’اگر عاصم باجوہ صفائی نہ دے سکے تو لوگ سوچیں گے احتساب جانبدار ہے‘
عاصم باجوہ نے یہ قدم ایک ایسے وقت پر اٹھایا ہے جب ان پر یہ الزام گردش کر رہا ہے کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کے کاروبار کی تفصیلات بطور مشیرِ اطلاعات جاری کیے گئے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیں۔
حال ہی میں صحافی احمد نورانی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عاصم باجوہ اور ان کے فیملی کے مالی وسائل میں اضافہ ان کے اہم عہدوں پر فائض ہونے کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتے رہے ہیں۔
تاہم عاصم باجوہ نے ان تمام الزاما کی سختی سے تردید کی ہے۔ جمعرات کی شام انھوں نے تفصیلی پریش ریلیز میں اپنے پر لگائے گئے الزامات کا تفصیلی جواب دیا ہے۔
I strongly rebut the baseless allegations levelled against me and my family.Alhamdolillah another attempt to damage our reputation belied/exposed.I have and will always serve Pakistan with pride and dignity. pic.twitter.com/j185UoGhx1
— Asim Saleem Bajwa (@AsimSBajwa) September 3, 2020
تاہم اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری ہے جس میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عاصم باجوہ کی جانب سے صرف استعفیٰ دیا جانا ناکافی ہے حکام کو ان کی مزید تفتیش کرنی چاہیے۔ دوسری جانب عاصم باجوہ کے حامیوں کی بھی کمی نہیں ہے جو کہ ان کے جواب کو کافی مان رہے ہیں۔
ثارف عادل انجم نے سوال اٹھایا ہے کہ جنرل عاصم کی وضاحت کے مطابق ان کے بیٹوں کی کمپنیاں منافع کیوں نہیں دیکھا رہیں اور کہیں وہ شیل کمپنیاں تو نہیں ہیں۔
It is quite unusual that the companies his sons started have either failed, registered losses or didn't do any business at all. Then why were they actually established? Shell companies maybe? Further clarification alongwith money trails should be presented #IsteefaNahiRaseedeinDo https://t.co/1x2jC1zUo8
— Adil (@Adil_A999) September 3, 2020
صارف سندھو نواز کا کہنا تھا تھا کہ کیا ایک ایسا شخص جس کی ساخ کے بارے میں سوال اٹھے ہیں، سی پیک اتھارٹی کا سربراہ رہ سکتا ہے؟
Why a person with zero number sense and now with tainted credibility can still be Chairman CPEC Authority in Pakistan? Wouldn't it sabotage the project credibility???@betterpakistan#IsteefaNahiRaseedeinDo pic.twitter.com/E0aUf546qt
— Sindhoo Nawaz Ghanghro (@SindhooNawaz) September 3, 2020
صارف رانا رمیض رضا کے خیال میں یہ استعفیٰ ایک طاقتور شخص کے خلاف پبلک پریشر کی ایک مثال اور کامیابی ہے۔
https://twitter.com/RanaRameezRaza2/status/1301595353217748992
عالیہ زھرا کہتی ہیں کہ اگر عاصم باجوہ کرپشن کے الزامات کے حوالے سے مکمل صفائی نہ دے سکے تو اس خیال کو فوقیت ملے گی کہ ملک میں احتساب کی کوششیں جانبدار ہیں۔
If Asim Bajwa fails to come clean on corruption allegations it will strengthen the belief that the ongoing “accountability” drive is one-sided. #IsteefaNahiRaseedeinDo
— Ailia Zehra (@AiliaZehra) September 3, 2020
مگر دوسری جانب جنرل عاصم باجوہ کے حامیوں نے بھی شودل میڈیا پر آواز اٹھائی ہے۔
ایک صارف نعمان سرور نے اس معاملے کو سی پیک کے ساتھ جوڑا کہ جب بھی سی پیک میں تیزی آتی ہے تو پاکستانی میڈئا سی پیک حکام پر حملے شروع کر دیتا ہے۔
https://twitter.com/NomanSarwarr/status/1301543479915446279
جہانزیب ورک کے لیے عاصم باجوہ کی جانب سے دی گئی وضاحت مکمل اور کافی رہی۔
https://twitter.com/JahanVirk/status/1301547310929915915
عاصم سلیم باجوہ کون ہیں؟
نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق جنرل عاصم سلیم باجوہ پاکستانی فوج میں ایک نہایت زیرک افسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ بریگیڈیر کے طور پر ٹرپل ون بریگیڈ، منگلا کور میں چیف آف سٹاف، بطور میجر جنرل جی او سی ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر جنوبی وزیرستان میں تعینات رہے۔
وہ مئی 2012 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر تعینات ہوئے اور دسمبر 2016 تک اسی عہدے پر رہے۔
آئی ایس پی آر میں وہ پہلے تھری سٹار افسر تھے جنھوں نے اس عہدے پر تقریباً سوا سال خدمات سرانجام دیں۔
کچھ مدت کے لیے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انھیں آئی جی آرمز تعینات کیا جس کے بعد وہ بطور کور کمانڈر سدرن کمان تعینات ہوئے۔
ان کے کریڈٹ پر آرمی پبلک سکول حملے کے بعد میڈیا منیجمنٹ کو خود فوج میں بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انھیں سی پیک اتھارٹی کا سربراہ مقرر کیا اور اب انھیں معاون خصوصی کا درجہ دیا گیا ہے۔


