شعبہ تعلیم۔ ۔ ۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟


قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں چھپا ہے۔ جس قوم نے ا س راز کو پا لیا وہ کامیاب ٹھہری اور جس نے اس حقیقت سے نظر چرائی اس نے اپنی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ترقی یافتہ قومیں اپنے مضبوط تعلیمی نظام کا پھل حاصل کر رہی ہیں۔ اس کے برعکس ترقی پذیر ممالک جہاں تعلیم ترجیحات میں شامل نہ رہی، آج وہیں کھڑے ہیں جہاں سے اس سفر کا آغاز کیا تھا۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تعلیم کبھی ارباب اختیار کی ترجیحات میں شامل نہ رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج 73 سال گزرنے کے بعد بھی ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں انگریز ہمیں چھوڑ کر گیا تھا۔

انگریز کے نظام سے اور مرعوبیت کیا ہو سکتی ہے کہ انگریز جیسا نظام چھوڑ کر گیا تھا ہم نے اسے بدلنے کی شعوری کوشش ہی نہیں کی۔ اشیاء ضروریہ کی طرح شاید ہمیں انگریز کے بنائے ہوئے تعلیمی نظام پہ بھی گمان ہے کہ یہ ہمارے اپنے نظام سے بہتر ہو گا۔ آج دنیا چاند پر قدم رکھ چکی ہے لیکن ہم اس بحث میں الجھے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں تدریس کی زبان اردو ہو یا انگریزی۔ اس بحث میں جیت اکثر انگریزی زبان کے حصے آئی ہے۔ اس بات کا اندازہ ا ایسے لگائیں کہ اسلام میں نماز نہ پڑھنے پر سختی کرنے کے لئے عمر کی شرط دس سال ہے لیکن انگریزی زبان کے لئے یہ شرط پانچ سال ہے۔ لکھنے والے نے کیا خوب لکھا کہ ہمارے حاکم بدلے ہیں حاکمیت نہیں بدلی۔

کسی بھی ملک کا تعلیمی نصاب تعلیمی مقاصد کے حصول کے لئے کارگر ثابت ہوتا ہے۔ پاکستان میں رائج نصاب، موجودہ دور کی ضروریات پہ پورا نہیں اترتا۔ یکساں تعلیمی نصاب نہ ہونے کے باعث ہمارا تعلیمی نظام کئی طبقات میں تقسیم ہے۔ کسی تعلیمی ادارے میں امریکی نظام رائج ہے تو کہیں ترکش، کہیں پرائیویٹ اداروں میں آکسفورڈ کا نصاب پڑھا یا جاتا ہے تو کہیں سرکاری اداروں میں صدیوں پرانا نصاب۔ مدارس میں دی جانے والی سکول کی تعلیم بھی اسی نصاب کے زیر اثر ہے۔

پاکستان کی موجودہ حکومت نے یکساں تعلیمی نصاب کی طرف ایک کوشش ضرور کی ہے۔ لیکن اس پر کئی سوال اور اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہر ماہر دوسرے کی رائے کو اپنے پاؤں تلے کچلتے ہوئے اپنی رائے کا اطلاق چاہتا ہے۔ بدقسمتی سے ہر شعبے کی طرح تعلیم کا شعبہ میں بھی سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔ اگر یہ ایسے ہی چلتا رہا تو یکساں نصاب کے لئے کی گئی یہ ادنٰی کوشش بھی دم توڑ سکتی ہے۔ یکساں نصاب تعلیم کی ضرورت کا اس وقت احساس ہوتا ہے جب کسی موقع پر قومی سوچ درکار ہو۔ اس وقت اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی متضاد روایات سن کر جو افسوس ہوتا ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

وطن عزیز کا تدریسی نظام بھی قدیم زمانے کی نوادرات کی مانند ہو چلا ہے جسے دیکھتے دیکھتے کئی نسلیں جوان ہو گئیں۔ بدلتے وقت کا تقاضا ہے کہ اساتذہ کی جدید تربیت کا انتظام کیا جائے۔ اول تو اس کے لئے ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر موجود ہیں بھی تو فنڈز کی کمی کے باعث یہ ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال پر افسوس کرنے سے پہلے اس امر پر افسوس کرنا چاہیے کہ اساتذہ ہوں تو تب ان کی ٹرینگ کا بندوبست کیا جائے۔

پسماندہ شہروں اور دوردراز کے گاؤں میں اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے۔ کہیں ایک استاد نے پورا سکول سنبھال رکھا ہے تو کہیں سکول تو ہیں، بچے بھی اپنا بستہ لیے موجود ہیں لیکن استاد نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھوسٹ سکول کی اصطلاح ہماری ہی ایجاد کردہ ہے جہاں حکومت اور ارباب اختیار کے کاغذوں میں تو اپنی تعلیمی ذمہ داریاں نبھاتا سکول موجود ہے لیکن اس بستی کے رہائشیوں نے وہاں ایسی عمارت کبھی نہیں دیکھی۔ جہاں یہ سننے کو ملتا ہو کہ ”جو کچھ نہیں کر سکتا استاد بن جاتا ہے“ اس قوم وکی ذہنی تربیت کا خدا حافظ ہے۔

اکثر نجی تعلیمی اداروں کی فیس سن کر والدین کے منہ سے بے اختیار نکلتا ہے : ”یہ تعلیم ہے یا کاروبار“ ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اب تعلیم چند نجی اداروں کے لئے ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ افسوس ہے کہ تعلیم بکتی ہے۔ اگر ایسے ادارے اساتذہ کو ان کا حق دیتے، بچوں کی تعلیم و تربیت پر زور دیتے، بنیادی سہولیات میسر ہوتی تو تب یہ فیس حق بجانب مانی جا سکتی تھی۔ لیکن یہاں الٹ ہی کہانی ہے۔ اساتذہ کی تنخواہ مزدور سے کم اور کام مزدور جتنا، بچوں کی تعلیم کا یہ حال ہے کہ صرف انگریزی زبان قابلیت کا معیار ہے۔ بنیادی سہولیات کی بات کی جائے تو ناپید ہیں۔ کہیں دو مرلے پہ پورا سکول کھڑا ہے تو کہیں ایک گھر کے باہر سکول کا بورڈ لگا کر تعلیم کے نام پر کاروبار جاری ہے۔

بچہ پورے تعلیمی سال میں کھیل کی کوئی سرگرمی نہیں دیکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سکول کے امتحان میں تو کامیاب ہو جاتا ہے لیکن زندگی کا امتحان اس کے لئے کٹھن ثابت ہو تا ہے۔ اگر ایسی کوئی غیر نصابی سرگرمی ہو تو وہ بھی دراصل جیب گرم کرنے کا ایک بہانہ ہوتا ہے۔ اسی لئے اب بات یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ان اداروں کو مافیا کا نام دیا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ افسوس کا مقام کیا ہو سکتا ہے کہ اب ان اداروں کی فیسیں کم کرانے کے لئے اعلیٰ عدلیہ کو میدان میں کودنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود بھی ان فیسوں میں آئے روز اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن بات جب اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہ کی ہو تب یہ ادارے اپنا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث سکولوں کی بندش سے ان نجی اداروں کے اساتذہ اور ملازمین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

عالمی اور ملکی ادارے کئی برسوں سے وطن عزیز کی گرتی شرح خواندگی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اس میں تعلیمی سفر شروع کرنے والوں کی تعداد بھی دن بدن گر رہی ہے تو دوسری جانب خراب معاشی حالات کے باعث بہت سے بچے اپنا تعلیمی سفر ادھورا چھوڑ کر کمانے والوں کی دوڑ میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم گرتی معیشت اور خراب معاشی حالات کا رونا چھوڑ کر تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کریں۔ یہ فقط حکومتی ذمہ داری نہیں ہم پر بھی اس ملک کا قرض ہے۔ پڑھے لکھے طبقے کی قربانی، حکومت کا تعلیم کو ترجیحات میں شامل کرنا اور اساتذہ کا تعاون اس بگڑی صورتحال کا ازالہ کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS