اوریا جی مسلمانوں پر رحم کریں رحم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"Aamir-Hazarvi\"

بات شروع کرنے سے پہلے ایک حکایت پڑھ لیں پھر اوریا صاحب کے دربار میں چلتے ہیں۔

حکایت ہے کہ مولوی صاحب بیان کر رہے تھے کہ اے ایمان والو! نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت تم نشے میں ہو۔

بیان ختم ہوا ایک نمازی نے مسجد چھوڑ دی۔ کچھ وقت گذرا مولوی صاحب کی اس بندے سے ملاقات ہوئی۔ حال احوال پوچھا اور کہا آج کل مسجد نہیں آتے نماز پڑھنے؟ خیریت تو ہے؟ اس بندے نے جواب دیا مولوی جی آپ نے ہی کہا تھا کہ نماز کے قریب مت جاؤ۔ مولوی صاحب نے کہا بڑے ہی سادے ہو آگے بھی پڑھو نا؟ اس نے معصومیت سے جواب دیا حضور پہلے ایک حکم پہ عمل کر لوں دوسرا بعد میں دیکھوں گا۔

اوریا صاحب بھی آج کل کچھ اسی طرح کر رہے ہیں یہ بھی ہجرت نہ کرنے والوں کو جہنم پہنچا رہے ہیں۔

پڑھیے اوریا صاحب کے کالم کا اقتباس۔ پھر ہم بطور طالب علم ان کی خدمت میں کچھ سوالات رکھتے ہیں امید ہے اوریا صاحب اپنے ماضی کے اس مداح کو جواب عنایت فرمائیں گے۔

اوریا صاحب لکھتے ہیں

بوڑھا حریت رہنما سید علی گیلانی اسی لیے لاکھوں کشمیریوں کے ہجوم کے ساتھ صرف اور صرف ایک ہی نعرہ لگاتا ہے۔ پاکستان سے رشتہ کیا۔ لاالہ الاللہ۔ پاکستان کا بھارت کے ساتھ اختلاف کشمیر کے مسئلہ پر نہیں، کلمہ طیبہ پر ہے۔ کس قدر بھونڈی منطق دی جاتی ہے کہ بھارت میں بھی تو ہم سے زیادہ مسلمان بستے ہیں۔ ان کی اسلام سے محبت کے باوجود عرض ہے کہ اللہ کا قرآن اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ان کے بھارت میں رہ جانے اور ان میں گھل مل جانے کے فیصلے کی تصدیق نہیں کرتا۔ اللہ فرماتا ہے ’’جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے پہنچے تو پوچھا تم کس حال میں تھے؟ یہ جواب دیتے ہم کمزور و مغلوب تھے۔ فرشتوں نے کہا، کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم وہاں ہجرت کرجاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جائے قرار ہے (النساء 97)‘‘

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تم مشرکین کے ساتھ سکونت اختیار نہ کرو اور نہ ان کے ساتھ گھل مل کر رہو، پس جو شخص ان کے ساتھ سکونت اختیار کرتا ہے یا ان کے ساتھ مل کر رہتا ہے تو وہ انھی کی مثل ہے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں‘‘ (سنن جامع ترمذی رقم باب 42)۔

یہاں یہ اقتباس ختم ہوا اب آئیے دیکھتے ہیں اوریا صاحب نے انصاف کیا ہے یا ظلم؟

اوریا صاحب نے ایک آیت قرآن پاک کی پیش کی اور دوسری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ۔

اوریا صاحب کہتے ہیں کہ بھارت میں رہ جانے والے لوگوں کا فیصلہ غلط ہے انہیں ہجرت کرنی چاہیے تھی باوجود مسلمان ہونے کے ایسے لوگوں کے لیے جہنم ہے۔

پہلی بات۔ یہ آیت مکہ والوں کیساتھ خاص ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت نہیں کی۔ اور پھر یہ آیت ہر مسلمان کو شامل نہیں کرتی بلکہ کمزور مرد، عورتیں، بچے اور راہ سے ناواقف لوگ اس وعید سے مستثنی ہیں اور مفسرین کا اس حکم میں بھی اختلاف ہے کہ اس آیت سے مراد مسلمان نہیں بلکہ منافقین ہیں۔ اوریا صاحب نے بھی آگے نہیں لکھا بیک جنبش قلم سبھی کو جہنمی کہہ دیا۔ انتہائی افسوسناک رویہ ہے۔

دوسری اور اہم بات یہ ہے نبی اکرم نے مکہ فتح ہونے کے بعد فرمایا کہ لاہجرت بعد الفتح۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ جب ہجرت کا حکم ہی منسوخ ہو گیا تو اوریا صاحب کس حیثیت میں مسلمان لوگوں پہ جہنمی ہونے کا فتوی ٹھوک رہے ہیں؟

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ دارالحرب کے مکینوں کے لیے بھی ایسا کوئی حکم موجود نہیں کہ ہم انہیں ہجرت نہ کرنے پہ جہنمی کہہ سکیں۔ اگر ایسا ہے تو اوریا صاحب دکھا دیں۔

چلیں مذہبی بحث کو یہاں روکتے ہیں۔

اوریا صاحب سے پوچھتے ہیں جناب کیا آپ ان مسلمانوں کو تو جہنمی کہہ رہے ہیں جنہوں نے ہجرت نہیں کی لیکن ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے جنہیں تقسیم کے نام پہ بھارت کے حوالے کیا گیا؟ وہ علاقے جو پاکستان کا حصہ تھے انہیں بھارت کے سپرد کیا گیا؟

یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جن علاقوں میں مسلمان زیادہ ہیں وہ علاقے مسلمانوں کے۔ اور جہاں ہندو زیادہ وہ ہندوؤں کے۔ علاقے کی تشریح صوبے سے کی گئی اس لحاظ سے تو بنگال اور پورا پنجاب ہمارا تھا۔ صرف پنجاب اور بنگال ہی نہیں کشمیر بھی ہمارا بنتا تھا۔ ہم صوبے سے نیچے ضلع تک آئے اور پھر تحصیل تک۔ اس ناانصافی پہ کیا حکم لگائیں گے حضرت اوریا صاحب؟

ویسے چلتے چلتے ہی ذہن میں آگیا کہ یہاں جن لوگوں نے روس کے وقت ہجرت کی، پاک سرزمین کو شرف بخشا انہیں نکالا کیوں جا رہا ہے؟ تیس لاکھ تو سنبھالے نہیں جارہے اور کروڑوں کے بارے میں جہنم کا فیصلہ کر رہے ہو؟ عجیب منطق ہے؟ چلیں ان تیس لاکھ لوگوں کو چھوڑیں مشرقی بازو سنبھال نہ سکے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو کہاں سنبھالیں گے؟

اگر امریکہ کے مسلمان یا ساری دنیا کے بسنے والے مسلمان پاکستان آنا چاہیں تو اوریا صاحب آپ انہیں کہاں رکھیں گے؟

اچھا رکھنے کی بات بھی رہنے دیں ان مسلمانوں کے بارے میں حکم بتا دیں جو کافروں کے ملک میں رہ رہے ہیں؟ کیا وہ بھی جہنمی ہیں؟ اگر ہاں تو کیسے؟ نہیں تو یہ بھارت کے مسلمانوں کیساتھ ہی جہنم والی آیت کیوں خاص ہے؟

چلیں حدیث کیطرف بھی آتے ہیں حدیث مشرکوں کیساتھ رہنے کو منع کرتی ہے درست۔ لیکن جناب اس ملک میں ہم اقلیتوں کیساتھ رہ رہے ہیں یہاں ہندو۔ سکھ۔ مسیحی بھی رہتے ہیں کیا ہم پاکستان میں رہتے ہوئے بھی ان جیسے ہو گئے ہیں؟ یا وہ ہم جیسے ہو گئے ہیں؟ اکھٹے رہنے کا کیا مطلب ہے؟ پلیز ذرا اس سوال کا جواب بھی دے دینا حضرت اوریا۔

مجھے علم ہے کہ اوریا صاحب کے پاس وقت نہیں ہوگا میری لغویات کے جوابات دینے کا۔

بس اتنی سی اور معصوم سی عرض ہے کہ سیدھے سادے مذہب سے محبت کرنے والے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا چھوڑ دیں۔ یہ سادے لوگ ہیں بہت مار کھا چکے ہیں۔ بہت سارے عناصر انہیں استعمال کر چکے ہیں۔ خدا کے لیے دین کا نام لے کر اپنا چورن بیچنا چھوڑ دیں۔ کل کو یہ قوم کسی نئی جنگ کا حصہ بنتی ہے تو خون آپ کے سر بھی ہوگا۔ التجا ہے رحم کی۔ رحم اوریا جی رحم۔ خود پہ بھی اور ساری قوم پہ بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “اوریا جی مسلمانوں پر رحم کریں رحم

  • 28/11/2016 at 1:56 pm
    Permalink

    Good lesson

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *