شیر دریا :ایک تجزیاتی مطالعہ

”سفرنامہ“ ہر ادب کی مقبول صنف رہی ہے، ابن بطوطہ جیسے افراد نے تو اپنی زندگیاں سفر میں ہی گزار دیں ؛ نت نئے تجربات سے اپنی تخلیقات کو چمکایا اور قارئین کے لیے نئی دنیا کے در وا کیے، زمین کی سیر کے متعلق تو قرآن پاک بھی لب کشا ہوتا دکھائی دیتا ہے : ”آپ فرما دیجئے کہ زمیں کی سیر کرو اور غور و فکر کرو۔“ اردو ادب نے بھی اس صنف کو اپنے دامن میں سمویا۔

Read more

کیا اسی کا نام سیاسی، سماجی اور اخلاقی شعور ہے؟

اگر آج کارل مارکس زندہ ہوتا، تو شاید وہ ”سرمایہ“ کے بجائے سرمایہ دارانہ نظام کے انہدام پر ایک اور شاہکار تصنیف رقم کر رہا ہوتا۔ دیکھ لو یہ نظام خود اپنی جڑیں کاٹ چکا ہے، اقتصادی طور پر اپنی ریڑھ کی ہڈی توڑ چکا ہے۔ گلوبلائزیشن کی تھوڑی سی امپلیمینٹیشن نے ہی انہی کی بنیادیں ہلا ڈالیں۔ جب باقی دنیا نے ان کی مین پاور کی قلت سے اقتصادی فائدہ اٹھایا، تو ان کے ’پڑھے لکھے عقل مند‘ لوگوں

Read more

دو دنیائیں

یوری پاولوف کا کمرہ کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ دیوار پر پرانی تصویریں لٹک رہی تھیں۔ ایک تصویر میں گورکی اپنے کتے کے ساتھ بیٹھا مسکرا رہا تھا، دوسری تصویر چیخوف کی تھی جس میں اس کی آنکھوں میں تھکن اور زندگی دونوں جھلک رہے تھے۔ یوری کی میز پر دھندلے شیشوں کی عینک پڑی رہتی جسے وہ تب پہنتا جب لفظ دھندلانے لگتے۔ زندگی ایک عرصے سے ایک ہی دائرے میں چل رہی تھی۔ صبح چائے، دوپہر کچھ نوٹ

Read more

بعد از جدیدیت کس بلا کا نام ہے؟

خدا بھلا کرے سارتر کا، ایسا فلسفی تھا کہ جس کا فلسفہ وجودیت تو سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر یار لوگ ہر محفل میں اُس کا نام یوں لیتے تھے جیسے Being and Nothingness انہوں نے گھول کر پی ہوئی ہو۔ اُس زمانے میں ہم بالکل ہی بالکے تھے، ویسے تو اب بھی کوئی افلاطون نہیں مگر اُس وقت تو نِرے گاؤدی تھے، ہونقوں کی طرح اُن سب کی شکلیں دیکھتے اور سوچتے تھے کہ اِس قدر پڑھی لکھی

Read more

ہمارے اسلامی کزن آل ابراہیم آخر ہمارے خلاف کیوں ہیں؟

ایک اہم سوال ہے کہ موجودہ دور میں آخر مسلمانوں کو ہی کیوں مار پڑ رہی ہے؟ اس سوال کا اگر ہم مسلمان کوئی منطقی جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تو شاید مل بھی جاتا۔ جب حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا، میں نے اس حملے پر خوشی منانے والے دوستوں کو بولا کہ یہ خوشی لمحاتی ہے، دکھ لمبا ہے، معصوم عوام مریں گے۔ آج ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ ہو گیا غزہ کے فلسطینی

Read more

راجہ انور بطور ادیب اور مصنف

راجہ انور کو میں نے اپنے کالج کے زمانے میں ان کی بھرپور جوانی میں دیکھا تھا۔ 70 کی دَہائی کے وسط کی بات ہے۔ ہم تین دوست بینک روڈ راولپنڈی صدر میں گھوم رہے تھے۔ ہمارا ایک دوست زور سے چلایا۔ ”وہ دیکھو! راجہ انور!“ دراز قد، لمبے اور گھنے سیاہ بال، سیاہ ریش، سفید شلوار قمیض میں ملبوس سرخ و سفید رنگ کے راجہ انور دو تین ساتھیوں سمیت اُسی طرف چلے آرہے تھے، جہاں ہم کھڑے تھے۔

Read more

جنگلوں میں اگائے گئے شہروں کا ازالہ ویجٹیرین بن کر نہیں کیا جا سکتا

گزشتہ برس بڑی عید پر میں نے عید مبارک کی پوسٹ لگائی تو ایک کمیونسٹ دوست نے کمینٹ کیا کہ آپ تو ایتھیسٹ ہیں پھر ایک ایسے تہوار کی مبارک دینا جس پر لاکھوں معصوم جانوروں کو قتل کر دیا جاتا ہے آپ کی منافقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک تو ان ایتھیسٹ حضرات کو نجانے کیوں ہر وہ شخص بھی ایتھیسٹ لگتا ہے جو مذہب پر تنقید یا سوال کرے۔ میں اگناسٹک ہوں اور اگناسٹک ایسے شخص کو کہتے

Read more

کارل مارکس کا تخلیقی سفر (تخلیقی اقلیت سے ایک باب)

  حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب: ”تخلیقی اقلیت“ ، ڈاکٹر خالد سہیل کی انگریزی تصنیف: CREATIVE MINORITY کا اُردو ترجمہ ہے۔ ’تخلیقی اقلیت‘ میں منتخب تخلیقی شخصیات، جن میں فلسفی، سائنسدان، ادیب، شاعر، فنکار اور انقلابی رہنما شامل ہیں، جامع مضامین لکھے گئے ہیں۔ ان مضامین میں ان کے نظریات، فکر، اور فلسفے کا گہری نظر سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر خالد سہیل نے بطور نفسیات دان ان معتبر شخصیات کا نفسیاتی تجزیہ بھی

Read more

مذہب اور مقصد حیات

یہ سوال محض ایک سائنسی مفروضہ نہیں بلکہ ایک وجودی پکار ہے ایسا سوال جو انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم محض کیسے پیدا ہوئے نہیں، بلکہ کیوں پیدا ہوئے۔ جب ہم کائنات کی بے کراں وسعتوں کو دیکھتے ہیں، جہاں کہکشائیں جنم لیتی اور مٹتی ہیں، جہاں تہذیبیں ابھرتی اور زوال پذیر ہوتی ہیں، تو انسانی دل ایک معنی، ایک مقصد، ایک منزل کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب

Read more

خواب، محبت اور زندگی 25

اب میں اس دور کے بارے میں سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میرے والدین خوش باش رہنے والے سیماب صفت لوگ تھے۔ دونوں فلموں، کتابوں اور رسالوں کے شیدائی تھے۔ مجھے یاد ہے امی نے ایک دفعہ اردو کے ایک مشہور اخبار میں ایڈیٹر کے نام خط لکھا تھا جس میں کراچی میں تھیٹر کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فن کاروں کی سرپرستی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مراسلے کو پڑھ کے تھیٹر

Read more

فکری دیوالیہ پن

  جاوید اختر نے جب یہ کہا کہ اگر اُنھیں پاکستان اور جہنم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ جہنم جانا پسند کریں گے تو اُنھوں نے محض ایک تلخ فقرہ نہیں اچھالا بلکہ اپنی اُس شناخت کو بھی مجروح کیا جس کی بنیاد پر وہ دہائیوں سے خود کو ترقی پسند اور بائیں بازو کا ہم خیال قرار دیتے آئے ہیں۔ فکری دیوالیہ پن تبھی آشکار ہوتا ہے جب کسی دانشور کے الفاظ اُس کے

Read more

تخلیقی اقلیت (حصہ دوئم)

” تخلیقی اقلیت“ انگریزی کتاب : CREATIVE MINORITY کا اردو ترجمہ ہے۔ ماہِ رواں میں پاکستان سے شائع ہونے والی ڈاکٹر خالد سہیل کی 488 صفحات پر مشتمل تصنیف کا ترجمہ میں نے گزشتہ دو برس میں مکمل کیا۔ ان سالوں کے دوران مجھے ایک جذباتی بحران کا بھی سامنا تھا مگر اس قدر ذہنی دباؤ کے عالم میں ترجمے کا عمل میرے لیے اعصابی آسودگی کا باعث بنا۔ گویا اس کتاب نے نہ صرف میرا ذہنی کیتھارسس CATHARSIS کیا

Read more

سانحہ ہے مارکیٹ اور پیرس کمیون

شاعر مشرق نے اپنی نظم میں جب لینن کو خدا کے حضور پیش کیا تو لینن خدا سے کچھ یوں شکوہ کناں ہوا: تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات اگرچہ اقبال کے کہے گئے ان الفاظ میں ایک مزدور کے اوقات سے مراد اس کی پوری زندگی ہے لیکن مزدوروں کے یہی وہ اوقات کار تھے جن کو تبدیل کرانے کی جدوجہد میں شکاگو کے مزدور پھندوں پر جھول گئے

Read more

انسانی سائیکی : روح یا ذہن؟

انسانی تاریخ کا ایک وہ دور تھا جب سائیکی کا ترجمہ روح کیا جاتا تھا۔ اس عقیدے کا آغاز ایران کے زرتشتوں سے ہوا اور پھر مشرق وسطیٰ کے یہودیوں عیسائیوں اور مسلمانوں میں یہ عقیدہ مقبول ہو گیا۔ اس عقیدے کو ماننے والے یہ ایمان رکھتے ہیں کہ انسانی روح انسانی جسم سے علیحدہ اپنا وجود رکھتی ہے۔ وہ روح حمل کے دوران بچے کے جسم میں داخل ہوتی ہے ’ساری عمر اس کے ساتھ رہتی ہے اور موت کے

Read more

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ۔ فکرِ فقر یا فقرِ فکر

نظام سرمایہ داری کی بنیاد آزاد منڈیوں کی معیشت پر کھڑی ہوتی ہے جہاں صارف کی ترجیح کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔ سویت یونین کے آخری صدر میخائیل گورباچوف کی گلاسنوسٹ (اظہار رائے کی آزادی ) اور پراسٹرئیکا (تشکیل نو) کی حکمت عملی کے دوران اشتراکیت اور سرمایہ داری کے تقابل میں صارف کا حق انتخاب ہی وہ بنیادی نقطہ تھا جس میں اشتراکی نظام کو مسترد کیا گیا۔ اشتراکی نظام کی پسپائی کے بعد آزاد منڈیوں کی معیشت کو

Read more

یہ کالم ہر پڑھے لکھے انسان کو پڑھنا چاہیے

کیا ہماری صنعتوں، وسائل اور ضروری خدمات کو نجی ہاتھوں میں رہنا چاہیے یا حکومتی ملکیت میں ہونا چاہیے؟ نجی ادارے منافع چاہتے ہیں۔ حکومتیں استحکام چاہتی ہیں۔ جب صنعتیں نجی ہاتھوں میں چلی جاتی ہیں تو ان کی وفاداری شیئر ہولڈرز سے ہوتی ہے، قوم سے نہیں۔ بحران کے وقت پرائیویٹ مالکان ڈوبتے جہازوں کو چھوڑ دیتے ہیں، جب کہ حکومتیں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے کھڑی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بڑی توانائی کمپنی، جو برسوں

Read more

سیٹ ون سی

کتابیں دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو آپ کو مجبوراً پڑھنا پڑتی ہیں اور دوسری وہ جو آپ کو پڑھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ظفر مسعود کی کتاب ’سیٹ ون سی‘ کا شمار مؤخر الذکر کتابوں میں ہوتا ہے۔ ظفر مسعود پیشے کے اعتبار سے بینکر لیکن مورثی اعتبار سے فلسفی، نفسیات دان اور دانشور ہیں۔ ان کا تعلق اس خانوادے سے ہے جس کی رگوں میں نانا سید محمد تقی، رئیس امروہوی اور جون ایلیا کا خون

Read more

انسانی حقوق کا ارتقا اور تصور

اگر آپ انسانی حقوق کی آغاز و ارتقا اور جدید عالمی نظام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو توصیف احمد خان اور عرفان عزیز کی تحقیقی کتاب ”انسانی حقوق کا ارتقا اور تصور“ ضرور پڑھنی چاہیے۔ یہ ایک بہت ہے محنت سے لکھی گئی کتاب ہے جس پر مصنفین کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ملنی چاہیے۔ بائیں بازو کے ایک اہم اور معتبر نام سہیل سانگی اور جسٹس فہیم احمد صدیقی کے ابواب بھی اس کتاب

Read more

ادب اور مکاتب فکر

افلاطون اور شاعر افلاطون نوجوانی میں جتنا شاعری کو پسند کرتے تھے بڑھاپے میں اتنا ہی ناپسند کرتے تھے۔ بیس برس کی عمر سے افلاطون جتنا اپنے استاد سقراط اور فلسفے کے قریب آتے گئے وہ اتنا ہی شاعری سے دور ہوتے چلے گئے۔ افلاطون شاعری سے اتنا دلبرداشتہ ہو گئے کہ انہوں نے یہ موقف اپنایا کہ ایک مثالی ریاست میں ہمیں نوجوانوں کو شاعری سے دور رکھنا چاہیے۔ افلاطون ایک فلسفی تھے اور فلسفے کو سچ اور دانائی

Read more

مہک

ندیم تھکے ہوئے قدموں سے ایک نجی کمپنی کی بس میں بیٹھنے کے لیے ٹرمینل کی طرف جا رہا تھا۔ وہ رات اچھی نیند نہیں لے سکا تھا۔ سفر سے پہلے اسے ہمیشہ ایک بے چینی ہوا کرتی ہے۔ اور ایسا بچپن سے ہی ہے اسے سفر کا ہمیشہ خوف ہوتا ہے، مگر سواری میں بیٹھ کر وہ آہستہ آہستہ نارمل ہو جاتا ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اسے اسلام آباد ایک میٹنگ میں جانا تھا۔ ویسے تو

Read more

اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی ٹرمپ کے خطرناک عزائم

1970 ء کی دہائی میں جب میں جوان ہو رہا تھا تو سوشلزم کے بہت چرچے تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ ایسا نظام ہو گا جہاں امیر و غریب کا فرق مٹ جائے گا۔ دنیا بھر کے انسان جب مساوی سطح تک پہنچ جائیں گے تو بالآخر قوم پرستی پر مبنی ممالک کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ مساوی دنیا گویا ایک ہی ملک بن جائے گی جہاں مقامی آبادیاں اپنے تئیں چھوٹے چھوٹے گروہوں تک محدود ہوئی

Read more

طالبان کی پنجابیوں سے نفرت

اس کالم کے باقاعدہ قاری جانتے ہیں کہ امریکی افواج کی افغانستان سے ذلت آمیز روانگی سے قبل میں دہائی مچانا شروع ہوگیا تھا کہ ”فاتح“ کی حیثیت میں کابل لوٹے طالبان پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کریں گے۔ اپنی بات سمجھانے کے لئے تفصیل کے ساتھ چند ذاتی تجربات کا ذکر بھی کیا جو افغانستان کے متعدد سفر کے دوران میرے مشاہدے میں آئے۔ طالبان کی کابل واپسی سے قبل جب بھی افغانستان گیا تو وہاں کے شہروں خاص

Read more

اقبال: سبق ِ خاکبازی

شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا حکیم الامت، مصلح ِقوم، علامہ اقبال اس شعر میں اساتذہ کو سرزنش کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے اساتذہ شہباز کو گدھ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن کبھی ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ گدھا بنانے والے اساتذہ خود بھی گدھ ہیں اور وہ گدھ کیسے بنے؟ ہمارے استادوں

Read more

جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم

ڈاکٹر خالد سہیل کا سوال۔ محترمہ معظمہ سارہ علی صاحبہ سیمینار کے بعد میں چاہتا ہوں کہ آپ جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم ان تینوں نظاموں کے بارے میں اپنی رائے اور ان کا فرق ان کی چند مثالوں کے ساتھ ایک مضمون میں قلمبند کر کے اپنی رائے سے آگاہ کریں؟ میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل، ڈاکٹر صاحب آپ کے سوال کا تیسرا حصہ کمیونزم پر میری رائے پر مشتمل ہے یہ وہ danger area ہے جس میں داخل

Read more

کامیڈی کی ٹریجڈی – مکمل کالم

ایک زمانہ تھا جب مزاح میں ہمارا طوطی بولتا تھا، پنجابی تھیٹر کے اداکار جب سٹیج پر نمودار ہوتے تھے تو حاضرین تالیاں بجا بجا کر آسمان سر پر اٹھا لیتے تھے، فنکاروں کی ایک کہکشاں تھی جو اِس سنہری دور میں پیدا ہوئی، اِس کہکشاں کے ستاروں میں امان اللہ، سہیل احمد، البیلا، مستانہ، ببو برال، طارق جاوید، افتخار ٹھاکر، نسیم وکی، امانت چن، عابد خان، جواد وسیم، طارق ٹیڈی، سردار کمال اور ایسے کئی نام شامل تھے /ہیں

Read more

سعیدہ گزدر۔ ترقی پسند ادب کا ستارہ

پاکستان میں ترقی پسند خیالات کے داعی ایک ایک کر کے ہم سے بچھڑتے چلے جا رہے ہیں۔ راحت سعید جو ”ارتقا“ ادبی و سماجی مجلے کے بانی ارکان میں شامل تھے اور ترقی پسند تحریک کو جاری رکھنے میں مصروف عمل تھے 23 اکتوبر کو کوچ کر گئے۔ اس کے بعد دو ہفتوں کے اندر بائیں بازو کی سیاست اور ترقی پسند ادب کی مایہ ناز شخصیت سعیدہ گزدر بھی روانہ ہو گئیں۔ اُن کا انتقال 7 نومبر 2024

Read more

مزدور رہنما غلام دستگیر محبوب

آزادی کے 77 برس گزر جانے کے باوجود پاکستان آج بھی اقتصادی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ برصغیر پر انگریز سامراج کے تسلط کے دوران ایک طرف اس دھرتی اور اس کی مٹی کے غداروں، مخبروں اور وطن دشمنوں کو نوازنے کے لیے وسیع تر جاگیریں الاٹ کی گئیں، تو دوسری طرف سامراجی استحصالی نظام کو دوام بخشنے، آزادی کے متوالوں کو سبق سکھانے اور عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے بیوروکریسی کا وسیع تو جال بچھایا گیا۔

Read more

انسانی سوچ پر جکڑ اور پہرے

ڈینس ڈیڈرو ( 1713۔ 1784 ) ایک مشہور فرانسیسی فلسفی، مصنف، اور روشن خیالی کے نمایاں مفکرین میں سے ایک تھے۔ وہ Encyclopedie کے بانیوں میں شامل تھے، جو ایک ایسا ادبی اور سائنسی منصوبہ تھا جس نے عقلی سوچ کو فروغ دیا اور مذہبی اجارہ داری کو چیلنج کیا۔ ڈیڈرو نے آزاد خیالی، سائنسی تحقیق، اور انسان کی فکری آزادی پر زور دیا۔ ان کے خیالات چرچ کے روایتی نظریات کے خلاف تھے، جس کی وجہ سے انہیں شدید

Read more

افسانوی مجموعے ”انگارے“ کا موضوعاتی مطالعہ

اردو ادب کے فروغ کے لئے بہت سی تحریکوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے جس میں ایک نمایاں نام ترقی پسند تحریک کا ہے۔ ترقی پسند تحریک رومانوی تحریک کی ضد تھی۔ اس کا بنیادی طور پر آغاز اس وقت ہوا جب لوگوں نے زندگی کے مادی وجود سی نجات حاصل کر کے تخیل کی دنیا میں قدم رکھنا شروع کیا اور اپنے اصل سے غافل ہو گئے۔ ہندوستان میں قومی بیداری کی جو لہر آئی وہ دراصل 1917 میں

Read more

میری آخری ہجرت

مجھے نہیں معلوم میری پہلی ہجرت کب اور کہاں ہوئی تھی لیکن اپنے اس جسم کی زندگی میں جب ہوش سنبھالا تو مجھے بتایا گیا کہ میں سید ہوں اور عرب میں پیدا ہوا تھا۔ میں مقدس عربی ہستیوں سے منسوب ہوں اس لیے ان کے ماننے والے مجھے بہت عزت دیتے ہیں۔ میں ایک ہزار سال پہلے مدینہ سے ہجرت کر کے ترمذ چلا گیا جو آج کل ازبکستان میں واقع ہے۔ وہاں سے میں نے ایک بڑی ہجرت

Read more

آرٹسٹ کو کیسے پرکھا جائے؟ مکمل کالم

”جناب آپ کے کالم ’آرٹ پر ایک مکالمہ‘ پر میرا خیال اور سطریں آپ کی نذر ہیں : موضوع بہت جاندار ہے اور پُرانا بھی اور یہ بحث لاحاصل بھی نہیں ہے۔ سچی بات ہے کہ اس پر آپ نہ صرف لکھا بہت اچھا ہے بلکہ بہت سارے سوالوں کے جواب بھی خود ہی دے دیے ہیں۔ مسئلہ وہی ہے کہ آرٹسٹ اور ایکٹیوسٹ /محرک /کارکن میں فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسان بنیادی طور پر خوبصورتی، جوانمردی، بہادری، ایثار،

Read more

دوستوئیفسکی کے بے چارے لوگ

اس کائنات کا واحد جاندار یعنی ”انسان“ وہ مخلوق ہے جس کی مٹی احساسات اور جذبات سے گندھی ہے۔ شاید قدرت نے خوشی، احساس، غم، تکلیف، بے بسی، محرومی جیسے جذبات انسان کو کسی تحفے کے طور پر عنایت کیے ہیں۔ فطرت نے جہاں اسے ذہانت، شعور اور علم و عقل جیسی صلاحیتیں سے نوازا گیا، وہیں اس پر غربت، بے بسی اور لاچاری جیسے عفریت کو بھی مسلط کر دیا۔ انسان چاہے جس خطے سے بھی تعلق رکھتا ہو

Read more

بیٹیوں کے باپ

آئیے آج آپ کو ایک ایسی کہانی سناتے ہیں جو شاید آپ کی بھی ہو۔ اپنی کہانی ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ حقیقت میں ہی ہوئی ہو۔ بعض اوقات ایک ایسی دنیا جہاں آپ اس دنیا کی تلخی سے چھٹکارا پانے کو قدم رکھتے ہوں وہ بھی آپ ہی کی دنیا ہے۔ کسی کو دکھائی اس لیے نہیں دیتی کہ وہ دنیا خاص آپ ہی کے لیے بنی ہے اور آپ ہی نے بنائی ہے۔ اسی لیے بسا

Read more

ارتقائی علوم اور سماجی تبدیلیاں

سماجی تبدیلیاں ارتقائی اصولوں کے مطابق وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ یہ حوالہ عام طور پر کارل مارکس سے جوڑا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کارل مارکس ہی وہ پہلا فلسفی تھا جس نے مذکورہ حقیقت کو دریافت کر لیا تھا۔ مگر ہم احتیاطاً اسے کوئی حتمی یا ابدی دریافت تصور نہیں کر رہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی اور یا ہم عصر فلاسفہ میں سے بھی کسی نے اس طرف کوئی اشارہ دیا ہو۔ مادے کے ارتقا کی

Read more

کمیونزم پر ایک سرسری نظر

  نوٹ: زیر نظر تحریر سبط حسن کی کتاب ’موسی سے مارکس تک‘ کا خلاصہ ہے۔ چھے دنوں کی بنی کائنات میں پہلے سماوی دنیا، پھر جمادات، نباتات، آبی جانور، خشکی کے جانور اور آخر میں انسان وجود میں آیا ہے۔ انسان اس سرزمین پر تقریباً 30 لاکھ برس سے آباد ہے۔ لامارک اور ڈارون کے نزدیک موسم، جغرافیائی ماحول، استعمال یا ترکِ استعمال سے اجسام میں عضوی تبدیلیاں واقع ہونے اور نئی نسلوں میں و راثتاً منتقل ہونے کی

Read more

ووکسمیرین: مشرقی جرمنی کی فراموش کردہ بحریہ

ووکسمیرین کی کہانی کافی دلچسپ ہے کیونکہ میرا مشاہدہ ہے کہ یہ سابق مشرقی جرمنی [جرمن ڈیموکریٹک رپبلک یا جی ڈی آر] کی مسلح افواج کا ایک ایسا حصہ ہے جس کا قومی فوج، نیشنل وولکس آرمی (این وی اے ) ، مشرقی جرمن ائر فورس، یا سرحدی محافظوں کے برعکس شاذ و نادر ہی ذکر کیا جاتا ہے اس کی وجوہات جن پر شاذ و نادر ہی بحث کی جاتی ہے، ہم آگے بڑھتے ہوئے تلاش کریں گے، لیکن

Read more

تاریخی مادیت اور کارل مارکس

مارکس جن کا پورا نام کارل مارکس تھا مارکس کا نام اقتصادیات، فلسفہ اور سیاست کے میدان میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ مارکس کے مطابق ماضی اور حال کی پوری انسانی تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ رہی ہے ہر دور میں سماج میں دو طبقات رہے ہیں ایک وہ طبقہ جو پیداوار کے ذرائع زمینوں، ہلوں، مشینوں اور سرمایہ پر قابض رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ وہ طبقہ جس کے پاس اپنی محنت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ کارل

Read more

خرافات خرد: فکر کی جدلیات

پاکستان کی موجودہ فکری صورتحال کا ایک طائرانہ جائزہ یہاں فکری مکالمے کا کم اور مجادلے و مناظرے کا منظر زیادہ پیش کرتا ہے۔ اس صورتحال کو تشکیل دینے میں کوئی ایک سوچ یا مکتبہ فکر کے لوگ شامل نہیں بلکہ مختلف مکاتب فکر کے سے وابستہ لوگوں کی استردادی سوچ ہے۔ چونکہ پاکستان کے لوگوں کا ذہنی مزاج یہاں کے ایک خاص سماجی و ذہنی ماحول میں تشکیل پایا ہے، اس لئے نظریاتی لیبلز سے اوپر اٹھ کر جائزہ

Read more

پرولتاریہ کی جدوجہد۔ ارشد ندیم

اولمپیائی کھیل، جو کہ دنیا کے بڑے اور مشہور کھیلوں کے مقابلے ہیں، ہمیشہ سے محنت کش طبقے اور غریب کھلاڑیوں کے لیے ایک پیچیدہ میدان رہے ہیں۔ یہ مقابلے سرمایہ دارانہ نظام کے عدم مساوات اور طبقاتی فرق کا ایک اہم اظہار ہیں، جہاں غریب اور محنت کش طبقے کے کھلاڑیوں کو ترقی اور کامیابی کے لیے بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کارل مارکسٓ نے معاشرتی عدم مساوات اور طبقاتی جدوجہد پر گہری تنقید کی۔ اگرچہ

Read more

سیکولرازم ایک فلسفیانہ اور تاریخی نقطہ نظر

سیکولرازم ایک کثیر الجہتی تصور ہے جو فلسفہ، سیاست اور معاشرت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ مذہب کو سرکاری اداروں سے الگ رکھا جائے۔ اور ریاستی اور عوامی پالیسیاں مذہبی عقائد کے زیر اثر نہ ہوں۔ یعنی مذہب کا ریاستی امور میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔ اس اصول کا مقصد ایک غیر جانبدار اور متنوع ماحول کو فروغ دینا ہے۔ جہاں تمام افراد چاہے ان کے مذہبی عقائد کچھ بھی ہوں۔

Read more

درویش کی کٹیا کے نئے مہمان۔ نعیم اشرف

ڈاکٹر خالد سہیل درویش کی کٹیا میں جو درویش نئے مہمان بن کر آئے ان کا اسم گرامی نعیم اشرف ہے۔ نعیم اشرف نے دل کی باتیں سنیں بھی اور سنائیں بھی۔ انہوں نے جب مجھ سے ایک غزل سننے کی فرمائش کی تو میں نے عرض کیا ہماری ذات کے جب در کھلے ہیں کبھی اندر کبھی باہر کھلے ہیں ہمارے گھر میں وہ اپنائیت ہے یہاں آ کر کئی بے گھر کھلے ہیں بظاہر جو بہت ہی کم سخن

Read more

میکالے اور مشرقی ادب: چند نکات

لارڈ میکالے برصغیر کے جدید لبرل اشرافیہ کے حقیقی فکری جد امجد تھے۔ نو آبادیاتی نظام کی مطلوبہ سانچوں میں میکالے نے مقامی اشرافیہ کی ذہن سازی کی جس کے نتیجے میں غیر سفید فام مقامی کالے انگریز پیدا ہوئے۔ ذہنی طور پر آدھے تیتر، لباس و ثقافت میں آدھے بٹیر۔ لارڈ میکالے خوبصورت انگریزی لکھتے تھے۔ الفاظ کا پختہ و ماہرانہ چناؤ، بلوریں و منور crystal and metallic جملے، مضبوط و مربوط taut and tight خوش نما پیراگراف لکھنے

Read more

پُرامن اصلاحات کیوں کارآمد نہیں ہو سکیں؟

قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے تیرہ میں سے آٹھ ججز کے تازہ فیصلہ نے آئین و قانون اور اپنے فہم و ادراک کو معیار بنا کر تشریحات کے ذریعے جہاں دستور کی بے ثباتی کو نمایاں کیا، وہاں یہی فیصلہ نظام عدل میں پائی جانے والی ذہنی تقسیم کو گہرا کر کے جاری سیاسی بحران کو بڑھا گیا گویا صرف اسی ایک فیصلہ نے سیاست کے سارے پرسپشن کو بدل دیا۔ یوں

Read more

راوی دا راٹھ رائے احمد خان کھرل (1857۔ 1785)

راوی دا راٹھ رائے احمد خان کھرل ( 1857۔ 1785 ) ، دھرم سنگھ گورائیہ صاحب کی 1857 کے حالات و واقعات اور رائے احمد خان کی زندگی و مزاحمت پر لکھی گئی ایک نایاب کتاب ہے۔ اس کتاب کے اندر اس وقت کے پنجاب کے علاقے گوگیرہ اور جھامرہ میں ہونے والی مزاحمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں بنیادی اور ثانوی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ہوئے اس مزاحمت کو بڑے احسن انداز بیان کیا ہے۔ انھوں

Read more

تخلیقی اقلیت: خواب اور الجھنیں

"زندگی کی تین شکلیں جن کو میں نے نام دئے ہیں: زندگی کس طرح اونٹ بن گئی، اور اونٹ شیر میں تبدیل ہو گیا، اور آخر میں شیر ایک بچہ بن گیا۔” – ’ اس طرح زرتشت نے کہا ‘ (کتاب کا نام)، مصنّف فریڈرک نطشے (1844–1900) اپنی کتاب کے آغاز میں جرمن فلسفہ دان نطشے نے علامتی طور پر تین تبدیلیوں کو بیان کیا ہے جن سے ایک فرد کو اپنے تخلیقی مقصد کے لئے آزادی حاصل کرنے کے

Read more

کمیونسٹ انقلاب کی طرف بڑھتا ہوا جنوبی ایشیا

راقم جب اسکول کا طالب علم تھا تو چندی پور گاؤں میں اپنے کزن اور بہنوئی شیخ عبدالرحیم انجم کی ذاتی لائبریری میں موجود کتابوں کو گاہے بگاہے پڑھ لیا کرتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ کرنل رفیع الدین کی کتاب ”بھٹو کے آخری 323 دن“ کوثر نیازی کی ”اور لائن کٹ گئی“ اور زبیر رانا کی ”کیا مارکسزم ناکام ہو گیا؟“ وغیرہ کا مطالعہ کیا تاہم کم عمری کی وجہ سے مارکسزم کے

Read more

شاعرِ مغرب کے شہر میں: لندن تا برمنگھم (6)

”کون تھا ولیم شیکسپئر؟“ ہم دماغ کا دروازہ کھٹکھٹا کر ذہن سے سوال پوچھتے ہیں۔ پی ون کمپیوٹر کی طرح وہ ہلکی سی بونگی مار کر گُم ہو جاتا ہے، کچھ دیر بعد حاضر ہو کر بتاتا ہے، ”گوروں کا کوئی شاعر تھا، دسویں کلاس کے انگریزی کورس میں اُس کی روایتی نظم شامل تھی جس کی تشریح تم نے نری نقل کر کے لکھی اور امتحان میں سرخرو ہوئے۔“ اپنے کُند ذہن کو بات کرنے کا قرینہ ہے نہ

Read more

چینی ”سب ہیومن“ ہیں، احمد جاوید کا انکشاف

ایک پوڈ کاسٹ نظروں سے گزری جس میں احمد جاوید اس بات کا انکشاف کر رہے ہیں ” کہ چینی وغیرہ تو سب ہیومن ہیں“ پوچھا گیا کہ کیا اخلاقی معیار یا برتری کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی؟ جواب میں فرمایا بالکل نہیں۔ پھر پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک سب ہیومن سے کیا مراد ہے؟ فرمانے لگے ” جو غذائی ذوق سے ناآشنا ہوں یعنی جو“ بائیو ”معیار پر پورے نہ اترتے ہوں“ اگر اسی کسوٹی پر ہیومن اور

Read more

رسول بخش پلیجو: نشانِ جہدِ مسلسل – چھٹی برسی کے موقع پر خراجِ تحسین

نیلسن منڈیلا نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ”سیاستدان اگلے الیکشن کے بارے میں سوچتا ہے اور رہنما آئندہ نسلوں کے بارے فکر کرتا ہے“ ۔ رسول بخش پلیجو صاحب اس صدی کے ایک ایسی ہی عظیم رہنما تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان میں ایک پوری نسل کی بھرپور سیاسی تربیت کرنے میں گزار دی۔ ان کی حیات مسلسل پرامن جمہوری جدوجہد کرنے، سماج میں پسے ہوئے طبقوں خاص کر خواتین اور اقلیتی فرقوں کو قومی دھارے میں

Read more

گل حسن کلمتی: جپسی ہو تو ایسا ہو

گل حسن اپنا تعارف جپسی کرایا کرتے۔ مشرق میں خانہ بدوشی کئی ہزار سال پرانا سلسلہ ہے۔ لیکن اس قدر محنتی، دھرتی سے محبت کرنے والا اپنے آپ کو خانہ بدوش کہہ کر کیا بتانا چاہتا تھا؟ اس سوال کا کھوج ہی میری یہ تحریر ہے جس کے محرک نڈر و بے باک گل رحمان پالاری ہیں جن کا کہا نہ ماننا ویسے ہی ہے جیسے کسی استاد کی بات ٹالتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔ گل حسن کلمتی سے میری

Read more

کیا آپ تخلیقی اقلیت سے واقف ہیں؟

دنیا کے ہر معاشرے میں افراد کے دو گروہ ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ روایتی اکثریت اور تخلیقی اقلیت۔ روایتی اکثریت پر مشتمل افراد مروجہ معاشرتی رسم و رواج اور اصول و ضوابط کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی سوچ اور ترجیحات معاشرے اور خاندان کے بنائے گئے سانچوں میں ڈھلی ہوتی ہیں۔ جن سے انحراف گناہ اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ روایتی اکثریت میں تخلیقی اذہان نہ ہونے کے برابر ہوتے

Read more

بنیادی حقوق جاننا ضروری ہے

یہ بہت سادہ اور آسان سی بات ہے۔ ہر انسان انصاف، امن، محبت، مساوات اور خوشحالی کا طلب گار ہے۔ ظلم، نا انصافی، بدامنی، نفرت اور غربت کو برا سمجھتا ہے۔ معاشرے میں تمام قانون، ادارے اور ضابطے اسی لیے بنائے جاتے ہیں کہ انسانوں کو انصاف، امن اور خوشحالی مل سکے اور بدامنی، نا انصافی اور محرومی کا راستہ روکا جا سکے۔ تاکہ ہر انسان کی زندگی سہل ہو سکے۔ یہی انسانی بنیادی حقوق ہیں۔ انسان نے اپنا سفر

Read more

یومِ مزدور کے بعد مارکسزم کی روشنی میں چند گزارشات اور چند اقتباسات

مزدوروں کا عالمی دن آتا ہے اور محض شورو غل میں گزر جاتا ہے جبکہ، حالات پھر ویسے ہی ہو جاتے ہیں جیسے وہ اپریل کی آخری تاریخ کو رات 12 بجے تک تھے۔ اس دن کئی ریلیاں نکالی جاتی ہیں، جلسے منعقد کیے جاتے ہیں اور کچھ تنظیمیں لگے بندوں اپنی کانگریسیں بھی منا لیتی ہیں۔ لیکن محنت کش و مزدور کے حالات و اطوار جوں کے توں قائم رہتے ہیں۔ اُن میں کوئی بدلاؤ دیکھنے میں نہیں آتا۔

Read more

لینن نے کیسے سوویت یونین کو جنم دیا اور وہ دُنیا بھر میں کمیون ازم کیوں پھیلانا چاہتے تھے؟

لینن کا دنیا بھر میں سوشل ازم پھیلانے کا خواب پورا نہیں ہو سکا لیکن وہ سوویت یونین کی بُنیاد رکھنے میں ضرور کامیاب ہوئے، جو ایک ایسی سُپرپاور بنا جس نے اگلے 70 برسوں میں دُنیا کی بڑی طاقتوں کو چیلنج کیا۔

Read more

جرمنی میں کتب جلانے کا دن۔ 10 مئی 1933

جرمن تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس دن، جرمنی میں ”غیر جرمن روح کے خلاف“ نامی ایکشن کے تحت ہزاروں کتابیں سرعام جلائی گئی تھیں۔ نازی جماعت کے حامی طلباء کے ایماء پر، اس پلان کے تحت ہر چیز، ہر بات، ہر کام یا ہر نظریہ جو نازی نظریات سے مطابقت نہیں رکھتا، اسے صفحہ ہستی سے مٹانا مقصود تھا۔ برلن کے اوپرن پلاٹس کے پاس، ستر ہزار لوگوں کی موجودگی میں، نازی مخالف

Read more

کارل مارکس کی سالگرہ اور بائیں بازو کا زوال

گزشتہ دنوں کارل مارکس کی سالگرہ منائی گئی۔ دنیا بھر میں تقریبات ہوئیں۔ تقاریر ہوئیں۔ لوگوں نے اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ موقع کی مناسبت سے کسی نے خراج تحسین پیش کیا، تو کسی نے مارکس کے خیالات، نظریات اور تخلیقات پر روشنی ڈالی۔ سنجیدہ لوگوں نے مقالات اوور مضامین کے ذریعے مارکس اور اس کے کام پر روشنی ڈالی۔ ان تقاریر اور تحریروں میں زیادہ تر مارکس کی تعریف و توصیف ہی کی

Read more

ایک من گندم سستی اور لارج پزا مہنگا

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ بار بار نظر سے گزری اور ہر مرتبہ ہم دل تھام تھام کر رہ گئے۔ پوسٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت گندم 2800 روپے کی من بک رہی ہے اور لارج پزا 3000 روپے کا فروخت کیا جا رہا ہے۔ ساتھ بتایا گیا کہ سرمایہ دارانہ نظام آدم خور بن گیا ہے۔ Capitalism is Cannibalism ہم نے غور کیا تو بات کو درست پایا۔ سرمایہ داری نظام کا ظلم دیکھیں۔ چالیس کلو

Read more

کارل مارکس اور بیگانگی ذات کا فلسفہ

انسان، اپنے سماج (معروض) کی بدولت ہی انسان ہے۔ ہمارے طور و اطوار، رہن سہن، لباس، زبان اور حتیٰ کہ خیالات بھی سماج کے ہی مرہون منت ہیں۔ اسی حوالے سے ارسطو کہتا ہے کہ ”دنیا الگ الگ افراد کا مجموعہ نہیں ہے، سب کسی نہ کسی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔“ سماج ہی انسان کو حیوانوں کی سطح سے بلند کرتے ہوئے ایسے مقام تک پہنچاتا ہے جہاں کائنات کی باگ ڈور اور تسخیر گویا انسان

Read more

کارل مارکس: تاریخ کا دیدہ ور اور سماجی انصاف کا علم بردار

فلسفہ دانوں نے دنیا کے نظاموں کی بہت سی شرحیں کیں ہیں، مگر  کلیدی بات اس دنیا کو بہتر بنانے کا عمل ہے۔ یہ قول کارل مارکس کا ہے (پیدائش 5 مئی 1818۔ وفات 14 مارچ 1883 ) جو لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں ان کے لوح مزار پر کندہ ہے۔ یہ الفاظ انسانی تاریخ کے مستقبل کا قطبی ستارہ ہیں۔ اس بنا پہ کارل مارکس کا نام دنیا کے عظیم ترین مصلحوں اور دیدہ وروں میں بلند تر ہے۔

Read more

جمیکا کا باب مارلے اور پر امن انقلاب

جرمن فلاسفر ہیگل اپنی تصنیف پیٹرن آف ہسٹری میں جدلیات (بحث و مباحثے کی مدد سے افکار و خیالات کی سچائی دریافت کرنے کا فن) کو تاریخی تناظر میں بیان کرتے ہوئے ماضی کے رونما ہوئے واقعات کو سطحی بنیادوں پر پرکھتا ہے۔ ہیگل کے مطابق تنازعہ ترقی کی کلید ہے ( conflict is the the key to progress) ضروری نہیں یہ تنازعہ / اختلاف متشدد ہو اگر چہ ایسا بہت کم ہوتا ہے لیکن متشدد ہو یا پر امن

Read more

کیا سنسر شپ سے بھٹو کا نام تاریخ سے مٹ گیا؟

پاکستان میں سنسر کی تاریخ ہماری قومی تاریخ جتنی ہی پرانی ہے۔ قائد اعظم کی تقریر اخبار میں سنسر کرنے کی کوشش ہوئی۔ فاطمہ جناح کی ریڈیو پر تقریر سنسر ہونے پر خاصا شور مچا۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ ماضی کی سیاسی شخصیات پر بات کریں تو ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ سنسر کی زد میں کوئی سیاست دان نہیں آیا۔ ضیا الحق کے لیے بھٹو کا نام چھیڑ بن گیا تھا، اس لیے ان کے

Read more

کیا آپ انسان دوستی کی قدیم اور جدید روایتوں سے واقف ہیں؟

پاکستان کے سفر کے دوران بہت سی نجی محفلوں میں بہت سے اجنبیوں اور دوستوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا فلسفہ حیات کیا ہے؟ اور جب میں نے مودبانہ عرض کی انسان دوستی تو انہوں نے مجھے قدرے حیرت سے دیکھا۔ جب ان دوستوں سے مکالمہ آگے بڑھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ بہت سے روایتی اور مذہبی مرد اور عورتیں انسان دوستی کی قدیم اور جدید روایتوں سے واقف نہیں ہیں۔ جو لوگ انسانی اخلاقیات کا واحد

Read more

اسلام میں خدا کا تصور: اختتامیہ

میں نے  گزشتہ بارہ مضامین میں اسلام کے سنہری دور میں اسلامی معاشروں میں فلسفیانہ اور دیگر دلائل کی بنیاد پر خدا کی فطرت اور خصوصیات کی تلاش کو پیش کرنے کی کوشش کی۔ اسلام کے سنہری دور کو تقریباً آٹھویں صدی کے وسط سے تیرہویں صدی کے وسط تک کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں اسلامی تہذیب کا عروج آٹھویں صدی میں اس وقت شروع ہو چکا تھا جب اسلامی فقہ کی تشکیل ہوئی تھی۔

Read more

لیڈر، ہیرو اور دیوتا

ہمارے ہاں شخصیت پرستی بہت زیادہ ہے۔ یہ ایک باقاعدہ روگ ہے۔ کچھ لوگ اسے ”گریٹ مین سنڈرم“ یا عظیم آدمی کی تھیوری بھی کہتے ہیں۔ عظیم لوگوں اور خصوصاً عظیم لیڈر کے بارے میں یہ تھیوری انیسویں صدی میں بہت مقبول ہوئی۔ اس تھیوری کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ انسانی تاریخ کو صرف عظیم لوگوں کے اس پر اثرات کے ذریعے ہی سمجھا سکتا ہے۔ یہ عظیم لوگ اپنے سماج اور وقت کے ہیرو ہوتے ہیں۔ یہ لاثانی

Read more

ژاک دیریدا کا گنجلک فلسفہ اور حق و باطل کا معرکہ

جوں جوں یہ دنیا پیچیدہ ہو رہی ہے توں توں زندگی مشکل ہو رہی ہے۔ اکیسویں صدی کے فلسفیوں کو ہی لے لیں، ان کی کوئی کل سیدھی نہیں، ہر بات گنجلک ہے، ژاک دیریدا سے لے کر مائیکل فوکو تک، ہر کسی کی کوشش رہی کہ انوکھی اور نہ سمجھ میں آنے والی بات کی جائے تاکہ انہیں کلاسیکی فلسفیوں سے ممتاز اور بڑا سمجھا جائے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان جدید فلسفیوں نے نیا زاویہ

Read more

ارمان امر ہو گئے

آج شہید پروفیسر ارمان لونی کی پانچویں برسی منائی جا رہی ہے۔ مزاحمتی سیاست کے قبیل سے تعلق رکھنے والے انہیں عقیدت کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ ارمان صاحب اگرچہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے افکار و خیالات ہمارے رگ و پے میں سرایت کر چکے ہیں۔ یہ بھی بلاشبہ بہت بڑا سرمایہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر چار قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اول الذکر وہ لوگ ہیں جو خود کو

Read more

انارکلی کا نوجوان اور عمران خان کا بیانیہ – قسط اول

یوں تو لاہور اپنی منفرد خصوصیات کی بنیاد پہ پاکستان کے دیگر شہروں سے ممیز ہے، مگر اس شہر کی ایک اور خوبی جو آج بھی ایک طبقے کو اپنی طرف مائل کرتی ہے، وہ انارکلی کے اطراف میں لگنے والا کتب کا بازار ہے۔ یہ بازار تقریباً چالیس سال سے ہر اتوار کو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ غم روزگار سے پریشاں ہو کر جب سے ہم نے اس شہر میں قدم رنجہ

Read more

ایک نئی دنیا کا خیال

گزشتہ تین دہائیوں سے دنیا بھر کے میڈیا اور فکری حلقوں میں نیو ورلڈ آرڈر کا بہت چرچا رہا ہے۔ ”نیو ورلڈ آرڈر“ کی لفظی ترکیب سے آسانی سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس آرڈر سے پہلے کوئی پرانا ورلڈ آرڈر یا آرڈرز بھی موجود تھے۔ اردو زبان ورلڈ آرڈر کا ترجمہ عام طور پر عالمی نظام سے کیا جاتا ہے جو ہمارے خیال میں مناسب نہیں۔ نظام یعنی سسٹم خواہ قدرتی ہو یا انسان کا بنایا ہوا

Read more

کروڑوں بچے سکول جا کر کیا کریں گے

یونیسکو کا ماننا ہے کہ دنیا کہ پچیس کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے۔ یہ ایک عالمی خبر ہے جبکہ پاکستانی خبر یہ ہے کہ دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے پاکستان میں سکولوں سے باہر ہیں۔ یعنی پاکستان میں چالیس فیصد بچے سکول نہیں جا رہے۔ اگر پنجاب کو بیچ میں سے نکال دیا جائے تو باقی پاکستان کے ساٹھ فیصد بچے سکول نہیں جا رہے، اگر صرف بلوچستان کو دیکھا جائے تو ستر فیصد بچے سکول نہیں جا رہے۔

Read more

فرانس کا نو عمر ترین وزیراعظم اور سیاسی کشمکش

یورپ نے تقریباً 500 سال قبل اندھیروں سے نکل کر روشنی کی دنیا کی جانب اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ نشاۃ ثانیہ یعنی حیات نو کے طویل دور میں فکری، ادبی اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جرمن راہب اور مصلح مارٹن لوتھر نے 95 نکات پر مشتمل ایک دستاویز تحریر کر کے ریاست پر پوپ کی بالا دستی کے خاتمے کی، تحریک اصلاح کی کامیابی کی راہ ہموار کر دی تھی۔ ان گزری صدیوں

Read more

اشتراکی نظام اور کارل مارکس

سرمایہ دارانہ نظام کے برعکس اشتراکیت ایک مختلف اقتصادی نظام ہے۔ جہاں ملک یا سماج میں مالی اور صنعتی وسائل کی ملکیت اشتراک میں ہوتی ہے۔ یہ نظام مختلف اقسام کے اشتراکی تنظیموں کے ذریعے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جن میں مشترکہ ملکیت، مشترکہ کنٹرول اور منفعت ہوتی ہے۔ ابتدائی طور سینٹ سیمونز نے اپنے فلسفے کی تجرید کے لئے اشتراکیت کو استعمال کیا جو اشتراکی ملکیت اور اشیاء کی پیداواری نظام پر مبنی تھا۔ جسے عوام میں پذیرائی حاصل

Read more

ساقی فاروقی کا جھوٹ پکڑا گیا

ہر نسل کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ اسی سچ سے اس عہد میں بسنے والوں کی قامت متعین ہوتی ہے۔ وقت کی گاڑی آگے بڑھ جاتی ہے اور اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی دھول میں چہرے، آوازیں نیز خوب اور ناخوب کی میزان کے پلڑے اوجھل ہونے لگتے ہیں۔ تاریخ کی چادر پر مرجان ٹانکنے والے چیدہ چیدہ ساونت اپنے بعد بھی کچھ عمر پاتے ہیں مگر آخر فنا، آخر فنا۔ آج کتنوں کو یاد ہے کہ کس قبیلے کا کون

Read more

بہروپیے کا المیہ

ریاست کی بہترین تعریف اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ۔ ”ریاست در حقیقت منظم انسانوں کی اجتماعیت ہی کا نام ہے“ تو پھر یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک مدت طویل تک ان کو بے وقوف بنا کر رکھا جائے۔ کروڑوں انسانوں کے گلے میں چند خاندانوں کی غلامی کی زنجیر ڈال دی جائے۔ مفاد پرستوں کے ہاتھوں ان کی نسلوں کا مستقبل تاریک کر دیا جائے۔ ریاست کے محنت کشوں کی روزی روٹی کا فیصلہ

Read more

جوتے سامنے رکھ کر نماز پڑھنے کا مسئلہ (مکمل کالم)

میرا ایک دوست پانچ وقت کا نمازی ہے، کبھی کبھار مجھے بھی تبلیغ کے لیے مسجد لے جاتا ہے، مگر جب بھی ہم اکٹھے جاتے ہیں تو اس بات پر بحث ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے جوتے کیوں سامنے سجا کر نماز پڑھتا ہے۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ اس طرح تم عملاً جوتوں کو سجدہ کرتے ہو جو کسی طور بھی مناسب نہیں، اگر تمہیں اپنے جوتے نماز سے زیادہ عزیز ہیں تو پھر ایسی نماز کا کوئی

Read more

بلال پاشا: سسٹم کی ستم ظریفیوں کا تازہ شکار

ہم سب جس نظام میں جی رہے ہیں یہ آدم خور دیو کا روپ دھار چکا ہے۔ اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے انسانوں کو نگلنا اب اس کی مجبوری بن چکی ہے۔ بلال پاشا اس نظام کے ظلم کا تازہ ترین شکار ہے۔ بلال کو اس نظام کی ستم ظریفیوں کا اندازہ تھا اس لیے وہ خود کو بچانے کے لیے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر چیخ و پکار کرتا رہتا تھا کہ یہ نظام آہستہ آہستہ

Read more

’یونیورسٹی میں منشیات پہنچ جاتی ہے مگر کتابیں لے جانے کی اجازت نہیں‘: تربت یونیورسٹی کی وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟

یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس میں بی ایس فورتھ سمسٹر کی طالبہ اور بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی انفارمیشن سیکریٹری نگرہ بلوچ نے بھی شکایت کی کہ یونیورسٹی میں عام کتابیں پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

Read more

لاہور کا سقراط : ایک کتاب، ایک سفر

ستر کی دہائی میں جب میں لاہور کے قدیم علاقہ مزنگ کی ٹیڑھی میڑھی گلیوں اور بازاروں میں اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کے لیے سگریٹ کی خالی ڈبیاں اکٹھا کرنے میں مگن ہوتا تھا۔ مجھے کہاں پتہ تھا کہ ان دنوں اسی شہر کے دانش کدوں، چائے خانوں اور ترقی پسندی کے مراکز پر لاہور کے سقراط علم و دانش، بیداری اور شعور کی کرنیں بانٹنے میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے ہم نفسوں کو بامعنی

Read more

پاکستانی سماج میں محنت کشوں کا المیہ

محنت کش، جنہیں کارل مارکس سرمایہ اور قدرِ زائد کا اصل خالق اور صنعتی سماج میں ”ریڑھ کی ہڈی“ قرار دیتا ہے۔ آج اکیسویں صدی کے پاکستان میں بھی ویسی ہی زندگی گزار رہے ہیں جیسی وہ کبھی اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے یورپ اور امریکہ میں جیا کرتے تھے۔ البتہ، یورپ اور امریکہ نے تو ”سرخ انقلاب“ کے ڈر سے اور ”طبقاتی تصادم“ کی ناگزیریت کو ٹالنے کے لئے محنت کشوں اور مزدوروں کے حالات بہت حد تک سدھارے

Read more

عابد حسن منٹو کی نظریاتی استقامت

عابد حسن منٹو کی سرگزشت ”قصہ پون صدی کا“ ہماری عوامی سرگزشت کا ایک عبرت ناک باب ہے۔ میں نے عابد حسن منٹو کو پہلے پہل گورنمنٹ کالج کیمبل پور (حال اٹک) میں یوم غالب کی ایک تقریب میں دیکھا اور سنا تھا۔ خود میں نے اس تقریب میں اپنا پہلا مضمون بعنوان ’غالب، غزل سے قصیدے تک‘ پڑھا تھا۔ بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں ہمارے اس کالج میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور پروفیسر محمد عثمان ہر سال

Read more

مولانا عبید اللہ سندھی اور لینن کی ملاقات: ایک وضاحت

مخدومی و مکرمی جناب پروفیسر فتح محمد ملک کی خودنوشت ”آشیانہ ء غربت سے آشیاں در آشیاں“ زیر مطالعہ ہے۔ ملک صاحب کو کیمبل پور (موجودہ اٹک) کالج میں ڈاکٹر غلام جیلانی برقؔ اور پروفیسر محمد عثمان جیسی شخصیات کا فیض حاصل رہا ہے۔ ملک صاحب اس احساس کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ یہ اساتذہ انھیں ایک ترقی پسند مسلمان دیکھنا چاہتے تھے۔ اشتراکیت اور ترقی پسند ادب سے روکنے کی بجائے ان اساتذہ نے ان کتابوں کے مطالعے

Read more

پنڈورا باکس

آغاز آفرینش کے بارے میں تمام مذاہب، معاشروں اور سائنس دانوں کے اپنے اپنے نظریات اور خوبصورت کہانیاں موجود ہیں۔ قدیم یونانی دیومالائی روایات کے مطابق اس کرۂ ارض کو آباد کرنے کے لئے دیوتاؤں کے بادشاہ زیوس نے ایک دیوتا پرومی تھیوس کو انسان تخلیق کرنے کا حکم دیا اور اس کے بھائی اپیمی تھیوس  کو جانور اور پرندوں کی تخلیق کا حکم دیا۔ یونان کے ایک کسان شاعر ہیسیڈ ( 750 ق۔م ) نے پہلے باغی اور پہلے

Read more

اپنی پسند کا مفکر تلاش کریں – مکمل کالم

کبھی کبھی فلسفیوں کی بھی سمجھ نہیں آتی، جس کو دیکھو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے۔ آپ جس بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں، آپ کو اپنے مطلب کا فلسفی مل جائے گا۔ اگر قنوطی ہیں تو شوپنہار حاضر ہے، اگر رجائیت پسند ہیں تو ایپی کیورس کی تحریریں پڑھ لیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ خارجی دنیا محض ہمارے ذہن کی اختراع ہے تو اس دعوے کی حمایت میں دلائل اٹھارہویں صدی کے پادری

Read more

اپنی پسند کا مفکر تلاش کریں (مکمل کالم)

کبھی کبھی فلسفیوں کی بھی سمجھ نہیں آتی، جس کو دیکھو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے۔ آپ جس بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں، آپ کو اپنے مطلب کا فلسفی مل جائے گا۔ اگر قنوطی ہیں تو شوپنہار حاضر ہے، اگر رجائیت پسند ہیں تو ایپی کیورس کی تحریریں پڑھ لیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ خارجی دنیا محض ہمارے ذہن کی اختراع ہے تو اس دعوے کی حمایت میں دلائل اٹھارہویں صدی کے پادری

Read more

سائنسدان برٹرنڈ رسل نے خدا کو کیوں خدا حافظ کہا؟

پچھلی چند صدیوں کے جن انگنت سائنسدانوں اور فلسفیوں نے مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہا ان میں ماہر بشریات چارلز ڈارون ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ ماہر سماجیات کارل مارکس ماہر فلکیات سٹیون ہاکنگ اور وجودی فلسفی ژاں پال سارتر سر فہرست ہیں۔ غیر روایتی اور باغی فلسفیوں کی طویل فہرست میں ایک نام ریاضی دان سائنسدان اور فلسفی برٹرنڈ رسل کا بھی ہے۔ ان کی مقبول عام کتاب WHY I AM NOT A CHRISTIAN نے دو نسلوں کے

Read more

فکر و فلسفہ

کہتے ہیں اچھی کتاب ہو یا فلم بار بار پڑھنی اور دیکھنی چاہیے۔ مثلاً قرۃ العین حیدر کا معرکتہ آرا ناول ”آگ کا دریا“ جتنی بھی بار پڑھیں تو ہر بار ایک نئے جہت سے تعارف ہوتا ہے۔ رینے ڈی کارٹ کے مشہور قول I think, therefore I am کو جناب جمشید اقبال نے اپنی کتاب ”فکری روایات کا تنقیدی مطالعہ اور مقامی فکر و شناخت کا مقدمہ“ لکھ کر عملی جامہ پہنایا ہے۔ فلسفہ پڑھنا، سمجھنا اور پھر فلسفیانہ

Read more

جرمنی کی اترن بھارت نے کیوں پہنی؟

اس وقت بھارت میں جس تیزی سے عام ذہن مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مسلح کیے جا رہے ہیں۔آنے والے برسوں میں یہ روش اس ریاست کے ماتھے کا کلنک بن سکتی ہے اور یہ وہ ٹیکہ ہے جسے دھونے کے لیے اکثر اوقات عشرے بھی ناکافی ہوتے ہیں۔ یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ( مظفر رزمی ) کچھ دیر کے لیے فلیش بیک میں

Read more

انصاف کی بھیک مانگی نہیں جاتی

انقلاب فرانس کے بانی روسو نے کہا تھا کہ قوی ترین شخص کبھی بھی طاقتور نہیں رہتا تاوقتیکہ قوت کو حق میں نہ بدل دے اور اطاعت کو فرض میں۔ ایسا کون سا ظلم تھا جو فرانس کے جاگیردارانہ سماج میں نہ تھا۔ ظلم اور جبر کی زنجیروں میں جکڑی انسانیت کو روسو نے آزاد تو نہ کیا البتہ راہ دکھا دی۔ پھر تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب فرانس آج بھی دنیابھر کے انقلابیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ پہلی

Read more

عالمی بیگانگی کے شاخسانے

کسی نجی ٹیلی ویژن پر پاکستان کی موجودہ معاشی سماجی اور سیاسی صورتحال پر معروف صحافی اور دانشور حسن نثار صاحب نے اپنے مخصوص جوشیلے اور شاعرانہ انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا اصل المیہ یہ ہے کہ ”ہمارے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہے۔ دعا ہے قبولیت نہیں، غذا ہے لیکن خالص نہیں، دوا ہے لیکن جعلی ہے اور اس میں اثر نہیں، مرض ہے لیکن علاج نہیں، عدالت ہے لیکن

Read more

ہندوستان میں تاریخی کسان مورچہ: ڈاکٹر اشوک دھاولے سے مکالمہ

نوآبادیاتی دور میں برصغیر متحدہ ہندوستان پر انگریز سامراج نے قبضہ کیا تو وہ اسے سونے کی چڑیا کہتے تھے۔ یہاں کے مہکتے کھیت اور کھلیان سونے کے ذخیروں سے کم نہ تھے۔ ایک طرف ہمارے وطن کی انتہائی زرخیز مٹی اور جفاکش کسانوں کی محنت سے اگنے والے اناج کی بے پناہ پیداوار کی دنیا بھر میں زبردست مانگ تھی، تو دوسری طرف یہاں پیدا ہونے والی اعلیٰ معیار کی کپاس سے برطانیہ کی کپڑے کی صنعت کو خام

Read more

ہیگل ایک فلسفیاتی معمہ ( 1 )

جرمن فلسفی، جارج ول ہیلم فریڈرک ہیگل، گزشتہ تین صدیوں کے دوران سب سے زیادہ جانے مانے اور سب سے کم سمجھ میں آنے والے فلسفی ہیں۔ ایک طرف جہاں وہ جرمنی میں وطن پرستی کی حمایت کرنے پر مورد الزام ٹھہرائے جاتے تھے وہاں نوجوان کارل مارکس کو جذبہ محرکہ فراہم کرنے پر قدر کی نگاہ سے بھی دیکھے جاتے تھے۔ اکیسویں صدی کے جدید فلسفے کے طلباء اور اساتذہ ہیگل سے محبت کریں یا نفرت، مگر ان کو

Read more

کتاب کا خوف: ہٹلر سے قرآن سوزی تک

بدھ کے روز اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مذہبی منافرت کی ترغیب دینے اور اس کے اظہار کی مذمت کے علاوہ حال ہی میں سویڈن میں ہونے والے واقعہ کی بھی مذمت کی گئی جس میں عراق سے نقل مکانی کرنے والے دو باشندوں نے ایک مسجد کے سامنے قرآن کریم کے نسخہ کی بے حرمتی کی اور اسے جلایا۔ اس قرارداد میں ان افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی

Read more

نظریہ ارتقا اور انسانی نفسیات کے بارے میں سنجیدہ مکالمہ

عمر فاروق کے سوال محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب میں امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں دل کی گہرائیوں سے سمجھتا ہوں کہ آپ میری زندگی کے چند ان افراد میں سے ہیں جن سے ‘محبت اور دوستی’ کے تعلق کو میں بہت قیمتی جانتا ہوں۔ چند دن پہلے آپ کی کتاب "انفرادی اور معاشرتی نفسیات” پڑھنے کا موقع ملا۔ مجھے کتاب کی خاص بات یہ لگی کہ اس میں عام آدمی کے سوالات کے جوابات

Read more

تاریخ کے کباڑ خانہ کے تجزیے

یہ سوال پہلے انسان کی پیدائش سے ہی ”حل طلب“ رہا ہے کہ انسانی آزادی کی تفہیم کیا ہونی چاہیے اور ایک انسان اپنی آزادی کے شعور کو کتنا سمجھ کر اسے اپنی آزاد حیثیت کے لئے استعمال کرنے کا مجاز ہے، اسی کے ساتھ اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ زمانے کے ارتقا اور ترقی کے ساتھ ”انسانی آزادی“ کے مفاہیم حالات اور وقت کے تناظر میں تبدیل ہوتے رہے ہیں، آزادی حاصل کرنا جہاں

Read more

9مئی کے واقعات اور انتہا پسندی کا بچگانہ پن

اس کے انجام کو فی الوقت بھلادیں اور تسلیم کرلیں کہ انقلاب روس جب وقوع پذیر ہوا تو اسے ایک تاریخ ساز واقعہ مانا گیا۔ یہ دنیا کے اس ملک میں ہوا جو ’مشرقی‘ کہلوانے سے شرماتا تھا مگر یورپ کے ’مہذب‘ ممالک اسے سفید فام اور مسیحی ہونے کے باوجود ’اپنا‘ سمجھنے کو آمادہ نہ تھے۔ رقبے کے اعتبار سے دنیا کے اس سب سے بڑے ملک کی بنیادی شناخت ’زرعی‘ تھی۔ صدیوںتک ’غلام‘ اس کی زمینوں کو سرسبز

Read more

بے بنیاد ذہن سازی کی غلطی

انسانی ذہن میں کسی مثبت نظریے کو راسخ کرنا ایک بڑا دشوار گزار اور دقت طلب کام ہے۔ کسی بھی نظریے کو انسانی ذہن میں بٹھانے کے لئے یا انسانوں میں اسے مقبول بنانے کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس کی مثال ہمیں مذاہب کی دنیا میں بھی ملتی ہے اور دیگر نظریات کی ترویج کی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ دنیا کے بیشتر مذاہب اپنے اولین دور میں اتنے مقبول نہ تھے جتنے وہ بعد

Read more

تصور مذہب اور تیسری دنیا

میرے خیال میں یورپ۔ امریکہ اور کینیڈا میں آباد پاکستانی شدید کنفیوژن اور شناخت کے بحران کا شکار نظر آتے ہیں۔ نہ تو وہ اپنے ماضی اور سابقہ وطن کو بھلا پاتے ہیں اور نہ ہی نئے وطن میں خود اور اپنے بچوں کو ایڈجسٹ کر پاتے ہیں۔ پاکستان میں یہی لوگ اپنے بچوں کو گرامر اسکول۔ کانوینٹ اور انگلش اسکولز میں داخلے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں جبکہ یہاں وہی لوگ اسلامک اسکولز۔ حلال میٹ کے لئے میلوں کا

Read more

تاریخ کا شعور بانٹنے والا ”ڈاکٹر مبارک علی“ دربدر کیوں؟

اکیسویں صدی جسے انسانی شعور کی بالغ صدی کہنا زیادہ مناسب ہو گا، سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت اساطیری تصورات اپنی اہمیت و فضیلت بڑی تیزی سے کھونے لگے ہیں اور آج کے انسان کے ہاتھ ایک ایسی کسوٹی لگ چکی ہے جس کے ذریعے سے وہ بہت کچھ چھانٹی کر سکتا ہے۔ ماضی کی توہماتی کہانیاں اور لفظوں کے خیالی قلعے جو موٹی موٹی کتابوں کی صورت میں موجود ہیں، جنہیں آج بھی روایتی معاشروں میں تمام تر سائنسی

Read more

یکم مئی 2023، کچھ شکایتیں

ذہن میں عجیب و غریب کیفیت پیدا ہوئی جب یکم مئی 2023 کو فیکٹری مالکان کے یکم مئی کے لئے بینر، مریم اور خان کو مزدوروں کے لئے ریلیاں منعقد کرواتے، اور مزدوروں کو محنت مزدوری کرتے دیکھا، اس سے تین نکات ذہن میں ابھرتے ہیں، ذیل میں ان تینوں نقاط کو ڈی کوڈ کیا گیا ہے۔ پہلا یہ کہ بورژوا، مذہبی اور بالائی درمیانہ طبقہ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ سرمایہ دار اور مذہبی طبقہ تو ریل کی پٹڑی کی

Read more

ڈاکٹر زبیدہ سرنگ کی کتاب کا ایک تجزیہ

ڈاکٹر زبیدہ سرنگ صاحبہ کی کتاب ”آپٹکس، میڈ ایزی“ کو چترال ہی میں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔ قومی ٹی وی چینلز نے ڈاکٹر صاحبہ کے کئی انٹرویوز کیے اور ان کے کام کو سراہا گیا۔ میں نے بھی ایک محب وطن پاکستانی اور چترالی ہونے کے ناتے ان کے کام کی تعریف کے پل باندھ دیے تھے اور ان کو فخر چترال اور دختر پاکستان کا لقب تک دے دیا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے

Read more

مزدور سے متعلق تاثرات کی تصحیح

سوشل میڈیا ہر شخص کا اخبار، ہر شخص کا ڈائجسٹ اور ہر شخص کا اپنا ذریعہ اظہار یعنی میڈیم بن چکا ہے۔ یکم مئی کے روز لوگوں نے یہ جانے بغیر کہ ”یوم مئی“ کی تاریخ کیا ہے، یوم مئی کو سب سے پہلے کہاں سرکاری طور پر منایا جانے لگا اور مزدور جن کے لیے یہ دن اب دنیا بھر میں ماسوائے روس کے ( کیونکہ یہاں اب یکم مئی کو ”یوم بہار و ًمحنت“ کا نام دیا جا

Read more