یکساں نصاب انتخابی نعرے کے سوا کچھ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم کے مطابق 2021ء سے ملک کے تمام اسکولوں میں یکساں پرائمری نصاب نافذ ہو جائے گا اور اسکولوں میں پڑھانے کی زبان اردو یا مادری زبان ہو گی۔ اس اعلان پر تعلیمی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا۔

کاشف مرزا آل پاکستان پرائیویٹ اسکول فیڈریشن کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”ون نیشن ون کریکولم“ کی جو بات ہوئی ہے یہ ایک سہانا خواب یا الیکشن سلوگن کے طور پر استعمال ہونے والا نعرہ تو ہو سکتا ہے لیکن اس کا زمینی حقائق اور عملیت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تقریباً وہی پالیسی ہے جو 2006ء میں مشرف دور میں پیش کی گئی تھی۔ ’ون نیشن ون کریکولم‘ تو ویسے بھی ممکن نہیں کیونکہ پاکستان میں جو امرا طبقے کے اسکول، ’ایلیٹ اسکول‘ وہ تو ویسے بھی علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ پھر یہ سنگل نہیں ہو سکتا، یہ ڈبل ہو گیا۔ اگر باقی بنیادی تعلیمی اداروں کی بات کریں تو ہمارے یہاں مدارس ہیں، پبلک اسکول ہیں، پرائیویٹ اسکول ہیں۔ ان سب میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ ہو ہی نہیں سکتا۔”

کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ اس پالیسی پر بات کرنا حکومت کے لیے بہت ہی آسان تھا، اس پر نہ تو حکومت کی کوئی لاگت آئی نہ ہی اسے کچھ کرنا پڑا کیونکہ حکومت نے پرانے مسودے کو اٹھایا اسے نئی شکل دے کر اپنی معتبریت کو قائم رکھنے کے لیے ایک نعرے کے طور پر عوام کے سامنے پیش کر دیا۔

’جب تک نظام تعلیم یکساں نہ ہو تب تک نصاب کیسے یکساں ہو سکتا ہے؟” یہ سوال اٹھاتے ہوئے کاشف مرزا نے کہا، ”یکساں نظام لانا کٹھن عمل ہے، جس میں امیر اور غریب دونوں کے بچوں کو برابر مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ کیا پاکستان میں تمام پرائمری اسکولوں اور مدرسوں کے اساتذہ کے پاس یکساں تعلیم، تربیت اور اسکلز موجود ہیں؟ ہر گز نہیں۔“ کاشف مرزا کے بقول ہر دور میں حکومت کسی نا کسی مسودے کو از سر نو پیش کر کے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کرتی آئی ہے۔ ”حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کا جی ڈی پی 2 فیصد سے اوپر نہیں جا رہا۔ حکومت خرچنا نہیں چا رہی، اس قسم کی بیان بازی محض سیاسی نعرہ ہے۔“

کاشف مرزا نے ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ”پاکستان میں 18 ویں ترمیم موجود ہے۔ تمام صوبے اپنی اپنی پالیسیاں بنانے کے لیے خود مختار اور با اختیار ہیں۔“ ایسے میں حکومت ڈرائنگ روم کی میٹنگ کا کھیل عوام کو ایک اور سہانا خواب دکھانے اور بے وقوف بنانے کے لیے کھیل رہی ہے۔”

ادھر سندھ کی جامشورو یونیورسٹی کے وائس چانسلر فتح محمد برفت نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ حکومت پاکستان کے ’ون نیشن ون کریکولم‘ کے قانون کے نفاذ کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”پاکستان ایک کثیر الثقافتی اور کثیر اللثانی معاشرہ ہے۔ اس کے ہر صوبے کی زبان، ثقافت اور تہذیب دوسرے سے مختلف ہے۔ ہر صوبے کو اپنی زبان اور اپنی تہذیبی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے پرائمری اسکولوں کے نصاب کی تشکیل کی آزادی دی جانی چاہیے۔

“تاہم سوشل سائنٹسٹ ڈاکٹر فتح محمد برفت کہتے ہیں کہ اسلامیات کی تعلیم یکساں ہونی چاہیے۔ انہوں نے لیکن اس مضمون کو ”دینیات“ کا نام دینے کی تجویز پیش کی۔ ان کے بقول جس طرح 1977ء سے پہلے دینیات کی تعلیم دی جاتی تھی، وہی اب پھر نصاب میں شامل ہونی چاہیے۔ نیز سوشل اسٹڈیز، ایتھکس، سوکس یہ مضامین یکساں نصاب کے تحت پڑھائے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر فتح کا کہنا ہے، ”پرائمی سطح پر بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جانی چاہیے، یہ انٹر نیشنل لا بھی ہے کہ ہر انسان کو بنیادی تعلیم اپنی مادری زبان میں حاصل کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یکساں نصاب ہمیں دوبارہ سے ’ون یونٹ‘ کی طرف لے جائے گا۔ پاکستان مختلف پھولوں کا گل دستہ ہے۔ ہر گل کا رنگ اپنا ہے اور اسے برقرار رہنا چاہیے۔“

اس سوال کے جواب میں کہ کیا یکساں نصاب کا نفاذ ممکن ہے؟ ڈاکٹر فتح محمد برفت نے کہا کہ نہیں یہ نا ممکن ہے۔ یا تو قیام پاکستان کے وقت یعنی 1947ء میں ہی اسے نافذ ہو جانا چاہیے تھا، جو ہم وقت پر فیصلہ نہیں کر سکے۔ آج ستر برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اس بحث کی کوئی منطق نہیں۔ 71ء میں بنگلہ دیش کا واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ وہاں سب سے پہلی تحریک زبان کے ہی لیے شروع ہوئی تھی۔ ہمیں ماضی سے سبق لینا چاہیے۔ مزید مسائل پیدا کرنے سے بچنا چاہیے۔ یہ ملک ایک وفاق کی صورت وجود میں آیا تھاسب اکائیوں نے خود فیصلہ کیا تھا پاکستان میں شامل ہونے کا۔

سندھ کی جامشورو یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو میں اردو زبان کی اہمیت پر زور دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ جن بچوں کی مادری زبان اردو ہے انہیں پرائمری سطح سے ہی اردو میں تعلیم حاصل کرنے کا حق ملنا چاہیے اسی طرح جیسے کہ دیگر صوبوں میں بچوں کو اپنی اپنی مادری زبان کو پانچویں جماعت تک سیکھنے اور پڑھنے کا موقع دیا جائے اس کے بعد چھٹی جماعت سے اردو اور اس کے ساتھ ساتھ انگریزی کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ ”خاص طور سے سائنس کے مضامین پڑھانے کے لیے ہمیں ہر حال میں انگریزی کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ بہت سی اصطلاحات ابھی تک اردو زبان میں ترجمہ نہیں ہوئیں۔ یہ رابطے کی زبان ہے لیکن ٹیکنالوجی اور سائنس کی نہیں۔ قانون، میڈیکل سائنس، انجینیئرنگ یہاں تک سوشل سائنسز ہر مضمون کی معیاری کتابیں انگریزی میں ہیں۔ سندھی یا کوئی دوسری صوبائی یا علاقائی زبان اعلیٰ تعلیمی مدارج میں تدریس اور تحقیق میں کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی۔ خاص طور سے یونیورسٹی کی سطح پر انگریزی کو فرسٹ لینگویج ہونا چاہیے اس کے بعد اردو یا کوئی علاقائی زبان بطور سیکنڈ لینگویج رائج ہونی چاہیے۔“

کیا پاکستانی معاشرہ یکساں نصاب کے لیے موزوں ہے؟ وفاقی پارلیمان میں ہونے والی اس بحث اور اس کے بعد وزیر تعیلم کے اعلان کے تناظر میں اس وقت صحافی حلقوں میں بھی خاصا بحث مباحثہ جاری ہے۔ آج نیوز پشاور کی بیورو چیف فرزانہ علی نے اس بارے میں ڈوئچے ویلے کو اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہا، ”اگر ہم یکساں قومی نصاب کے ایجنڈے کے صرف پہلے حصے کو ہی لے لیں، جس میں آئندہ تعلیمی سال سے یکساں قومی نصاب ’نرسری اور پہلی سے پانچویں جماعت‘ تک کے لیے رائج کرنے کی بات کی گئی اور اس کے تحت پہلی سے پانچویں جماعت کے لازمی مضامین میں اردو، انگریزی، اسلامیات، جنرل نالج، ریاضی، جنرل سائنس اور معاشرتی علوم شامل ہیں جبکہ اقلیتوں کے لیے پہلی سے بارہویں جماعت تک اسلامیات کے مضمون کی جگہ ’دینی تعلیم‘ کا مضمون متعارف کرایا گیا ہے جس میں تمام مذاہب کا بنیادی تعارف اور تعلیمات موجود ہوں گی۔

ایک اور تبدیلی انگریزی کو مضمون کی بجائے زبان کے طور پر پڑھایا جانا ہے۔ اب انگریزی کو بطور زبان پڑھانے کا مطلب یہ کہ بچے کی ریڈنگ اور رائٹنگ کے ساتھ ساتھ اسپیکنگ پاور کا بھی امتحان لیا جائے گا۔ اب آپ ذہن میں قبائلی اضلاع اور خیبر پختون خوا کے اسکولوں اور اساتذہ کو لے کر آئیں اور بتائیں کہ اگر خود ان کے اندر جب یہ اسکلز نہیں ہیں تو وہ بچوں کو کیسے پڑھائیں گے یا پھر وہ ماحول آپ کیسے لائیں گے جو اس کی بہتری میں معاون ثابت ہو۔

اس لیے ہمارا کہنا ہے کہ یکساں قومی نصاب کا مطلب صرف کتاب نہیں بلکہ اس میں ماحول، معاشرت، زبان اور لباس سب اپنی اپنی جگہ کردار ادا کرتے ہیں اور اس سب کے لیے تدریسی حکمت عملی اور مہارت کی تشخیص کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے جو کیا جا رہا ہے اس کو قومی نصاب کہنا درست نہیں ہے۔ ہاں البتہ اسے تعلیمی پالیسی یا گائیڈ لائنز ’کہا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان جیسا ملک جہاں مختلف مذاہب، نسلوں، زبانوں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہوں وہاں یکساں قومی نصاب رائج کرنا بہت پیچیدہ عمل ہے کیونکہ اس سے قبل ماحول کو اس کے مطابق سازگار کرنا ہو گا جو ابھی نہیں ہے اور اس کے لیے طویل عرصہ اور وسائل درکار ہیں۔“

بشکریہ ڈی ڈبلیو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشور مصطفیٰ

یہ مضامین ڈوئچے ویلے شعبہ اردو کی سیینیئر ایڈیٹر کشور مصطفی کی تحریر ہیں اور ڈوئچے ویلے کے تعاون سے ہم مضمون شائع کر رہے ہیں۔

kishwar-mustafa has 45 posts and counting.See all posts by kishwar-mustafa