ایک فکرمند دانشور کی کلبلاتی ڈائری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشرہ کس قدر خراب ہو چکا ہے۔ کسی کو کسی کی بھی فکر نہیں، اور یہی فکر مجھے دن رات ستائے رکھتی ہے۔ میں جب پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس بچوں کو کوڑا کرکٹ اٹھاتا دیکھتا ہوں تو مجھ سخت کوفت ہوتی ہے۔ مجھے ان کے والدین پر انتہا کا غصہ آتا ہے۔ معاشرے میں ہوتی ناانصافیاں دیکھ کر میرا خون کھولنے لگتا ہے۔ میں دن رات سوچتا ہوں اور اپنی سوچ کو لکھ لکھ کر سب ٹھیک کر دینا چاہتا ہوں۔ میں اپنے دائیں بائیں دیکھتا ہوں تو مجھے ہر سمت جہالت ہی جہالت نظر آتی ہے۔

اخبار پڑھتا ہوں تو سیاسی بیانات اور کالم نگاروں کی باتیں مجھے مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہیں۔ روزانہ سڑک پر چلتے وقت راستے میں پڑے کنکر، پتھر وغیرہ دیکھ کر میں صفائی پر مامور عملے کو دو تین گالیاں دینا نہیں بھولتا۔ مجھے ہر انسان خود غرض نظر آتا ہے۔ کوئی کسی کی اصلاح نہیں کرنا چاہتا، کوئی کسی کی مدد کرنا نہیں چاہتا، اور میں یہ سب سوچ سوچ کر ہلکان ہو جاتا ہوں۔۔۔ جس کے بعد میں پھر لکھنے لگتا ہوں۔۔۔ اور دن رات لکھتا چلا جاتا ہو۔

کوئی چلتا راہ گیر چلتا ہوا اگر میرے قیرب آ کر مجھ سے کسی مدد کا تقاضا کر دے تو مجھے اس کا ایسا رویہ دیکھ کر سخت نفرت ہوتی ہے۔ کیونکہ میںری دانش میں موجود ہے کہ لوگوں نے لوٹنے کے کیا کیا طریقے سیکھ رکھے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میں احمقوں کے شہر اور بے وقوفوں کے ملک میں رہتا ہوں۔۔۔ جس کی وجہ سے میری تیوری ہر وقت چڑھی رہتی ہے۔ کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ آسانی سے مجھ سے بات کر سکے۔ کیونکہ مجھے لوگوں کو ان کی اوقات میں رکھنا اچھے سے آتا ہے۔ میری دانشمندانہ تحاریر کو لوگ شوق سے پڑھتے ہیں جو میں انہی کی جہالت دور کرنے کے لیے لکھتا ہوں۔ میں ایک مفکر ہوں، دانش ور ہوں، اپنی عقل و دانش سے لوگوں کی اصلاح کرنے والا ہوں۔۔۔ میرے لکھے الفاظ قدر و قیمت میں انمول ہو جاتے ہیں۔

ایک روز ایک لمبے سفر پر جاتے ہوئے ایک انجان اور ویران قسم کی مین روڈ پر عین اس وقت جب مجھے شدید بھوک لگ رہی تھی اور میری نظریں مسلسل کسی ریسٹورنٹ کی تلاش میں ناکام تھیں، چلتے چلتے میری گاڑی اچانک رک کر بند ہو گئی۔ میں شدید پریشانی کے ساتھ باہر نکلا اور کسی بھی طرح ہمت کر کے گاڑی کو مین سڑک سے کچھ سائیڈ پر لگایا۔ پھر جیب سے فون نکال کر کار مکینکل سروسز دینے والی کمپنی کو کال کی۔ گاڑی کے چیک اور ٹھیک ہونے میں کچھ وقت تو لگنا تھا جبکہ میرے پیٹ میں سخت بھوک کے مروڑ اٹھ رہے تھے۔

میں نے اپنے چاروں اطراف غور سے دیکھا تو سامنے کی ڈبل سڑک کے اس پار چند مکانات کے ساتھ کچھ خستہ حال سی دکانیں اور دو ایک کھوکھے دکھائی دہے۔ جب ان کے قریب پہنچا تو انہی کے ساتھ مجھے ایک ڈھابا نما ہوٹل بھی مل گیا۔ گو کہ وہ ڈھابہ اس قابل تو نہیں تھا کہ میں وہاں کھانا کھاتا مگر بھوک کے ہاتھوں مجبور قدم خود بخود اس کی جانب بڑھ گئے۔ لکڑی کے خستہ سے بینچ پر کچھ مزدور قسم کے لوگ تندوری روٹیوں کے ساتھ چنے اور ساتھ کچھ اور سالن بھی کھانے میں مصروف تھے۔

مجھے کوفت تو ہوئی مگر بادل نخواستہ مجھے انہی کے قریب بیٹھنا پڑا۔ وہ لوگ کھانے کے ساتھ ساتھ آپس میں خوش گپیوں میں بھی مصروف تھے۔ دکاندار خود بھی ان کے ساتھ بے تکلفانہ انداز میں انتہائی بے مقصد باتیں کر رہا تھا۔ وہ لوگ ایک دوسرے کو کبھی جاہلانہ طرز کا کوئی بیہودہ لطیفہ سنا کر ہنسنے لگتے تو کبھی ایک دوسرے کو مذاق کر کے۔

”کیسے بے وقوف لوگ ہیں۔ نہ انہیں کوئی ملکی حالات کی فکر ہے اور نہ ہی اپنی حالت کی۔ یہاں بیٹھے صرف ڈنگروں کی طرح کھانا کھا رہے ہیں اور کس قدر فضول اور بے معنی گفتگو کر رہے ہیں۔ جانے اس ملک سے جہالت کب ختم ہوگی۔۔۔ اور کب لوگوں میں علمی شعور اجاگر ہو گا“

میں ان کی جہالت اور ملک کے ایسے حالات پر اندر ہی اندر کڑھ رہا تھا۔
”وڈے پائین کی خدمت کریے تواڈی؟ مطلب کی کھانا پینا پسند کرو گے تسی سرکار؟“
دکاندار نے چنوں میں پھیرنے کے بعد پتیلے کے کنارے پر چمچہ مارتے ہوئے مجھ سے پوچھا
”جو بھی چیز اچھی پکائی ہے بس وہ لے آو“ میں نے ماتھے پر بل ڈال کر جواب دیا۔

اس نے ایک پیالہ نما سی پلیٹ میں چنوں کے ساتھ ایک ابلا انڈا ڈالا اور دو عدد تندوری روٹیوں کے ساتھ اسے میرے آگے رکھ دیا۔ مجھے برتن دیکھ کر بھی ناگواری ہوئی مگر بھوک کے سبب میرا ہاتھ خودبخود سالن اور روٹی کی جانب بڑھ گیا اور میں پورا سالن اور روٹیاں چٹ کر گیا۔

کھانا کھا لینے کے بعد میں پیسے دینے جب دکاندار کے قریب گیا تو از روئے اصلاح اور ساتھ اپنا دانشورانہ قد کاٹھ دکھانے کے لیے میں نے اس سے پوچھا

”ملکی حالات اتنے خراب ہیں، لوگ مہنگائی، بے روزگاری کے ہاتھوں پریشان ہیں، اور ساتھ جرائم ہیں کہ کس قدر بڑھ چکے ہیں، تعلیم کا فقدان ہے، ان حالات میں کیا تمہیں نہیں لگتا کہ تم لوگ جو یہاں فضول قسم کی گفتگو میں اپنا وقت برباد کرتے ہو، تمہیں اس کی جگہ بامقصد، منطقی اور اصلاحی گفتگو کرنی چاہیے تاکہ معاشرے کی بہتری اور ارتقا میں تمہارا بھی کچھ حصہ شامل ہو سکے؟“

”صاب جی اینے اوکھے لفظاں دی تے مینوں سمجھ نہیں ۔۔۔ پر اے دسو کہ وڈیاں گلاں کرن نال اینا مزدوراں تے باقی کم کرن والیاں نوں کی فیدہ ہوئے گا؟“

میری توقع کے عین مطابق اس جاہل کو میری بات بالکل سمجھ نہیں آئی تھی۔ لیکن میں بھی اب اسے مزید کچھ سمجھانا نہیں چاہتا تھا۔

”چھوڑو اس بات کو، بتاؤ کتنے پیسے ہوئے؟“ میں نے سر جھٹک کر پوچھا
”چالیس روپے صاب جی“
”چالیسس روپے؟ مطلب اتنے کم پیسے۔۔۔ کیوں؟“ میں نے حیرانی سے پوچھا

”صاب جی مرشداں دا آڈر اے کہ ساری دی ساری خیر لوکاں دی خدمت وچ اے۔۔۔ تاں کر کے میں ناں ہون دے بربر منافع رکھ کے سالن روٹی ویچنا آں۔ اے لوگ وی ہسدے ہسدے آوندے نے۔۔۔ تے خوشی خوشی کھا پی کے چلے جاوندے نے۔۔۔ میرے گھر دا چولہا وی بلدا ریندا وے تے مرشد ہوری وی راضی رہندے نے۔ جد سارے راضی نے تے اللہ سوہنا وی ضرور راضی ہووے گا“

”عجیب جاہل انسان ہے۔۔۔ اتنی کم کمائی پر اس کے گھر والے اس احمق شخص سے کتنے تنگ رہتے ہوں گے؟ مگر اس بے وقوف میں اتنی عقل کہاں جو ایسی سادہ بات کو بھی سمجھ سکے۔۔۔ کچھ نہیں ہو سکتا ان لوگوں کا“

میں نے چالیس روپے دیتے وقت چشم تصور میں اس کے بدحال گھر والوں کو دیکھا اور اس احمق شخص کی بے حسی اور بدحالی پر اپنی تحریر کا ایک نیا موضوع لے کر وہاں سے چل پڑا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد اویس حیدر کی دیگر تحریریں