ہندوستانی مسلمان بھی کافر ہی نکلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ممتاز عالم دین و دنیا جناب اوریا مقبول جان صاحب نے اپنے 25 نومبر 2016 کے کالم میں لکھا ہے کہ بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں ’نے زمین سے محبت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہجرت پر مقدم رکھا اور آج بھارت میں گھل مل کر بھی رہتے ہیں لیکن ذلیل و رسوا ہیں اور غربت و افلاس میں ڈوبے ہوئے ہیں‘۔ قرآن پاک کی آیات اور احادیث مبارکہ سے حضرت اوریا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان بھارتی مسلمانوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہیں۔ ہم اپنی ناسمجھی میں بھارت میں رہ جانے والوں کو مسلمان ہی جانتے تھے مگر شکر ہے کہ حضرت اوریا مقبول جان کی اس مدلل تحریر سے ہماری غلط فہمی دور ہو گئی ہے۔

ہم طبعاً بھولے بھالے ہیں اور جو شخص بھی باتوں کے طوطا مینا بنائے وہ ہمیں پرچا لیتا ہے۔ اسی سبب سے ہم آج تک یہ سمجھتے رہے کہ تقسیم ہند کے وقت بھارت میں رہ جانے والے کلمہ گو مسلمان ہی تھے کیونکہ دارالعلوم دیوبند اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کے خانوادے کے اکابر علما وہیں ہندوستان میں رہ گئے تھے اور ہمیں گمان تھا کہ وہ قرآن و حدیث کو عام مسلمانوں سے بہتر سمجھتے ہیں۔ مگر ہم اب غور کرتے ہیں تو حضرت اوریا کی بات درست معلوم ہوتی ہے۔

پروفیسر ہود بھائی سے ایک ٹی وی مذاکرے میں حضرت اوریا نے علم کے متعلق ایک اصول بیان فرمایا تھا کہ سائنسی علوم کی دنیا میں اعلی ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک، ایم آئی ٹی سے فزکس میں پی ایچ ڈی کرنا علم کی نشانی نہیں ہے بلکہ علم کا اصل ثبوت تو سی ایس ایس کرنا ہوتا ہے۔ اسی اصول کو صرف دنیاوی علوم تک محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور اسے ایک عمومی اصول سمجھا جائے تو درست ہو گا۔ یعنی دینی علوم کے سب سے بڑے ماہرین بھی سی ایس ایس کرنے والے علما ہی قرار پائیں تو درست ہے۔ اس لئے ہم اکابرین دیوبند و بریلی کی دینی رائے پر، حضرت اوریا کی رائے کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں کیونکہ اکابرین دیوبند و بریلی نے سی ایس ایس نہیں کیا تھا اور اس معیار کے تحت ان کا دینی علم بھی پروفیسر ہود بھائی کے دنیاوی علم کی مانند ناقص ہے۔

حضرت اوریا نے مزید فرمایا ہے کہ ’جب پاکستان اللہ کے نام پر تخلیق ہوا تو مغربی پاکستان کی آبادی تین کروڑ تھی اور بھارت میں رہنے کا فیصلہ کرنے والے ڈیڑھ کروڑ سے بھی کم تھے۔ آج یہ پاکستان بیس کروڑ انسانوں کو عزت کے ساتھ آباد کیے ہوئے ہے۔ اگر بھارت میں رہ جانے والے مسلمان اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے یہاں ہجرت کرجاتے تو یہاں کی آبادی صرف چار کروڑ ہی ہوتی۔ لیکن انھوں نے زمین سے محبت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہجرت پر مقدم رکھا اور آج بھارت میں گھل مل کر بھی رہتے لیکن ذلیل و رسوا ہیں اور غربت و افلاس میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کشمیری پہلے دن سے اسی بنیاد پر بھارت سے علیحدگی چاہتے اور جدوجہد کرتے رہے جس بنیاد پر پاکستان نے ہندوستان سے علیحدہ وطن حاصل کیا تھا‘۔

سنہ 1941 کی مردم شماری کے مطابق متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی، کل آبادی کا پچیس فیصد یعنی نو کروڑ کے قریب تھی اور سنہ 1951 کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ کروڑ نہیں بلکہ بھارت کی کل آبادی کا دس فیصد یعنی ساڑھے تین کروڑ سے زائد تھی۔ سنہ 1951 کی پاکستانی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی ساڑھے سات کروڑ تھی جس میں سے مغربی پاکستان کی آبادی تین کروڑ سینتیس لاکھ اور مشرقی پاکستان کی آبادی چار کروڑ بیس لاکھ تھی۔ ان ساڑھے سات کروڑ میں سے تیرہ فیصد، یعنی تقریباً ایک کروڑ ہندو تھے۔

ہمیں یقین ہے کہ مردم شماری کے یہ سارے اعداد و شمار جھوٹ ہیں اور تقسیم ہند کے بعد بھارت میں کل ڈیڑھ کروڑ مسلمان ہی تھے، تین کروڑ نہیں اور اگر 1947 میں یہ تین کروڑ مسلمان بھی مغربی پاکستان آ جاتے تو مغربی پاکستان کی آبادی ساڑھے چھے کروڑ نہیں بلکہ چار کروڑ ہی ہوتی۔ ہمارے یقین کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کی مردم شماری یہود و ہنود کی سازش تھی، اور حضرت اوریا کے دیے گئے اعداد و شمار درست ہیں کیونکہ انہوں نے سی ایس ایس کیا ہوا ہے۔

مولانا توقیر رضا خان اور دارالعلوم دیوبند کے ریکٹر مفتی ابو القاسم نعمانی

نمبروں اور عقیدے کی بحث میں ہمیں حضرت اوریا مقبول جان کا موقف تسلیم کرنے میں ذرہ برابر تامل نہ کرتے ہوئے یہ مان لینا چاہیے کہ ہندوستانی مسلمان کفار میں سے ہیں۔ یاد رکھیں، کہ حضرت اوریا مقبول جان کا علم حتمی ہے کیونکہ انہوں نے سی ایس ایس کیا ہوا ہے، مولانا حسین احمد مدنی یا مولانا احمد رضا خان نے سی ایس ایس (یا اس زمانے کا آئی سی ایس) نہیں کیا تھا، اس لئے علم دین کے معاملے میں ان کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ہندوستانی مسلمان کفار میں سے ہیں کیونکہ حضرت اوریا مقبول جان نے سی ایس ایس کیا ہوا ہے۔

نوٹ: یہ علمائے دیوبند و بریلی و تبلیغی جماعت کے دفاع میں لکھی گئی ایک طنزیہ تحریر ہے جو کہ اوریا صاحب کو یہ یاد دلاتی ہے کہ کیسا کیسا عالمِ بے بدل تقسیم ہندوستان کے وقت وہیں رہ گیا تھا اور بلا شک و شبہ ان علما کی فہمِ دین اوریا صاحب یا ہم سے زیادہ تھی۔ ان محترم ہستیوں پر یہ الزام لگانا کہ انہوں نے زمین کی محبت کو سنت رسولؐ پر ترجیح دی، انتہائی نامناسب ہے۔

Nov 26, 2016


اسی بارے میں
یہ علاقائی جنگ نہیں معرکہ حق و باطل ہے از اوریا مقبول جان
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1338 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

19 thoughts on “ہندوستانی مسلمان بھی کافر ہی نکلے

  • 26/11/2016 at 4:54 pm
    Permalink

    اوریا مقبول جان کی تحریر کے یہ الفاظ سب کچھ واضح کردیتے ہیں ، لیکن کیا کریں اگر ہمیں درست بات سمجھ ہی نہ آتی ہو۔۔۔۔اور ہم ایک ہزار سے زائد الفاظ کی تحریر میں اپنی مرضی کے سو دو سو الفاظ پر اکتفا کر بیٹھیں تو پھر عقل پر ماتم تو بنتا ہی ہے۔

    ۔۔۔قومیتوں کی جنگ میں آبادی کے مذہب کا لڑائی سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہوتا۔۔۔۔

    ۔۔۔بوڑھا حریت رہنما سید علی گیلانی اسی لیے لاکھوں کشمیریوں کے ہجوم کے ساتھ صرف اور صرف ایک ہی نعرہ لگاتا ہے۔ پاکستان سے رشتہ کیا۔ لاالہ الاللہ۔ پاکستان کا بھارت کے ساتھ اختلاف کشمیر کے مسئلہ پر نہیں، کلمہ طیبہ پر ہے۔کس قدر بھونڈی منطق دی جاتی ہے کہ بھارت میں بھی تو ہم سے زیادہ مسلمان بستے ہیں۔ ان کی اسلام سے محبت کے باوجود عرض ہے کہ اللہ کا قرآن اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ان کے بھارت میں رہ جانے اور ان میں گھل مل جانے کے فیصلے کی تصدیق نہیں کرتا۔

    ’اللہ فرماتا ہے ’’جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے پہنچے تو پوچھا تم کس حال میں تھے؟ یہ جواب دیتے ہم کمزور و مغلوب تھے۔ فرشتوں نے کہا ، کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم وہاں ہجرت کرجاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جائے قرار ہے‘ (النساء 97)‘‘۔
    یہ قرآن کی آیت کا ترجمہ ہے ، تو کیا یہ سمجھا جائے کہ آپ قرآن کی آیت کے الفاظ سے کسی بھی صورت اتفاق نہیں رکھتے؟

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم مشرکین کے ساتھ سکونت اختیار نہ کرو اور نہ ان کے ساتھ گھل مل کر رہو، پس جو شخص ان کے ساتھ سکونت اختیار کرتا ہے یا ان کے ساتھ مل کر رہتا ہے تو وہ انھی کی مثل ہے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں‘‘ (سنن جامع ترمذی رقم باب 42)۔
    یہ حدیث رسولﷺ کے الفاظ ہیں،کیاآپ ان الفاظ سے بھی متفق نہیں ہیں؟

    قائداعظم اور لیاقت علی کے اقوال تو کشمیر پر بہت واضح ہیں لیکن قائداعظم کے بعد بننے والے گورنر جنرل کیمرج سے پڑھے ہوئے ڈھاکا کے نواب خواجہ ناظم الدین نے 1950ء میں کہا تھا ’’میں نہیں تصور کرسکتا کہ مذہب کسی فرد کا ذاتی مسئلہ ہے اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک مکمل کشمیر اس کا حصہ نہیں بن جاتا۔ بھارت سے جنگ ایک علاقائی نہیں بلکہ نظریہ پاکستان کے تحفظ اور بقا کی جنگ ہے اور نظریہ پاکستان کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر قومیت کی تشکیل کا نام ہے۔

    اس کے ساتھ ہی اوریا کی تحریر میں درج غزوہ ہند کے متعلق احادیث پر ذرا غور کریں۔ شکریہ

    • 26/11/2016 at 4:57 pm
      Permalink

      ہماری بات چھوڑیں، سوال یہ ہے کہ کیا علمائے دیوبند و بریلی کو قرآن پاک و حدیث مبارک کے ان الفاظ کی سمجھ نہیں ہے اور صرف اوریا صاحب کو ہی اس کی سمجھ ہے؟

      آپ کی بات مانوں تو کئی نسلوں تک دین کو سیکھنے والوں کو دین سے نابلد جاننا ہو گا اور اوریا صاحب کو دین کی حجت جاننا ہو گا۔

  • 26/11/2016 at 5:05 pm
    Permalink

    ویسے اگر پوچھا جائے کہ ’ آپ اہل دیوبند سے ہیں کہ بریلوی سے ؟ کیونکہ آپ نظریہ پاکستان کو مانتے نہیں ، دوقومی نظریہ آپ کی چڑ ہے ، اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ’ مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی ‘ کو دو قومی نظرئیے کا بانی کہا جاتا ہے۔ ویسے بھی دین سمجھنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے ،یہ کہا سے آگیا کہ دیوبند یا بریلی شریف سے ملنے والا ہی دین برحق ہے ؟ یا پھر کہیں اور سے ملنے والا ؟ آپ قرآنی آیت اور حدیث رسول ﷺ پر اپنے خیالات کااظہار کریں یا پھر اپنے من پسند عالم دین سے اس کا جواب لے آئیں۔ کیونکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث کے الفاظ ہر صورت کسی بھی عالم کی زبان سے نکلے الفاظ سے زیادہ معتبر ہیں۔

    • 26/11/2016 at 5:13 pm
      Permalink

      عالم کی زبان سے زیادہ ان کا عمل اہم ہے حضرت۔ اور وہی آپ کو بتایا ہے کہ بڑے ہندوستانی علما وہیں رہے گئے تھے۔ کیا آپ کا خیال ہے کہ وہ بڑے علما اتنے جاہل تھے کہ ان کو یہ مشہور حدیث، حتی کہ آیت بھی معلوم نہیں تھی جس کی بنیا پر اوریا صاحب اپنا مقدمہ بنا کر ان علما کو برا کہہ رہے ہیں؟ ابھی کسی نزدیکی دینی ادارے میں جا کر پوچھ لیں کہ دین کے معاملے میں علما کی بات اور اسوہ حجت مانے جائیں گے یا اوریا صاحب کے؟

      دوسری بات، شکر ہے کہ نظریہ پاکستان کا ایک عالم ملا۔ مدت سے تلاش تھی۔ امید ہے کہ آپ ان سوالات کا جواب دیں گے جو بہت مدت سے تلاش کر رہا ہوں:

      ۱۔ نظریہ پاکستان کا متن کیا ہے
      ۲۔ اسے کس نے پیش کیا تھا
      ۳۔ اسے کب پیش کیا گیا تھا

  • 26/11/2016 at 7:42 pm
    Permalink

    خراسانی غازیوں کے خانِ سامان جناب اوریا مقبول جان کی تحریر پڑھ کر پہلےتو وہ نعرہ یاد آیا جو ۱۹۹۲ سے ہندوستان میں خاصا رائج ہے: بابر کی سنتان، جائو پاکستان یا قبرستان۔ (سنتان: اولاد) ۔ اور یہ پتہ چل گیا مشترکہ قومیت چاھے نہ ہو لیکن مشترکہ ذہنیت ضرور تھی اور ہے۔ پھر یہ بھی یاد آیا کہ اس نعرہ کو سننے کے بعد بھی کروڑوں مسلمان وہیں رہ کر زندگی گذارنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں، اور چونکہ ندوہ ، دیوبند اور بریلی ہندوستان سے اڑ کر پاکستان نہیں پہونچے، اور اجمیر اور بستی نظام الدین بھی ابھی آباد ہیں اس لئے تین شعر یاد کرکے جی خوش کرلیا:

    لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
    یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

    زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
    کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں

    اے خالِ رخِ یار تجھے خوب بناتا
    پر چھوڑ دیا حافظ قرآن سمجھ کر

  • 26/11/2016 at 7:57 pm
    Permalink

    شکریہ آپ کا جناب! کہ آپ نے لفظ نظریہ پاکستان ہی اپنے سوال میں درج کیا ہے جس کی وضاحت آپ نے مجھ سے مانگی ہے، اور دو قومی نظرءیے کے لفظ کو گول کرگءے، ویسے یہ بات تو اب تاریخ کے ہر طالب علم کو معلوم ہی ہے کہ دو قومی نظریہ ہی نظریہ پاکستان قرار پایا تھا،اس حوالے سے آپ کی ذہنی ساخت پر افسوس نہ کیا جاءے تو اور کیا کیا جاءے؟ اور اب یہ مت کہہ دی جاءے گہ کہ برصغیر کی تقسیم کی وجہ دو قومی نظریہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا، اور پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ کا نعرہ مریخ پر لگایا جارہا تھا، سرزمین ہندوستان پر نہیں، دوسری جانب اوریامقبول جان کی پوری تحریر کا حاصل کشمیر پر پاکستان کے موقف کو جغرافیاءی سطح پر نہیں بلکہ نظریاتی اور مذہبی سطح پر ثابت کرنے کے حوالے سے ہے،اس میں سے ایک بات قرآن و حدیث سے کہی گءی ہے اور آپ کو علما یاد آگءے ہیں؟ ویسے کل تک یہ وہی برہلوی اور دیوبندی مولوی تھے نہ جو مسلمانوں کی گمراہی اور زوال کا سبب تھے اب آپ کے نظر میں۔۔۔ ویسے سیکولر فکر کو سوچ لینا چاہیے کہ وہ اپنا فکری مقدمہ کس زمین پر لڑنا چاہتے ہیں فکری یا پھر کسی کے بغض پر……

    • 26/11/2016 at 8:02 pm
      Permalink

      سر تاریخ کی کسی کتاب سے حوالہ دے دیں یا قائد کی تقریر و تحریر سے جس سے آپ کے اس دعوے کی تائید ہو کہ دو قومی نظریہ ہی نظریہ پاکستان قرار پایا تھا۔ یہ دلچسپ دعوی پہلی مرتبہ آپ سے ہی سننا نصیب ہوا ہے۔

    • 26/11/2016 at 8:54 pm
      Permalink

      ک ف ر : کُفر۔ ف ک ر : فِکر ۔ جان صاحب تکفیر کے قائل ہیں، کاکڑ صاحب تفکّر کے۔ موخرالذکر نہ تو قرآن کا انکار کر رہے ہیں نہ حدیث کا۔ وہ تو ان دونوں کو انکے سیاق و سباق میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اب اگر یہ کوشش غلط ہے تو پھر وہ تمام علمی و فقہی کتابیں بھی غلط ٹھیریں جن میں یہ کوشش کی گئی ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ کتاب الله میں تو درج ہے کہ جو تم پر حاکم ہے اسکا حکم مانو، اس لئے اگر نواز شریف الکشن بند کردیں اور اپنے بیٹے کو وزیراعظم قرار دیدیں تو پاکستانیوں پر فرض ہوگا کہ وہ سر تسلیم خم کردیں۔ ظاہر ہے زیادہ تر پاکستانی انکار کردیں گے۔ رہی بات غزوہٴہند والی حدیثوں کی جو مقبول جان اور زید حامد صاحبان کو بہت مرغوب ہیں، تو بھئی ان کو قبول کرنے کا مطلب ہوگا یہ بھی قبول کرنا کہ الله کی یہ بھی مرضی ہےکہ اسلام کا غلبہ سارے عالم پر صرف ۴۰ برس رہے اور اسکے بعد دنیا برباد کردی جائے۔ صرف ۴۰ برس کے اقتدار کے لئے اتنی بےصبری اور پینترےبازی میری سمجھ میں تو نہیں آتی۔

  • 27/11/2016 at 1:22 pm
    Permalink

    ف ک ر سے جو فکر بنتی وہ صرف عدنان کاکڑ صاحب کی ورنہ باقی پاکستانی تو چھابڑی لگاتے ہیں، واہ جی واہ کیا بات ہے، جو آپ کی بات سے اختلاف کرے وہ جاہل اور حامی اہل دانش، کیا خوب ہے خود کو سپر سمجھنا، اسے نرگیست ہی کہا جاسکتا ہے جس کا شکار سیکولر عناصر کی طرف سے اب تک مسلمانوں کو قرار دیا جاتا رہا ہے، پر کیا کریں سیکولرز کا عیب بھی تو خوبی ہے اور دوسرے کی خوبی بھی عیب، کیوں درست کہا ناں۔

    اوریا مقبول جان نے کشمیر پر پاکستان کے اصولی اور فکری موقف کی ترجمانی کی ہے، وہ پاکستان بنانے والوں کی فکر کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس پر انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان کے ساتھ ایک اور شخصیت کا تذکرہ کیا ہے جو کسی پیلے اسکول کے پڑھے نہیں تھے بلکہ جدیدیت کے علمبردار اہل دانش کے تعلیمی قبلے کیمرج سے فارغ تحصیل تھے، کیا کریں کسی کی مخالفت یا اپنی بات ماننے کے لئے اپنوں سے اظہار لاتعلقی ایک عام سے بات ہوگئی ہے سیکولر قبلے کے لئے، چلیں جی اب آپ اوریا مقبول جان کی تحریر سے پچھنے والے زچ کو تھوڑا اور وسعت دیں اور صفدر محمود صاحب کی کتاب’ پاکستان میری محبت‘ ایک بار پڑھ ہی لیں تاکہ دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کی روداد آپ کی نظر سے گزر جائے۔

  • 27/11/2016 at 1:32 pm
    Permalink

    ویسے کبھی ہمیں اس بات سے بھی آگاہی دیں، تحریک حصول پاکستان ( جو یقینا کسی نظرئیے کی ہی بنیاد پر چلی تھی جو آپ کے خیال کے مطابق دنیا میں وجود ہی نہیں رکھتا) تو پھر لا الہ اللہ کا نعرہ اس تحریک کا سرمایہ کل کیوں تھا، اس نعرے کی ہی بنیاد پر تاریخ بہت بڑی ہجرت کیوں ہوئی؟
    ویسے اس حوالے سے شاید آپ کی رہنما بھارتی صحافی کلدیپ نائر کی کتاب ایک زندگی کافی نہیں کے ابتدائی ابواب کا مطالعہ بھی افاقے سے کم نہ ہوگا، اس حوالے سے خورشید ندیم کی کتاب اسلام اور پاکستان بھی دوا کا کام دے گی ، لیکن پھر آپ کو لگے کہ چس نہی آئی تو پھر آپ کو مزید کتابوں کے نام بھی بطور حوالہ دئیے جائیں گے کیونکہ آپ جب تک اپنی آنکھوں سے حقیقت نہ پڑھ لیں تو آپ کو مزا نہیں آئے گا،

    • 27/11/2016 at 1:35 pm
      Permalink

      غالباً آپ کے لئے یہ بات دلچسپی کا باعث ہو گی کہ تاریخ کی اس سب سے بڑی ہجرت کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب مغربی پنجاب میں غیر مسلموں کا قتل عام شروع ہوا تھا اور پھر پورے پنجاب میں یہ آگ پھیل گئی تھی۔

      یوپی وغیرہ سے پاکستان آنے والوں کی تعداد کتنی تھی، اور اب وہاں مسلمانوں کی کتنی آبادی ہے؟

      مزید کتابوں کے حوالے دیں جس میں یہ واضح کیا گیا ہو کہ نظریہ پاکستان اصل میں دو قومی نظریے ہی کا نام ہے۔

      لیکن اس سے اہم چیز یہ ہے کہ 1960 تک کی کسی تحریر میں بھی لفظ ‘نظریہ پاکستان’ دکھا دیں۔

  • 27/11/2016 at 1:36 pm
    Permalink

    مندرجہ بالا سوال کے جواب میں آپ انگریز سازش کو مت تلاش کرلیجئے گا کیونکہ دنیا کوئی بھی مسلمانوں کے خلاف سازش نہیں کرسکتا کیوں کہ ہم جو کچھ بھی بگت رہے ہیں وہ اپنے اعمال ہی کا تو نتیجہ ہے۔ کیونکہ اب تک کے سیکولر دانش اس سوال کا جواب یہ ہی دیتے آئے ہیں کہ جی وہ سازش تھی انگریز کی، اب آپ کو اس کا بھی حوالہ درکار ہوگا؟ تو پھر آپ کو اپنے دانشور حسن نثار کی چند سال قبل کی تحریریں پڑھنا پڑیں گی ۔ جس کا حصول یقیقنا آپ کی صحت پر گراں نہ گزرےگا۔

  • 27/11/2016 at 1:38 pm
    Permalink

    مزید حوالے لگتا ہے کہ آپ کی زندگی حوالہ دو حوالہ بن کر رہ گئی ہے، دل پر مت لیں، تھوڑا مزید پڑھیں

  • 27/11/2016 at 3:11 pm
    Permalink

    “ تاریخ کی اس سب سے بڑی ہجرت کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب مغربی پنجاب میں غیر مسلموں کا قتل عام شروع ہوا تھا“ کیا کہنے جناب کہ مطلب جو ہجرت ہوئی تھی وہ ان لوگوں نے کی تھی جو غیر مسلموں کے قاتل تھے جبکہ ہندوستان میں رہ جانے والے تمام ہی مسلمان کیوں کہ کسی بھی قتل میں ملوث نہیں تھے اس لئے وہ وہیں رہ گئے، یعنی کہ تمام ہی مسلمان قاتلوں نے ہندوستان سے ہجرت کی تھی ، تاریخ کو کمال رخ دیا ہے۔

    اور ہاں کبھی جن مولوں کو آپ جیسے تمام سیکولر دانشور ہی بربادی اور تباہی کی وجہ سمجھتے تھے مگر اوریا مقبول جان کی تحریر کے بعد ان کے پاسبان بن گئے ہیں تو اہل دیو بند، بریلوی علما سے یہ تصدیقی پیغام لے آئیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کے عین مطابق جہاد ہند ہوگا جس کی فتح ہی شام میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ سلام کی آمد کی نوید ہوگی ، وہ کیا پاکستان میں لڑی جائے گی یا پھر افغانستان میں ؟ یا پھر وہیں ہندوستان میں؟ اگر وہاں لڑی جائے گی اور وہ ہندوستان کی جانب سے لڑیں گے تو وہ کس قافلے کے راہی ہوں گے؟
    ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ لائن آف کنٹرول پر مرنے والے مسلمانوں کا اسٹیٹس کیا ہے کیونکہ آپ کی تحریر بھارتی مظالم کے خلاف نہیں آئی۔
    چلیں اب جبکہ آپ نے اہل دیو بند اور بریلوی علما کے حق میں ایک تحریر رقم کردی ہے اور اپنے لفظی اخلاص کا اظہار کردیا، وہیں اپنا عملی اخلاص بھی ثابت کردیں ان ہی مکاتب فکر کے علما نے آئین پاکستان میں جو اسلامی دفعات پاس کرائی جن پر سیکولر اور لبرل مگر کرپٹ عناصر عمل در آمد نہیں ہونے دے رہے ان پر عمل کی مہم چلا کر آپ اہل دیو بند اور بریلوی علما سے سچی عقیدت کا عملی ثبوت دیں۔

  • 28/11/2016 at 12:40 pm
    Permalink

    مجھے معلوم تھا کہ کئی حوالے مل جانے کے بعد اب آپ کی خاموشی طویل تر ہوجائے گی، تو جناب علما دیو بند اسلام کو کس حد تک سمجھتے ہیں اور ان کی ہندووں سے محبت پر بھی بات ہوجائے؟ چلیں بس یہ پڑھ کر اپنی پاسبانی پر بات کریں۔
    https://lubpak.com/archives/299229

    • 28/11/2016 at 11:27 pm
      Permalink

      کاکڑ صاحب کی مراد راولپنڈی کے فسادات ہیں جن میں مقامی مسلمانوں نے غیر مسلموں کا قتل و غارت کیا تھا، اور جو ۱۹۴۷ میں غیر منقسم پنجاب میں بڑے پیمانے پر واقع ہونے والے پہلے فسادات تھے۔ اگر نصابی کتابوں میں یا صفدر محمود کی کتاب میں ان کا ذکر نہیں تو اس میں ان فسادوں کا کوئی قصور نہیں، اور نہ ان میں برباد ہونے والوں کا۔ ان سے پہلے فساد ہوتے تھے لیکن نقل مکانی نہیں ہوتا تھا، اور نہ شہر کا شہر خالی کرانے کی کوشش کی جاتی تھی۔
      غزوہٴ ہند ظاہر ہے اسی جگہ بپا ہوگا جسکو اُس وقت ہند کہا جا رہا ہوگا۔ اور وہ سیاہ پرچموں والا لشکر ظاہر ہے پنڈی، لاہور وغیرہ سے گزرتا ہوا ہی امرتسر اور پھر دہلی پہنچے گا۔ خدا سے دعا ہے کہ اس وقت اوریا مقبول جان اور زید حامد صاحبان موجود ہوں اور اس میں شریک ہوکر اپنی دلی خواہش پوری کرسکیں۔ کیونکہ، وہی جب نہ ہونگے تو کیا رنگِ محفل۔
      البتہ ایک سوال رہا جاتا ہے۔ ایک اور حدیث کی رو سے کہا جاتا ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ ہند کی جانب سے روحانی خوشبو آتی ہے۔ شاید یہ موضوع حدیث ہو۔ ورنہ جس جگہ سے روحانی خوشبو آئے اسکو خداوند تعالے کیوں خراسانی غازیوں کے ہاتھوں تباہ کروائےگا؟ یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر کس طرح یہ کٹا پھٹا ہند اس مشتبہ اہمیت کا حامل ہوجائےگا کہ اسکی بربادی نزول مسیح پر منتج ہوگی۔ اسِ وقت تو اگر کسی ملک کو اتنی اہمیت حاصل ہےتو وہ امریکہ ہے، یا پھر چین۔ بہرحال، مستقبل کو کون جانتا ہے۔ ممکن ہے ہند یا بھارت ان دونوں سےاس بات میں (جسکی وضاحت نہ حدیث میں ہے اور نہ اوریا صاحب کی تحریر میں ، نہ جنرل زید حامد کے بیانات میں )کہیں آگے نکل جائےجسکےسبب اس پر خدا کا عذاب خراسانی غازیوں کی شکل میں نازل ہوگا۔
      آپ نےجمعیت علمائے ہند کےارشد مدنی کے ایک بیان کی طرف توجہ دلائی ہے جسکے مطابق ان کے نزدیک ہندو مشرک ہیں لیکن کافر نہیں، بلکہ بہت سے ہندو مشرک بھی نہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ نظریہٴ پاکستان کے مبینہ خالق، اقبالِ لاہوری بھی کچھی اسی طرح سوچتے تھے۔ ’بانگ درا ‘ میں شامل نظمیں (آفتاب؛ سوامی رام تیرتھ، رام، نانک) دیکھ لیجئے۔اقبال نے انھیں کبھی اپنے کلام سے خارج نہیں کیا۔ اور اگر یہ نظمیں انکے ’دور جاہلیت‘ کی ہیں ، یا وہ ان خیالات سے تائب ہو گئے اگرچہ اظہار کسی وجہ سے نہیں کیا، تو پھر سوچئے کہ ’جاوید نامہ ‘ میں ہندو رشیوں کا ذکر کیوں اس اہتمام اور احترام سے کیا گیا ہے۔

  • 28/11/2016 at 5:16 pm
    Permalink

    جس طرح گدھ ہمیشہ گندگی پے جھپٹتا ہے، اسی طرح عدنان صاحب بھی متنازعہ ایشوز پے ہی جھپٹتا ہے،اوپر سے اس تواتر سے لکھتا ہے جیسے کسی نے فرما یا کے ایک لو تو دو مفت.معلوم ہوتا ہے کہ کافی فارغ البال قسم کے آدمی ہیں۔ محترم، ایک برادرانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں اور وہ بھی بلکل مفت، اور وہ یہ کے پازیٹو ایشوز پے بہی لکھیں اور ذرا وقفہ دے کے لکھیں۔.. والسلام

  • 28/11/2016 at 8:41 pm
    Permalink

    Ab tak tu me orya sahib ka fan tha lakin hazrat ki indian musalmano ko kafir kehny wali tahreer nay tu mera rukh hi mor diya

  • 28/11/2016 at 11:01 pm
    Permalink

    اوریا مقبول جان تو ایک لکھاری ہے،جو اپنی فکری بنیادوں پر لکھتا ہے،اس فکر پر اچھے اور برے ہر طرح کے حالات پر کھڑا رہا ہے، مگر کیا ہم عدنان کاکڑ صاحب کے بارے میں یہ حسن زن تو نہیں رکھ لیں کہ وہ بھی کسی فکر سے وابستہ ہیں؟ دراصل یہ اس فکر سے وابستہ ہیں جو بقول حاشر صاحب روز اپنا رخ بدلتی ہے، مطلب ہر دن نئے سرے سے جس کا آغاز کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان کی سوچ مولوی اوریا مقبول جان و دیگر کی سوچ کی طرح جامد تھوڑی ہے، بلکہ سیکولر فکر تو ہر وقت ارتقائی سفر پر رہتی ہے۔

    ہم نے گزشتہ کئی پیغامات میں جناب عدنان کاکڑ صاحب سے کہا کہ جناب کل توتمام خرابیوں کا ذمہ دار مولوی تھا اور آپ کو مسٹر کی پڑی تھی ( جبکہ یہ وہی مسڑ ہے جو پاکستانیوں کی دولت بیرونی دنیا میں لے جاچکا ہے اور عوام پر کئی سو ارب کا قرضہ ہے اور اب بھی’ کچھ دیئے‘ بغیر کام نہیں ہوگا جن کا نعرہ مستانہ ہے)، اب آپ مولویوں کے ترجمان یا پاسبان بن گئے ہیں تو تھوڑا عملی کردار بھی ادا کردیں، ملک کے آئین میں موجود اسلامی دفعات پر عمل کو ہر صورت ممکن بنانے کے لئے جدوجہد کریں، تاکہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ تھوڑے سے اسلامی قوانین پر عمل ہوتو معاشرہ کیا رخ اختیار کرتا ہے اس میں خیر و برکت کے کیا مظاہر ابھرتے ہیں،( اگر آپ ایسا نہ کریں تو پھر منافقت کا میڈل آپکا ہوا،اس میڈل کو ویسے بھی سیکولرز تمغہ اعزازی سمجھ کر سینے پر سجائے پھرتے ہیں)۔

    لگتا ہے کہ وہ عملی اقدام کے حوالے سے کسی صورت تیار نہیں کیونکہ وہ آج کل لفظوں کی تازہ تازہ جلبیاں بنارہے ہیں، ہم نے ان کے فکری اشکال کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں، اس حوالے سے ہندوستانی علما کی اسلامی فکر پر کچھ گزارشات ان سے پوچھ لیں تو جناب پلٹ کر ہی نہیں آئے۔

    ان سے عرض ہے کہ تھوڑا مطالعہ وسیع کریں، جہاں دوسروں کے لئے یہ نصحیت کرتے نہیں تھکتے کہ برداشت اور تحمل سے مکالمہ، وہیں وہ بھی اس پر عمل کریں تاکہ سیکولرز کی تھوڑی سی جوعزت بچی ہوئی وہ بچی رہے۔ ویسے جتنی دولت سیکولرز نے ملک کی لوٹی ہے اس کے نصف کا نصف بھی مولوی اوریا مقبول جان یا مولوی سراج الحق یا مولوی منور حسن جیسوں نے لوٹی ہوتی نہ تو یہ ان کا ہر اقدام ایک گالی بنادیتے،( اس حقیقت سے کوئی سیکولر ہی انکار کرسکتا ہے کہ ملک میں غربت، بیروزگاری، خواتین کے لئے بہتر زندگی اور بدامنی، دہشت گردی اور پڑوسی کی دراندازی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک سے باہر موجود 200 ارب ڈالر واپس لائے جائیں) ۔

    کیا کریں ،دوسری کی بوتل شراب اور اپنے کمرے سے ملی لاش ’ نو ون کلڈ جیسکا‘ بن جاتی ہے۔ ویسے تو دن رات جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں ، لیکن اسی جمہوریت پر یعنیٰ مصر کی منتخب حکومت پر شب خون مارا جائے تو جی بہت اچھا ہوا، رات تین بجے تک خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں کہ ترکی میں سیکولرز آگئے اور جب پتہ چلتا ہے کہ ’ملڑی کو‘ عوامی حمایت سے ناکام ہوگیا ہے تو یہ کئی روز تک اپنے خواہشات پر پانی پھرجانے کا غم مانتے ہیں۔ ان سے تو بس اتنا ہی کہنا ہے کہ اپنی زندگی کے بنیادی اصول تو طے کرلو، ورنہ یہی ہوگا کہ جو میری بات نہیں مانتا وہ جاہل ہے ، جو ہماری فکر کے ساتھ نہیں وہ قرون اولیٰ کے دور کا ہے، جو ہمارا نہیں وہ فکری اپاہج ہے۔ ان سیکولرزمیں فکری نرگیست بہت زیادہ ہے، خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ کوئی بات اگر بری لگی ہو تو ناراض مت ہونا بلکہ اسے اچھے سے فیل کرنا، کیوں آپ اس طرح سے مزاق اڑاتے رہے ہیں اپنے مخالفین کا؟

Leave a Reply