واہ فرانس، آہ پاکستان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح سے لاہور موٹر وے ریپ پر تقریباً 99.9 ٪ سوشل میڈیا ایک ہی سمت میں بہہ رہا ہے۔ اس بہاؤ کے بیانیہ کے تحت پاکستان شاید ”ریپستان“ ہے اور یہاں گویا ہر طرف مرد حضرات اسی ایک فعل میں مصروف ہیں۔

صبح سے اس پر صرف ایک ہی بات کی ہے کہ ہر قسم کا جرم اک گھناؤنا فعل ہوتا ہے، اور بالخصوص ایسے جنسی جرائم کہ جن میں ایسی بے بسی، مجبوری اور خود پر گرتا ہوا قہر محسوس کیا جائے، وہ گویا سینہ چیرے چلے جاتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ پنجاب پولیس ایسے جنسی جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ کرتی کیا ہے اور وہ جو کرتی ہے، بہت معذرت، مجھے، موجودہ پاکستانی عدالتی نظام کی موجودگی میں، اس پر کچھ زیادہ اعتراض کرنا بنتا بھی نہیں۔

صبح سے جاری قہر سامانی میں واہ فرانس، واہ فرانس، اور آہ پاکستان، آہ پاکستان کی گردان بھی جاری ہے۔ پاکستانی معاشرتی حالات یقیناً خواتین کے حوالے سے کوئی آئیڈیل نہیں، اور مسلسل جہد کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس جہد میں لیڈرشپ خواتین نے فراہم کرنا ہے، اور مرد صاحبان کو ایسے معاملات کی نفسیاتی جہتیں سمجھتے ہوئے، اپنے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ریپ، صرف خواتین کا ہی مسئلہ نہیں۔ اس میں مرد بھی برباد ہو جاتے ہیں۔ آپ اپنے آپ کو کسی بھی ریپ ہو جانے والی خاتون کے بھائی، باپ، بیٹے، اور شوہر کی جگہ رکھ کر تو سوچیے ؛ سوچنا چاہیں گے بھی؟

احباب کے تجزیے کے لیے بتاتا ہوں کہ 2019 میں فرانس کی آبادی تقریباً سات کروڑ تھی، اور اسی برس، نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ وہاں 19,000 ریپ کیسز ہوئے، جن میں 90 ٪ متاثرین خواتین تھیں۔ اسی طرح 27,000 جنسی حملے ہوئے، جن میں 80 ٪ خواتین تھیں۔

2019 میں پاکستان کی آبادی 21 کروڑ تھی۔ ڈیلی ٹائمز کے اک آرٹیکل کے مطابق 2014 سے 2017 تک کے چار سالوں میں پاکستان میں 10,000 ریپ کیسز رپورٹ ہوئے۔ شعیب عمر نے ”دی پاکستان ٹوڈے“ کے اک ریسرچ آرٹیکل میں لکھا کہ پنجاب میں، 2018 کے دوران، 3,881 کیسز رپورٹ ہوئے۔ آپ تب سے اب تک کے فیکٹس اور فگرز کا اندازہ خود بنا سکتے ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں ایسے جرائم کی رپورٹ بہت کم ہوتی ہے۔ اس کی اپنی کلچرل وجوہات ہیں، اور اس حوالے سے لوگوں کا شعور اور قوم کا مزاج بدلنے کی ضرورت ہے۔ اک عرصہ ہوا، کہیں پڑھا تھا کہ گلے شکوے اور شکایت کرنا کوئی حکمت عملی نہیں ہوتے۔ اسی طرح پھٹکار، اور گالم گلوچ بھی کوئی حکمت عملی نہیں ہوتے۔ اصل مسائل کا حل، گفتگو کے آغاز سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں، اصل مسائل شور و غوغا میں دب جاتے ہیں۔

فرانس و پاکستان کا تقابل اب آپ خود ہی کر لیجیے۔

پاکستان میں خواتین کے جنسی و صنفی حوالہ جات کے حوالے سے سنجیدہ اور کھلے دل و دماغ کی ضرورت ہے۔ یہ معاملہ ”او جی، اسلام میں عورتوں کو بڑے حقوق حاصل ہیں“ سے حل ہونے والا نہیں۔

معاشرے بہت پیچیدہ مشین ہوتے ہیں۔ انہیں بہت احتیاط سے چلایا جانا چاہیے۔ وقت تو پہلے ہی بہت گزر چکا ہے، مگر ریاست، حکومت اور سیاسی جماعتوں کے ذریعے خواتین سے جڑے جنسی و صنفی موضوعات پر اک مثبت بیانیہ بہرحال تخلیق ہونا چاہیے تھا۔ ہمارا سیٹھ میڈیا، سیاستدانوں کو ”کورپٹ“ ثابت کرنے اور سازش کے ذریعے مال بنانے کے علاوہ کچھ سوچ سکتا تو، میرے پیارو، وطن میں کام کرنے کو بہہہت ہے۔
گو کہ فرانس اور پاکستان کے تقابل کی چوہا دوڑ میں آپ اپنا حصہ ڈالنے میں، ابھی بھی آزاد ہیں۔ بسم اللہ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •