نوواک جوکووچ: لائن جج کو نادانستہ طور پر گیند مارنے پر جوکووچ کو بلامقابلہ شکست، یو ایس اوپن سے باہر
سپین کے کھلاڑی پابلو کیرینو بسٹا کے ساتھ میچ کے دوران سرو پوائنٹ ہارنے کے بعد چھ کے مقابلے پانچ پوائنٹ کے خسارے میں تھے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے یہ عمل کیا۔
سربیا سے تعلق رکھنے والے نوواک جوکووچ نے اپنی جیب سے گیند نکالی اور اسے ریکٹ کی مدد سے پیچھے کی جانب مار دیا۔ ان کے عین پیچھے موجود ایک خاتون لائن جج کو یہ گیند گردن پر جا کر لگی۔
یہ بھی پڑھیے
راجر فیڈرر: تاریخ کے بہترین ٹینس کھلاڑی
رپورٹر کا زبردستی بوسہ لینے پر ٹینس کھلاڑی پر پابندی
طویل بحث کے بعد ٹورنامنٹ کے منتظمین نے فیصلہ کیا کہ انھیں اس میچ میں بلامقابلہ شکست کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے باعث وہ ٹورنامنٹ کا مزید حصہ نہیں رہ پائیں گے۔
گرینڈ سلیم کے قوانین کے مطابق: ’کوئی بھی کھلاڑی کسی بھی موقع پر کسی منتظم، حریف، تماشائی یا ٹورنامنٹ کے دائرہ کار میں موجود کسی بھی فرد کو جسمانی تکلیف نہیں پہنچائے گا۔‘
کورونا وائرس کی عالمی وبا کی شروعات کے بعد سے یہ ٹینس کا پہلا گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ ہے اور یہ تماشائیوں کے بغیر منعقد کیا گیا ہے۔ جوکووچ اس ٹورنامنٹ کو جیتنے کے لیے فیورٹ تھے۔
ٹینس کی مردوں کی عالمی درجہ بندی میں 20ویں نمبر پر آنے والے کیرینو بسٹا سے مقابلے سے قبل جوکووچ نے سنہ 2020 میں کوئی بھی میچ نہیں جیتا تھا۔ وہ 26 میچوں سے ناقابلِ شکست تھے اور انھوں نے اس سال کے آغاز میں ہونے والا آسلٹریلیئن اوپن بھی جیت رکھا تھا۔
اس واقعے کے بعد جوکووچ نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کورٹ میں موجود ٹورنامنٹ ریفری سویرین فریمیل اور گرینڈ سلیم سپروائزر آندریاس ایگلی کے ساتھ خاصی لمبی بحث کی۔
تاہم آخر کار انھیں یہ فیصلہ قبول کرتے ہوئے مخالف کھلاڑی کیرینو بسٹا سے ہاتھ ملا اپنی شکست تسلیم کرنی پڑی۔ کیرینو اس ساری صورتحال میں اپنی کرسی پر بیٹھے انتظار کرتے رہے اور خاصے حیرت زدہ دکھائی دیے۔
جوکووچ پریس کانفرنس کیے بغیر ہی فلشنگ میڈوز سے واپس چلے گئے۔


