ایک فکرمند دانشور کی کلبلاتی ڈائری
معاشرہ کس قدر خراب ہو چکا ہے۔ کسی کو کسی کی بھی فکر نہیں، اور یہی فکر مجھے دن رات ستائے رکھتی ہے۔ میں جب پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس بچوں کو کوڑا کرکٹ اٹھاتا دیکھتا ہوں تو مجھ سخت کوفت ہوتی ہے۔ مجھے ان کے والدین پر انتہا کا غصہ آتا ہے۔ معاشرے میں ہوتی ناانصافیاں دیکھ کر میرا خون کھولنے لگتا ہے۔ میں دن رات سوچتا ہوں اور اپنی سوچ کو لکھ لکھ کر سب ٹھیک کر دینا
Read more
