گرو نانک جی مہاراج کے مسلمانوں سے تعلقات
یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ بارہا مذہب کو باہمی جنگ و جدال اور خون خرابے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن تاریخ صرف خون خرابے کی کہانی نہیں۔ ہمیں اس کے برعکس مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ میں نے ایک گزشتہ کالم میں اس دور کا ذکر کیا تھا جب مسلمان بادشاہوں اور سکھ مذہب کے محترم گرو صاحبان میں اختلافات عروج پر تھے۔ اس کالم میں اس سے پہلے کے دور کا ذکر کیا جائے گا۔ ہم یہ جائزہ لیں گے کہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانک جی مہاراج کے دور میں مسلمانوں اور سکھ مذہب کی مقدس ترین ہستی کے باہمی تعلقات کیسے تھے؟
تاریخ کی ہر کتاب میں صحیح اور غلط دونوں قسم کی روایات شامل ہوجاتی ہیں۔ اس کالم میں صحیح اور غلط کی بحث میں پڑے بغیر ”بھائی بالے جی والی پراتن جنم ساکھی“ سے کچھ روایات نقل کی جائیں گی۔ بابا گرو نانک جی کی مختلف مذاہب سے وابستگی کے بارے میں بھی بہت سے بحثیں ہوئی ہیں لیکن یہ بحثیں اس کالم کا موضوع نہیں ہیں۔
آپ کے نام رکھنے کا واقع بھی بہت دلچسپ ہے۔ جب آپ کی پیدائش کے بعد آپ کے والد کالو جی نے ایک پنڈت سے درخواست کی کہ وہ آپ کا نام رکھیں تو پنڈت نے کہا کہ تیرہ دن بعد بتاؤں گا۔ اور تیرہ دن بعد پنڈت نے گھر آ کر آپ کا نام ”نانک نرنکاری“ رکھا۔ آپ کے والد نے کہا کہ میں نے یہ نام نہیں رکھنا کیونکہ یہ ہندو اور ترک دونوں کا مشترک نام ہے۔ اس پر پنڈت جی نے تسلی دی کہ ہندو اور ترک دونوں آپ کی بہت عزت کریں گے۔ بچپن سے آپ نیکی کی باتیں کرتے تھے۔ ہندو آپ کو دیکھ کر کہتے یہ دیوتا سروپ ہیں اور مسلمان کہتے کہ یہ کوئی ولی پیدا ہوا ہے۔
چونکہ آپ ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اس لئے آپ کے والد نے آپ کو پڑھنے کے لئے ایک پنڈت کے پاس بھجوایا۔ لیکن وہ آپ کی بڑوں سی باتیں سن کر بہت فکر مند ہوئے۔ انہوں نے ایک مقامی با اثر مسلمان زمیندار رائے بلار سے ان کی عجیب باتوں کا ذکر کیا۔ رائے بلار نے مشورہ دیا کہ آپ کو پڑھانے کے لئے ایک مسلمان ملا کے پاس بھجوا دیا جائے۔ اس طرح آپ نے دونوں مذہب کے لوگوں سے تعلیم پائی۔
لوگ ان کو نیک سمجھتے لیکن آپ کے والد کالو آپ کے غیر معمولی رجحانات کی وجہ سے بہت پریشان رہتے۔ ایک مرتبہ کالو جی نے آپ کو بیس روپے دے کر کاروبار کے لئے بھجوایا۔ گرو نانک جی نے وہ روپے فقیروں کو دے دیے۔ آپ کے والد کو جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے طیش میں آ کر آپ کو تھپڑ مارے۔ اور آپ کے رخسار پر نیلے نشان پڑ گئے۔ جب مقامی مسلمان زمیندار رائے بلار کو اس کا پتہ چلا تو وہ آئے اور گرو نانک جی کو اپنی بغل میں لے کر پیار کیا اور ان کے والد کو غصے سے کہا کہ میں نے تو آپ کو کہا تھا کہ اس بچے کو کچھ نہیں کہنا لیکن آپ نے تو اس کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ یہ بچہ آپ کو جو بھی نقصان کرے وہ آپ مجھ سے لے لیا کریں لیکن اس بچے کو کچھ نہ کہا کریں۔
رائے بلار نے گھر سے بیس روپے منگوا کر ان کے والد کو دے دیے۔ کالو جی نے شرمندہ ہو کر روپے لینے سے انکار کیا لیکن رائے بلار نے اصرار کر کے روپے انہیں دیے اور کہا کہ آئندہ اس بچے کا خرچہ ہم برداشت کیا کریں گے۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے بچپن میں آپ کی حفاظت اور مدد کا دم بھرنے والے مسلمان تھے۔
اسی طرح گرو نانک جی کا تمام عمر کے ساتھی بھائی مردانہ بھی مسلمان تھے۔ جب گرو نانک نے اپنے سفر شروع کیے اور آپ کو سفر کرتے ہوئے چھ سات سال گزر گئے تو آپ اور مردانہ نے حج کے لئے مکہ مکرمہ اور مدینہ کا سفر کیا۔ آپ پہلے مکہ گئے۔ اور یہاں پر آپ کی شاہ شرف، قاضی رکن الدین، کریم دین اور بہا الدین وغیرہ سے مذہبی گفتگو بھی ہوئی۔ اور وہ آپ کی بزرگی کے قائل ہوئے۔
جب آپ مدینہ گئے وہاں ایک ظالم حکمران سے آپ کی گفتگو ہوئی۔ آپ اس سردار سے ملنے گئے تو وہ آپ سے ملنے باہر آیا تو دیکھا کہ آپ زمین سے ٹھیکریاں اٹھا رہے ہیں۔ اس نے دریافت کیا کہ یہ ٹھیکریاں کس لئے اٹھا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خدا کے حضور پیش کروں گا۔ یہ بات سن کر وہ حکمران ہنس پڑا اور کہا کہ یہ ٹھیکریاں تو یہاں ہی رہ جائیں گی اور انہیں آپ اگلے جہاں تو نہیں لے کر جائیں گے کہ خدا کے حضور پیش کریں۔
اس پر گرو نانک جی نے کہا کہ آپ نے اتنے ظلم کر کے جو خزانہ جمع کر رکھا ہے وہ بھی آپ کے ساتھ نہیں جائے گا وہ بھی یہیں رہ جائے گا۔ اس نے کہا کہ مجھے ایسا طریقہ بتائیں کہ یہ خزانہ میرے ساتھ جا سکے۔ گرو نانک جی نے کہا کہ یہ خزانہ جو ظلم کر کے جمع کیا غریبوں میں بانٹ دو تب یہ تمہارے ساتھ جائے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ سکھ احباب کی مقدس روایات کے مطابق بھی حجاز میں بھی کسی نے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ آپ کا اور ان کا صوفیانہ قسم کا تبادلہ خیالات ہی ہوا۔
روایات کے مطابق جب آپ دہلی گئے تو ابراہیم لودھی کی حکومت تھی۔ اس وقت دہلی میں تمام فقیروں کو قید کر لیا گیا اور ان کے ساتھ گرو نانک جی کو بھی قید کر لیا گیا۔ بلکہ ایک مرحلہ پر باندھ کر بھی رکھا گیا۔ ان کی غیر معمولی شخصیت کا سن کر ان کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا مگر آپ نے رہا ہونے سے انکار کر دیا اور کہا کہ سات ماہ سترہ دن میں ان کا صفایا ہو جائے گا۔
کچھ ماہ کے بعد ابراہیم لودھی اور بابر کی جنگ ہوئی اور ابراہیم لودھی مارا گیا اور فتح بابر کے حصہ میں آئی۔ جب بابر کے اناج میں کیڑے پڑنے لگے تو اس کے ملازم نے کہا کہ قید میں ایک فقیر نانک نام کا ہے۔ اس کو گرفتار کرنے کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ اس پر بابر نے آپ کی رہائی کا حکم دیا اور آپ کو اپنے پاس بلا کر تعظیم سے پیش آیا۔
مجھے علم ہے کہ بعض پڑھنے والے یہ سوچیں گے کہ شاید ان واقعات میں سے بعض تاریخی طور پر غلط ہیں۔ اس کالم کا مقصد یہ بحث کرنا نہیں ہے کہ کون سی روایت غلط ہے اور کون سی صحیح۔ کئی نسلوں کے بعد سکھ مذہب کے گرو صاحبان اور شہنشاہ اورنگ زیب کا اختلاف شروع ہوا۔ اور اس کے بعد سکھ اور مسلمان ایک دوسرے کے مخالف بنے رہے۔ کیونکہ سکھ صاحبان گرو تیغ بہادر جی کو یاد کرتے ہیں جنہیں اورنگ زیب کے حکم سے سزائے موت دی گئی۔ یا گرو گوبند سنگھ کو یاد کرتے ہیں جن کی اورنگ زیب کے ساتھ جنگیں ہوئیں۔ اور مسلمانوں کا ایک طبقہ اورنگ زیب کا معتقد ہے۔
ان اختلافات کے بارے میں میں ایک کالم پہلے لکھ چکا ہوں۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ مسلمان اور سکھ دونوں گرو نانک جی اور رائے بلار کی محبت یاد کر لیا کریں۔ ”مغل“ کا نام آتے ہی سکھ صاحبان اورنگ زیب کے بارے میں کیوں سوچنے لگتے ہیں۔ بابر کا خیال کیوں نہیں آتا؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ محبت کا پیغام آہستہ آہستہ اثر کرتا ہے اور نفرت کی آندھی دیکھتے دیکھتے امن کو خاکستر کر دیتی ہے۔


