یوم عاشورہ، سیکیورٹی اور ایک پرانی کہانی
ابھی کچھ دن ہوئے ہیں کہ عالم اسلام کا ایک مقدس دن ”یوم عاشورہ“ نہایت ہی عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ یہ دن پوری دنیا میں اور بلا تفریق مذہب منایا جاتا ہے۔
میں نوکری کی وجہ سے کراچی میں رہتا ہوں لیکن اس دن سے عقیدت یا اس دن کے حوالے سے اپنے ”ناسٹیلجک“ ہونے یعنی جلوس عزاء، تعزیوں، علم کے قافلوں، روایتی نوحوں، ماتمداری اور مرکزی ماتمی جلوس میں ”حسین“ کی پر درد صدا سے اپنے جذباتی وابستگی اور بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک کے سفر کی یادداشتوں کو دوبارہ جینے کے لئے عاشورہ کے دن اپنے آبائی شہر بھٹ شاہ پہنچ جاتا ہوں۔
ویسے تو ہر بار ہی سفر کی کٹھنائیوں سے لڑتے لپٹتے بھٹ شاہ پہنچتا ہوں مگر اس بار کچھ عجب حادثہ ہو گیا جس نے ان کٹھنائیوں پر سوچنے پر مجبور کر دیا۔
یہ آٹھ محرم کا دن تھا۔ دوپہر کے ڈھائی بج رہے تھے۔ میں آفس سے نکل کر صدر پہنچا۔ ایک تو بارشوں کی وجہ سے اکثر راستے گزرنے کے قابل ہی نہ رہے تھے اور باقیوں کو کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا تھا، کیوں کہ یہاں سے 10 محرم کو یوم عاشورہ کا جلوس گزرنا تھا۔ بس اڈے پر گاڑیاں نہ تھیں، آتی بھی کہاں سے راستے جو بند تھے۔ مسافر پریشان ادھر ادھر پوچھتے پھر رہے تھے کہ ان کی منزل تک پہنچانے کے لئے گاڑی کہاں سے ملے گی۔ مجھے ایک بس میں جگہ مل گئی، اب انتظار تھا کہ وہ بس کراچی پہنچے تو ہمیں بھی وہاں تک پہنچا دیا جائے گا۔
وہیں بس کا انتظار کرتے ایک مسافر سے بات چیت ہوئی۔ ابھی تو جان پہچان ہی پوری نہ ہو پائی تھی کہ اچانک سے اس نے ایک بات کہہ دی جس نے میرے سات طبق روشن کر دیے۔ ”ارے بھئی یہ لوگ اپنا ماتم امام بارگاہوں میں جاکر کیوں نہیں کرتے؟ خوامخواہ پورے ملک کو پریشان کرتے ہیں “ ۔
وہ نوجوان میرے پڑوسی شہر کا رہنے والا تھا۔ میں اپنے علاقے کا مزاج جانتا ہوں۔ فرقہ وارانہ و مذہبی ہم آہنگی میرے علاقے کی شناخت رہی ہے۔ یہ میرا ہی علاقہ ہے جہاں ایک ہی چاردیواری میں مندر بھی ہے اور مسجد بھی۔ یہیں ایک ہی درگاہ ہے جسے ہندو جھولے لال سمجھ کر چڑھاوا چڑھاتے ہیں اور مسلمان اسے شیخ طاہر کا مزار کہہ کر فاتحہ پڑھتے اور منتیں مانگتے ہیں۔ ایسا مزاج رکھنے والے علاقے کا نوجوان ماتمداروں سے اتنا بدظن ہو گیا ہے آخر کیوں؟
اب یہ سوال پورے سفر میں کھٹکتا رہا۔ بھٹ شاہ پہنچا۔ رکشہ میں چڑھا تو آدھے راستے میں اتار دیا گیا کہ آگے سیکیورٹی والے جانے نہیں دیں گے۔ تلاشی دی۔ آگے بڑھے کسی طرح گھر پہنچ گئے۔
سوال ذہن میں دوڑتا رہا۔ عاشورہ کا دن آ گیا۔ گھر سے نکلے معلوم ہوا درگاہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کو سیل کر دیا گیا ہے۔ وہاں مجلس نہیں ہوگی۔ 300 سال سے شاہ لطیف کا راگ گایا جاتا تھا اور آج یوم عاشورہ پر کربلا کے واقعے کی رزمیہ داستان شاہ لطیف کا سر کیڈارو بھی نہیں پڑھا جائے گا۔ ماتمی جلوس کی طرف جانا چاہا تو قناتوں نے راستہ روک لیا۔ پاس کھڑے پولیس اہلکار نے منہ چڑھا کر ہاتھ کے اشارے سے واپس جانے کا حکم صادر فرمایا۔ دوسرے طرف راستہ ڈھونڈھنے نکلے تو پتہ لگا کہ شہر کے جنوب میں بسنے والوں کے لئے مرکز شہر تک پہنچنے کے لئے داخلہ کا کوئی راستہ نہیں رکھا گیا۔ شہریوں کی ”آزاد نقل و حرکت“ کے لئے راستہ رکھا بھی کیوں جائے ؟ آخر یوم عاشورہ کا جلوس ہے۔ سیکیورٹی نام کی بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔
اتنی سیکیورٹی، اتنی پولیس، رینجرز، بلاکڈ سڑکیں، بند گلیاں، گھروں تک محصور شیعہ، غیر شیعہ شہری (غیر مسلموں کا نہیں پتہ کہ وہ بیچارے شہری ہیں بھی کہ نہیں ) ، محدود اور مشروط نقل و حرکت دیکھ کر میں بھی بڑبڑانے لگا ”ارے بھئی ہم لوگ اپنا ماتم اپنی امام بارگاہوں میں جاکر کیوں نہیں کرتے ؟ خوامخواہ خود کو بھی پریشان کرتے ہیں “
ابھی تک اس اجنبی ہمسفر کے سوال کا جواب نہیں ملا۔ لیکن، ایک پرانی کہانی لاشعور کی سطح پر تیرتی ہوئے شعور کے ساحلوں سے آ ٹکرائی ہے۔ آج سے بہت پہلے، یہاں سے بہت دور کہیں ایک دیس ہوا کرتا تھا۔ جس پر ایک ذہین اور عوام دوست بادشاہ سلامت حکمرانی کرتا تھا۔ اس دیس کے باسیوں پر اچانک سے ایک آفت آ گئی جس نے کئی دیہاتوں میں دہشت پھیلا دی۔ وہ آفت ایک خونخوار شیر تھا جو روز رات کو حملہ آور ہوتا اور کئی گاؤں والوں کو کھا جاتا یا زخمی کر کے مار دیتا۔
شیر کے روز روز کے حملوں سے تنگ آ کر ایک دن رعایا نے بادشاہ سلامت سے مدد کی اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ بادشاہ سلامت نے پورے تحمل سے رعایا کی روداد سنی اور کچھ دیر گہری سوچ میں گم ہو گئے۔ اچانک چونک اٹھے جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گئے ہوں اور کوئی فیصلہ کر لیا ہو۔ بادشاہ سلامت نے یک دم حکم صادر فرمایا کہ تمام مشیروں، سپاہ سالاروں، اور معاونین کو بلایا جائے تاکہ ہم ان گاؤں والوں کے مسئلے کا حل تلاش کر سکیں۔ گاؤں والے بادشاہ سلامت کے فوری رد عمل سے بڑا خوش ہوئے۔
بادشاہ سلامت نے انہیں اطمینان دیا کہ اب وہ ان کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بعد چین کی نیند سوئیں گے اور جلد ان کو اس آفت سے نکال لیں گے۔ گاؤں والے ہنستے مسکراتے مطمئن ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے لیکن بادشاہ سلامت کی نیندیں اڑ چکی تھیں۔ سارے وزیر، مشیر، معاونین جمع ہوئے، سپاہ سالار پہنچ گئے اور بادشاہ سلامت نے سب کو مسئلے کا حل ڈھونڈھنے کا حکم دے دیا۔ سب سر جوڑ کر بیٹھے۔ مختلف تجاویز پیش ہوتی رہیں۔ رد ہوتی رہیں۔
اجلاس طول پکڑتا گیا۔ آخرکار اعلیٰ سطحی اجلاس ایک نتیجے پر پہنچا اور سب نے متفقہ فیصلہ کر لیا کہ اس سے بہتر کوئی حل ہو ہی نہیں سکتا۔ بادشاہ سلامت نے گاؤں والوں کو اطلاع دینے کا حکم دیا کہ منادی کروا دی جائے کہ کل بادشاہ سلامت خود اپنی فوج کے ہمراہ آپ کے گاؤں میں تشریف فرما ہو کر آپ کے مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں گے۔ دوسرے دن بڑی شان سے بادشاہ سلامت کا کارواں روانہ ہوا۔ سینکڑوں فوجی دستے، شاہی سواریاں اور سارے وزیروں مشیروں کے جھرمٹ میں بادشاہ سلامت گاؤں میں پہنچے۔
گاؤں والے بڑے خوش اور منتظر تھے کہ اب کہ تب ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور خونخوار شیر جیسی آفت سے ان کی جان چھوٹے گی۔ سب کی نظریں بادشاہ سلامت کی شاہی سواری پر جمی ہوئی تھی۔ اچانک سے بادشاہ سلامت اپنی سواری سے نمودار ہوئے اور کھنکارتے ہوئے رعایا سے مخاطب ہوئے کہ ہم نے بہت سوچ بچار کے بعد آپ کے مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ بادشاہ سلامت نے وزیر اعظم کو مسئلے کا حل پیش کرنے کا حکم دیا۔ وزیر نے گردن جھکائی اور پھر حل پیش کرنے کا اشارہ کیا۔
فوجی دستے ایک جانب ہٹ گئے بیچ سے راستہ بنایا گیا۔ اور پھر کئی گھوڑے کسی بہت بڑی چیز کو گھسیٹتے ہوئے لے آئے۔ وزیر نے اشارہ کیا تو اس بڑی چیز پر لگا پردہ ہٹا دیا گیا۔ سب لوگ وہ چیز دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ہر سو سناٹا چھا گیا۔ اچانک بادشاہ سلامت کی آواز گونجی ہم نے آپ لوگوں کے تحفظ کے لئے بہت سوچ بچار کے بعد یہ حل نکالا ہے۔ روز رات کو سب لوگ اس پنجرے میں آ جایا کرو پھر یہ خونخوار شیر تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ پائے گا۔ تم سب لوگ محفوظ ہو جاؤ گے۔
دیکھا جائے تو محرم ہو یا کوئی اور موقعہ ہر بار ہمارے حکمران یہی ”پنجرا“ لے کر پہنچ جاتے ہیں۔ مانا کہ ایک وقت تھا جب ملک کے حالات بہت غیر معمولی ہو گئے تھے۔ سیکیورٹی کی صورتحال بہت ابتر تھی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ کہاں دھماکا ہو جائے گا۔ کہاں خود کش پھٹ پڑے گا۔ تب اتنی سیکیورٹی دینا ضروری ہو گیا تھا۔ لیکن اب تو حالات ویسے نہیں ہیں۔ اب تو ہم اس طرح کی حالت جنگ میں نہیں ہیں۔ پھر حالات کو واپس نارمل کی طرف کیوں نہیں لے جایا جاتا ؟
کیا یہ آپ کی فیصلہ ساز، انتظامی، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی کی علامت نہیں ہے کہ حالات نارمل کی طرف لوٹنے باوجود بھی آپ لوگوں کو خوف کی فضاء مقید رکھیں ؟ کیا یہ آپ کی اہلیت، قابلیت اور آپ کی صلاحیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان نہیں ہے ؟ شاید آپ نہیں جانتے لیکن آپ کی یہ پالیسیاں آپ کے یہ ”پنجرے“ ملک بھر میں عدم برداشت کے رویوں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
کل تک، کراچی والے میرے اجنبی ہمسفر اور پڑوسی شہری جیسے سنی بھائی جو محرم کے جلوسوں میں سبیلیں پلاتے تھے۔ جو گرمیوں میں گرم سڑکوں پر اپنے شیعہ بھائیوں کی سہولت کے لئے چھڑکاؤ کرتے تھے، جو اندھیری گلیوں میں جلوسوں کی گزرگاہوں کو روشن کیے رکھتے تھے اور وہ اہلسنت کے چاچا اسلم، چاچا طفیل، حاجی الیاس اور شبیر بھائی جیسے بزرگ و معززین جو اہلسنت کے جوشیلی نوجوانوں کو کنٹرول کرنے اور ماتمی جلوس کے بخیر و عافیت ان کی گلی سے گزر جانے کو یقینی بنانے کے لئے گلی کے نکڑ پر کھڑے ہو جاتے تھے آج وہ سب محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان کی آزادیاں سلب ہو جاتی ہیں۔
ان کے اندر کہیں قید کا، آزادیوں کے چھن جانے کا، بے بسی اور لاچاری کا لاوا ابلنے لگتا ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اس لئے قید کیا جا رہا ہے کہ یہاں سے ماتمی جلوس گزرنا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان ماتمداروں کی وجہ سے ان کی نکل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔ محرم کے دس دن تو جیسے ان سے جینے کا حق بھی چھین لیتے ہیں۔
وہ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ان ماتمی جلوسوں سے، ان عزاداروں سے، محرم کے ان دس دنوں سے اور یہ نفرت آئے دن بڑھتی جائے گی اور ایک دن جب یہ لاوا پھٹ کر باہر نکلے گا تو تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کتنی تباہی لائے گا۔ اور کیا کچھ جلا کر راکھ کر دے گا۔


