ففتھ جنریشن وار جیتنے کا عزم اور اختلاف رائے کی آزادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوم دفاع کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار کے خطرات سے متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ فوج قوم کے تعاون سے اس جنگ کو بھی ضرور جیت لے گی۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سرکار کے دسترخوان سے نوالے چننے والے بعض اینکر اور صحافی ملک میں ہائبرڈ طرز حکومت کے ’کامیاب تجربہ‘ کی نوید سنا رہے ہیں اور سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے اثاثوں کے بارے میں معلومات سامنے لانے کو ففتھ جنریشن وار کا حصہ قرار دے کر متعلقہ صحافی کو مطعون کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس پس منظر میں جب ملک کی سب سے باثر اور طاقت ور شخصیت ان اصطلاحات کو استعمال کرتے ہوئے، ان کے خطرات سے آگاہ کرتی ہے تو  یہ گزارش سامنے لانا ضروری ہو جاتا ہے کہ اس طرز تکلم سےاختلاف رائے، معلومات کی آزادانہ فراہمی اور جائز نکتہ چینی کو لاحق خطرات و اندیشوں کا تدارک بھی ضروری ہے۔ آزادانہ رائے کے اظہار، حکومت اور فوج کے سیاسی یا نظریاتی مؤقف سے اختلاف کرنا کسی بھی معاشرے میں صحت مندانہ مزاج کو فروغ دینے کا سبب ہوتا ہے۔ عام طور سے فوجی قیادت چونکہ سیاسی یا نظریاتی مباحث کا حصہ نہیں بنتی اس لئے ایسے معاشروں میں فوج کے ادارے پر براہ راست گفتگو بھی نہیں کی جاتی۔ اسی طرح مسلمہ جمہوری ملکوں میں فوجی قیادت چونکہ سیاسی حکومت اور پارلیمنٹ کے فیصلوں کی غیر مشروط پابند اور تابع فرمان ہوتی ہے، اس لئے وہ سیاسی مباحث اور اختلافی رائے کی زد میں آنے سے بھی محفوظ رہتی ہے۔

پاکستان کے حالات اس سے قطعی مختلف ہیں۔ یہاں ان اسباب سے بحث مطلوب نہیں ہے جن کی وجہ سے ملکی سیاست میں فوج کی دسترس بڑھی ہے۔ تاہم سیکورٹی کے علاوہ، خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں میں فوج کے عمل دخل کا اظہار وزیر اعظم خود اپنی گفتگو میں کرتے رہتے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ ان مباحث سے بھی باخبر ہوں گے جن میں پاکستان میں کسی بھی حکومت کی ساکھ اور مضبوطی کا اندازہ کرنے کے لئے یہ قیاس نہیں کیا جاتا کہ اسے قومی اسمبلی میں کتنے ارکان کی حمایت حاصل ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اسے فوج کی کس قدر اعانت میسر ہے۔ یہ سچائی بھی اب کوئی قومی راز نہیں ہے کہ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرکے حکومت سازی کا عمل دراصل جی ایچ کیو کی نظر کرم کا محتاج ہوچکا ہے۔ عمران خان اسی تائید و اعانت کی وجہ سے دو سال قبل اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ وہ اس پر کسی شرمندگی کا اظہار بھی نہیں کرتے بلکہ اسے اپنے لئے باعث اعزاز سمجھتے ہیں۔

سیاسی معاملات میں فوجی قیادت کی اسی مداخلت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے مباحث، مذاکرہ یا مکالمہ کی تمام اقسام میں براہ راست یا بالواسطہ طور سے فوج کے کردار کے بارے میں گفتگو لازمی سمجھی جاتی ہے۔ گویا اسے ملک میں سیاسی اقتدار کا ایک اہم حصہ تسلیم کرلیا گیا ہے۔ فوجی ترجمانوں کے علاوہ خود آرمی چیف کی گفتگو میں سیاسی معاملات پر بات چیت یا سفارتی لحاظ سے ان کی خدمات بھی خالصتاً عسکری کی بجائے نیم سیاسی نیم فوجی کہی جا سکتی ہیں۔ یہ علیحدہ بحث ہے کہ پاک فوج یا اس کے سربراہ کے اس کردار کو کیسے دیکھا جائے اور ملکی آئین کی سخت تشریح کرتے ہوئے کیوں کر اسے ملک میں خالص پارلیمانی جمہوریت کے اصول کے مطابق سمجھا جائے۔ بتانا صرف یہ مقصود ہے کہ اگر بعض عناصر فوجی قیادت کے سیاسی و نظریاتی افکار پر بات کرنا چاہتے ہیں یا اس سے اختلاف کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں تو اسے نہ تو فوج پر تنقید کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی ملک دشمنی پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ فوج کے سیاسی کردار پر گفتگو کرنے والے لوگ بھی اتنے ہی محب وطن اور پاکستان کی بہبود چاہنے والے ہیں جتنا خود آرمی چیف یا منتخب وزیر اعظم ہو سکتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کے سوچنے اور ملکی آئین و قانون کی تفہیم کے طریقہ میں فرق ہے۔ اس طریقہ سے اختلاف ممکن ہے لیکن ان کے حق اظہار رائے کو حب الوطنی کے تقاضوں سے متصادم قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے ساتھ ہی یہ واضح کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ فوج کے سیاسی کردار اور بعض فوجی افسروں کے فیصلوں یا ارشادات سے اختلاف کرنے والے لوگ بھی فوج کے کردار سے مطمئن ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں کہ ملک کے محدود وسائل میں پاکستان مسلمہ پیشہ وارانہ صلاحیتیں رکھنے والی فوج استوار کرنے میں کامیاب ہؤا ہے۔ پاکستان میں آباد یا پاکستان سے تعلق رکھنے والے سب لوگ خواہ وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں آباد ہوں، پاک فوج کی ضرورت اور اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہیں اور کسی بھی صورت اس کی شہرت، عزت یا حیثیت کو کمزور یا داغدار کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

 ملک میں موجودہ بحث کا آغاز چونکہ یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے ہؤا ہے جو 6 ستمبر 1965 کو شروع ہونے والی سترہ روزہ پاک بھارت جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ا س لئے یہ جان لینا بھی اہم ہونا چاہئے کہ پاک فوج نے کم وسائل اور قلیل تعداد کے باوجود اگر دشمن کا عزم ، ہمت و شجاعت سے مقابلہ کیا تھا تو پوری پاکستانی قوم بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح پاک فوج کی پشت پر تھی۔ ملک کے شاعروں نے لازوال قومی نغمے تخلیق کئے اور موسیقاروں و گلوکاروں نے قومی جذبہ بیدار رکھنے کے لئے ان نغموں کو اپنی موسیقی اور آوازوں سے جاوداں کیا۔ یہ قیاس کرنا غلط اور گمراہ کن ہوگا کہ فوج کسی قوم سے علیحدہ کوئی اکائی ہو سکتی ہے یا اس کا کوئی قدم تن تنہا کسی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ وہی فوج کامران ہوتی ہے جسے ملک میں آباد لوگوں کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان کی فوج اسی دھرتی کے جوانوں پر مشتمل ایک فورس ہے جو سرحدوں پر ملک کی جغرافیائی سالمیت کی حفاظت کے لئے استوار کی گئی ہے۔ فوج کے جوان اور افسر بھی اسی معاشرے میں آباد عام لوگوں کے بیٹے یا بھائی ہیں۔ وہ کوئی علیحدہ اور نرالی مخلوق نہیں ہے۔

قومی یکجہتی کی اس تصویر کو البتہ ایک دوسرے کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہات دھندلا سکتے ہیں۔ اسی لئے یہ اہم ہے کہ مکالمہ اور ڈائیلاگ کی ضرورت کو تسلیم کیا جائے۔ اگر توصیفی کلمات پر خوشی و فخر محسوس کیا جائے تو اختلاف کرنے والوں کو بھی محب وطن اور بھائی بند سمجھ کر گلے لگایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے ذہنی پرداخت کے حوالے سے اٹھنے والی سماجی لہروں کے بارے میں جو انتباہ دیا گیا ہے، اسے وسیع تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ اگر ایک طرف دشمن کی طرف سے جھوٹی خبریں پھیلانے اور ملک و قوم (جن میں فوج بھی شامل ہے) کو بدنام کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانا ضروری ہے تو یہ بھی اہم ہے کہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے نام پر ہر اس محب وطن کا منہ بند کرنے کا اہتمام نہ کیا جائے جو پوری دیانت داری سے اصلاح احوال کے لئے اپنی غیر جانبدارانہ رائے کا اظہار کرتا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ رائے شروع میں کانوں کو بھلی نہ لگے لیکن اس اختلافی رائے میں دھرتی سے محبت کے سارے رنگ موجود ہوتے ہیں۔ دشمن سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے اپنی صفوں میں انتشار کی ایسی کوئی بھی کوشش وسیع تر قومی مفاد کے برعکس ہو گی۔ یہ کوشش کسی غلط فہمی کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے یا سادہ لوحی کی وجہ سے بھی ایسا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کے حوالے سے ففتھ جنریشن وار کی اصطلاح پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے استعمال کرنا شروع کی تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں یہ اصطلاح استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ملک کے بعض ممتاز صحافیوں کے نام بھی لئے اور ان کے ٹوئٹ پیغامات کا حوالہ بھی دیا تھا ۔ اس دوران ہائبرڈ سیاسی انتظام کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے جس سے شاید یہ مراد لی جا رہی ہے کہ اس ملک میں ایسا نظم حکومت ہی پائیدار اور ملکی مفاد میں ہوگا جس میں فوج یکساں طور سے سول حکومت کے ساتھ امور حکومت طے کرنے میں شامل ہو۔ یہ طریقہ چونکہ ملکی آئین میں شامل نہیں ہے اس لئے اس پر اختلاف کا اظہار سامنے آنا فطری اور ضروری ہے۔

ملکی پارلیمنٹ اگر فوج اور منتخب سیاست دانوں کے اشتراک سے کسی نظم حکومت کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کرلے تو اسے ملک کا متفقہ طریق حکومت قرار دیا جا سکتا ہے۔ فی الوقت یہ صورت حال نہیں ہے لہذا سول معاملات میں فوج کی ہمہ قسم مداخلت اور نمائندگی کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں اور افراتفری کا سبب بنتے ہیں۔ اس منتشر خیالی کو صرف ایک ایسے مکالمہ کے ذریعے ہی دور کیا جا سکتا ہے جس میں معاشرے کے سب عناصر کو کھلے دل سے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا حق حاصل ہو۔ کسی بھی نکتہ پر اتفاق رائے کی صورت میں سب کو اکثریت کی رائے کا احترام کرنا چاہئے اور مزید بہتری کے لئے کوشش جاری رہنی چاہئے۔ لیکن کسی بھی نئے انتظام سے پہلے موجودہ آئین کے تقاضوں کو تسلیم کرنا اور ان کے مطابق عمل کرنا ہی سب کے لئے مناسب اور باعث عزت ہوگا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ ضرور قوم کو ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار سے نمٹنے کے لئے تیار ہونے کا مشورہ دیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ پاکستان میں اظہار رائے کی ابتر صورت حال پر قومی و عالمی انسانی حقوق اور صحافیوں کی تنظیموں کی رائے پر بھی غور کر لیں۔ اسی طرح قانون سے ماورا ہتھکنڈے اختیار کرتے ہوئے شہریوں کو لاپتہ کرنے کا طریقہ ختم کرنا بھی اہم ہے۔ یہ صورت حال قومی منظر نامہ میں اختلاف کے لئے کم ہوتی ہوئی گنجائش کی وجہ سے پیدا ہورہی ہے۔ موجودہ حکمران جماعت نے یہ صورت حال سنگین کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ آرمی چیف کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی گفتگو سے ملک میں حبس اور گھٹن کے ماحول میں اضافہ نہ ہو۔ ورنہ اسی دشمن کو وار کرنے کا زیادہ مؤثر موقع مل جائے گا جسے روکنے کے لئے ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار جیتنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1645 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali