کہنے کو مرے شہر کو بارش نے ڈبویا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشرے کی فطری نشو و نما یا ارتقا کی راہ میں حائل رکاوٹ زندگی کے ہر شعبے میں پسماندگی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور معاشرہ رفتہ رفتہ قابل انتظام رہنے کے بجائے قابل رحم ہو جاتا ہے۔

معاشی بدحالی، بیروزگاری، ناخواندگی اور بد عنوانی میں اضافہ اور ادارے غیر موثر ہو جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ایسے معاشرے جہاں ارتقا کے عمل میں پہ در پہ رکاوٹ کھڑی کی جاتی ہیں وہاں بد ترین طوائف الملوکی یا نراج کی صورت پیدا ہو جاتی ہے جس کا مظہر اس کے شہروں کی تباہ حالی کی صورت میں جھلکنے لگتا ہے۔

فطری ارتقا کے نظام میں رکاوٹوں کا نتیجہ بحرانوں کی افزائش کی صورت میں نکلتا ہے اور ایک بحران کے بطن سے کئی بحران جنم لینے لگتے ہیں۔ ان میں سیاسی، معاشی، سماجی، خارجہ امور، بجلی کی کمیابی، گیس اور بجلی کی رسد اور طلب میں فرق، توانائی کی مطلوبہ مقدار مہیا نہ ہونے سے صنعت کے پہیے کا سست ہو کر ٹھہر جانے، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے جیسے بحران، اقتدار کے حصول کے لیے آپس کی رسہ کشی سے جنم لیتے بحران اور حکمران اشرافیہ کے مابین ٹکراؤ سے ابھرنے والے بحران بہت نمایاں ہوتے ہیں۔

ایسی ہی کچھ کیفیت ہمارے ملک کی ہے، جمہوری حکومتیں درست ڈگر اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہیں، ترقی کے اہداف مقرر کر کے ان کے حصول کو ممکن بنانے کی خاطر دن رات ایک کر کے کچھ کامیابی حاصل کرتی ہیں کہ کوئی فتنہ سر اٹھا لیتا ہے، عموماً ارتقا کے عمل میں رکاوٹ کا پہلا اور بڑا نشانہ قومی اہداف حاصل کرتی ہوئی جمہوری حکومت ہوتی ہے۔ حکومت اگر اپنی مدت پوری کر بھی لے تو اس امر کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ وزیراعظم کے عہدے پر منتخب یا سلیکٹڈ خواہ کسی بھی طور فائز کیا گیا وزیراعظم اپنے عہدے کی مدت پوری کیے بغیر موت کے منہ میں، گھر یا جیل بھیج دیا جائے۔

ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کوئی وزیراعظم اتنا خوش بخت ثابت نہیں ہوا کہ اپنے عہدے کی پانچ برس میعاد پوری کر پاتا، البتہ، آئین معطل کر کے صدارت کی کرسی پر اپنے ہی دستخط سے خود کو براجمان کر لینے والے بلا تعطل دس سے زائد برس تک ملک پر مسلط رہے ہیں۔ گویا، قیام پاکستان سے لے کر آج تک ”اسٹیٹس کو“ برقرار رکھنے والی طاقتور اشرافیہ نہ صرف معاشرے کی ممکنہ ترقی کی راہ میں حائل ہے بلکہ وہ فطری ارتقا کے عمل میں رکاوٹ پیدا کر کے شہریوں اور ریاست کے بیچ قائم رشتے کو بھی کمزور کر رہی ہے۔

حالات کو جوں کا توں بزور طاقت برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا نتیجہ انتظامی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ملک کے بڑے شہروں میں آفت کی صورت اختیار کرنے لگا ہے۔ کراچی ہو یا لاہور معمول سے زیادہ کی بارش کا ہو جانا کئی کئی روز تک معمولات زندگی کے مکمل طور پر معطل ہو جانے کا سبب بننے لگا ہے، حتی ’کہ معمول کی بجلی سپلائی منقطع ہو جانے سے شہر اندھیروں میں ڈوبنے لگے ہیں۔

عام طور پر توقع یہی کی جاتی ہے کہ صوبہ سندھ کا دارالحکومت کراچی جو ملک کی معاشی شہ رگ اور سب سے بڑا شہر ہے خراب سے خراب حالات میں بھی اپنے انتہائی منظم ہونے کی مثال پیش کرے گا لیکن اس کے برعکس آج یہ شہر اپنی تاریخ کی بدترین صورتحال سے دوچار ہے۔

صوبے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نزدیک آنے کے ساتھ، کراچی کراچی کا شور بھی بڑھ رہا ہے، صوبے کی تمام بلدیات پر حکومت کرنے کے خواہشمند ہر صوبے کے ہر شہر میں متحرک ہیں، لیکن، اس تمام شور میں کراچی سرفہرست ہے، کراچی پر کس کی حکومت ہے؟ کس حد تک عملداری ہے؟ ایک دوسرے پر الزام تراشی میں اس اہم ترین موضوع کو سب نے پس پشت ڈال رکھا ہے۔

طاقتور پالیسی سازوں کی اسٹیٹس کو قائم رکھنے کی حکمت عملی کے نتائج کو جاننے کے لیے کراچی میں حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہ کاری ایک بہترین ماڈل ہے۔

سندھ کے شہریوں کی اکثریت اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ کراچی کا اڑسٹھ ( 68 ) فیصد سے زائد علاقہ وفاق کے ایک محکمے کی تحویل میں ہے جہاں حکومت سندھ کی کوئی عملداری نہیں۔ سندھ حکومت کے اس وسیع و عریض، انتہائی مہنگے اور پر تعیش رقبے پر کوئی اختیار نہ ہونے کے سبب یہاں سے وصول کیا جانے والا ٹیکس بھی وزارت دفاع کا یہ محکمہ وصول کرتا ہے جس پر حکومت سندھ کوئی دعوی نہیں کرتی، ڈیفینس اور کنٹونمنٹ مختلف مدوں میں ٹیکس کی وصولی پر اپنی حدوں میں موجود کاروبار اور رہائشیوں سے کوئی رعایت نہیں برتتے جبکہ سندھ حکومت عوام کی نمائندہ ہونے کے باعث ٹیکس وصولی میں سخت اقدامات سے گریز کرتی ہے۔

کراچی کے اڑسٹھ ( 68 ) فیصد سے زائد کثیر رقبے پر اٹھارہ ( 18 ) کنٹونمنٹ، دو بندرگاہیں اور ایک وسیع و عریض ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی شامل ہے جس پر شہر کی قلیل آبادی رہائش پذیر ہے جب کہ دو کروڑ سے زائد نفوس کراچی کے % 30 سے % 32 فیصد اس علاقے پر آباد ہیں جو حکومت سندھ کی دسترس میں ہے۔ ڈی ایچ اے کراچی اور کنٹونمنٹ مہنگے ترین علاقے اور اسٹیٹس سمبل ہیں، سندھ کی حکمران اشرافیہ اپنی حکومتی عملداری میں رہائش اختیار کرنے کے بجائے ڈی ایچ اے کو ترجیح دیتی ہے اور ڈیفینس کراچی میں آباد ہے۔

خطے کی اہم ترین تجارتی اور دفاعی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے وفاق کے زیرانتظام کنٹونمنٹ میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔ دفاعی اور تجارتی اہمیت کے علاوہ رہائشی ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کا دائرہ کار ایم۔ 9 موٹروے پر لکی سیمنٹ سے آگے ڈی ایچ اے سٹی تک پھیل چکا ہے، ڈی ایچ اے سٹی کو ڈی ایچ اے کراچی سے ملانے کے لیے سڑک کی تعمیر زیر غور ہے۔

سیاسی ہلچل مچا کر اپنی راگنی الاپنے والی صوبائی حکومت سے لے کر اس کی مخالف سیاسی جماعتیں کسی مربوط بلدیاتی نظام جس کا سو فیصد دائرہ کار کراچی سمیت صوبے کے ہر شہر میں ہو، سیاسی عزم پیدا کرنے میں قطعی ناکام رہی ہیں، اس اہم ترین معاملے پر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے کے بجائے لسانی تعصب کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔

جبکہ اہم ترین اور فوری ضرورت ”صوبائی مالیاتی کمیشن“ کی تشکیل اور ”صوبائی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی“ جو صوبائی حکومت کے ماتحت کروڑوں روپے سالانہ کے اخراجات پر قائم اور موجود ہے کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ دونوں ادارے بنیادی آئینی ضرورت ہیں اور کراچی سمیت سارے صوبے کی مشکلات کے حل کا معاون بھی، حالیہ بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف تین نالوں کی صفائی کی اجرت ”قومی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی“ نے کروڑوں روپے مانگی ہے، جبکہ سندھ میں صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی موجود ہونے کے باوجود یہ کام ”قومی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی“ کو دیا گیا۔

شہر کراچی کی حالیہ بارشوں نے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ قدرت کے ارتقائی اصول کے مخالف کیے جانے والے فیصلے کے نتیجے میں اورنگی ٹاؤن اور لالو کھیت کی غریب آبادی اور پرتعیش ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی ایک ہی سطح کی بدترین بد نظمی کا شکار ہیں۔ ان علاقوں میں گٹر کا غلیظ پانی گھروں اور بازاروں میں داخل ہو کر لوگوں کو ان کی عمر بھر کی کمائی سے محروم کر چکا ہے۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس صورتحال نے بہترین انتظامی صلاحیت کا دعوی کرنے والوں کا بھرم بھی توڑ ڈالا ہے۔ ثابت ہو گیا ہے کہ فطری نشو و نما میں رکاوٹ کھڑی کرنے والوں کا علاقہ ڈیفینس ہو یا اورنگی ٹاؤن سب ایک سطح کے علاقے ہیں۔ شہر سے لے کر ملک بھر میں روز کھڑے ہونے والے بحرانوں کے باعث یہ شہر ہر گرفت سے آزاد ہو چکا ہے اور لوگوں نے معاملات خود اپنے ہاتھوں میں لینے شروع کر دیے ہیں۔ یہ صورت حال اگر مستقل شکل اختیار کرنے لگے تو طوائف الملوکی یا نراجی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

ایسے کسی خوفناک حالات سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ملک کے فطری، سیاسی، معاشی، سماجی اور انتظامی ارتقا کی راہ میں بار بار رکاوٹیں ڈالنے کا سلسلہ روکا جائے اور قومی مفاد کو مخصوص مفادات پر ترجیح دی جائے، کیونکہ، آئین اور جمہوری اصولوں سے انحراف، ملک کو تجربہ گاہ بنائے رکھنے کی خواہش اور ارتقا کے عمل میں مسلسل رکاوٹ ڈالنے کی روش حالات کو اس مقام تک پہنچا سکتی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ شاید نہ مل سکے۔

کراچی کی صورتحال کی عکاسی اس شعر میں کیا خوب ہوتی ہے :
مدت سے پنپتی ہوئی سازش نے ڈبویا
کہنے کو مرے شہر کو بارش نے ڈبویا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •