تربیت بچوں کا کھیل نہیں ہے

27 مارچ 2022 اتوار کی صبح لاہور کے ایک نجی مارکی میں ایجوکیشنل ریسورس ڈویلپمنٹ سنٹر (ERDC) کے زیر اہتمام ”Parenting Without Spoiling“ کے عنوان سے سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ سیمینار سے کراچی کے معروف ایجوکیشنل سائیکالوجسٹ اور ای۔ آر۔ ڈی۔ سی کے بانی سلمان آصف صدیقی نے خطاب کیا۔ میرا اس سیمینار میں شرکت کا مقصد والدین کے تاثرات کا جائزہ لینا تھا۔ دوران گفتگو والدین کے چہروں کے بدلتے آثار اس بات کو ظاہر کرتے تھے

Read more

یہ ترقی نہیں نظر کا دھوکا ہے

”میں مصروف ہوں“ دور جدید کے زیادہ بولے جانے والے جملوں میں سے ہے۔ دور جدید کی لغت کے مطابق خود کو مصروفیات کے عوض گروی رکھنے کا نام ترقی ہے۔ ترقی کی اس نقل کو پہنچنے کو ہم نے بہت کچھ اصل کھویا ہے۔ دنیا والے ہمیں خوش نصیب کہتے ہیں کہ ہم نے ترقی کے دور میں آنکھ کھولی۔ پر ہم نے آنکھ کھولنے کے بعد اس دنیا کو چھوڑ کے جانے والے بزرگوں کی محفل میں کان

Read more

وبا کا خوف ہے خود بھی کسی وبا کی طرح

ایک بچہ سڑک کنارے کھڑا فٹ پاتھ کی جانب توجہ طلب نظروں سے دیکھ رہا ہے، جیسے یہاں کچھ قیمتی کھو دیا ہو۔ اچانک اپنی قمیض کا پلو اٹھاتا ہے، آنکھوں میں آیا آنسو صاف کرتا ہے، چل پڑتا ہے۔ بیمار شخص کسی سے فون پہ بات کر رہا ہے، ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں، پر یہ آنسو بات چیت میں خلل نہیں ڈال رہے۔ شہر کے بڑے ہسپتال میں ماہر نفسیات کی کلینک کے باہر

Read more

غذا اور ادویات میں ملاوٹ: موت کے سوداگر

سال 2018 کی بات ہے، ایک باپ اپنی نومولود بچی کے لئے دودھ لینے سٹور میں داخل ہوا۔ مجھے اپنی بیٹی کے لئے سب سے اچھا دودھ چاہیے، وا لد نے دکاندار سے تقاضا کیا۔ دکاندار نے اسے دنیا کی سب سے مشہور کمپنی کے دودھ کا ڈبہ دیا۔ والدہ نے بڑی چاہ سے بچی کو دودھ پلایا، آخر ڈاکٹر نے اسے ماں کے دودھ کا نعم البدل بتایا تھا۔ بچی نے دودھ پیا، طبعیت بگڑی، ہسپتال لے جائی گئی۔

Read more

بس اتنی ہے تمنا دل بدل دے

گانا ہو یا ملی نغمہ، نعت ہو یا منقبت، کلام اقبال ہو یا مسدس حالی، جنید جمشید نے ہر صنف میں اپنی آواز سے لوگوں کو مسحور کیا۔ زندگی کے ہر کردار کو خوبصورتی سے نبھانے والے جنید جمشید نے 3 ستمبر 1964 کو کراچی میں آنکھ کھولی۔ مایہ ناز گلوکار سے پر سوز نعت خواں تک جنید جمشید نے اپنی فنی زندگی میں دو بہاریں دیکھیں۔ موسیقی سے اپنے کیریر کا آغاز کرنے والے جنید جمشید نے شہرت کی

Read more

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

انسانوں کی بڑی آبادی جب ایک کام نہ کرنے کا فیصلہ کر لے تو اس خلاء کوپر کرنے کو دنیا میں نیا پیشہ وجود میں آتا ہے۔ ایک بڑی آبادی نے جب گھروں میں کھانا نہ پکانے کا فیصلہ کیا تو دنیا میں ہوٹلنگ کا پیشہ وجود میں آیا۔ اسی طرح انسانوں کی ایک آبادی نے اپنی بنیادی استعمال کی چیزوں کی خریداری کے لئے وقت کی کمی کا عذر پیش کیا تو ہوم ڈیلیوری سروس کا آغاز ہوا۔ ہم

Read more

سانس لینے کی رسم جاری ہے

رات کا پہلا پہر ہے، ایک بزرگ بچوں کی محفل میں بیٹھے اپنی جوانی کے قصے سنا رہے ہیں۔ اچانک انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری اور بولے، ”کاش! وہ خالص دور لوٹ آئے“ ۔ خالص دور؟ بچوں نے استفسار کیا۔ ہاں خالص دور، بابا جی نے جواب دیا۔ ہمارے بچپن کا زمانہ، جب ہوا خالص، غذا خالص، دوا خالص تھی۔ ہم کھیلتے کودتے کسی بھی نل کو منہ لگا کر پانی پی لیا کرتے تھے۔ تازہ ہوا سے پھیپھڑوں کو

Read more

وبا میں اسٹریٹ اسکولوں کا کسی نے سوچا؟

بچوں کے تعلیمی مستقبل کے بارے پریشان لوگ سوال کرتے ہیں کہ بازار، شادی ہال سب کھلے ہیں، اگر بند ہیں تو تعلیمی ادارے، یہ تفریق کیوں؟ ایک استاد سے ملاقات ہوئی جو فرصت کے لمحات بازار میں اپنے والد کی دکان پر گزارتے ہیں، بولے ”ایک دن اسسٹنٹ کمشنر صاحب نے بازار کا دورہ کیا تو پورے بازار میں زبردستی ہی سہی لیکن احتیاطی تدابیر پہ عمل درآمد ہونے لگا۔ اول تو تعلیمی اداروں پر ایسا وقت نہیں آنا چاہیے کہ انہیں بازاروں کی طرح زبردستی احتیاطی تدابیر کا پابند بنایا جائے، تاہم انتہائی صورت میں زبردستی ایس او پیز پہ عمل کرایا جا سکتا تھا لیکن افسوس! ہم نے تعلیمی ادارے بند کرنے میں غنیمت جانی۔

Read more

میرے دیس کا بسکٹ گالا

کسی چیز کو قومی نشان کا درجہ حاصل ہو نے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کی کثیر تعداد اس پہ متفق ہو۔ وطن عزیز کا قومی پھل، قومی پھول، قومی پرندہ اور قومی جانور کون سا ہے، یہ معلومات پہلے سے شعور کا حصہ ہیں۔ لیکن میرے دیس کا قومی بسکٹ کون سا ہے، یہ حقیقت چند روز قبل عیاں ہوئی۔ حال ہی میں تمغہء امتیاز حاصل کرنے والی مشہور اداکارہ مہوش حیات کے گنگناتے، رقص کرتے اشتہار میں دعویٰ کیا گیا کہ میرے دیس کا بسکٹ گالا ہے۔ بسکٹ کے درجنوں برانڈ ہیں اور ہر شخص اپنی پسند رکھتا ہے۔ یوں نا پسندی سے شروع ہونے والا یہ شور، اشتہار کے مواد سے ہوتا ہوا، پیمرا کے دروازے پہ جا پہنچا۔ پیمرا نے شکایات کا ازالہ کرنے کیا وہی پرانا حربہ اپناتے ہوئے اشتہار کے مواد پہ نظر ثانی کے حکم کے ساتھ نشریات پہ پابندی عائد کر دی۔

پیمرا کی جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق بسکٹ، سرف جیسی گھریلو استعمال کی چیزوں کی ایسی اشتہار سازی نا مناسب ہے جس میں اشتہا ر مصنوعات سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ غریب ملک کے حکمرانوں کی طرح ملک کے غریب بسکٹ کا اتنا مہنگا اشتہار بھی شاید عامتہ الناس کو ہضم نہ ہوا۔ اتنا بجٹ اگر بسکٹ کے معیار کی بہتری میں صرف ہوتا، تو شاید آج گاہک خود دکانوں پہ جا کر گالا بسکٹ کی مانگ کرتے۔ لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا، کیوں کہ دور جدید میں جو دکھتا ہے، وہ بکتا ہے۔ معیار بہت بعد کی کہانی ہے۔

Read more

شعبہ تعلیم۔ ۔ ۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں چھپا ہے۔ جس قوم نے ا س راز کو پا لیا وہ کامیاب ٹھہری اور جس نے اس حقیقت سے نظر چرائی اس نے اپنی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ترقی یافتہ قومیں اپنے مضبوط تعلیمی نظام کا پھل حاصل کر رہی ہیں۔ اس کے برعکس ترقی پذیر ممالک جہاں تعلیم ترجیحات میں شامل نہ رہی، آج وہیں کھڑے ہیں جہاں سے اس سفر کا آغاز کیا

Read more

ہمیں کیسا تعلیمی نظام چاہیے

  ہمیں کیسا تعلیمی نظام چاہیے؟ یہ سوال کا قوموں کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل رہا ہے کیونکہ یہ تعلیمی نظام ہی ہے جو ہمارے مستقبل کے معماروں کی زندگی کا فیصلہ کرتا ہے۔ پاکستان بھی ان بدقسمت ممالک میں ہے جہاں نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ملک و قوم کی امیدوں پر پورا نہیں اترتے۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام خامیاں رکھتا ہے جن کا ادارک کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔

Read more