کسی چیز کو قومی نشان کا درجہ حاصل ہو نے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کی کثیر تعداد اس پہ متفق ہو۔ وطن عزیز کا قومی پھل، قومی پھول، قومی پرندہ اور قومی جانور کون سا ہے، یہ معلومات پہلے سے شعور کا حصہ ہیں۔ لیکن میرے دیس کا قومی بسکٹ کون سا ہے، یہ حقیقت چند روز قبل عیاں ہوئی۔ حال ہی میں تمغہء امتیاز حاصل کرنے والی مشہور اداکارہ مہوش حیات کے گنگناتے، رقص کرتے اشتہار میں دعویٰ کیا گیا کہ میرے دیس کا بسکٹ گالا ہے۔ بسکٹ کے درجنوں برانڈ ہیں اور ہر شخص اپنی پسند رکھتا ہے۔ یوں نا پسندی سے شروع ہونے والا یہ شور، اشتہار کے مواد سے ہوتا ہوا، پیمرا کے دروازے پہ جا پہنچا۔ پیمرا نے شکایات کا ازالہ کرنے کیا وہی پرانا حربہ اپناتے ہوئے اشتہار کے مواد پہ نظر ثانی کے حکم کے ساتھ نشریات پہ پابندی عائد کر دی۔
پیمرا کی جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق بسکٹ، سرف جیسی گھریلو استعمال کی چیزوں کی ایسی اشتہار سازی نا مناسب ہے جس میں اشتہا ر مصنوعات سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ غریب ملک کے حکمرانوں کی طرح ملک کے غریب بسکٹ کا اتنا مہنگا اشتہار بھی شاید عامتہ الناس کو ہضم نہ ہوا۔ اتنا بجٹ اگر بسکٹ کے معیار کی بہتری میں صرف ہوتا، تو شاید آج گاہک خود دکانوں پہ جا کر گالا بسکٹ کی مانگ کرتے۔ لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا، کیوں کہ دور جدید میں جو دکھتا ہے، وہ بکتا ہے۔ معیار بہت بعد کی کہانی ہے۔
Read more