شہباز چوہان کے ساتھ ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد خوبصورت شہر ہے یہاں تک بیرونی ممالک سے پہلی مرتبہ پاکستان آنے والے سفارتکاروں کے پاکستان سے متعلق تاثرات یہاں پہنچ کر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر حالیہ بارشوں کے دوران جب کراچی، لاہور اور دیگر شہر پانی میں ڈوبے ہوئے تھے یہاں تک کہ کراچی کے پوش ایریاز میں بھی گھروں میں پانی داخل ہوگیا اور عوام الناس کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا، وہیں اسلام آباد بارش کے بعد دھل کر مزید صاف ہوجاتا تھا۔ ہر سیکٹر میں مارکیٹ، پارک اور پلے گراؤنڈز موجود ہیں۔

ویسے تو ہر سیکٹر میں بزنس ایریاز کو باقاعدہ ترتیب سے بنایا گیا ہے تاہم گزشتہ سالوں کے دوران ایف ٹن، ایف الیون اور جی الیون کے مراکز نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ مرکز کے درمیان مختص کردہ جگہ پر عوام الناس کے بیٹھنے کے لئے سوک اتھارٹی کی جانب سے اہتمام کیا گیا ہے، یہاں گرمیوں کی شام اور سردیوں کی دھوپ میں بیٹھنے کا الگ ہی لطف ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک دوپہر ناصر محمود کے توسط سے شہباز چوہان سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔

ویسے تو ناصر کے ”کارناموں“ پر بھی کتاب لکھی جا سکتی ہے مگر شہباز چوہان سے ملاقات ہونا میرے لیے باعث فخر تھا۔ ایف ٹن مرکز میں جہاں شہباز چوہان سے زبردست سا کھانا کھایا وہیں اس کی خوبصورت شاعری سننے کا موقع ملا۔ یہ جان کر دلی مسرت ہوئی کہ پاکستانی مسیحیوں میں بھی عصر حاضر کے نامور شاعروں کے ہم پلہ شاعر موجود ہیں جنہیں ٹیلی ویژن یا مشاعروں میں سن کر لوگ واہ واہ کرتے ہیں۔ ایک مختصر ملاقات کے دوران ان کی شاعری سن کر میں اپنے آپ کو کوستا رہا کہ اسلام آباد میں کئی سالوں سے رہتے ہوئے میری کبھی ان سے جان پہچان نہیں ہوسکی۔

زمانہ طالب علمی کے دوران تھوڑا بہت ادب پڑھنے کا موقع ملا لیکن یقین کریں شاعری کرنا تو دور کی بات ہمیں تو شعر یاد بھی نہیں ہوئے۔ یہ تو بھلا ہو ہمارے استاد حسن عظیم ورک صاحب کا جنہوں نے اردو لکھنا سکھا دی، بلکہ آج بھی جہاں پھنس جاتے ہیں تو مدد کے لیے مرشد کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور صلواتیں بھی سننے کو ملتی ہیں۔ ”بڑے آئے لکھاری“ ۔ پھر جب صحافت میں آئے تو اس وقت آئی این پی کے ایڈیٹر جاوید اقبال قریشی اور بعد ازاں روزنامہ خبریں کے ایڈیٹر ڈاکٹر عبدالودود قریشی کی سربراہی میں خبر کی الف ب سیکھی۔

اس لحاظ تو شہباز چوہان ایک عظیم آدمی ہے جو نہ صرف خود شاعری کرتا ہے بلکہ بڑے بڑے مشاعروں میں نظر آتا ہے۔ اس ملاقات کے دوران یہ طے ہوا کہ ایک تفصیلی نشست ہوگی مگر زندگی کی بھاگ دوڑ میں ملاقات طے نہ ہوسکی، اگر چہ بسا اوقات ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے مشاعروں میں شہباز چوہان کو دیکھ کر ہم بھی سینہ چوڑا کرکے دوستوں کو بتاتے کہ ان سے ہماری جان پہچان ہے۔ ایک دو مرتبہ کوشش کی مگر ملاقات کے لیے جو وقت مقرر ہوتا ہے تبھی ہوتی ہے۔

یہ میری کم علمی کہہ لیجیے کہ مسیحیوں میں شہباز چوہان کے علاوہ دیگر مسیحی شاعروں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ ہاں کچھ لوگ ہیں جنہوں نے مذہبی گیت لکھے ہیں مگر شہباز چوہان نے مذہبی گیتوں کے علاوہ مزاحیہ شاعری، گیت اور نظمیں بھی لکھی ہیں۔ دو تین سال قبل ہونے والی سرسری ملاقات کے بعد کل شہباز صاحب کو کال کرنے کے بعد ان کے دفتر پہنچ گیا۔ شعراء حضرات کا جو عام تصور ہمارے ذہن میں ہوتا ہے، شہباز اس سے قدرے مختلف ہے۔ ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ میری بیوی نے مجھے اس وقت باقاعدہ شاعر تسلیم کیا تھا جب مشاعرے کے بعد معاوضے کا چیک بھی ملا۔ کہنے لگے کہ آج بھی جب کسی مشاعرے میں شرکت کے لئے نکلتا ہوں تو بیگم پوچھتی ہیں کہ اس مشاعرے سے معاوضہ ملے گا یا بیگار ہے۔

اس لحاظ سے ہم آج بھی بیکار ہیں کیونکہ کالم لکھنے کا معاوضہ نہیں ملتا بلکہ اخبارات یا دیگر ویب سائٹس ہمارے کالم شائع کر کے ہم پر احسان کرتے ہیں۔ شہباز چوہان سے ملاقات کے دوران یہ احساس ہوا کہ اس قدر حساس سوچ کا مالک شاعر اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہے۔ شاعری مشغلہ ضرور ہے مگر بچوں کی ضروریا ت پوری کرنے کے لئے کئی برس سے باقاعدہ ملازمت کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے نہ صرف مختلف سرگرمیاں بھی شرکت کرتا ہے بلکہ خود بھی ایسے پروگرام ترتیب دیتا رہتا ہے۔

میرے لیے یہ بات حیران کن اور حوصلہ افزاء بھی تھی کہ موصوف تمام سرگرمیوں کو بطریق احسن نبھا رہے ہیں۔ مسیحی حلقوں سے ایک گلہ جو شہباز چوہان نے کیا اور شاید دوسرے بھی اس بات سے اتفاق کریں کہ ہمارے مسیحی لوگ خصوصاً ادارے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن یقین کریں ایسے لوگ یقیناً قابل فخر اور قابل تحسین ہیں جنہوں نے اپنی محنت اور کاوش کی بدولت اپنے شعبے میں نام پیدا کیا۔

مجھے یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں شاید انور مسعود، احمدندیم قاسمی، امجد اسلام امجد، قدسیہ بانو یا مستنصر حسین تارڑ کی طرح پذیرائی نہ مل سکے مگر اس بات کو ماننا پڑے گا کہ ٹیلنٹ موجود ہے اگر آبیاری کی جائے تو نئی نسل میں باصلاحیت نوجوان موجود ہیں۔ ہم اس وعدے کے ساتھ وہاں سے اٹھے کہ آئندہ باقاعدہ ملاقات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

(برادر شمیم محمود، “ہم سب” نے کسی لکھنے والے پر احسان نہیں جتایا، ہمیشہ تشکر ہی کا اظہار کیا۔ معاوضے کی بابت رہنما اصولوں میں واضح بیان کر دیا گیا ہے۔  تاہم اگر آپ کو کوئی شکوہ ہے تو بسم اللہ تشریف لائیے، “ہم سب” آپ سنبھالیے۔ میرا کالم شائع کر کے مجھ پر احسان کر دیا کیجئے گا۔ معاوضہ بھلے نہیں دیجئے گا۔ مجھے آپ سے ہرگز گلہ نہیں ہو گا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •