معرکۂ اسٹالن گراڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی تاریخ کی سب سے خون آلود، اعصاب شکن اور کئی حوالوں سے اپنا ثانی نہ رکھنے والی جنگ تھی۔ یہ وہ معرکہ رہا، جس نے دوسری عالمی جنگ کے حتمی نتیجے میں مرکزی اور کلیدی کردار ادا کیا۔ اس معرکے کی شدت اور پیمانے کا اندازہ تقریباً بیس لاکھ سے زائد اموات سے لگایا جا سکتا ہے، جس کی کسی اور میدان جنگ سے نظیر نہیں ملتی۔

اسٹالن گراڈ کو بعد از سوویت دور کے روس میں وولگا گراد کہتے ہیں۔ روس کے جنوب میں دریائے وولگا کے کنارے یہ صنعتی شہر اہمیت کا حامل تھا، دریا اسے اہم بحری راستہ بناتا تھا جو مغربی اور مشرقی روس کے بیچ میں رابطہ تھا۔ اسلحہ سازی اور آرٹلری کی صنعت کے علاوہ جنوب میں واقع آئل فیلڈ تک پہنچنے کا راستہ بھی۔

دوسری عالمی جنگ کے وسط میں، 1942 کے موسم بہار تک موجودہ یوکرائن اور بیلا روس جرمن قبضے میں تھے، جبکہ مغربی روس میں ماسکو سے تقریباً اڑھائی سو کلومیٹر دور جرمن پہنچ چکے تھے، اور گزشتہ دو سالوں سے ماسکو تسخیر کرنے کی کوشش میں تھے۔ اگرچہ ریڈ آرمی بھاری افرادی اور عسکری نقصانات اٹھا چکی تھی، لیکن مزاحمت جاری رکھے ہوئی تھی۔ جرمنوں نے آپریشن ٹائیفون (ماسکو میں داخل ہونے کی کوشش) کی جگہ جنوب پر حملے کی ٹھانی، تاکہ ریڈ آرمی کی سپلائی لائنز کاٹ کر اسے حتمی پسپائی پر مجبور کیا جا سکے۔ پھر شہر کا نام بھی اسٹالن گراڈ تھا، جس کی فتح مارشل اسٹالن کی سبکی، ہزیمت کا باعث ہوتی۔

1942ء کے موسم گرما میں جرمنوں نے جنوب کی طرف پیش رفت اور حملہ شروع کیا۔ یہ بتاتا چلوں کہ جرمنوں کے ساتھ اطالوی، رومانیہ، ہنگری اور کروشیا کی افواج بھی تھیں۔

Stalingrad

معرکہ اسٹالن گراڈ کو عالمی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد میں ٹینکوں کی شمولیت بھی کہا جاتا ہے، جن کی تعداد کے بارے میں مختلف ذرائع مختلف تعداد بتاتے ہیں۔ مغربی ذرائع، حملہ آور جرمن اور دیگر اقوام کے بارہ سو سے زائد ٹینک بتاتے ہیں، جبکہ سوویت ذرائع ریڈ آرمی کے لگ بھگ نو سو ٹینک بتاتے ہیں۔

جرمن افواج شہر کے اندر داخل ہو گئیں، اور مختلف جگہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں، اور پھر شہر کے اندر انتہائی قریب سے لڑائی شروع ہوئی، کسی بلڈنگ میں جرمن تو کسی میں ریڈ آرمی، شہریوں نے بھی شرکت کی۔ دو بدو جھڑپیں، ہاتھا پائی، چھریوں، چاقو، کلہاڑیوں کا استعمال۔ پھر عمارتوں کی اوپری منزلوں اور چھتوں پر موجود سنائپرز، دونوں اطراف کے۔

سوویت تخمینہ کے مطابق تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد جرمن اور ان کے اتحادی (axis forces) شہر اور گردونواح میں مارے گئے، نو سو سے زائد جنگی جہاز گرائے گئے اور تقریباً سارے ٹینک تباہ یا قبضے میں لے لیے گئے۔ ریڈ آرمی اور سوویت شہری آبادی کی ہلاکتیں بارہ لاکھ سے زائد ہیں۔

اسٹالن گراڈ ہر قیمت پر فتح کرنا، اور اتنی بڑی تعداد میں افراد اور ذرائع جھونک دینا اور پھر سب کھو دینا جرمنوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، ایک تو مغربی محاذ کمزور پڑ گیا، دوسرا ناقابل تسخیر جرمن فوج کی نفسیاتی برتری ختم ہو گئی، اور ریڈ آرمی نے پھر برلن کو جرمنوں کا اسٹالن گراڈ بنانے کی ٹھان لی۔

مغربی مورخین اعتراف کرتے ہیں کہ جس جرات، نظریاتی وابستگی، اور مرتے دم تک لڑائی جاری رکھنے کا مظاہرہ سوویت ریڈ آرمی اور شہریوں نے کیا، دیگر اتحادی برطانوی، فرانسیسی اور امریکی افواج نا کر پاتیں، اور معرکۂ اسٹالن گراڈ نے سوویت یونین، برطانیہ، امریکہ کو جیت دلوائی، فرانس اور دیگر یورپ کو آزاد کروایا۔

stalingrad
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر مسرور قاسم کی دیگر تحریریں