کورونا وبا، ایک سبق
انسان کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ تھا ساری آسائشیں اہم ہونے کے باوجود بھی کتنی غیر اہم تھیں۔ جس گھر میں تحفظ ہوتا ہے۔ وہاں بھی خیریت محفوظ نہ تھی۔ جن کو دیکھ کر دن نہ گزرے ان کے بغیر مہینے گزر رہے تھے۔ جو تفریح صرف باہر جا کر محسوس ہوتی تھی اب جیسی بھی تھی گھر میں تھی۔ باہر جا کر کھانا کھانا، خریداری کرنا جو انتہائی حد تک دلی سکون کا باعث لگتی تھی اب گردن جھٹکنے تک رہ گئی تھی۔ کپڑے نئے ہوں، پرانے ہوں، جیب میں پیسے ہوں یا خالی ہو۔
کوئی پرواہ نہیں تھی۔ جو بچے گھر میں پڑھ ہی نہیں سکتے تھے، گھر ہی میں پڑھ رہے تھے۔ جن کمپنیوں کے بزنس ختم ہوں تو گویا دنیا ختم ہونے کے دعوے تھے ان کے کاروبار تھے سرگرمیاں صفر تھیں۔ گویا کمپنیاں بند تھیں۔ لیکن دنیا چل رہی تھی عام لوگوں کے دن رات مزے سے گزر رہے تھے۔ ممکن ہے بھاری منافع خوروں پہ بھاری ہوں۔ پر یہاں بھی انسانیت نے خوب دل میں گھر بنایا۔ سب کچھ بند ہونے کے باوجود لوگوں کے گھروں تک رزق آیا۔
عبادت گاہوں پہ تالے تھے۔ گھروں میں عبادت جاری تھی۔ انسان کو خدا سے یہی مضبوط تعلق تو چاہیے۔ زندگی گزارنے کے عمل میں، عبادت کا وقت نہیں ملتا۔ یہ شکایت بن گئی تھی۔ اب زندگی بھی تھی اور عبادت بھی اور اس کے بعد بہت سا بچ جانے والا وقت بھی۔ ثقافتی، سماجی، معاشی سب ہی سرگرمیاں مفقود تھیں تب بھی ذوق تھا جو چل رہا تھا، فکر تھی جو مجتمع تھی، رزق تھا جو بٹ رہا تھا۔ انسان سب سے کٹ کر خود سے جڑ گیا تھا۔ وہ ہر تجربے سے بے نیاز روز اول کی طرح چل رہا تھا۔
درخت چرند پرند سب زندہ تھے چہک رہے تھے، ہوا شفاف تھی، خدا کی پرورش مخلوق کے لئے جاری تھی۔ یہی حاصل وبا تھا جیسے انسان نے تجربہ کیا۔ لڑائی، دنگا، فساد لئے شیطان کہیں ناآسودہ چھپا ہوا تھا۔ اسے کوئی خالی ذہن ملا ہی نہیں جہاں وہ شر کے بیج بوتا۔ ہر ایک ذہن ارتقاء میں تھا اپنی بقا کے سامان ڈھونڈنے میں مصروف عمل۔ یا اسے بچانے میں کوشاں تھا۔ انسان اس ارتقائی سفر کو دیکھتا سمجھتا، پھر ایک بار اکیسویں صدی میں چلا آیا۔
اس نے اپنے ارتقاء سے کیا سیکھا ہے۔ کون ارتقائی ذہن کی نمود کس طرح کرتا ہے۔ اپنی بقاء کو جلا دیتا ہے یا شیطان کو جگہ بخشتا ہے اور جہل، جنگ و جدل میں پڑتا ہے۔ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ اس دعا کے ساتھ کہ سب اللہ کی امان میں۔ اپنے ملک کی بات کریں تو ان دعاؤں پہ آمین کہیں جو ہمیں ہمارے بہترین صحتمند مستقبل کی طرف لے جاتی ہیں۔ یہ دعائیں ہمیں بانیان پاکستان نے دیں۔
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر۔ (علامہ اقبال)
خدا پاکستان کی حفاظت کرے۔ (لیاقت علی خان )
یہ ووٹ آپ کے ہاتھ میں امانت ہے اور مجھے امید ہے آپ یہ ووٹ کو، ایک امانت سمجھ کے، ملک کے فائدے اور قوم کے فائدے کے لئے، استعمال کرنا ہے۔ (محترمہ فاطمہ جناح ) یہ چند دعائیں ہیں بانیان تو پاکستان کے بہت سارے ہیں کچھ دعائیں آپ بھی ڈھونڈیں اور لکھیں۔


