میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کا 55 واں یوم شہادت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرزمین گجرات اپنی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر عسکری گیٹ وے ٹو کشمیر کی شہرت رکھتی ہے۔ جرأت و بہادری اس خطہ کے لوگوں کی صدیوں پرانی صفت ہے جو ان کی جبلت بن چکی ہے۔ یہ غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین ہے۔ دفاع وطن کے لیے جب بھی ضرورت پڑی اس سرزمین کے بہادر جان ہتھیلی پر لے کر نکل آئے اور جرأت، بہادری اور قربانی کی ایسی لازوال داستانیں رقم کیں کہ نشان حیدر جیسے اعزازات انہی پر نچھاور ہوتے رہے۔ گجرات تین نشان حیدر حاصل کرنے والوں کی جائے پیدائش ہے۔

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید اور میجر شبیر شریف شہید۔ ۔ ۔ آج 12 ستمبر گجرات کے بہادر فرزند میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کا 55 واں یوم شہادت ہے۔ قابل فخر عزیز ملت میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں لاہور سیکٹر کے برکی محاذ پر عزم و شجاعت کی لازوال داستان اپنے خون سے رقم کرکے وطن عزیز کی سالمیت اور آزادی کی خاطر جام شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔

میجر راجہ عزیز بھٹی گجرات کے گاؤں لادیاں کے رہائشی ماسٹر محمد عبداللہ بھٹی کے ہاں 06 اگست 1923 ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔ وہیں ایام طفولیت گزارے اور ابتدئی ثانوی تعلیم حاصل کی۔ جنوری 1948 ء میں فرسٹ ریگولر پی ایم اے لانگ کورس میں داخلہ لیا اور دوران تربیت اپنی ذہانت و شجاعت کے جوہر خوب دکھائے چنانچہ 4 فروری 1950 ء کو اپنی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے ہاتھوں سے نارمن گولڈ میڈل اور اعزازی تلوار حاصل کی۔ بعدازاں کئی پیشہ وارانہ تربیتی کورسز کیے اور اسی سلسلے میں کینیڈا کے کنگسٹن کالج اور جرمنی سے انٹرپریٹر کا کورس کیا۔ عزیز بھٹی اردو، پنجابی، انگریزی، چینی، جرمن، بنگلہ اور عربی زبانیں جانتے تھے۔ مطالعے کے شوقین اور ذوق کتب بینی کے حامل وسیع المطالعہ، ذہین و سوچ بچار رکھنے والے شخص تھے۔

ستمبر 1965 ء کی انڈو پاک جنگ میں بھارتی افسروں نے لاہور کے جمخانہ میں مے نوشی کا خواب دیکھا اور صبح کا نشتہ لاہور میں کرنے کا منصوبہ بنایا تو برکی کے محاذ پر بی آر بی کینال کے پاس مرد مجاہد میجر راجہ عزیز بھٹی ان کی راہ میں تدبیر و تزویر اور بہادری اور عزم کی سیسہ پلائی ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا اور انہوں نے مختصر فوج کے ساتھ مسلسل پانچ روز دشمن کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کیے رکھا اور آخر کار 12 ستمبر 1965 ء کو خون شہیداں سے جنگی تاریخ میں شجاعت کا نیا باب رقم کیا۔

بہادر افسر نے نہ صرف دشمن کے حوصلے پست کیے بلکہ اپنی فوج کے عزم کو بھی دوآتشہ کر دیا۔ میجر عزیز بھٹی شہید کی والدہ کی خواہش کے مطابق شہید کو ان کے آبائی گاؤں لادیاں نزد صبور، گجرات میں گھر کے صحن میں سپردخاک کیا گیا۔ ان کی عظیم شہادت کے اعتراف میں 23 مارچ 1966 ء کو انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ گجرات کے ممتاز وکیل، صحافی، دانشور مرحوم اصغر علی گھرال نے تحسین کے جذبے اور ذوق و شوق سے 1967 ء میں میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی سوانح عمری اپنے مخصوص انداز میں شائع کی جس پر انہیں رائٹرز گلڈ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ وقت کی ضرورت ہے کہ آج آئی ایس پی آر میجر عزیز بھٹی شہید کی اس سوانح عمری کو شائع کرکے ان کی شخصیت، شجاعت اور کارناموں سے نسل نو کو متعارف کروائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •