پاکستان بمقابلہ اسرائیل: جناب، آپ کی اوقات ہے کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے سنہ 2011 میں اسلام آباد کی اک یونیورسٹی نے پاکستان کی سماجی ترقی اور سیاسی معاملات کے حوالے سے اک راؤنڈ ٹیبل میں مدعو کیا۔ میری گفتگو کے بعد، اپنی تعلیم کے سولہویں برس میں موجود ذہین پاکستانی طالبعلموں میں سے ایک نے سوال داغا کہ مغربی ممالک اور ادارے، بالخصوص وہ جو ”یہودیوں اور عیسائیوں“ کا ایجنڈا پاکستان میں لاگو کرنا چاہتے ہیں، وہ پاکستان کی سماجی ترقی اور سیاسی معاملات میں ان سٹیبلٹی کی خواہش کیوں کرتے ہیں؟

میں نے جواب میں سوال داغا کہ آپ خود اپنے سوال کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟ جواب میں آئیں بائیں شائیں۔ میں نے اپنا سوال اک بار پھر دہرایا اور کہا: ”میرے نوجوان دوست، سوال کی بھی حرمت ہوتی ہے، اور اس حرمت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کو خود اپنے سوال کے بارے میں پتا ہو۔ میں یہاں اک ’انفارمڈ ڈسکشن ‘ کے لیے آیا ہوں، اپنا اور آپ کا وقت ضائع کرنے نہیں۔“ میرے اس آرگیومنٹ کے جواب میں اپنی تعلیم کے سولہویں برس میں موجود ذہین طالبعلم، خواتین طالبات سمیت، اک دم ”مہذب“ بھی بن گئے اور مجھ پر ہوٹنگ شروع کر دی۔ میں خاموش بیٹھا رہا۔ ماڈریٹر نے ماحول تھوڑا قابو کیا، اور پھر پچھلے دس برسوں میں مجھے دوبارہ مدعو نہ کیا۔ میں نے بھی وہاں جانا قطعاً مس نہ کیا۔

پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے اک عجب سی فضا ہے۔ اس فضا کے تحت، اسلام آباد کے اک مشہور روحانیت اور بوتل پسند کالم نگار کے بقول، دنیا کی تیسری ذہین ترین قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گویا اسرائیل اس بات پر مرا جا رہا ہے کہ پاکستان اسے تسلیم کر لے۔ اور پاکستان کے اسرائیل کو تسلیم کر لینے سے نجانے اسرائیل کو کون کون سے فوائد حاصل ہو جائیں گے۔

ہمارے مولوی دوست، اس معاملے کو ملی غیرت، دینی حمیت اور اسلامی اصولوں کے زیرے، ثابت سرخ مرچ اور کڑی پتا کا تڑکا لگا کر بھی پیش کرتے ہیں۔ کہتا چلوں کہ ریاستیں سیاسی اکائیاں ہوتی ہیں، مذہبی نہیں۔ دنیا کی تمام ریاستیں اپنے اپنے مارکیٹنگ کے نعرے رکھتی ہیں، اور مذہب بھی ان نعروں میں سے ایک ہے۔ جب کہ ریاست کے کاروبار کا ان نعروں سے کوئی ٹیکنیکل تعلق ایسا نہیں ہوتا کہ جس پر وہ ریجنل یا گلوبل لیول کے اپنے سیاسی اور معاشی مفادات قربان کریں۔

مثلاً، امریکہ آزادیوں کے نعرے لگاتا ہے، اور پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ انڈیا سیکولر ہے، اور سعودی عرب امت مسلمہ کا واحد ناخدا۔ پاکستان، اسلام کا اتنا ہی قلعہ ہے کہ جتنا انڈیا اصل میں سیکولر ہے اور امریکہ آزادیوں کا اتنا ہی محافظ ہے کہ جتنا سعودی عرب مسلمانوں کا ناخدا ہے۔

بنیادی طور پر اور اصل میں یہ سب مارکیٹنگ کے نعرے ہیں، اور بالکل اک فرد کی طرح، ریاست بھی اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی غلام ہوتی ہے۔ پاکستانی ریاست کے دارالحکومت، راولپنڈی کا بخار کچھ اور طرح کا ہے تو لہذا، اسلام کے قلعہ کے نام پر تشریف سرخ کروائے رکھنا، گویا ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔

اک تفصیلی جائزہ پھر کبھی پیش کردوں گا، مگر جلدی کا ہی کچھ پڑھ لیجیے، تاکہ جاری شدہ ملی، قومی اور مذہبی غیرت کے تڑکے کو تھوڑا سوڈے اور کالے نمک کا ہاضمہ مل سکے۔

اسرائیل کی آبادی تقریباً نوے لاکھ ہے اور اس کی سالانہ قومی پیداوار تقریباً 400 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کی آبادی 21 کروڑ ہے اور اس کی سالانہ قومی پیداوار اس وقت تقریباً 270 ارب ڈالر ہے۔ اسرائیل کی فی کس سالانہ پیداوار تقریباً 42000 امریکی ڈالر ہے اور پاکستان کی فی کس سالانہ پیداوار تقریباً 1370 ڈالر ہے۔ اسرائیل نے 2019 میں تقریباً 115 ارب امریکی ڈالرز کی ایکسپورٹس کیں۔ اسلام کے عظیم قلعے نے اسی سال تقریباً 24 ارب امریکی ڈالر کی ایکسپورٹس کیں۔

اسرائیلی پاسپورٹ دنیا میں 21 ویں نمبر کا بہترین پاسپورٹ ہے اور دنیا کے تقریباً 161 ممالک میں جانے کے لیے اسرائیلی شہریوں کو یا تو ویزے کی ضرورت نہیں، یا انہیں آمد پر ویزہ دے دیا جاتا ہے۔ مملکت خداداد پاکستان کا پاسپورٹ 192 ویں نمبر پر ہے اور دنیا کے 26 ممالک میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کو ویزہ کی ضرورت نہیں پڑتی یا پھر انہیں آمد پر ویزہ دے دیا جاتا ہے۔

افغانستان کا پاسپورٹ 104 دیں اور ایتھوپیا کا پاسپورٹ 96 ویں نمبر پر ہے۔
سوڈا اور کالا نمک اور بھی موجود ہے، مگر فی الحال اسی پر گزارہ کیجیے۔

اسرائیل کے وزیراعظم، بنیامین ناتن یاہو نے 2017 میں کہا تھا کہ جلد ہی اک وقت وہ آنے والا ہے کہ اسرائیل تنہا نہیں ہو گا۔ تنہا وہ ممالک ہوں گے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے ہوں گے۔

پاکستانیوں کو اس عجب خیال کے غضب نشے میں مبتلا کرنے میں اسلامی امہ کے ممالک کا اک بڑا ہاتھ ہے۔ بدو اب پاکستانیوں کو بدھو بنا کر رستہ بدل رہے ہیں۔

اندرونی طور پر پاکستانیوں کو اس عجب خیال کے غضب نشے میں مبتلا کرنے والے اور راتوں کو جاگ کر ہماری حفاظت کرنے والے عظیم مجاہد یہودی ارکان کانگریس سے دوبارہ حکومت کرنے کا موقع مانگتے ہیں، دوبئی میں ٹھمکا رقص کرتے ہیں، امریکہ میں پیزے بیچتے ہیں، تھنک ٹینکس کی نوکریاں کرتے ہیں۔ جبکہ دین اسلام کے پاکستانی سپاہی آئس کریم پارلرز چلاتے ہیں اور دس دس برس مقدمے چلاتے ہیں کہ ہمیں پاکستان واپس نہ بھیجا جائے۔

رات کو جاگ کر ہماری حفاظت کرنے والے عظیم مجاہد، دین کے سپاہی اور ان کی اولادیں زندگی کے لطف اٹھاتی ہیں اور پاکستانی بدھو یہاں نعرے مارتے ہوئے اس عجب خیال کے غضب نشے کا ربڑی سلوشن سونگھتے رہتے ہیں۔
ماشاءاللہ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •