کنگنا رناوت کو مودی حکومت کی جانب سے وائی پلس سکیورٹی


کنگنا رناوت

انڈیا کی وفاقی حکومت نے بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت کو وائی پلس درجے کی سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چند روز قبل سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد کنگنا نے کہا تھا کہ وہ ممبئی میں محفوظ محسوس نہیں کرتی ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی فراہم کیے جانے کی خبروں کے بعد کنگنا نے ٹوئٹر پر ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

کنگنا نے ٹویٹ کی کہ ‘یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی محب الوطن آواز کو فسطائیت کچل نہیں سکے گی، میں امت شاہ جی کی شکر گزار ہوں۔ وہ چاہتے تو حالات کے سبب مجھے کچھ روز بعد ممبئی جانے کا مشورہ دے سکتے تھے، لیکن انہوں نے بھارت کی ایک بیٹی کے الفاظ کا مان رکھا، ہمارے غرور اور خود داری کی لاج رکھی، جے ہند۔’

وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ مہاراشتڑا میں سرکردہ ہندو تنظیم شِو سینا کے رکن پارلیمان سنجے راوت اور کنگنا کے درمیان جاری تلخ بیان بازی کے درمیان آیا ہے۔

سنجے راوت

سنجے راوت ہندو تنظیم شیو سینا کے رہنما ہیں۔

انڈیا میں سیاسی رہنماؤں یا بڑی شخصیات کو عام طور پر زیڈ پلس، زیڈ، وائی اور ایکس درجے کی سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ ان میں وفاقی رہنما، وزیر اعلی، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج صاحبان، مشہور سیاستدان اور ملک کے سینیئر اہلکار شامل ہیں۔

زیڈ درجے میں سکیورٹی اہلاکاروں کی تعداد 22 ہوتی ہے۔ اس درجے میں آئی ٹی بی پی یعنی انڈو تبت بارڈر پولیس اور سی آر پی ایف یعنی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ اس درجے کی سکیورٹی میں محافظ دستہ اور گاڑیاں بھی دی جاتی ہیں۔

جبکہ وائی درجے کی سکیورٹی میں یہ تعداد 11 ہوتی ہے۔ جس میں دو ذاتی سکیورٹی اہلکار شامل ہوتے ہیں۔

وائی پلس درجے میں ایک ایسکورٹ گاڑی اور ذاتی سکیورٹی گارڈ کے علاوہ گھر پر ایک گارڈ کمانڈر اور چار گارڈ تعینات ہوتے ہیں۔ ان گارڈز میں ایک سب انسپکٹر درجے کا اہلکار ہوتا ہے جبکہ تین دیگر سکیورٹی کارکنان کے پاس آٹومیٹک ہتھیار ہوتے ہیں۔

ایکس درجے کی سکیورٹی میں محض دو سکیورٹی اہلکار ہوتے ہیں جن میں ایک پی او سی شامل ہوتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق اتوار کو کنگنا کے والد نے سنجے راوت اور کنگنا کے درمیان جاری تلخ کلامی کے دوران ہماچل پردیش کے وزیرا علیٰ جے رام ٹھاکر کو خط لکھ کر اپنی بیٹی کو سکیورٹی مہیا کرائے جانے کی درخواست کی تھی۔ کنگنا ان دنوں ہماچل میں ہیں جہاں ان کے والدین بھی رہتے ہیں۔ وہ جلد ممبئی لوٹنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

گزشتہ ہفتے کنگنا نے کہا تھا کہ ‘سنجے راوت نے مجھے کھلی دھمکی دی ہے اور ممبئی نہیں آنے کو کہا ہے۔ ممبئی کی گلیوں میں آزادی گرافیٹی اور اب کھلی دھمکی۔ ممبئی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جیسا کیوں محسوس ہو رہا ہے؟’

اس سے قبل کنگنا رناوت نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے سنجے راوت کی جانب سے ایک ٹی وی چینل پر بات چیت کے درمیان ان کے لیے قابل اعتراض الفاظ کے استعمل کے لیے انہیں جواب دیا تھا۔

کنگنا رناوت نے ویڈیو میں کہا تھا کہ ملک کی بیٹیاں سنجے راوت کو معاف نہیں کریں گی کیونکہ انہوں نے استحصال کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

ویڈیو میں کنگنا نے کہا تھا ‘سنجے راوت جی، آپ نے کہا کہ میں ایک ***خور لڑکی ہوں۔ آپ ایک سرکاری ملازم ہیں۔ ایک وزیر ہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہوں گے ملک میں ہر روز، ہر گھنٹے کتنی لڑکیوں کا ریپ ہو رہا ہے۔ کتنی لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ ان کا جسم کاٹ کر تیزاب ڈال کر پھینک دیا جاتا ہے۔ ان کی کام کی جگہ پر انہیں گالیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ جب عامر خان نے کہا کہ انہیں اس ملک میں ڈر لگتا ہے تو کسی نے انہیں ***خور نہیں کہا اور جب نصیر الدین شاہ جی نے بھی کہا تھا تو کسی نے ***خور نہیں کہا۔’

انہوں نے مزید کہا ‘جس ممبئی پولیس کی میں تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتی تھی، آج وہ پالگھر میں سادھوؤں کی لنچنگ پر کچھ نہیں کرتے ہیں، کھڑے رہتے ہیں، سشانت سنگھ راجپوت کے لاچار والد کی ایف آئی آر نہیں لیتے ہیں۔ میرا بیان نہیں لیتے ہیں۔ تو اگر میں ان کی مذمت کرتی ہوں، تو یہ میری اظہار کی آزادی ہے۔ سنجے جی میں آپ کی مذمت کرتی ہوں۔ آپ مہاراشٹرا نہیں ہیں۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ میں نے مہاراشٹرا کی برائی کی ہے۔ میں نو ستمبر کو آ رہی ہوں۔ آپ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ میرا جبڑا توڑ دیں گے۔ آپ لوگ مجھے مار ڈالیں گے۔ آپ لوگ مجھے ماریے، کیوں، کیوں کہ اس ملک کی عظمت اور اتحاد کے لیے نا جانے کتنے لوگوں نے اپنی جان دی ہے اور ہم بھی دیں گےکیوں کہ ہم کو بھی اپنا فرض نبھانا ہے۔ ملتے ہیں 9 ستمبر کو۔ جے ہند جے مہاراشٹرا۔’

کنگنا رناوت کو ‘ ***خور لڑکی’ کہنے والے بیان پر معافی مانگنے کے سوال پر شِو سینا کے رہنما سنجے راوت نے کہا ‘اگر وہ لڑکی مہاراشٹرا سے معافی مانگے گی، تو میں سوچوں گا۔’

دراصل گزشتہ کچھ عرصے سے کنگنا اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تفتیش کے سلسلے میں مسلسل ممبئی پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہی ہیں۔

کنگنا نے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ‘ایک بڑے اداکار کے مارے جانے کے بعد میں نے ڈرگ اور فلم مافیا کے ریکٹ کے بارے میں آواز اٹھائی۔ میں ممبئی پولیس پر بھروسہ نہیں کرتی کیونکہ انہوں نے سشانت سنگھ راجپوت کی شکایت کو نظر انداز کیا تھا۔ انہوں نے سب سے کہا تھا کہ وہ لوگ انہیں مار دیں گے، باوجود اس کے انہیں مار دیا گیا۔ میں غیر محفوظ محسوس کرتی ہوں، کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ میں فلم انڈسٹڑی یا ممبئی سے نفرت کرتی ہوں؟’

اس کے بعد شو سینا کے رہنما سنجے راوت نے بھی کہا کہ انہیں اگر ممبئی پولیس سے ڈر لگتا ہے تو وہ ممبئی نا آئیں۔

جس کے بعد کنگنا نے ممبئی میں محفوظ نہیں محسوس کرنے سے متعلق ٹویٹ کی تھی۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp