عوام کی سوچ بدلنے لگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے کچھ حکومتی اقدامات نظر آنے لگے ہیں عوام کے ذہنوں میں جو حکومت مخالف ایک طوفان برپا تھا اس کی شدت میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

دوبرس کے اندر بلاشبہ حکومت نے عوام کو تارے دکھائےہیں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ہوں یا انتظامی معاملات ان سب کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں بے چینی کی لہر ابھر کر بلند ہوتی گئی مگر اہل اقتدار کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ان کے ماتحت اداروں نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ لئے اور اس بات کے منتظر دکھائی دیے کہ حکومت کب گرتی ہے۔ اگرچہ اب بھی وہ یہی آس لگائے بیٹھے ہیں مگر دائیں بائیں سے جو تاثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں ان سے وہ تھوڑا تذبذب کا شکار بھی ہوگئے ہیں کہ ایک طرف کامنظر حکومت کے جانے کا ہے تو دوسری جانب اس کے ٹھہرنے کا نظر آ رہا ہے۔ انہیں اس پہلو کو سامنے رکھنا چاہیے کہ موجودہ حالات میں حکومت کا جاناقطعی ملکی مفاد میں نہیں۔ مانا کہ اس میں نا اہل لوگ بھی شریک سفر ہیں مگر اس میں عمران خان قصور وار نہیں قصور وار وہ نگاہیں ہیں جنہیں پہچاننے میں غلطی ہوئی کہ یہ لوگ اوپر سے کچھ تھے اندر سے کچھ اور؟

لہذا اب حکومت بھگت رہی ہے کیونکہ ان لوگوں نے گویا اندھیر مچا رکھا ہے اور جب ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے تو بچھڑنے کی دھمکی دے ڈالتے ہیں پچھلے دوبرسوں میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا ہوتا رہا ہے۔ عمران خان کو مجبوراًخاموشی اختیار کرنا پڑی ہے کہ کہیں وہ اکیلے ہی نہ رہ جائیں مگر عوام میں غم و غصہ کے سائکلون اٹھنا شروع ہو گئے کہ انہیں تو تبدیلی کے لئے ووٹ دیے گئے تھے اس نظام کو بدلنے کے لئے اگے لایاگیا تھا مگر وہ خود روایتی ڈگر پر چل نکلے جس سے ان کی زندگیاں بے کیف ہو گئیں مگر ہم یہاں یہ بھی عرض کر دیں کہ وطن عزیز کو ماضی میں برا طرح سے لوٹا گیاہے سیاستدان ہوں یا کوئی اور با اختیار سبھی نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ملکی معیشت چلانے کے لئے قرضوں کے انبار لگ گئے ان کی واپسی مشکل ہو گئی۔

دوسری طرف آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کی شرائط کہ یہ نہ کرو وہ نہ کرو کی گردان کانوں میں گھستی چلی گئی پھر یہ بھی خوف جنم لینے لگا کہ اگر ان کی شرطیں نہ مانیں اور ان کی قسطیں ادا نہ کیں تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا اس صورت میں عوامی فلاح کے لئے کیا ہو سکتا تھا لہذا طوعاً وکرہاً حکومت کو ٹیکسوں کا سہارا لینا پڑا مگر اب جب وہ اصلاحات کے قابل ہوئی ہے اور لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کی پوزیشن میں آئی ہے تو ان کے ذہن کچھ بدل رہے ہیں۔

پچھلے ماہ سے نوکریوں کی ٹوکریاں دکھائی دے رہی ہیں وفاقی محکمے ہوں یا صوبائی ان تمام میں روزگار کے در وا کر دیے گئے ہیں جو سرکاری ملازمتیں نہیں حاصل کر پائیں گے ان کو آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو سکیں۔ اسی طرح سرکاری و غیر سرکاری ملازمین اور کاروباری حضرات کے لئے بھی قرضوں کے حصول کو سہل بنا دیا گیا ہے خوش ائند بات یہ ہے کہ یہ بلا سود ہیں اور کروڑہا لئے جا سکتے ہیں اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کسی کو یقین نہ آئے تو بینکوں سے تصدیق کی جاسکتی ہے۔

گندم کی درآمد سے آٹے کا بحران ختم ہونے جا رہا ہے لہذا آٹا چینی مافیا پریشان ہو گیا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو مافیا حکومت میں موجود ہے اسے تو وہ خود کنٹرول کر سکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ اس کہ لئے کوئی خطرہ بن سکتا ہے تو یہ درست نہیں۔ اب صورت حال بدل چکی ہے۔ عمران خان سے کسی کو کوئی شکوہ نہیں کیونکہ وہ عوامی آدمی ہیں ان کی فلاح چاہتے ہیں ثبوت کے طور سے نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم ہسپتال پیش کیے جا سکتے ہیں اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ان سے خطائیں سر زد نہیں ہو سکتیں ہوئی بھی ہیں اور ہوبھی رہی ہیں کہ انہوں نے فصلی بٹیروں کے کہنے پراپنے کارکنوں کو کھڈے لائن لگا دیا ہے جبکہ انہوں نے احتجاجوں ’مظاہروں اور جلسوں میں بھرپور شرکت کی جس کے نتیجے میں ان کے کاروبا تباہ ہوگئےمگر افسوس آج وہ فاصلے پر کھڑے نظر آتے ہیں وزیر اعظم ان سے ایک لمحے کے لئے ملنا بھی گوارا نہیں کرتے۔

ان کو اشرافیہ نے گھیرا ڈالا ہوا ہے جو موجودہ نظام کو جوں کا توں رکھنا چاہتی ہے اس کے نزدیک اگر غریب کارکنوں کو اختیارات مل گئے تو وہ اسے پس پشت ڈال دیں گے لہذا ان کی پوری کوشش ہے کہ عمران خان کو ان سے دور رکھا جائے اور اختیارات میں حصہ دار بننے سے روکا جائے مگر انہیں (عمران خان) اس امر کی خبر نہیں کہ مسلسل پرے رہنے سے وہ غیر مقبول ہو جائیں گے۔

بہرحال آنے والے دنوں میں جب بلدیاتی انتخابات ہوں گے تو حکومت کی پوزیشن یکسر تبدیل ہو چکی ہوگی کیونہ اس کی اصلاحات کا جادو چل چکا ہوگا لہذا کہا جا سکتا ہے کہ وہ اکثریت کے ساتھ جیت جائے گی یوں وہ بلدیاتی اداروں پر اپنی گرفت مضبوط بنا کر عوام کے گمبھیر مسائل کو ختم کرنے میں بھی کامیاب ہو جائے گی پھر عوام کی حالت یہ نہیں رہے گی!

حرف آخر یہ کہ حکومت کو قدم قدم پر دیکھی ان دیکھی رکاوٹوں کا سامنا ہے مگر وہ تحمل و تدبر کے ساتھ انہیں عبور کر سکتی ہے اور بہترین حکمت عملی سے اپنے اندر کے عوام بیزار افراد کو بھی راہ راست پرلا سکتی ہے مگر اسے عوام کو بھی ان کے ہونے کا یقین دلانا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •