کسی کا کیا بگڑ جاتا، میرا لاہور ہو جاتا


\"wajahat1\"یہ تو طے ہے کہ ذرائع ابلاغ میں کچھ محترم دوستوں کے لئے نومبر کا آخری ہفتہ خوشگوار نہیں رہا۔ لمحہ موجود کی ناکامی میں ایک اضافی چبھن یہ ہے کہ نظریہ ضرورت، مداخلت اور بد اندیشی کا لشکر قدم بقدم پیچھے ہٹتا ہوا گوادر کے گہرے ساحلوں تک مراجعت کر گیا ہے۔ پیچھے گہرا سمندر ہے۔ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا، کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے / فقیہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی۔ یہ مناسب وقت ہے کہ مایوسی، تکان اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونے والے ان خواتین و حضرات کو قومی مفاہمت کے جذبے کے تحت تجویز دی جائے کہ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ اسے آئین کے مطابق چلنا چاہئے۔ ہمیں آپ کی نابغہ روزگار ذہانت پر کوئی شک نہیں لیکن حتمی تجزیہ میں جمہوریت اجتماعی فراست پر اعتماد کرنے کا نام ہے۔ جس خیال کا وقت گزر چکا ہو، اس کے نام پر لشکر آرائی کرنا بے معنی قرار پاتا ہے۔ اس ملک کے میدان، کھیت، کھلیان، گلیاں اور درسگاہیں آپ کے انتظار میں ہیں۔ آئیے اور پورے احترام کے ساتھ اس پاکستان میں شریک ہو جائیں جو آئین کے سائبان تلے سفر کرتا ہو۔ جہاں اداروں کا کردار متعین ہو، جہاں عوام کی معاشی بہتری، رواداری اور انصاف جیسے نصب العین ہمارے درمیان تعاون کے مشترک خطوط ہوں۔ بدعنوانی کو کیسے ختم کرنا ہے، نااہلی کی بجائے اہلیت کو کیسے اصول قرار دینا ہے۔ اس پر باہم اعتماد کے جذبے سے بحث کرنے چاہیے۔ ہمہ وقت مخالف کو بکاؤ مال، بھاڑے کا ٹٹو، اود بلاؤ اور لگڑ بگا قرار دینا دانشمندی نہیں۔ دیانت کے شفاف پیالے میں آلودگی سے پاک صاف پانی پینا ہم سب کی خواہش ہے۔ ہماری جمہوری ثقافت میں بہت سے رخنے ہیں، ہماری معاشرت میں بہت سے بدنما زاویے ہیں۔ دلوں میں رفو کا بہت کام باقی ہے۔ یہ معجزہ کسی مسیحا کے بس میں ہوتا تو بہت پہلے رونما ہو چکا ہوتا۔ سیاست میں مسیحا کی تلاش ایسے ہی لاحاصل ہے جیسے لوہے کو سونا بنانے کی جستجو۔ درست طریقہ یہ ہے کہ لوہے پر محنت کا ایسا عمل کیا جائے کہ منڈی میں لوہا سونے کے بھاؤ سے بھی زیادہ قدر پائے۔ اس کے لئے ہنگامے، بحران اور المیے کی بجائے معمول کے ضابطے، علم، پیداوار اور امن کی طرف لوٹنا ہو گا۔

ہمارے ملک میں اوسط عمر اکیس برس سے کچھ زیادہ ہے۔ دنیا کی اس نوجوان ترین قوم میں آبادی کے پھیلاؤ کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ یہ نوجوان آبادی ہمارا اثاثہ بھی ہے اور ہمارا چیلنج بھی۔ ہم اس نسل کو تعلیم دینے میں کامیاب ہوگئے تو کون ہے جو بیس کروڑ کی قوم کو اپنا جائز مقام لینے سے روک سکے۔ اور اگر تعلیم کو نیم مجرمانہ غفلت، سازش اور بے بنیاد مفروضات کی لہروں پر چھوڑ دینا ہے تو ناخواندہ آبادی کا بوجھ سنبھالنے کے لئے تیل، کوئلے، سونے اور فولاد کے ذخیرے بھی ناکافی ہوں گے۔ سیاسی بندوبست جمہوری تسلسل کا تقاضا کرتا ہے۔ کوئی حکومت مثالی نہیں ہوتی۔ کوئی رہنما غلطیوں سے ماورا نہیں ہوتا۔ قوم میں یہ اعتماد پیدا کرنا چاہئے کہ انتخابی جوابدہی کے ذریعے سیاسی قیادت کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی حکومت عوامی توقعات پوری نہیں کرتی تو اسے ووٹ کے ذریعہ گھر بھیجا جاسکتا ہے۔چند برس قبل نئی دہلی سے خبر آئی کہ فوج کے کچھ یونٹس نے حکومت کو مطلع کیے بغیر نقل و حرکت کی ہے۔ اس پر فوراً تحقیق کی گئی اور معاملہ صاف ہو گیا۔ تصور کیجئے کہ اگر پاکستان میں یہ صورت حال پیش آئی ہوتی تو شاہد مسعود، مبشر لقمان، ڈاکٹر دانش اور کاشف عباسی کی آوازوں میں دیوالی کے کیسے چراغ جل اٹھتے۔ اوریا مقبول جان نے جہلم کے کسی گمنام درویش کا حوالہ دے کر جنوری 2012 کی تاریخی اہمیت واضح کی ہوتی۔ ہارون الرشید فوراً استخارے میں چلے جاتے اور اپنی سجدہ نشینی کی سلفیاں سوشل میڈیا پر ارسال کرتے۔ اطلاع آتی کہ محترم شیخ رشید نے فیصل رضا عابدی سے رابطہ کیا ہے۔ ذوالفقار مرزا کی قیام گاہ پر سیاسی قیادت کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ طاہر القادری نے وطن آنے سے قبل آخری غسل کا اعلان کر دیا۔ بھارت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس لئے کہ وہاں 26 جنوری 1950 کے بعد سے آئین کا تسلسل موجود ہے اور پوری قوم اس عمل پر اعتماد رکھتی ہے۔ ادھر ہم زلزلہ بتانے والی سوئی کی طرح ہمہ وقت لرزتے رہتے ہیں۔ ہماری امید سازش پر قائم ہے اور ہم نے سانحے کو ہدف قرار دے رکھا ہے۔ سمجھنا چاہیے کہ 2016 کے پاکستان میں تین بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ 14 مئی 2006 کو پاکستان کی وقیع سیاسی قیادت نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے اور عہد کیا کہ آئندہ غیر آئینی مداخلت کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ 1993 میں بے نظیر بھٹو اور 1996 میں نواز شریف سے اس بالغ نظری کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ دوسرا اہم مرحلہ تب طے ہوا جب عدالت عظمیٰ نے جولائی 2009 میں نظریہ ضرورت کو دفن کرنے کا اعلان کیا۔ اب تیسری منزل یہ ہے کہ افواج پاکستان کی قیادت تبدیل ہونے میں قاعدے اور ضابطہ کی روایت قائم ہو رہی ہے۔ مناسب ہو گا کہ میڈیا بھی قوم کی تعمیر میں اپنا حقیقی منصب دریافت کرے۔ اپنی نامبارک امیدوں کی ناکامی پر شام غم منانے کے لئے فیض صاحب کی نظموں کو سیاق و سباق سے الگ کرنے کا ظلم نہ کیا جائے۔ آپ کی حسرتوں کا بیان تو چراغ حسن حسرت نے اس پیروڈی میں کر دیا تھا

جو امرتسر سے اپنے، مجھ کو حصہ آپ دے دیتے

کسی کا کیا بگڑ جاتا، میرا لاہور ہو جاتا

شائی لاک اپنے لئے گوشت کا ایک پاؤنڈ مانگتا تھا۔ اس میں اڑچن یہ تھی کہ انٹونیو کے سینے سے لہو بہتا تھا۔ بظاہر آپ بھی امرتسر سے اپنا حصہ مانگتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ آپ کی مان لیں تو اندھیرا لاہور پر اترتا ہے۔ آیئے آپ کو مختار صدیقی کی نظم \”ایمن کا ایک اور روپ\” سے ایک بند سناتے ہیں۔ امید سے بھری ان سطروں میں شاعر نے دریا کے کنارے نیا باندھنے کا جو تقاضا کیا تھا، اسے 13 نومبر 2016 کی صبح گوادر کے ساحلوں پر تعبیر دی جاچکی ہے۔

پیا آنے کو ہیں شمعیں کرو روشن، سکھی اٹھو میرے گہنے لاؤ

موتیوں سے مرے جوڑے کو سجاؤ، نئی راتیں ہیں، نرالا چاؤ

بدھیاں بیلے کی زرتار سکھی ساتھ مرے گندھواؤ

مانگ صندل سے بھرو، آؤ پنہاؤ گجرے

اے سکھی آؤ پنہاؤ گجرے!

نیا باندھو رے سجن اب تو کنار دریا

باندھو کنار دریا!

Facebook Comments HS