بریکنگ نیوز: سینئر صحافی بلال فاروقی کو گرفتاری کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی میں ڈیفنس پولیس نے انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے نیوز ایڈیٹر بلال فاروقی کو فوج کی تضحیک اور نفرت انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا تاہم کچھ گھنٹوں بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔

بلال فاروقی کی اہلیہ تاشفین فاروقی کے مطابق بلال کو پولیس نے ڈیفنس ویو فیز ٹو میں ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا۔ تاشفین کے مطابق مالک مکان نے بلال کو باہر بلایا کہ پولیس علاقے کا سروے کر رہی ہے اور پولیس نے بلال فاروقی کو ان کے شناختی کارڈ سمیت طلب کیا ہے۔

دو پولیس اہل کاروں کے ساتھ سادہ لباس میں دو اہل کار بھی موجود تھے جو بلال کو گرفتار کر کے لے گئے۔ کچھ دیر بعد تاشفین کو بلال کی کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے اہلیہ کو بتایا کہ وہ ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں ہیں۔ اس کے بعد پولیس دوبارہ بلال فاروقی کے گھر پہنچی اور ان کی اہلیہ کے ہاتھ سے بلال کا موبائل فون چھین کر اپنے قبضے میں لے لیا۔

ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے بلال فاروقی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈیفنس پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ان کے مطابق بلال فاروقی 9 ستمبر 2020ء کو فائل کی جانے والی ایف آئی آر نمبر 613/2020 u/s 500/505 PPC میں مطلوب تھے جو ڈیفنس پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی۔

ایف آئی آر کاپی کے مطابق ان پر حساس اداروں کی تضحیک اور نفرت پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ ایف آئی آر لانڈھی کے ایک کارخانے میں مشین آپریٹر جاوید خان کی جانب سے درج کروائی گئی ہے جس میں صحافی پر ٹویٹر پر نفرت پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم گرفتاری کے کچھ گھنٹوں بعد رات گئے بلال فاروقی کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا اور وہ اپنے گھر پہنچ گئے۔

بلال فاروقی کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ بلال خیریت سے ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہیں کراچی جنوبی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نمبر چھ کے سامنے صبح ساڑھے 9 بجے پیش کیا جائے گا۔

دریں اثنا کراچی پریس کلب کے صدر محمد امتیاز خان فاران، سیکریٹری ارمان صابر اور ارکان گورننگ باڈی نے پولیس کی جانب سے کراچی پریس کلب کے ممبر اور صحافی بلال فاروقی کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اپنے بیان میں کراچی پریس کلب انتظامیہ نے کہا ہے کہ حکومت صحافیوں کی معاشی زندگی تنگ کرنے کے بعد آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے لیے نئے نئے حربے استعمال کررہی ہے، بلال فاروقی کی بلاجواز گرفتاری اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ کراچی پریس کلب کے عہدے داروں نے واضح کیا کہ صحافی کسی دھمکی، ناجائز مقدمے اور گرفتاری سے خوف زدہ نہیں ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •