ففتھ جنریشن واراور ہمارے نوجوان


کل یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر جی ایچ کیو میں ہونے والی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں آپ کی توجہ ایک اور چیلنج کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں، یہ چیلنج ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار کی صورت میں ہم پرمسلط کیاگیا ہے، اس کامقصد ملک اور افواجِ پاکستان کو بدنام کر کے انتشار پھیلانا ہے، ہم اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس جنگ کو جیتنے میں بھی ہم انشا اللہ ضرور کامیاب ہوں گے۔

یہ ففتھ جنریشن وار کا لفظ جنرل آصف غفور بہت بولتے تھے، لبرلز کو اس بات پر سخت چڑ لگتی تھی۔ اب جب یومِ دفاع پر خود آرمی چیف اس اصطلاح کو استعمال کر رہے ہیں تو لبرلز اس پر کیا کہیں گے؟

ففتھ جنریشن یا ہائبرڈ وار کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں یہ انفارمیشن کی جنگ ہے۔ وہ تمام انفارمیشن جو روزانہ ہم سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں اتنی سادہ نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ جنگوں کے روایتی طریقوں کے بعد اب پوری دنیا غیر روایتی طریقوں سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ غیر روایتی طریقوں میں سب سے کامیاب اور طاقتور طریقہ ففتھ جنریشن وارفیئر ہے جو ہم پر مسلط ہو چکا ہے۔ اس بارے میں ہمارے نوجوان جتنی جلدی ممکن ہو سکے خود بھی آگاہ ہوں اور ساتھیوں کو بھی آگاہ رکھیں۔

فیک نیوز اس غیر روایتی جنگ کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے اور انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ دشمن نے یہ ہتھیار کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر موجود اکثر خبریں جعلی ہوتی ہیں۔

 پرسیپشن اور انفارمیشن کی اس جنگ میں کلچر اور ویلیوز پر بھی حملہ کیا جاتا ہے اور دشمن اپنا کلچر لانے کی کوشش کرتا ہے۔ اب ہم غور کریں کہ کیا ہمارے بچے کہیں دشمن کا کلچر تو نہیں اپنا رہے؟ اور کیا ہماری پرسیپشن ہمارے اپنے اداروں کے بارے میں زہریلی تو نہیں ہو چکی؟ اگر ان سوالات کا جواب ہاں ہے تو سمجھ لی جیے کہ دشمن اپنی چال میں کامیاب ہو چکا ہے۔

اب کیسے اس جنگ کو جیتا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے ہمیں پاکستان اور پاکستانیت پر اپنا یقین اور اعتماد بھرپور اور مضبوط کرنا ہوگا، اسکے بعد ہر صورت میں فیک نیوز کو روکنا ہوگا۔ پھر دشمن کے کلچر کو روکنا ہوگا اورپھر اپنے اداروں کے بارے میں اپنی غلط فہمیاں ختم کرنی ہونگی۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ فوج کو گالی دیکر ہم ملک کی کوئی خدمت نہیں کر رہے، ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کہیں ہم پاکستان کے خلاف تو کوئی کام نہیں کر رہے؟ ملک اور ملک کے اداروں پر اعتماد ہی اس خطرناک جنگ کو ناکام بنا سکتا ہے۔ ہمیں بد اعتمادی کی فضا کو ہر صورت جلد از جلد ختم کرنا ہوگا۔ ہمارے نوجوانوں کو ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار لازمی جیتنی ہوگی کیونکہ اگر ہم پرسیپشن کی جنگ ہار گئے تو دشمن کے لیے تر نوالہ ثابت ہونگے۔ صدام حسین کا عراق اور معمر قذافی کا لیبیا بھی پرسیپشن کی جنگ ہار گیا تھا اور پھر عالمی ٹھیکیڈار نے ان ممالک کا حال کیا وہ ہمارے سامنے ہے۔

ہمت مت ہاریے، امید کے چراغ جلائے رکھیں، سبز ہلالی پرچم کو تھامے رکھیے، پاکستانی ہونے پر فخر کیجیے، ریاست مدینہ کی طرز کا پاکستان بہت قریب ہے، انشا اللہ۔

ہمارے نوجوانوں کو یہ جنگ جیتنی ہوگی، ہر صورت جیتنی ہو گی۔

Facebook Comments HS