لبرل غدار ہیں اور جماعت اسلامی لبرل ہے: امیران جماعت


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

امیر جماعت اسلامی، جناب سید سراج الحق شاہ صاحب، ہر امیر جماعت کی طرح ہمارے پسندیدہ سیاست دان ہیں۔ گذرے وقتوں میں پیر پگارا مرحوم ہوا کرتے تھے جو کہ اہم ملکی مسائل پر مزاحیہ انداز میں بیان دے کر حق بیان کرتے تھے اور قوم ان بیانات پر مدتوں ہنستی رہتی تھی۔ امیران جماعت مکمل سنجیدگی سے ایسے بیانات دیتے ہیں۔

اب کراچی کے جلسے میں امیر الصالحین نے فرمایا ہے کہ ’جو لوگ ملک کو لبرل اور سیکولر بنانا چاہتے ہیں وہ آئین سے غداری کر رہے ہیں‘۔ خبروں کے مطابق انہوں نے کراچی میں اپنے سامنے موجود عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو دیکھتے ہوئے فرمایا کہ ’کراچی میں ہزاروں ٹن کچرا موجود ہے‘۔

ایک مرتبہ ہم نے آئین کا مطالعہ کیا تھا۔ اس میں ملک سے غداری کے متعلق ہی ایک شق موجود ہے جو کہ آئین معطل وغیرہ کرنے کے بارے میں ہے، اس کے علاوہ آئین پاکستان میں غداری کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اب یہ آئین سے غداری کیسے کی جا سکتی ہے، اس پر صالحین ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔ کیا آئین میں تبدیلی کرنا غداری ہے؟ اس صورت میں وطن عزیز میں سنہ 73 کے بعد سے ہونے والی 24 کے قریب غداریوں میں صالحین بھی شامل رہے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ امیر الصالحین کا اشارہ پاکستان کے آئین کی بجائے جماعت کے اپنے آئین سے غداری کی طرف ہو۔ بہرحال معاملہ پیچیدہ ہے۔

\"shirin-mizari-dance\"

یہ تو طے ہوا کہ لبرل غدار ہیں۔ لیکن یہ لبرل کون لوگ ہیں؟ ممکن ہے کہ لبرل ازم سے امیر الصالحین کی مراد عورتوں کا گھر سے نکل کر جلسے جلوسوں میں شامل ہونا ہو اور وہ اپنی حکومتی اتحادی تحریک انصاف کی روش پر تنقیدہ کر رہے ہوں جس میں محترمہ شیریں مزاری جیسی گیسو بریدہ بے پردہ خواتین جلسوں میں شرکت کرتی ہوں اور سٹیج پر رقص بھی کرتی ہوں۔ سید مودودی بارہا لکھ چکے ہیں کہ خواتین کا سیاست میں حصہ لینا غیر اسلامی ہے۔ یہ بہت اچھا ہوا ہے کہ جماعت اسلامی کے اس سیاسی جلسے میں شامل ہزاروں خواتین کو امیر الصالحین نے اس غیر اسلامی کام اور لبرل ازم کے فتنے سے بروقت آگاہ کر دیا۔ امید ہے کہ وہ جماعت کی رکن پارلیمان محترمہ عائشہ بی بی کو بھی یہ اہم بات بتا دیں گے تاکہ وہ بھی لبرل ازم سے ہوشیار ہو جائیں اور پارلیمان سے نکل جائیں۔

\"siraj-ul-haq2\"

ممکن ہے کہ امیر الصالحین کا اشارہ پرانی لبرل جماعت پیپلز پارٹی یا نئی لبرل پارٹی مسلم لیگ نواز کی جانب ہو۔ پیپلز پارٹی تو خیر پہلے ہی لبرل مشہور تھی، اب تو نواز شریف بھی لبرل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وطن عزیز کی خوشحالی اور ترقی کا راستہ صرف لبرل ہونے میں ہی ہے۔ ممکن ہے کہ امیر الصالحین ان سے شدید خفا ہو کر ان کو آئین پاکستان کا غدار قرار دے رہے ہوں گے۔ اس معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

بہرحال ہماری رائے میں تو امیر الصالحین کے حکم کے بعد اب یہ بات تو طے شدہ معاملہ ہے کہ لبرل افراد اور جماعتیں آئین پاکستان کی غدار ہیں اور اس طے شدہ معاملے پر مزید بحث کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔

اب ہم کراچی کا جلسہ چھوڑ کر سابق امیر جماعت اسلامی سندھ جناب اسد اللہ بھٹو کے جلسے کی کوریج کرتے ہیں۔

سابق امیر جماعت اسلامی سندھ حالیہ مرکزی نائب امیر جناب اسد اللہ بھٹو صاحب نے فرمایا ہے کہ ’اب جہاں پر سارے خواتین اور مرد جمع ہوں گے، ہم دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی ایک اسلامی، جمہوری اور لبرل جماعت ہے، جو مرد و خواتین کو لے کر کے ساتھ چلنا چاہتی ہے‘ (بعینہ اقتباس)۔

صالحین کے ایک امیر نے غداری کے جرم کی وضاحت کر دی، اور دوجے نے اقبال جرم کر لیا۔

https://youtu.be/iO2RPWLC-DY

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “لبرل غدار ہیں اور جماعت اسلامی لبرل ہے: امیران جماعت

  • 29/11/2016 at 12:13 صبح
    Permalink

    بہت خوب عدنان کاکڑ صاحب،لگتا ہے آپ کی فکری لاٹری نکل آئی ہے، گزشتہ روز تک آپ صرف علما کے حق میں تحریر لکھ رہے تھے آج آپ کو فکری جماعت بھی مل گئی ، اسلامی لفظ کی جو آپ کو چڑ ہے اسے نظر انداز کرکے جمہوری اور لبرل جماعت اسلامی کا حصہ بن جائیں۔ پی پی ، ن لیگ، تحریک انصاف اور اب جماعت اسلامی بھی لبرل جماعت ہوگئی ہے۔ تو کیوں کہ لڈی پائی جائے؟۔

    جس آئین کو معطل کرنا غداری ہے اس کا درست مطالعہ پھر آپ سے رہ گیا، جناب من اس میں ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان درج ہے، اس میں حاکمیت اعلیٰ اللہ رب العزت کے سپرد ہے، اس میں اسلامی قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گی ہے، (جس کی راہ میں سیکولر عناصر بڑی رکاوٹ ہیں جو ملک بھی لوٹ گئے ہیں)۔
    اب اس دستور میں لکھا ہوتا کہ ملک عوامی جمہوریہ ہے تو کیا آپ کا اصرار اس کے لبرل و سیکولر دفعات پر عملی اقدام کا نہ ہوتا؟ لیکن کیا ملک بھی اسلامی ہے اس کی دفعات بھی اسلامی ہیں، اس کے برخلاف لبرل اور سیکولر ازم کے عملی نفاذ پر اصرار یقنینا غداری ہی قرار پائے گا، کیونکہ آمر تو اپنی دانست میں آئین وقتی طور پر معطل کرتا ہے مگر سیکولر اسلامی ملک کے اسلامی آئین ( اگر آپ کہتے کہ نہیں جی ایسا نہیں ہے تو پھر سوچ لیں کہ آپ طالبان کے حامی قرار پائیں گے کیونکہ وہ بھی پاکستان کے آئین کو اسلامی نہیں مانتے) کو آمر کے ہاتھ مضبوط کرکے کئی برس سے عملی طور پر معطل کربیٹھے ہیں، تو ان پر غداری کا الزام اتنا برا بھی نہیں ویسے بھی ایسی چیزیں لبرل اور سیکولرز کے لئے تمغہ اعزازی ہیں۔
    تیسری بات اسد اللہ بھٹو امیر جماعت اسلامی سندھ نہیں ہیں، معراج الہدیٰ صدیقی امیر صوبہ ہیں، تحقیق پر اتنا اصرار کرنے والے سیکولرلوگوں کو کم از کم جماعت اسلامی کی ویب سائٹ ہی وزٹ کرلینی چاہیے تھی ۔ برا لگا ہو تو فیل ضرور کریں۔

Comments are closed.