کیا مودی چین کے معاملے پر وہی ‘غلطی’ دہرا رہے ہیں جو نہرو نے کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

BETTMANN

BETTMANN
</figure>سنہ 1949 میں ماو ژی دونگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔ یکم اپریل 1950 کو انڈیا نے اسے بطور مملکت تسلیم کر لیا اور اس کے ساتھ سیاسی تعلقات قائم کیے۔ چین کو اس طرح تسلیم کرنے والا انڈیا پہلا غیر کمیونسٹ ملک بن گیا۔ سن 1954 میں انڈیا نے تبت کے معاملے میں بھی چین کی بالادستی کو قبول کر لیا تھا۔ یعنی انڈیا نے مان لیا کہ تبت چین کا حصہ ہے۔ ’ہندی چینی بھائی بھائی! کے نعرے بھی لگے۔ 

جون 1954 سے جنوری 1957 کے درمیان چین کے پہلے وزیر اعظم چاو این لائی نے چار بار انڈیا کا دورہ کیا۔ اکتوبر 1954 میں انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو بھی چین گئے۔

نہرو کے چین کے دورے کے بارے میں امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے لکھا تھا کہ ’کسی بھی غیر کمیونِسٹ ملک کے وزیر اعظم کا عوامی جمہوریہ چین بننے کے بعد یہ پہلا دورہ ہے۔‘ اور یہ بھی کہ ’ائیرپورٹ سے شہر کے درمیان تقریباً دس کلومیٹر کے راستے پر چین کے لوگوں نے تالیاں بجاتے ہوئے نہرو کا استقبال کیا۔`

یہ بھی پڑھیے

انڈیا اور چین سرحدی کشیدگی کم کرنے کے لیے پانچ نکاتی ایجنڈے پر متفق

انڈیا نے ڈوکلام سے اپنی فوج واپس بُلوا لی

انڈیا چین کشیدگی: جب افواج آمنے سامنے ہوں تو کمانڈر ’ہاٹ لائن‘ پر کیا بات کرتے ہیں؟

اس دورے کے دوران نہرو کی ملاقات چین کے وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ عوامی جمہوریہ چین کے سربراہ ماو سے بھی ہوئی۔

دوسری طرف تبت کے حالات خراب ہوتے گئے اور وہاں چین کی جارحیت میں اضافہ ہوتا گیا۔ 1950 میں چین نے تبت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ تبت پر چینی حملے نے پورے خطے کی سیاست کو تبدیل کر دیا۔

چینی حملے سے پہلے تبت چین کے مقابلے میں انڈیا کے زیادہ قریب تھا۔ لیکن حملے کے بعد وہ ایک آزاد ملک نہیں رہا۔

KEYSTONE-FRANCE

KEYSTONE-FRANCE
</figure>سویڈن کے صحافی برٹل لِنٹر نے اپنی کتاب ’چائینا انڈیا وار‘ میں لکھا ہے کہ، ’اس وقت نہرو کی قیادت والی حکومت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل، ایسے کچھ رہنماوں میں سے ایک تھے جنہیں تبت میں آنے والی تبدیلی کی اہمیت کا احساس تھا۔ اس بارے میں پٹیل نے نہرو کو دسمبر 1950 میں اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے نومبر 1950 میں ایک خط بھی لکھا تھا۔‘

آئیڈیلسٹ نہرو

پٹیل نے اپنے خط میں لکھا تھا، ’تبت کو چین میں ضم کرنے کے بعد وہ ہمارے دروازے تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ پوری تاریخ میں ہم شمال مشرقی سرحدوں کی وجہ سے شاید ہی کبھی پریشان ہوئے ہیں۔ شمال میں ہمالیہ تمام خطرات کے خلاف ہماری ڈھال کے روپ میں کھڑا ہے۔ تبت ہمارا ہمسایہ تھا اور اس سے ہمیں کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ پہلے چینی منقسم تھے۔ ان کی اپنے اندرونی مسائل تھے اور انھوں نے ہمیں کبھی پریشان نہیں کیا، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔`

اسی کتاب میں برٹل لنٹنرنے لکھا ہے کہ، ’اصول پسند نہرو نئے کمیونسٹ چین کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ انہیں لگتا رہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی ہی ایک راستہ ہے۔ نہرو کا خیال تھا کہ انڈیا اور چین دونوں ظلم کے خلاف فتح حاصل کرکے اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کو ایشیا، افریقہ میں آزاد ہونے والے نئے ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔‘

چین نے 1950 کی دہائی کے وسط سے ہی انڈین علاقوں میں بھی تجاوزات شروع کر دی تھیں۔ 1957 میں چین نے اکسائی چن کے راستے مغرب میں 179 کلومیٹر لمبی سڑک بنائی۔

سرحد پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیاں پہلا تصادم 25 اگست 1959 کو ہوا۔ گشت کر رہے ایک چینی یونٹ نے نیفا فرنٹئیر پر لانگجو میں حملہ کیا۔ اسی سال 21 اکتوبر کو لداخ کے کونگکا علاقے میں گولہ باری ہوئی۔ اس میں سترہ انڈین فوجی ہلاک ہوئے اور چین نے اسے دفاعی کارروائی قرار دیا۔

انڈیا نے تب کہا تھا کہ ’اس کے فوجیوں پر اچانک حملہ کر دیا گیا۔‘

نومبر 1938 میں چینی کومیونسٹ پارٹی یا سی سی پی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں ماؤ نے کہا تھا کہ ’اقتدار بندوق کی نلی سے نکلتا ہے۔‘

اس کے بعد چین کے کمیونسٹ انقلاب کا یہ بنیادی نعرہ بن گیا۔ یہ نعرہ کارل مارکس کے اس نعرے کے بالکل الگ تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’دنیا کے مزدورو، ایک ہو جاؤ۔‘

’وہ چین کے ارادے کو سمجھ نہیں پائے‘

کہا جاتا ہے کہ 1962 میں چین نے انڈیا پر حملہ کیا تو یہ صرف ہمالیہ کے کسی ایک علاقے پر قبضہ کرنے یا سرحدوں کو تبدیل کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ تہذیب کی لڑائی تھی۔

جنوب مغربی ایشیا پر گہری نظر رکھنے والے اسرائیلی ماہر یوکوو ورٹزبرجر نے اپنی کتاب ’چائنا ساؤتھ ویسٹرن سٹریٹجی‘ میں لکھا ہے کہ، ’نہرو چین اور انڈیا کے درمیان موجود ثقافتی اور تاریخی فرق کو مجھنے میں ناکام رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ چین کے ارادے کو نہیں سمجھ پائے۔ نہرو کو لگتا تھا کہ پوری دنیا انڈیا اور چین کی سرحد کو مصدقہ طور پر تسلیم کرتی ہے۔ اگر انڈیا معاہدوں اور سمجھوتوں کو ہی آگے کر دے تو چین کو آخرکار بات ماننی پڑے گی کیونکہ انڈیا کا موقف قانونی طور پر صحیح ہے۔ لیکن چین نے کبھی بین الاقوامی قوانین کی پرواہ نہیں کی۔‘

یوکوو ورٹزبرجر لکھتے ہیں، ’نہرو اس بنیادی فرق کو بھی نہیں سمجھے کہ انڈیا اور چین دونوں نے اپنی آزادی الگ الگ طرح سے حاصل کی۔ انڈیا نے جس طرح انگریزوں کے خلاف آزادی کی لڑائی لڑی تھی، جاپان اور اندرونی طاقتوں کے خلاف چین کی لڑائی ویسی نہیں تھی۔ انڈیا نے آزادی کی لڑائی میں سول نافرمانی کے ذریعے واضح طور پر فتح حاصل کی تھی اور تشدد کو ایک برائی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔‘

’دوسری طرف ماو کی کمیونِسٹ پارٹی کا اصول بالکل الگ تھا۔ نہرو نے برطانیہ کی جیو سٹرٹیجِک منظوری کو قبول کیا تھا کیونکہ ان کی حکمت عملی میں ماضی اور حال کے درمیاں تعلق تھا۔ دوسری طرف ماؤ کی حکمت عملی کا ماضی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ماؤ نے 1949 میں کمیونسٹوں کی فتح سے پہلے ہی بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا تھا۔ انڈیا چین کے ساتھ اپنی سرحدوں کو تاریخی بنیادوں پر صحیح ٹھہرانے میں لگا رہا اور چین جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ ماؤ نے میک موہن لائین کو نوآبادیاتی قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ چین پورے ارون آنچل پردیش پر اپنا دعوی کرنے لگا۔‘

’پی ایم مودی نے کوئی سبق نہیں لیا‘

برٹل لنٹنر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ، ’نہرو کو چینی کومیونِسٹ ایک قوم پرست رہنما سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ نہرو کو درمیانی درجے کے بھی سوشلسٹ نہیں مانتے تھے، چینی کومیونسٹ پارٹی کی طرف سے نہرو پر ابتدائی حملہ اکتوبر 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی کلچرل کمیٹی کے جریدے شیجی جیشی (عالمی علم) نے انیس اگست 1949 میں نہرو کو سامراجیت کا حامی کہا تھا۔ نہرو کو یہ پتا بھی نہیں تھا کہ ہندی چینی بھائی بھائی نعرے کے پیچھے کیا چل رہا ہے۔ سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق میانمار کے سابق وزیر اعظم با سوے نے نہرو کو 1958 میں خط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ وہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے بارے میں ہوشیار رہیں۔‘

دفاعی امور کے تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ، ’سن 1962 اور اس سے پہلے جو غلطیاں نہرو نے کی تھیں، ان غلطیوں سے وزیر اعظم مودی نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔‘

بیدی کہتے ہیں، ’مودی حکومت کے پاس خفیہ اطلاعات تھیں کہ چین لداخ میں بہت کچھ کر رہا ہے اور کرنے والا ہے تاہم یہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ یہ سوال توسب سے اہم ہے کہ چینی فوجی انڈیا کے علاقے میں داخل ہوئے؟ مودی نے وزیر اعظم بنتے ہی چین کو ایسے پیش کیا جیسے کہ وہ سب سے بڑا اور بھروسہ مند دوست ہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد سے مودی چین کے صدر شی جن پنگ سے اٹھارہ بار ملاقات کر چکے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مطلب کیا ہے؟”

دو جون 2017 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے روس کے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں ایک پینل ڈسکشن میں کہا تھا کہ، ’چین اور انڈیا میں سرحدی تنازع کے باوجود دونوں ممالک کی درمیان پچھلے چالیس سال میں ایک بھی گولی نہیں چلی ہے۔‘ چین نے مودی کے اس بیان کا خیرمقدم کیا تھا۔ یہ تین سال پہلے کی بات ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ وہ اب یہ دوبارہ نہیں کہہ سکتے۔‘

’نہرو والی غلطی انڈیا کی ہر حکومت نے کی‘

راہل بیدی کہتے ہیں کہ، „’اس سے انڈیا کے رہنماوں میں دیر پا وژن یا سوچ کی کمی کی عکاسی ہوتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ، ’وزیر اعظم مودی کو پتا ہونا چاہیے کہ چین انڈیا کی طرح انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے پانچ سال کے مطابق کام نہیں کرتا ہے۔ وہ اگلے پچاس سال کی منصوبہ بندی اور حکمت عملی پر کام کرتا ہے اور اسے انجام تک پہنچاتا ہے۔ مودی کہتے ہیں کہ چین انڈیا کی سرحد نہیں نہیں ہے، دوسری طرف ملاقات پر ملاقات جاری ہے۔ حکومت کو تو پہلے اپنے ہی تضادات سے آزاد ہونے کی ضرورت ہے۔‘

’چین کے لیے سیپیک بہت اہم ہے اور وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔ چین کی نظر سیاچن گلیشئیر پر بھی ہے۔ چین کسی بھی صورت نہیں چاہتا کہ سی پیک پر کسی کی نظر رہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ لداخ سے پیچھے ہٹنے جا رہا ہے کیونکہ یہ اس نے اچانک نہیں کیا ہے بلکہ پورے پلان کے ساتھ کیا ہے۔ ممکن ہے کہ صورت حال مزید خراب ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان تصادم بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن انڈیا کے لیے اس بار بھی یہ بہت آسان نہیں ہے۔‘

راہل بیدی کہتے ہیں کہ، ’ہم چین کے ساتھ سرحد پر امن خریدتے ہیں، نی کہ اس کے حل اور اپنے حق کے لیے لڑتے ہیں۔ 1993 میں پی وی نرسمہا راو کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان ایل اے سی کا تعین ہوا لیکن ایل اے سی ریت پے کھینچی لکیر ہے۔ چینی فوجی تھوڑی سی ہوا دیتے ہیں اور لکیر مٹ جاتی ہے۔ پھر آپ لکیر کر ڈھونڈتے رہیے۔ ہمیں تو پتھر پر لکیر کھینچنی تھی اور یہ کام حکومت نے نہیں کیا۔ چین بالکل نہیں چاہتا ہے کہ سرحد کا مستقل حل ہو۔ وہ انڈیا کے ساتھ ہر طرح کے تعلقات کی حوضلہ افضائی کر رہا ہے لیکن سرحدی تنازع پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ 1962 کی جنگ کے بعد 58 سال گزر گئے ہیں اور چین کے اگلے پچاس سال کے منصوبے میں انڈیا شکار بنتا ہے تو یہ کوئی حیرانکن بات نہیں ہوگی۔‘

انڈیا کی قومی سلامتی کے لیے بڑھتا خطرہ

جمعرات کو روس میں سرحدی کشیدگی کم کرنے کے بارے میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جےشنکر کی ملاقات ہوئی۔ دونوں وزرا کے درمیان کچھ موضوعات پر اتفاق ہوا ہے، لیکن اس میں واضح طور پر یہ نہیں کہا گیا ہے کہ چین کی فوج پیچھے ہٹ جائے گی۔

دونوں وزرا کے درمیان اتفاق کے بارے میں سیاسی تجزیہ کار برہما چیلانی نے اپنے ٹویٹ میں کہا، ’چین اور انڈیا کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں انڈیا کا وہ مطالبہ غائب ہے جس میں سرحد پر سٹیٹس کو بحال کرنے کو کہا گیا تھا۔‘

انڈیا اور چین کے درمیان اس سال اپریل سے سرحدوں پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ پندرہ جون کو پرتشدد جھڑپ میں بیس انڈین فوجی ہلاک بھی ہوئے۔ اس کے بعد کہا جا رہا ہے کہ چین کی فوج لداخ میں کئی انڈین علاقوں پر بیٹھی ہے۔

سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا چین سرحد پر اپریل سے پہلے والی صورت حال بحال ہونے دے گا یا ایک بار پھر سے سرحد کو بدل دے گا۔ چین بھلے ہی ملاقاتیں اور مزاکرات کر رہا ہے لیکن وہ انڈیا کو دھمکی بھی دے رہا ہے۔ چین نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہورا ارونا آنچل پردیش اس کا ہے اور اس نے اسے کبھی انڈیا کا حصہ تسلیم ہی نہیں کیا۔

انڈیا کی سابق سیکرٹری خارجہ نیروپما راو نے دی وائیر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انڈیا کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا، ’چین کا پاکستان میں گوادر، سری لنکا میں ہمبنٹوٹا، جیبوتی اور بنگلہ دیش میں چٹاگاوں پورٹ کا بھی سٹریٹیجی کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چین جب چاہے گا ان کا استعمال اپنے حساب سے کر سکتا ہے۔ چین نے ان علاقوں میں منصوبے کے تحت سرمایہ کاری کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ چین کے ان منصوبوں سے انڈیا کی قومی سلامتی کو خطرہ ہے۔‘

وزرائے خارجہ سے پہلے چین کے وزیر دفاع سے انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی روس میں ملاقات کر چکے تھے۔ اس کے علاوہ انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے بھی چینی وزیر دفاع کے مزاکرات ہوئے۔

فوجی سطح پر بات چل رہی ہے لیکن اب تک چین اس بات پر راضی نہیں ہوا ہے کہ مشرقی لداخ میں اپریل سے پہلے والی صورت حال کو بحال کیا جائے گا۔

چین کے بارے میں انڈیا کی حکمت عملی فیصلہ کن نہیں

دفاعی تجزیہ کار سشانت سرین کہتے ہیں کہ ایس جےشنکر اور وانگ یی کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد جو مشترکہ بیان جاری ہوا اس میں کچھ بھی واضح نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں، ’دونوں وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کچھ واضح نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہاں کشیدگی کم ہونے والی ہے اور چین پیچھے ہٹنے والا ہے۔ ایسے مزاکرات پہلے بھی ہو چکے ہیں۔‘

سشانت سرین کا خیال ہے کہ چین کے بارے میں مودی حکومت نے ہی کچھ کام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’اس علاقے میں انفراسٹرکچر کے بارے میں اس حکومت نے بہت کام کیا ہے۔ کام اب بھی جاری ہے۔ چین ہمارے علاقے میں گھس آیا تو حکومت نے بھی فوج اور جنگی طیارے تعینات کر دیے۔ مودی حکومت نہرو کی طرح بیٹھی نہیں رہی بلکہ تیاریوں میں لگ گئی۔‘

حزب اختلاف کی تمام جماعتیں چین کے بارے میں حکومت پر سخت تنقید کر رہی ہے لیکن اس سے پہلے بھی ملک کی کسی بھی حکومت کی چین سے متعلق پالیسی فیصلہ کن نہیں رہی۔

انڈیا کو ایک ساتھ تین محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ کووڈ 19 کی وبا بےقابو ہے، ہر دن ایک لاکھ کے قریب کیس سامنے آرہے ہیں، چین کا سرحد پر جارحانہ رویہ اور انڈیا کی معیشت میں ریکارڈ گراوٹ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15469 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp