بے گھروں کے گھر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شام کے پونے سات بجنے کو ہیں۔ مجھے گھر آئے قریب پونے دو گھنٹے گزر چکے ہیں۔ اس وقت ٹانگیں اور پیر یوں تھک چکے ہیں جیسے انہیں کبھی آرام نصیب ہی نہ ہوا ہو۔ سائیڈ ٹیبل پر دھرے لیمپ کی مدھم پیلی روشنی بھی اب ٹمٹمانے لگی ہے۔ لگتا ہے بلب فیوز ہونے والا ہے۔ یوں تو مجھے اٹھ کر لیمپ بجھا دینا چاہیے لیکن میرے جسم کی تھکان مجھے مفلوج کیے بیٹھی ہے۔ آج بہت تھک گئی ہوں۔ کئی میل پیدل چلی ہوں۔ کیوں چلی ہوں؟ مجھے نہیں معلوم۔ رات کا کھانا بنانا ہے لیکن جسم و جان غالباً ہر قسم کی ہمت سے جواب دے چکے ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اتنا چلنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اس شہر میں بسیں ٹیکسیاں بند ہو گئے ہیں جو خود کو اس قدر خجل کرنے کا جی چاہا؟ نہیں، کوئی ضرورت نہیں تھی۔ بسیں اور ٹیکسیاں بھی یہاں صبح شام فراٹے بھر رہی ہیں۔ بس، میرا مسئلہ ہے۔ بچپن سے ہے۔ مجھے پیدل چلنا ہوتا ہے اور لگاتار چلنا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ شاید میرے پیر میں ایک پہیہ لگا ہے جو مجھے کسی پل رکنے نہیں دیتا۔ جو مجھے مجبور کیے جاتا ہے کہ دن کی روشنی میں گھر نہ بیٹھوں اور بغیر سستائے چلتی رہوں۔

میری سائیکالوجسٹ نے میرے اس عارضے کا ممکن وجہ بھی کھوجی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے کسی چیز کی تلاش ہے جس کے لیے میں سارا وقت چلتی رہتی ہوں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔ نہ کہنے والی بات فٹ کہہ دیتے ہیں اور کہنے والی بات خود سے بھی چھپا جاتے ہیں۔ میں نے اس وقت اس کے سامنے تو صاف انکار کر دیا تھا لیکن آج آپ کے سامنے اس کا اعتراف کرنے لگی ہوں۔

مجھے گھر کی تلاش ہے! اس گھر کی تلاش جو میں نے آج تک نہیں دیکھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ بس یہیں کہیں ہے۔ اگر اسے گاڑی یا بس پر ڈھونڈا تو کہیں مجھ سے کھو نہ جائے۔ اس لیے پیدل ڈھونڈتی ہوں کہ مبادا مس ہو جائے۔ چلتے ہوئے ارد گرد بھی دیکھتی جاتی ہوں۔ احتیاط کرتی ہوں۔ اپنی طرف سے کوئی غلطی نہیں کرتی۔

بچپن سے لے کر جوانی تک میرے گھر بدلتے آئے ہیں۔ کبھی کوئی ملک، کبھی کوئی شہر، کبھی کوئی مکان۔ اس لیے شاید کوئی جگہ گھر نہیں بن پائی۔ میں اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہوں کہ ان تمام جگہوں پر میرے دل کا کوئی نہ کوئی ٹکڑا ضرور موجود ہے۔ لیکن گھر کہاں ہے؟ یہ بتانے سے قاصر ہوں۔ کون سا شہر میرا اپنا ہے جہاں میں تمام عمر بس جانا چاہوں گی؟ مجھے نہیں علم۔

اب آپ سوچیں گے کہ اتنا چلتی ہوں۔ چپلیں گھسا لیتی ہو تو کیا کبھی گھر ملا؟ کبھی کوئی ایسی جگہ ملی جس پر گھر کا شائبہ بھی ہوا ہو؟ آپس کی بات ہے ایسا ہوتا ہے۔ ابھی تک مستقل گھر نہیں ملا جہاں میں اپنا لال سوٹ کیس کھول کر کپڑے الماری میں رکھ دوں لیکن ایسا کئی بار ہوا ہے کہ مجھے یوں لگا جیسے گھر آ گئی ہوں۔ اب آپ سنیں گے تو ہنس دیں گے۔ لیکن میری بلا سے۔

کبھی یہ گھر کسی گھنے درخت کے پتوں سے چھن کر آتی دھوپ ہوتا ہے تو کبھی کسی کی مہربان مسکراہٹ۔ کبھی گرمی میں ایک دم سے چلنے والی ٹھنڈی ہوا گھر لگتی ہے تو کبھی ماں کے چہرے میں کچھ دکھائی دیتا ہے۔ بعض اوقات بینچ پر بیٹھ کر یہ کالم لکھتے ہوئے لگتا ہے کہ گھر ہوں تو کبھی رات کی تاریکی اور خاموشی وہ گھر لگتی ہے جس کی مجھے تلاش ہے۔ کبھی دفتر میں لیمپ کے نیچے پڑی بڑے پھولوں کے پرنٹ والی کرسی گھر لگتی ہے تو کبھی فیض صاحب کا کلام گاتی میڈم نور جہاں کی آواز سن کر جی چاہتا ہے بس یہیں سوٹ کیس اور خود کو ڈھیر کر دوں۔

گھر ہے تو یہیں کہیں لیکن وہ گھر جس کا ہم نے قصوں کہانیوں میں سن رکھا ہے اس شکل کا نہیں ہے۔ شاید گھر کی حقیقت یہی ہے۔ بے گھری اور لامکانی کا راز بھی یہی ہے کہ درحقیقت بڑی عیاشی کی بات ہے۔ بے گھروں کے پاس تو سب سے زیادہ گھر ہوتے ہیں کہ ان کا گھر زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ جہاں دل سکون پائے اسی کو گھر کہنے لگتا ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بظاہر ٹھیک ٹھاک لگنے والی یہ لکھاری آج بہکی بہکی بات کیوں کر رہی ہے۔ سوچتے رہئے۔ میں تو جیسی ہوں ویسی ہی ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •