لاہور کے نواح میں موٹر وے پر بچوں کے سامنے خاتون سے اجتماعی زیادتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

گوجرانوالا سے تعلق رکھنے والی خاتون لاہور سے گوجرانوالا جارہی تھی، کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔

موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی اور موٹر وے پولیس بھی نہیں آئی۔
رشتے داروں کے پہنچنے سے پہلے ہی دو افراد نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزمان خاتون سے ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے زیورات اور اے ٹی ایم کارڈز بھی لے گئے۔

خاتون کے عزیز نے ایف آئی درج کروائی ہے جس میں لکھا ہے کہ انہیں خاتون نے اطلاع دی کہ ان کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا ہے اور گاڑی بند ہو گئی ہے جس پر انہوں نے خاتون کو موٹر وے ہیلپ لائن کال کرنے کا کہا اور اپنے دوست کے ساتھ وہ لوکیشن کی مدد سے چار بجے رات وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ گاڑی کی سائیڈ کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور دروازے پر خون کا نشان تھا اور گاڑی خالی تھی۔

انہوں نے تلاش کرنا شروع کیا تو خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ موٹر وے اور جنگل کے درمیان کچے راستے پر آتی دکھائی دی جنہوں نے بتایا کہ وہ پٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ دو افراد جن کی عمر تیس پینتیس برس کے قریب تھی پستول اور ڈنڈے سے مسلح آئے اور ڈرائیونگ سیٹ کا شیشہ توڑ کر انہیں اور بچوں کو باہر نکالا اور جنگل کی طرف لے جا کر باری باری زنا بالجبر کیا۔

اسی بارے میں

لاہور موٹروے ریپ: بارہ مشتبہ افراد گرفتار۔ ملزمان کے گاؤں کی نشاندہی ہو گئی
لاہور: موٹروے کے قریب خاتون کے ساتھ مبینہ ریپ، ڈکیتی، وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا نوٹس
 لاہور کے نواح میں موٹر وے پر بچوں کے سامنے خاتون سے اجتماعی زیادتی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •