ایک فکرمند دانشور کی کلبلاتی ڈائری

معاشرہ کس قدر خراب ہو چکا ہے۔ کسی کو کسی کی بھی فکر نہیں، اور یہی فکر مجھے دن رات ستائے رکھتی ہے۔ میں جب پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس بچوں کو کوڑا کرکٹ اٹھاتا دیکھتا ہوں تو مجھ سخت کوفت ہوتی ہے۔ مجھے ان کے والدین پر انتہا کا غصہ آتا ہے۔ معاشرے میں ہوتی ناانصافیاں دیکھ کر میرا خون کھولنے لگتا ہے۔ میں دن رات سوچتا ہوں اور اپنی سوچ کو لکھ لکھ کر سب ٹھیک کر دینا

Read more

بیوقوف چوزہ

ٹک ٹک ٹک ٹک۔ ۔ ۔ سگنل پر کھڑی گاڑی کے دروازے کے شیشے پر پلاسٹک کا ایک چوزہ تیزی سے اپنی چونچ مار رہا تھا۔ جبکہ اسی گاڑی کے اندر بیٹھا خوش لباس و خوش شکل بچہ چوزے کو حیرت سے دیکھتا ہوا اسے بند شیشے میں سے ہی پکڑنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ گاڑی کے باہر چوزہ پکڑے کھڑے میلے ہاتھوں والے بچے کے بال بکھرے ہوئے اور چہرہ پسینے سے شرابور تھا جو اس کے

Read more

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

اپنی شہری زندگی کو تیاگ کر ایک درویش نے آبادی سے کوسوں دور ایک جنگل کی راہ لی اور پھر اسی کو اپنا مسکن بناتے ہوئے اپنی باقی زندگی کو فقط ذکر خدا کی نذر کر دیا۔ کچھ دن گزرے تھے کہ ایک روز ایک گوشت خور جنگلی آدمی اس انسان کی بو سونگھتا ادھر کو آ نکلا اور اپنے شکار پر گھات لگائے دور سے اسے دیکھنے لگا۔ ذکر خداوندی میں مشغول وہ درویش انسان پیکر نورانی محسوس ہوتا

Read more