باحیا عورت اور غیرت مند مرد
گزشتہ دنوں یہ مفروضہ ملک میں کافی مقبول رہا کہ ”عورت اگر با حیا نہ ہو تو وہ عورت نہیں ہوتی، اور مرد اگر با غیرت نہ ہو تو وہ مرد نہیں ہوتا“ ۔ سننے میں تو یہ مفروضہ مجھے بھی بہت پسند آیا کیونکہ بچپن سے ہی یہ دیکھتے آئے ہیں کہ با حیا ہونا عورت کے اور با غیرت ہونا مرد کے ذمہ ہے۔ بلکہ اگر مزید وضاحت کریں تو مرد کے حصے کی حیا بھی عورت کو کرنی پڑتی ہے جبکہ عورت کے حصے کی غیرت بھی مرد کے حوالے کر دی گئی۔
مگر پھر ایک حدیث رسول نظر سے گزری۔ جس نے سچ میں آنکھیں کھول دیں۔ حدیث ہے کہ ”تم حیا کرو اور اگر حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو“ ۔ حیرت کی بات ہے اس میں حیا کو کسی مرد و عورت کے ساتھ منسلک نہیں کیا گیا۔ بلکہ یہ ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ یہاں حیا سے مراد پردہ کے ساتھ ساتھ اعمال کی درستگی بھی ہے جو مرد و زن کے لئے ضروری ہے۔ پھر ایسا ہی معاملہ غیرت کے ساتھ بھی ہے۔ غیرت مند زندگی ہر انسان کی ذمہ داری ہونے کے ساتھ با عزت زندگی گزارنا ہر ذی روح کا بنیادی حق ہے۔
اسی سے منسلک دوسرا نظریہ یہ تھا کہ ”عورت با وفا ہوتی ہے۔ جو با وفا نہ ہو وہ عورت نہیں ہوتی“ مگر یہاں میری ذاتی رائے ہے کہ جو بے وفا ہو وہ مرد بھی نہیں ہوتا۔ وفا عورت کی میراث نہیں۔ مرد کو بھی با وفا ہونا چاہیے اور اکثر ہوتے بھی ہیں۔ کسی بھی رشتے کی بنیاد وفا، احساس اور اعتماد ہر ہوتی ہے۔ اگر یہ رویے رشتے سے نکال دیے جائیں رشتے ختم نہ بھی ہوں کھوکھلے ضرور ہو جاتے ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں بھی رشتے نبھائے نہیں چلائے جاتے ہیں۔ لہذا ہمارے ہاں آج کل زیادہ تر رشتے چلائے جا رہے ہیں۔
اس سلسلے میں میری تمام خواتین سے گزارش ہے کہ اپنے لئے بادشاہ کا انتخاب نہ کریں بلکہ ایسے شخص کا انتخاب کریں جس کی تربیت میں عورت کی عزت شامل ہو۔ اگر ایسا شخص مل جائے تو آپ اپنے گھر کی ملکہ تو بن ہی جائیں گی۔ یہ بات تو طے ہے کہ اگر تربیت میں عورت کی عزت شامل نہیں تو وہ نہ صرف عورت کو عزت دینے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ رشتہ نبھانے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔ اس بات کا یقین مجھے تب ہوا جب ایک دیہاتی علاقے میں ملازمت کرنے کا اتفاق ہوا وہاں کے لوگوں کی تربیت میں عورت کی عزت شامل ہونے کی وجہ سے کبھی کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ مگر اس کے بر عکس بہت تعلیم یافتہ طبقے بلکہ بین الاقوامی تعلیم یافتہ لوگوں کی تنگ نظری دیکھ کر نہ صرف شدید حیرت ہوئی۔ بلکہ اپنے نظریہ پر یقین مزید پختہ ہو گیا۔
انہی تصورات کی وجہ سے عورت ساری زندگی وفا ثابت کرنے کے لئے ناجائز باتیں بھی برداشت کرتی رہتی ہے۔ دوسری طرف غیرت کا مارا مرد اپنی بیوی کی جائز بات بھی نہیں مانتا کہ کہیں اس کی غیرت کو دھچکا نہ لگے۔ یہ حالات صرف میاں بیوی کے معاملے میں نہیں بلکہ عورت والدین اور شوہر کے گھر بھی بہت کچھ اس لئے برداشت کرتی ہے کہ کہیں اس کے خاندان کی غیرت کو نقصان نہ پہنچے بھلے دن رات اس کی عزت نفس کی دھجیاں اڑائی جائیں۔ مرد کو اگر گھر کی کسی عورت کے حق میں آواز اٹھانی پڑ جائے تو اس کی غیرت آڑے آ جاتی۔
ہمیں اپنے معیار اور پیمانے تبدیل کرنے ہوں گے۔ ایسے جملوں سے پرہیز کرنا ہو گا کہ ”مرد تو ہوتے ہی ایسے ہیں“ یا ”عورتوں کے تو کام ہی یہ ہیں“ ایسے جملے ہم کہہ تو بہت آرام سے لیتے ہیں مگر سننے والا اسے کس حد تک جذب کر لے یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ہر شخص اپنی ذات میں مصروف جنگ ہے اور ہمیں اس بات کا قطعاً نہ تو علم ہوتا ہے نہ پرواہ۔ زندگی ہر ایک کو موقع بھی دیتی ہے اور آزمائش بھی لاتی ہے۔ ضروری ہے کہ اس کا سامنا خود کو مضبوط کر کے کیا جائے۔ نہ اپنے حالات کے مطابق دوسروں پر رائے مسلط کی جائے۔ نہ ہی ان کے حالات کے متعلق حتمی رائے دی جائے۔ کیونکہ نہ تو سارے مرد ایک سے ہوتے ہیں نہ ہی ساری عورتیں یکساں مزاج کی مالک ہوتی ہیں۔


