نہروں کا معاملہ: ناکامی کے طعنے سہنے والی پارٹیاں پھر ناکام ہوئیں؟

گزشتہ کئی دنوں سے سندھ میں نہروں کا معاملہ تمام معاملات پر چھایا رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ گرین انیشیٹو کے تحت کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبے کے لیے دریائے سندھ پر چھ نئی نہروں کی تعمیر بنی۔ جس کے بعد سندھ میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر میدان گرماتے ہوئے سندھ میں روزمرہ زندگی کا کاروبار ہی ٹھپ کر دیا۔ بے شک پانی کا معاملہ زندگی اور موت کا مسئلہ

Read more

اکیلی عورت کو ”پبلک پراپرٹی“ سمجھنا عین اسلامی ہے؟

چند روز قبل میرے آفس کے ایک دوست نے حکومت پاکستان کی جانب سے ایک اسکالر کو سرکاری طور مدعو کرنے کے معاملے پر تنقید کرنا شروع کی کہ گلی محلوں کی ہلڑ بازیوں سے کنورٹ ہو کر دانشور ٹائپ پوڈ کاسٹر بننے والے ایک یوٹیوبر کے انٹرویو کے بعد حکومت نے جس شخص کو مدعو کیا ہے اس پر نفرت پھیلانے کے الزامات ہیں اور وہ اپنے ہی ملک سے فرار ہے اسے یہاں کیوں بلایا جا رہا ہے؟

Read more

امر کوٹ واقعہ: کیا واقعی مذہب کو پیروکاروں سے نہیں پرکھا جاتا؟

چند روز قبل سندھ کے ضلع عمر کوٹ میں توہین کے الزام میں ایک نوجوان ڈاکٹر شاہنواز کمبھر (کمہار) کو توہین کے الزام میں گرفتاری کے بعد پولیس نے مبینہ مقابلے میں قتل کر دیا۔ واقعے کے فوری بعد عاشقان رسول (صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم) نے پولیس افسران و اہلکاروں کے استقبال کے لئے راستوں میں پھولوں کے ڈھیر لگا دیے۔ افسران اہلکاروں پر پھول برسائے گئے ان کی پیشانیاں چومی گئیں اور سوشل میڈیا پر جشن منایا

Read more

آخر سیکس اتنا مقدس اور اہم کیوں ہے؟

عورت اور مرد کے درمیان جنسی تعلق کا موضوع ہمیشہ سے ہی ہمارے لیے اہم رہا ہے لیکن ہم نے جنسی عمل یعنی ”سیکس“ پر گفتگو کو فحاشی، بے حیائی کے زمرے میں ڈال دیا اور پھر اس عمل کے مرتکب یا اس سے متعلق گفتگو کرنے والے انسان کو بدکردار قرار دے کر قابل نفرت بنا دیا۔ منافقت کی حد دیکھیں کہ پھر اسی سیکشوئل تعلق کے قیام کے لئے شادی کا ادارہ بنایا اور بقول ”پی کے“ ڈھول

Read more

یوم علی کے دن شیعان علی پر ایف آئی آر

اے! شیعان علی ٔ، اے! عزا داران مظلوم کربلا تم پر ایک ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ یہ ایف آئی آر کسی تھانے یا کورٹ میں نہیں بلکہ سیدہ الکونین فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہ کی دربار میں داخل کی گئی ہے۔ فریادی ہیں معصوم پریا کماری کے والدین جنہوں نے 10 محرم ( 19 اگست) 2021 کے روز یوم عاشور کے ماتمی جلوس میں اپنی 5 سالہ معصوم بیٹی کو زندان شام کی قیدی ایک 4 سالہ معصومہ

Read more

کیا جڑانوالا سانحے کا ذمہ دار ”مشتعل ہجوم“ ہے؟

آج کے اخبارات دیکھ رہا تھا تاکہ جڑانوالا واقعے سے متعلق واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا پر گردش کرتی دل دہلا دینے والے مناظر پر مبنی ویڈیوز اور اس واقعے کا پس منظر معلوم کر سکوں۔ تمام اخبارات میں یہ خبر چھپی ہوئی تھی۔ ہر ایک اخبار نے اپنے اپنے طرز تحریر کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے واقعے سے متعلق ہیڈنگ بنائی ہوئی تھی۔ لیکن ایک لفظ ”مشتعل ہجوم“ سب ہی خبروں میں مشترک تھا اور ہر اخبار کی زینت

Read more

سلامتی کا کنبہ

امن کیا ہے! ؟ اس سوال کا جواب ہم سب کے پاس ہے۔ لیکن یقین جانیے ہم سب کا جواب مختلف ہو گا۔ ہم مختلف لوگ ہیں۔ مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ مختلف پس منظر اور مختلف حالات میں پروان چڑھے ہیں۔ ہمارے تجربات، مشاہدات، تعلیمات اور نظریات مختلف ہیں۔ تو پھر ہمارے جوابات مختلف ہونے میں کیسا تعجب! ؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم سب مختلف ہیں اور اتنے اختلافات کے باوجود بھی بقاء باہمی کے قانون کے تحت

Read more

ایم آرڈی سے پی ڈی ایم تک: سیاسی اتحاد اور پیپلز پارٹی کا کردار

تقسیم ہندوستان کے بعد روز اول ہی سے پاکستان سیاسی بے یقینی کا شکار رہا ہے اور اس دوران کئی سیاسی اتحاد بنے، کئی بنائے گئے۔ کئی سیاسی پارٹیاں بنی اور کئی بنائی گئی۔ 80 کی دہائی سے لے کر اب تک پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی اہم سیاسی طاقت کی حیثیت میں ایسے کئی اتحادوں کا حصہ اور کچھ اتحادوں سے الگ تھلگ نظر آتی رہی ہے۔ لیکن میرے خیال میں ان اتحادوں میں کم و بیش پیپلز پارٹی

Read more

انصاف کے لئے وڈیو وائرل ہونے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟

خبریں ہیں کہ سندھ کے سرحدی ضلعے کشمور میں معصوم بچی اور اس کی والدہ سے اجتماعی زیادتی کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔ جبکہ پولیس کا موقف ہے کہ ملزم رفیق ملک کی نشاندہی پر مفرور ملزم خیر اللہ بگٹی کی گفتاری کے لئے پولیس کارروائی کرنے پہنچی تو خیر اللہ نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔ ساتھی کی گولی لگنے سے گرفتار ملزم رفیق ملک ”ہلاک“ ہو گیا۔ جبکہ سوشل میڈیا پر اسے سندھ

Read more

سانپ موقع شناس ہوتا ہے!

ملکی سیاسی منظر نامہ جس تیزی سے بدل رہا تھا، اس سے مجھ جیسے سوشل میڈیائی مبصرین کی تو چاندی ہو گئی۔ عجیب کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنے بیٹھ جاتے تھے۔ کئیوں کا خیال تھا کہ اب کہ تب ”الطاف حسین پارٹ 2“ ریلیز ہوئی اور کچھ نے خیال پیش کیا کہ ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ بس انقلاب آیا کہ آیا“۔

پہلے پہل دھوم مچی گوجرانوالا جلسے میں نواز شریف کی دھواں دھار تقریر کی۔ ہم نے کہا کہ اب ہو گا، دما دم مست قلندر۔ پھر کراچی جلسے سے نواز شریف غائب ہو گئے۔ یوں ہماری دمام دم مست قلندر والی پیش گوئی ہی ٹھس ہو کر رہ گئی۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ بلاول، کوئٹہ جلسے میں شرکت نہیں کریں گے! لو بھئی! اب ہم کیا سمجھیں؟

Read more

آؤ اسلامی ”ایڈ“ بنائیں!

ہمارا ملک ”پیارا پیارا، اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے۔ لیکن بد خواہان اسلام و پاکستان نے کچھ دہائیاں قبل، ایک سازش کے تحت نصابوں اور کتابوں میں صرف ”پاکستان“ ڈال کر ہمیں یعنی موجودہ نسل کو گمراہی کے راستے پر ڈال دیا۔ اور تو اور میڈیا آیا تو اس نے بھی ایک کسر نہ چھوڑی اور ایسے ایسے گانے، فلمیں، اشتہار بنائے کہ ہم گمراہی کے دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ مرحوم جنید جمشید جیسے روشن ضمیر انسان بھی اس سازش کا شکار ہو گئے تھے اور قومی نغمے کے نام پر ”دل دل پاکستان، جان جان پاکستان“ گا لیا۔

زندگی نے انہیں مہلت نہ دی ورنہ وہ ضرور اپنی اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے نیا اصلی اور اسلامی قومی نغمہ ”دل دل اسلامی جمہوریہ پاکستان جان جان اسلامی جمہوریہ پاکستان“ تیار کر کے دشمنان اسلام و پاکستان کے عزائم کو مٹی میں ملا دیتے (اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے ) ۔

Read more

مار دو، لٹکا دو، جلا دو

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گوجرہ کے مقام پر ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد بشمول عوام میڈیا کی ساری توجہ اسی واقعے پر مرکوز ہے۔ کیوں نہ ہو، واقعہ ہی اتنا دہلا دینے والا ہے۔

اس واقعے کے بعد تین طرح کی بحثیں چھڑ گئی ہیں عمومی طور پر اس واقعے سے متعلق یا اس سانحے سے متاثرہ کوئی تحریر پڑھیں یا تقریر سنیں تمام ان تین طرح کی بحثوں میں ہی اضافہ کرتی نظر آتی ہیں۔

پہلی بحث مذکورہ موٹروے پر وارداتیں رپورٹ ہونے کے باوجود سیکیورٹی کی عدم موجودگی پر مبنی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے موٹروے پولیس کی جانب سے سیکیورٹی مقرر کرنے تک پنجاب پولیس کے 250 اہلکار مقرر کر کے بحث کا یہ ”چیپٹر کلوز“ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن کچھ منچلے ہیں کہ رٹ لگائے بیٹھے ہیں ذمہ داروں کا تعین کرو انہیں سزائیں دو۔ ارے بھائی منچلو! جب پنجاب حکومت اہلکار مقرر کر چکی ہے تو کاہے مغز کھپاوت ہو۔ بس ہو گیا نہ عملہ مقرر۔ بات ختم۔ آگے بڑھو۔

Read more

یوم عاشورہ، سیکیورٹی اور ایک پرانی کہانی

ابھی کچھ دن ہوئے ہیں کہ عالم اسلام کا ایک مقدس دن ”یوم عاشورہ“ نہایت ہی عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ یہ دن پوری دنیا میں اور بلا تفریق مذہب منایا جاتا ہے۔

میں نوکری کی وجہ سے کراچی میں رہتا ہوں لیکن اس دن سے عقیدت یا اس دن کے حوالے سے اپنے ”ناسٹیلجک“ ہونے یعنی جلوس عزاء، تعزیوں، علم کے قافلوں، روایتی نوحوں، ماتمداری اور مرکزی ماتمی جلوس میں ”حسین“ کی پر درد صدا سے اپنے جذباتی وابستگی اور بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک کے سفر کی یادداشتوں کو دوبارہ جینے کے لئے عاشورہ کے دن اپنے آبائی شہر بھٹ شاہ پہنچ جاتا ہوں۔

Read more

بے حسی شرط ہے جینے کے لئے!

سوشل میڈیا سے خبر ملی کہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں ایک جواں سال خاتون نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ویسے تو خودکشی کی خبر ہی دل دہلانے کے لئے کافی ہوتی مگر سوشل میڈیا پر گردش کرتی اس نازک اندام لڑکی ڈاکٹر ماہا شاہ کی زندگی سے بھرپور تصاویر دیکھ کر تو کلیجا حلق کو آن پہنچا کہ اتنی حسین زندگی کا انجا م بھی خودکشی ہو سکتا ہے؟ حالیہ دنوں میں خودکشی کے واقعات میں اچانک سے بہت تیزی آ گئی ہے۔

تھر کے صحرا سے کراچی کے کنکریٹ جنگلوں تک خودکشیوں کی سلگتی ہوئی آگ میں اس اچانک شدت پر ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ آخر ایسے کیا عوامل ہیں جو لوگوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں کے چراغ گل کر دیں! خودکشی کے بڑھتے ہوئے ان واقعات کے پیچھے ضرور کچھ اسباب ہوں گے ، کچھ محرکات ہوں گے جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ دنیا کتنی حسین ہے۔ یہ زندگی تو محبت کرنے کے لائق ہے۔ پھر کیوں یہ لوگ اس دلکش و دلنشین دنیا کی رنگینیوں کو بے رنگ سمجھ کر زندگی کی رومانیت سے بدظن ہو رہے ہیں؟

Read more

انتظامی اسسٹنٹ کی ملازمت اور مسلم تاریخ کا سوالیہ پرچہ

حالیہ دنوں کچھ افسران کی چھتری بردار تصویریں سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی۔ کئی لوگ افسران کو یاد دلاتے رہے کہ ”بھائی! یہ آقاؤں والے تیور کیا دکھا رہے ہو؟ ہمارے ٹیکس سے تنخواہ لینے والے پبلک سرونٹ ہو اور پبلک کے سرونٹ عرف عام میں غلام بن کر رہو“ ۔ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ بیچارے افسران عوام کی خدمت کے جذبے سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔ کام کر رہے ہیں۔ کام میں اتنے مگن ہیں

Read more

کراچی! ”پرابلم“ کیا ہے؟

کراچی جسے پاکستان کی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے تو کسی زمانے میں ”روشیوں کا شہر“ بھی اسی کی پہچان تھی۔ لیکن کیا ہوا؟ اس شہ رگ پہ یہ ضرب کس نے ماری؟ اس کی آنکھیں کیوں چندھیا گئی ہیں؟ کیوں اس شہر پر سیاہ سایوں کا راج بڑھتا جا رہا ہے اور روشنیاں، جو کہ زندگی کی علامت ہیں، اس سے روٹھتی جا رہی ہیں! ان سوالوں کے کئی جوابات ہو سکتے ہیں۔ ایک جواب تو وہ ہے جو

Read more