیوں سے باہر ہی بے نامی اکاؤنٹس میں وصول کیا جاتا ہے۔ جنرل عاصم باجوہ کے معاملہ میں ابھی بدعنوانی سے وسائل جمع کرنے کا الزام سامنے نہیں آ یا لیکن یہ بات ضرور سامنے آئی ہے کہ ان کے بھائیوں کے علاوہ ان کی اہلیہ اور بیٹوں کے بیرون ملک املاک اور کاروبار ہیں جن کی مالیت بظاہر اس خاندان کی مالی حیثیت سے زیادہ ہے۔ اس کی وضاحت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ البتہ اس کی نامکمل تردید اور اس پر پراسرار خاموشی سے ان افواہوں کو تقویت ملنے کا اندیشہ ہے کہ عاصم باجوہ نے اپنے خاندان کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنی سرکاری پوزیشن سے فائدہ اٹھایا ہوگا۔ ان افواہوں کی بیخ کنی کرنا صرف جنرل عاصم باجوہ کا فرض نہیں ہے بلکہ حکومت اور فوج پر یکساں طور سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان شبہات کا قلع قمع کرے۔
یہ شبہات اس حقیقت کی روشنی میں زیادہ قوی ہوتے ہیں کہ حال ہی میں وزیر اعظم کے دیگر مشیروں و معاونین کی طرح عاصم باجوہ نے بھی اپنے مالی اثاثوں کی تفصیلات جمع کروائی تھیں۔ اس حلف نامے میں انہوں نے نہ تو اپنی بیگم کو خود کفیل بتایا تھا اور نہ ہی یہ لکھا تھا کہ ان کی اہلیہ کا ان کے بھائیوں کی شراکت میں کاروبار بھی ہے۔ یہ ممکن ہے امریکہ میں آباد ان کے بھائیوں نے از خود کاروبار میں ترقی کی ہو اور عاصم باجوہ کا اس سے کوئی لینا دینا نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے بھائیوں نے کچھ وسائل بیگم عاصم باجوہ اور ان کے بیٹوں کو تحفہ میں دیے ہوں اور انہوں نے اسے عقلمندی سے استعمال کرتے ہوئے قیمتی املاک اور سود مند کاروبار استوار کرلیا ہو۔ اس معاملہ میں کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کرنے سے گریز ضروری ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی بھی عہدیدار کے اثاثوں کے بارے میں معلومات سامنے آئیں تو کیا انہیں محض یہ کہہ کر رد کیا جاسکتا ہے کہ معلومات کسی غیر معروف ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہیں۔ یا رپورٹر نے عناد کی بنیاد پر ایسی خبر لگائی ہے۔ جبکہ رپورٹ کرنے والے صحافی کا دعویٰ ہے کہ ان سب لوگوں کے نام سے املاک اور کاروبار کے سرکاری دستاویزی ثبوت بھی فراہم ہیں۔ اس صورت حال میں خاموشی اعتراف جرم کے مساوی سمجھی جائے گی ۔ اس لئے جواب میں خاموشی کی بجائے ٹھوس دستاویزی ثبوت فراہم کرنا ہی بہتر ہوگا۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف موجودہ حکومت نے ایک غیر معروف صحافی کی شکایت پر ریفرنس دائر کیا تھا اور وزیر اعظم کے مشیروں اور وزیروں نے تواتر سے اس حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف پروپیگنڈا مہم کا آغاز کیا تھا۔ سپریم کورٹ کا فل بنچ اس ریفرنس کو ناقص قرار دے کر ختم کرچکا ہے لیکن اس دوران بیگم فائز عیسیٰ کو لندن کے اوسط علاقوں میں اپنے بچوں کے نام سے لی گئی املاک کی تفصیل بتانا پڑی تھی۔ انہوں نے بنک دستاویزات کے ذریعے اپنی آمدنی کے ذرائع اور ان وسائل کو لندن بھجوانے کے طریقہ کے بارے میں سپریم کورٹ کو مطلع کیا تھا۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ وہ متعلقہ ٹیکس حکام کو ساری معلومات فراہم کرکے ان سے ’کلیرنس سرٹیفکیٹ‘ حاصل کریں۔ اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ایک جج اور ملک کی وزارت عظمی پر تین بار فائز ہونے والے نواز شریف سے منی ٹریل مانگا جاسکتا ہے تو ملک کے کسی بھی شہری کو اس قاعدے سے چھوٹ نہیں مل سکتی۔
بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست دانوں پر الزام تراشی اور نیب کے ذریعے مقدمات قائم کرنے کی طویل روایت موجود ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چونکہ بیشتر نیب ریفرنسز کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا اور جس ایک فیصلہ میں نواز شریف کو 7 سال قید کی سزا دی گئی تھی ، وہ فیصلہ سنانے والے جج کو غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ معزول کرچکی ہے۔ اس کے باوجود نواز شریف کو ’مجرم اور چور‘ کہنے پر اصرار کیا جاتا ہے اور اعلان ہوتا ہے کہ ’این آر او نہیں دیا جائے گا‘۔ ایسا وزیر اعظم جب ملک کے اہم ترین عہدوں پر فائز شخص کے اثاثوں کے بارے میں خبر پر خاموشی اختیار کرتا ہے یا غیر روایتی طریقوں سے متعلقہ صحافی کی کردار کشی کی جاتی ہے تو سب دعوے اور اعلان ڈھونگ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ عمران خان کو جاننا چاہئے کہ گو کہ ملک میں ان کے ’اندھے پیروکاروں‘ کی کافی تعداد ہے لیکن عوام کی اکثریت حقائق کو پرکھنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
جنرل عاصم باجوہ فوجی عہدہ پر فائز رہے ہیں۔ اس وقت بھی وہ سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین ہیں جو انتہائی اہم عہدہ ہے ۔ اسی اتھارٹی کے ذریعے چین سے آنے والی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور بیش قیمت منصوبوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس عہدہ پر فائز شخص کی دیانت داری پر اٹھنے والا معمولی شبہ بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ملک میں یہ تاثر قائم کرنے سے کسی کا فائدہ نہیں ہوگاکہ ملکی قوانین فوجی افسروں کی غلط کاریوں کی روک تھام نہیں کرسکتے یا ملک کے جنرل ’قانون سے بالا‘ ہیں۔
بدقسمتی سے فوج اور تحریک انصاف پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلہ کو مسترد کرکے اس تاثر کی بنیاد رکھ چکی ہے۔ اب اگر جنرل عاصم باجوہ کے معاملہ پر خاموشی سے آگے بڑھنے کی کوشش کی گئی تو یہ طریقہ عمران خان کی سیاست اور فوج کی شہرت کو داغدار کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1620 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali