سائنس کی دنیا سے۔ 24 سے 30 اگست 2020 (حصہ دوم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ ایک نئے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آنتوں میں موجود ہمارے مددگار جراثیم مختلف طرح کے کینسر کے خلاف امیونو تھراپی کی اثر پذیری میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ کینیڈین تحقیق کاروں نے دریافت کیا ہے کہ کیسے آنتوں میں موجود کچھ بیکٹیریا ہمارے دفاعی نظام کو سرطان کے خلاف کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ تحقیق کینسر کے خلاف امیونو تھراپی طریقہ علاج کی مختلف لوگوں میں مختلف اثر پذیری کے عمل کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

جریدہ سائنس میں شائع شدہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ جب امیونو تھیراپی کو کچھ مخصوص جراثیم کے ساتھ استعمال کروایا گیا تو جلد، مثانہ اور آنتوں کے کینسر کے خلاف دفاعی نظام کی اثر پذیری میں اضافہ ہو گیا۔

سائنسدانوں کے مطابق ہماری آنتوں میں موجود جراثیمی نظام جسے دوسرا دماغ بھی کہا جاتا ہے، انسانی صحت کو قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تاہم اس نظام کی ہماری دفاعی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت کا سمجھنا ضروری ہے۔

سائنسدانوں نے پہلے ایسی جراثیمی انواع دریافت کیں جو آنتوں کے کینسر کو ختم کرنے میں دفاعی نظام کی مدد کر سکتی ہیں۔ جب ان انواع کو سرطان زدہ لیکن جراثیم سے پاک چوہوں میں کینسر امیونو تھراپی کی ادویات کے ساتھ متعارف کروایا گیا تو کینسر کے پھوڑے ناقابل یقین حد تک سکڑ گئے۔ اس کی وجہ ان جراثیم سے خارج کردہ ایک مادہ آئینو سین ہے جو ٹی خلیوں کے اوپر بلاواسطہ عمل کر کے ان کی کینسر زدہ خلیوں کو ختم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ بعد ازاں انسانی آنتوں کے مددگار جراثیمی نظام کی اس اثر پذیری کو مثانہ اور جلد کے کینسر میں بھی ثابت کیا گیا۔ سائنسدان اس تحقیق کو اب انسانوں میں آزمانا چاہتے ہیں۔

2۔ 2016 سے اب تک پولیو وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہ آنے کی وجہ سے براعظم افریقہ کو پولیو وائرس سے فری قرار دے دیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے براعظم افریقہ کو 25 اگست کو پولیو وائرس سے پاک قرار دے دیا۔ عشروں سے جاری اس مہم کا یہ ایک اہم سنگ میل مانا جا رہا ہے۔ ادارے کے نمائندے نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی دن قرار دیا۔

انیس سو اٹھاسی میں جب عالمی اداروں نے دنیا کو پولیو سے پاک کرنے کی مہم کا آغاز کیا تو ساڑھے تین لاکھ میں سے ستر ہزار کیس صرف افریقہ میں تھے۔ تیس سال کے عرصہ اور 19 ارب ڈالر کے خرچے کے بعد اب پوری دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان میں 87 کیس باقی بچے ہیں۔

3۔ گوگل نے پہلی دفعہ کسی کیمیائی تعامل کی کوانٹم سیمولیشن کر کے کوانٹم کمپیوٹرز کے عملی استعمال کی ایک نئی جہت متعارف کروائی ہے۔

گوگل کے تحقیق کاروں نے پہلی دفعہ کسی کیمیائی تعامل کی نقل کے لیے کوانٹم کمپیوٹرز کا استعمال کیا ہے۔ چونکہ کوانٹم حرکیات ایٹم اور سالموں کے نظام کو کنٹرول کرتی ہیں اس لیے کوانٹم کمپیوٹرز کا استعمال کیمیائی تعامل کو سمجھنے کے لئے ان کی بہترین نقل پیش کر سکتا ہے۔ یہ کمپیوٹر کوانٹم بٹس (کیوبٹس) استعمال کر کے معلومات کو ذخیرہ اور حسابی عمل کرتے ہیں۔ ایک نسبتاً سادہ سے کیمیائی تعامل کی ڈیجیٹل نقل کے لئے انتہائی تیز رفتار کوانٹم کمپیوٹرز کا استعمال آگے چل کر بہت پیچیدہ کیمیائی تعاملات کو سمجھنا انتہائی آسان کر سکتا ہے۔

4۔ رینر پہاڑی سلسلے میں سو سال میں پہلی دفعہ ولورین دیکھا گیا جبکہ افریقہ میں پچاس سال میں پہلی دفعہ ہاتھی کی شکل والے چوہا نما جانور کو دیکھا گیا۔

ایک صدی کے غیاب کے بعد ماؤنٹ رینر نیشنل پارک میں ایک مادہ ولورین اور اس کے دو بچوں کو دیکھا گیا۔ بھیڑیا نما یہ ہمہ خور جانور گری دار میوے اور بیریوں سے لے کر خرگوش، گلہریاں اور مارموٹ تک کھا سکتا ہے۔ بیس سے چالیس پاؤنڈ وزن کا یہ جانور اپنے علاقے کی حفاظت کے لیے بھیڑیوں اور ریچھوں تک سے مقابلہ کر سکتا ہے تاہم یہ انسان کے لیے خطرناک نہیں سمجھا جاتا۔

دوسری طرف جبوتی میں پچاس سال کے عرصے میں پہلی دفعہ ایک چوہا نما جانور صومالی سنگی جسے ناپید سمجھا جا رہا تھا، نظر آیا۔ لمبی نوک دار ناک اور بڑی آنکھوں والا یہ چھوٹا سا جانور ایک ہتھیلی میں سما سکتا ہے۔ مختلف حالتوں میں اس جانور کی تاریخ پینتالیس ملین سال پہلے تک کی تصور کی جاتی ہے جب ابھی شیر، زرافے اور زیبرا کا وجود بھی نہیں تھا۔

5۔ خلا کی گہرائیوں سے ایک پراسرار ریڈیو سگنل تقریباً ہر 161 دن کے بعد سنا جاتا ہے۔

اس جون میں خلائی سائنسدانوں نے دوسری مرتبہ خلا کی گہرائیوں سے آنے والی تیز ریڈیو سگنل کی بوچھاڑ (ایف بی آر) کو محسوس کیا۔ ایک منظم طریقے سے دوہرائے جانے والے یہ سگنل پہلی دفعہ فروری میں محسوس کیے گئے تھے۔ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے پر مشتمل یہ ریڈیو سگنلز کیوں موجود ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے، خلائی سائنسدان ابھی تک اس بارے میں لاعلم ہیں۔ اس مخصوص سگنل کا ماخذ زمین سے 3 ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک چھوٹی کہکشاں مانی جا رہی ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •