مسئلہ کشمیر اور گپکار ڈیکلریشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز سیاستدانوں کا ایک مشترکہ بیان موضوع بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے بھارتی حکومت سے 5 اگست 2019 کے اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرینگرمیں گپکار روڈ پہ واقعہ فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ میں گزشتہ سال 4 اگست کو ہونے والے اس اجلاس کا مشترکہ بیان ”گپکار اعلامیہ“ کے نام سے اب جاری کیا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ کی زیرصدارت اجلاس میں پی ڈی پی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ ر محبوبہ مفتی، ، پی ڈی پی کے مظفر حسین بیگ، پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون، پیپلز کانفرنس کے عمران رضا انصاری، عبدالغنی وکیل، تاج محی الدین پیپلز کانفرنس، صدر پردیش کانگرنس جی اے میر، محمد یوسف تاریگامی ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی، عمر عبداللہ نیشنل کانفرنس، مظفر شاہ عوامی نیشنل کانفرنس اور ممبران پارلیمنٹ جسٹس حسنین مسعودی، محمد اکبر لون این سی، ناصر سوگامی، شاہ فیصل پیپلز متحدہ محاذ، علی محمد ساگر این سی، مظفر شاہ، عوامی نیشنل کانفرنس، عزیر رونگا پی یو ایف، سہیل بخاری پی ڈی پی نے شرکت کی۔

” گپکار ڈیکلریشن“ میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین تمام حملوں اور حملوں کے خلاف جموں و کشمیر کی شناخت، خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے تحفظ اور دفاع کے عزم میں متحد ہوں گے۔ یہ ترمیم، آرٹیکل 35 اے، 370 کو منسوخ کرنا، غیر آئینی حد بندی یا ریاست کا جداگانہ جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام کے خلاف جارحیت ہوگی۔ اعلامیہ میں ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماں کے ساتھ انھیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنے اور ان سے عوام کے جائز مفادات کے تحفظ کے لئے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہمارے ملک (انڈیا) کے آئین کے ذریعہ ریاست کو دی گئی ضمانتوں کے حوالے سے وہ ان ضمانتوں کی غیرآئینی خلاف ورزی کی پیروی کرنے کے پابند غیر مہذب نتائج سے بھی آگاہ کریں گے۔

ان سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے ریاست کی شناخت، خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے تحفظ کے لئے اپنی جدوجہد میں ساتھ رہنے اور متحد ہونے کا عزم بھی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سب اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم مکمل طور پر، گوپکر اعلامیے کے مندرجات کے پابند ہیں اور بلاجواز اس پر عمل کریں گے۔ ہم آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بحالی، جموں و کشمیر کا آئین اور ریاست کی بحالی اور ریاست کی کسی بھی تقسیم کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم متفقہ طور پر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہمارے بغیر ہمارے بارے میں کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے حامی سیاستدانوں کے مشترکہ اعلامیہ پر جوش وخروش کا اظہار کیا۔ شاہ محمود قریشی نے ”گپکار ڈیکلریشن“ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ( مقبوضہ کشمیر میں ) ایک سیاسی اتحاد، سیاسی مزاحمتی تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے اور مشترکہ اعلامیہ اس کا پہلا نمونہ ہے، اس سے ان کے ذہن کی عکاسی ہوتی ہے اور کہا کہ یہ بہت بڑا بیان ہے۔

وزیر خارجہ نے اس مشترکہ اعلان کو غیر معمولی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہی بات ہے جو ہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے سابق سفارت کار عبدالباسط نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ بھارتی آئین کو تسلیم کرنے والی باتوں میں نہ آئیں، کشمیر کے ان سیاستدانوں کے انڈیا کے حق میں نظریے کو پھیلایا جا رہا ہے، انڈیا مقبوضہ کشمیر کی ان اپنی کٹھ پتلیوں کا سہارا لیتے ہوئے اپنی پوزیشن کا تعین کرنا چاہتا ہے۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ انہوں نے دہلی کے ایک سیمینار میں شرکت میں دیکھا کہ مقبوضہ کشمیر کے فاروق عبداللہ اور دوسرے رہنما انڈیا کے حق میں بات کر رہے تھے جبکہ اب (کشمیر کو انڈیا میں مدغم کیے جانے کے بعد) وہ انڈیا پر تنقید کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان پر کڑی تنقید ہوئی تھی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے حامی سیاسی جماعتوں، سیاسی رہنماؤں سے کتنے بے خبر ہیں۔

عمران خان حکومت کی کشمیر پالیسی اور حکمت عملی دیکھتے ہوئے سابق آمر حکمران جنرل پرویز مشرف کا دور حکومت یاد آ جاتا ہے کہ جب انڈیا کے ساتھ ”چار نکاتی فارمولے“ کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی چاہ میں اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادوں کا ذکر پس پشت ڈال دیا تھا۔ اسی صورتحال کے تناظر میں جولائی 2006 میں واشنگٹن کشمیر کانفرنس کے اعلامیہ سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے الفاظ شامل نہیں کیے گئے تھے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان پر کشمیر کے آزادی پسند حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسے پاکستان کی طرف سے کشمیر کاز کے حوالے سے کمزور پالیسی، ناقص حکمت عملی اور گمراہ کن خوش فہمی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں وزیر اعظم عمران خان حکومت کی طرف سے کشمیر کے انڈیا کے حامی رہنماؤں کی سیاسی مزاحمت سے امیدیں وابستہ کرنا قومی سطح پر غیر ذمہ دار روئیے کی ایک نئی مثال بھی ہے۔

سرینگر میں گپکار روڈ پہ واقع فاروق عبداللہ کے گھر ہونے والے سیاسی جماعتوں کے اس اجلاس کے تناظر میں مشترکہ اعلامیہ کو ”گپکار ڈیکلریشن“ کا نام دیا گیا ہے۔ کشمیری زبان میں لفظ گٹکار کا مطلب اندھیر نگری ہے۔ یوں مقبوضہ کشمیر میں ”گٹکار“ (اندھیر نگری) تو ہے ہی، اب ”گپکار اعلامیہ“ کے کیا عوامل اور نتائج ہوتے ہیں، یہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ انڈیا کے حامی اکثر سیاستدان حکومت کی طرف سے تقریباً ایک سال کی نظر بندی کاشکار رہے جبکہ محبوبہ مفتی بدستور نظر بند ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کو مدغم کرنے کے انڈین حکومت کے اقدام سے مقبوضہ کشمیر کے انڈیا کے حامی سیاسی رہنما شرمندگی اور بے چارگی سے دوچار ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی طرف سے نئی سیاسی صف بندی کی کوشش کی صورتحال میں انڈیا کے حامی سیاستدانوں کو اپنی سیاست کو جاری رکھنے کا ایک موقع مل رہا ہے جس سے وہ باہمی اتحاد کی صورت زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کے امکانات کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔ ’بی جے پی‘ کی مودی حکومت کے مقبوضہ جموں وکشمیر سے متعلق اقدام سے انڈیا کے حامی کشمیر کے سیاستدان شرمندگی کی صورتحال سے دوچار ہوئے کہ جس انڈیا کے لئے وہ بھر پور خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں، اسی انڈیا کی حکومت نے انہیں شیخ عبداللہ اور دوسرے کئی کشمیری رہنماؤں کی طرح استعمال کرنے کے بعد ’ڈسٹ بن‘ میں ڈال دیا اور یہی عمل ہر چند سال بعد بار بار دہرایا جاتا ہے۔ ان انڈیا کے حامی رہنماؤں کی یہ کوشش اپنے وجود کو قائم رکھنے، اپنی بقاء کی کوشش بھی ہے۔

کشمیر کی الگ ریاستی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے ا نڈیا میں مدغم کرنے سے کشمیر کے انڈیاکے حامی سیاستدانوں کی انڈیا نوازی کی سیاست پر ہی پانی پھر جاتا ہے اور وہ خود کو ایسی صورتحال سے دوچار پاتے ہیں کہ جہاں ان کی سیاست بدنامی کے بعد غیر متعلق ہونے کی طرف پیش رفت کر سکتی ہے۔ انڈیا میں کانگریس اور کئی دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی مقبوضہ ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور انڈیا میں مدغم کرنے کے خلاف پالیسی ظاہر کر رہی ہیں۔ یوں اسی تناظر میں کشمیر کے ان سیاستدانوں نے باہمی تعاون سے ایک متحرک سیاسی چال چلی ہے کہ جس سے وہ کشمیر کی سیاست میں نمایاں نظر آنے لگے ہیں۔ گپکار اعلامیہ کے دو حصے ہیں ایک ا ن کے سیاسی مستقبل کا معاملہ اور دوسرا ریاست بحال کی مہم کے طور پر نمایاں ہے۔

اگرچہ ”گپکار اعلامیہ“ ہندوستانی جارحیت کے خلاف ایک مطالبہ ہے اور مقبوضہ ریاست کی شناخت، خودمختاری اور خصوصی حیثیت کا دفاع کرنے کا عزم ہے۔ یوں ہمیں گپکار اعلامیہ کے اس حصے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، جس میں ان جماعتوں نے بھارتی جارحیت اور حملے کو کالعدم کرنے کا عزم ظاہرکیا ہے کہ وہ ہندوستانی جارحیت اور حملوں کا مقابلہ کریں۔ ہمارا کام تو یہ ہے کہ ہم اسے اس مقام سے آگے لے جائیں جہاں ریاست 4 اگست 2019 کو تھی۔ انڈیا کی حامی سیاسی جماعتوں کو بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے دیں اورہم ان اقدامات، کارروائیوں پر توجہ دیں جس سے کشمیر کی مزاحمتی تحریک کو مضبوط اور موثر بنانے میں پیش رفت کی جا سکے۔

انڈیا کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیرکی الگ ریاست کے طور پر الگ حیثیت کو ختم اور وہاں ڈیموگریفک تبدیلیاں کرتے ہوئے انڈیا میں مدغم کرنے کے عمل سے بلاشبہ مقبوضہ جموں وکشمیر کو ہڑپ کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ انڈین حکومت نے اپنے گزشتہ سال کے اقدام سے پہلے ہی متنازعہ ریاست کو غیر فطری طور پر تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول سے منقسم کشمیری خاندانوں کی آمد ورفت کا سلسلہ بھی ختم کر دیا اور کشمیر سے کشمیریوں کی جڑیں کاٹنے کا عمل شروع کیا۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں عالمی ادارے اور بڑی طاقتیں اب بھی مقبوضہ جموں وکشمیر کے لئے بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے لئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی اصطلاح استعمال کررہی ہیں۔ تاہم ہٹ دھرمی اور دھونس پر مبنی گزشتہ سال کے جارحانہ اقدام سے انڈیا اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کو دبانے اور کچلنے کی طرح انتہائی سطح کی کارروائیوں کی پیروی کرتے نظر آ رہا ہے۔

دوسری طرف انڈیا کے تحقیقی ادارے ’این آئی اے‘ کی حریت رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں، گرفتاریوں، قید اور چند دوسرے محرکات سے حریت رہنما ایسی صورتحال سے دوچار ہیں کہ جہاں ان کا وجود سیاسی صورتحال میں غیر متعلق ہو چلا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس سیاسی منظر نامے سے غائب نظر آ رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کے بدترین جبر اور مسلسل ظلم کی صورتحال میں کشمیر ی خود کو اندھیرے کنویں میں محسوس کر رہے ہیں۔ انڈیا کے اقدامات کے جواب میں اور متبادل کیا ہے؟ اس کا کوئی جواب نہیں۔

آج آزادی پسندکشمیری رہنما، پاکستان کے ذمہ داران اس بات کے جوابدہ ہیں کہ کشمیریوں کی ایک لاکھ جانوں، عصتموں، بے مثال قربانیوں، عزم مستحکم کے باوجود آج کشمیری کہاں کھڑے ہیں؟ قربانیاں رائیگاں جانے کی صورتحال کیوں درپیش ہے؟ کشمیر کی آزادی کی مزاحمتی تحریک کی سیاسی اور عسکری کمزوری غالب نظر آ رہی ہے۔ عسکری مزاحمت کے بعد سیاسی رہنماؤں کی مزاحمت بھی اب محض ”ٹوکن“ کے طور پر ہی نظر آ رہی ہے۔ حریت رہنماؤں، پاکستانی ذمہ داران کی کشمیر کاز سے متعلق پالیسیوں، حکمت عملی کی خرابیوں، خامیوں کا اب تک کوئی اعتراف نہیں تو اصلاح کی توقع ہی عبث ہے۔ کشمیریوں کی توقع اور ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کی آزادی کی مزاحمتی تحریک کی تقویت کے لئے مکمل پروگرام پیش کیا جائے اور مخالفین کے اقدامات، کارروائیوں میں اپنے لئے مثبت پہلو تلاش کرنے اور اسی میں محدود رہنے کی خود فریبی سے باہر نکلا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •