پاکستان کو مسلمانوں کے لئے آخری آرام گاہ میں تبدیل نہ کیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب تو آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجانا چاہیے کہ آج دنیا میں صرف غیرمسلم ممالک ہی ترقی یافتہ کیوں ہیں؟ دنیا میں صرف سیکولر ریاستیں ہی کیوں ترقی کررہی ہیں سیکولر ریاستوں ہی کی عوام کو یکساں سطح پر جینے کا سامان اور یکساں حقوق و انصاف کیوں مہیا ہے؟ جب تک ہم مذہب اور سیاست کو الگ نہیں کر دیتے ہمارے عوام کو ذہنی سکون حاصل ہوگا نہ معاشی۔ سیکولر ریاستیں ہر مذہب کو زندہ رہنے کا حق دیتی ہیں مگر سیاست سے دور رکھتی ہیں کیونکہ مذہبی پیشواؤں کا کام اپنے مذہب کی خدمت کرنا ہے، مذہبی کارڈ استعمال کرکے حکومتی امور میں رخنہ اندازی کرنا نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں عیسائی، ہندو، مسلمان، پارسی، ملحد سب اپنے اپنے مذاہب اور نظریات کے ساتھ ایک جیسی شہریت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ حکومت چلانے کے لئے سیاسی پارٹیوں میں ہر شخص کو شامل ہونے کی اجازت اور حق حاصل ہے۔ ہر کوئی صدر وزیر مشیر بن سکتا ہے۔ کسی کو اس کے مذہب کی بنیاد پر روکا یا الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کبھی ایسی غلطی ہو جائے تو پوری قوم بلاتفریق رنگ و نسل و زبان و مذہب اس شخص کی حمایت کے لئے اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور ملکی قانون بھی ایسے شخص کی حمایت کرتا ہے۔

مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ غیرمسلم ممالک میں آپ کسی بھی شخص سے ملازمت یا دنیاوی کاموں کی منیجمنٹ کے دوران اس کا مذہب نہیں پوچھ سکتے۔ کسی کو جھگڑے میں اس کی آبائی شناخت کا طعنہ نہیں دے سکتے۔ اس پر قانونی گرفت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پسماندہ مذہبی ممالک سے بھاگ کر لوگ جوق در جوق ترقی یافتہ ممالک ممالک میں آبستے ہیں اور خوش و خرم رہتے ہیں۔ وہ اپنا لباس مذہب اور زبان کی شناخت برقرار رکھتے ہیں۔

غر سیکولر ممالک میں جب بھی کسی کو لیڈری اور اپنی پستش کروانے کا شوق چڑھتا ہے وہ اپنا ایک الگ فرقہ یا گروپ بنا لیتا ہے اور اپنے عقیدت مندوں سے سجدے کروا کے اور مال بٹور کر اپنی منفی انا کی تسکین کرتا ہے۔ وہ عقیدت مندوں کی سوچ کو اس قدر تنگ و محدود کرد یتا ہے کہ انھیں اپنے فرقے یا گروپ کے علاوہ کوئی دوسرا گروپ اچھا ہی نہیں لگتا۔ اپنے گروپ کی بڑائی قائم کرنے کے لئے وہ دوسرے گروپوں کا قتل کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے آج مذہبی ممالک آپسی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ گروپ لیڈران فرقے بنا کر مالامال ہیں۔ اربوں کے اثاثے رکھتے ہیں اور غیرمسلم ممالک میں جاکر بڑے بڑے کاروبار کرتے ہیں۔ عقیدت مند ضروریات زندگی سے محروم، تنگ نظری کی چھری سے ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کے حقوق اور ان کی خوشحالی آئینہ ہے کہ ترقی کے لئے عقل کا استعمال ضروری ہے اور مذہب ذات کی روحانی تسکین کے لئے ہے نہ کہ حکومت چلانے کے لئے۔ لاکھوں پادری کلیسائیں تو چلارہے ہیں مگر ان کا حکومتی امور میں کوئی لینا دینا نہیں۔ جو سیاسی سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ سیاست کرے اور جسے مذہب کا شوق ہے وہ عبادت گاہوں میں کام کرے۔ نفرت پھیلانے کی کسی کو اجازت نہیں۔

آج پاکستان میں مسلمان دیگر مذاہب سے جس طرح کا سلوک کر رہے ہیں اس کی بنیاد پر ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے لاکھوں تارکین وطن کو تو ان ممالک میں جیل میں ڈال دیا جانا چاہیے تھا، ان کے املاک اور عبادت گاہوں کو جلاکر خاکستر کر دینا چاہیے تھا مگر معمولی سے ردعمل کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ان ممالک میں رہنے والے پاکستانی مسلمان شہریت اختیار کر کے اپنے ملک سے زیادہ چین و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔

پاکستان میں 99 فیصد آبادی مسلمان ہے، اسے مسلمانوں کی آخری آرام گاہ میں تبدیل نہ کیجئے۔ اسلام تنگ نظری نہیں سکھاتا مگر مذہبی دیوتا بننے کے شوقین مسلمانوں کو تنگ نظری کی انتہا کی جانب لے جا رہے ہیں۔ قبروں میں سب اکیلے ہوں گے مگر دنیا میں رہنے کے لئے مل جل کر رہنا ضروری ہے۔ آخرت کا سامان عبادت میں ہے نہ کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دینے میں۔ آج دنیا بھر میں پاکستان جاہلوں کی بستی کہلاتا ہے۔ کیا ہم نے اسلام کا یہی رخ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •