خواہشات کی بھینٹ چڑھا ایک افسر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرخ چند دنوں سے شدید دباؤ کا شکار تھا، محرم کے دن تھے اور ہر سال کی طرح ضلع بھر میں انتظامی معاملات کے سب جھنجھٹ اس کے ذمہ تھے۔ وہ ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر تھا جسے ضلع نارووال میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ آج کل کے ہنگامہ خیز حالات سے ضلعی مشینری حتیٰ المقدور نبرد آزما ہو رہی تھی، سارے دن کی تھکا دینے والی مصروفیت اور دیر تک چلنے والی میٹنگز سے فراغت کے بعد دیر سے گھر آنا ان دنوں کا معمول تھا۔

اس کی بیوی سلمیٰ اس کی اس روٹین کی رفتہ رفتہ عادی ہو رہی تھی، بچے سارا دن باپ کا انتظار کرتے اور اس کے آتے ہی اس سے چپک جاتے اور سارے دن کے حالات، ایک دوسرے کی شکایتیں اور فرمائشیں اور نجانے کیا کچھ نہ ہوتا ان کے پاس سنانے کو ۔ جب کہ اسے شکم کی بھوک مٹانے اور پھر سونے جلدی ہوتی کیونکہ ایک لمبے دن کی تکان کے بعد اگلا دن پھر مصروفیات کی لمبی فہرست لئے ہوئے ہوتا۔ صبح بھاگم بھاگ ناشتہ اور بچوں کو سکول پہنچا کر دفتر جاتا اور پھر کولہو کے بیل کی طرح زندگی کا ایک اور چکر شروع ہو جاتا، اس کی زندگی مشینی سی ہو کر رہ گئی تھی۔

اس نے سی ایس ایس کا امتحان امتیازی پوزیشن سے پاس کیا تھا اور ڈی ایم جی ٹریننگ میں بھی ہمیشہ اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، بچپن سے ہی اس کا شمار ہونہار طلباء میں ہوتا تھا۔ لیکن اس کی خواہش کیا بننے اور کرنے کی تھی اور وہ بن کیا گیا۔ اسے شاعری سے دلچسپی تھی، کتا بیں پڑھنا اور کہانیاں لکھنا اس کا شوق تھا، کالج میں گلوکاری اس کا مشغلہ تھا، ادب سے اس کا لگاؤ اس قدر تھا کہ اس نے اسی شعبے کو اپنے معاش کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اس کے شوق کی بھی آبیاری ہوتی رہے، مگر خاندان کے دباؤ اور والد کے اصرار پر اسے اپنے شوق کو تیاگ دینا پڑا۔

اس کے بڑے چاہتے تھے کہ اگر ان کا لائق بیٹا سول سروس میں ہو گا تو شریکوں میں ان کا رعب ہو گا اور ان کے اپنے جائز و ناجائز کام بلا رکاوٹ ہو جایا کریں گے جبکہ شاعر اور لکھاری تو نکمے اور ناکارہ لوگ ہوا کرتے ہیں، ایسے کام کا کیا فائدہ جو وسیع آمدنی اور دبدبہ نہ رکھتا ہو۔ یہ نکتۂ نظر برصغیر کی عمومی سوچ کا عکاس ہے جہاں برسوں انگریز کی غلامی میں گزارنے کے بعد خواص اپنے ہی جیسوں پہ حکومت کے خواب دیکھتے ہیں، ان کے ہاتھوں پسے ہوئے طبقات گورے کے جانے کے بعد کالے صاحبوں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے فرخ نے اپنے ادھورے دیرینہ شوق کی خاطر کچھ کہانیاں لکھ کر ایک رسالے کو بھجوائیں جو شائع بھی ہو گئیں تھیں، وہ خوش تھا کہ چلو روح کی تسکین کا کوئی ذریعہ بنا۔ اب گھر آتے ہی اس کی خواہش ہوتی کہ روزانہ کچھ وقت لکھنے کے لئے مختص کر سکے مگر گھریلو مصروفیات اور بچوں کی دیکھ بھال سے فرصت ملنا انتہائی مشکل تھا۔ بچوں کی معیت اور سلمیٰ سے سارے دن کا احوال سنتے ہوئے وہ اپنے کسی نئے مضمون یا کہانی کے خیال میں کھویا رہنے لگا، وقت کی کمی کے احساس سے اب وہ ایک نئی کشمکش کا شکار ہو گیا، بیوی سے اکھڑا سا اور بچوں سے اکتایا سا رہنے لگا۔ سلمیٰ اس کے رویے میں تبدیلی سے شاکی ہونے لگی اور جب اس نے گلہ کیا تو فرخ تناؤ میں آ کر جو جی میں آیا بول گیا اور پھر ناچاقی اتنی بڑھی کہ دونوں میاں بیوی کی بول چال بند ہو گئی اور بچے سہمے ہوئے سے رہنے لگے۔

پندرہ دن ہونے کو آئے تھے اور سلمیٰ کو کچھ نہ سوجھتا کہ اپنے شوہر کی ذہنی کیفیت کا کیا حل کرے، سب نعمتیں ہونے کے باوجود خوشی نہ تھی ذہنی سکون نہ تھا۔ ایک دن جب فرخ واپس آیا تو خلاف معمول گھرمیں مکمل سکوت تھا، بچے سونے کے لئے اپنے کمروں میں جا چکے تھے، سلمیٰ نے اسے کھانا گرم کر دیا اور خاموشی سے سونے چلی گئی۔ فرخ کو ابھی نیند نہ آئی تھی، اس نے کاغذ قلم لیا اور کہانی لکھنے بیٹھ گیا۔ یہ احساس اتنا فرحت بخش تھا کہ پچھلے کچھ دنوں کی تلخی کے بادل چھٹ گئے اس کا دل و دماغ اور قلم چلنے لگے اسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا جب وہ تحریر مکمل کر کے اٹھا تو اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔

وہ خواب گاہ میں گیا تو سلمیٰ ابھی جاگ رہی تھی اور موبائل پہ فیس بک چیک کر رہی تھی، فرخ نے ایک پیار بھری مسکراہٹ سے اس کو گلے لگا لیا اور پچھلے کچھ دنوں کے رویے پہ معذرت کی۔ سلمیٰ کو ایک تسکین بخش احساس چھو گیا، اس نے دل میں سوچا کہ مجھے معلوم تھا کہ یہ تمہاری ادھوری خواہشات کا قلق ہے جو تمہیں چین سے جینے نہیں دیتا تھا آج جب ان کی کچھ تشفی ہوئی تو تمہاری مسکراہٹ بھی لوٹ آئی اور تم نے اتنے دن بعد مجھے پیار سے دیکھا۔

سلمیٰ نے کہا کہ میں آج سے تمہاری کچھ ذمہ داریاں اپنے ذمہ لے رہی ہوں، بچوں کو سکول لے جانا، بل جمع کروانا اور ہفتہ وار راشن کی خریداری اب میں کیا کروں گی تاکہ تمہیں اپنے شوق کی تکمیل کرنے کا وقت مل سکے۔ وہ ایک وفا شعار بیوی تھی جو اپنے محبوب شوہر کو پریشان نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ فرخ نے اس کا شکریہ ادا کیا اور سونے کے لئے آنکھیں موند لیں۔

کتنے ہی والدین اولاد کو اپنی جاگیر سمجھ کر ان کا مستقبل اور پیشے کا انتخاب اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں، چاہے اپنے تئیں وہ ان کی بہتری کے خواہاں ہوتے ہوں مگر محض معاشی خوشحالی ہی دلی سکون کی ضامن نہیں بنتی، ایسے افراد فرخ کی طرح ساری زندگی ایک احساس زیاں اپنے ساتھ لئے گزار دیتے ہیں۔ پھر بھی کبھی بھی اتنی دیر نہیں ہوجاتی کہ وہ اپنے شوق کا کچھ سامان نہ کر سکیں بالخصوص جب آپ کوایک مخلص جیون ساتھی کی رفاقت میسر ہو۔

سلمیٰ نے اپنی سہیلی کو شکریے کا ٹیکسٹ میسج کیا کہ جس کی تجویز کارگر ثابت ہوئی تھی اور اس کے گھر میں بہار لوٹ آئی، اس نے سکون کا سانس لیا اور کروٹ لے کر نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔

Latest posts by ڈاکٹر کامران عبداللہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر کامران عبداللہ کی دیگر تحریریں