نیند کے ماتوں کو جگانے کے لئے صور قیامت بھی ناکافی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہمارے معاشرے میں، ان دنوں اکثر یہ تذکرہ سننے کو ملتا ہے کہ اب وقت زیادہ تیزی سے گزر رہا ہے۔ اس تیزرفتاری کی، اپنے اپنے حساب سے تشریح بھی کی جاتی ہے۔ نہیں معلوم یہ احساسات، واقعی مبنی بر حقیقت ہیں یا یہ صرف زندگی کا بیشتر حصہ طے کر جانے والے، عمر رسیدہ لوگوں کا وہم اور مفروضہ ہے۔ جوانوں اور نوجوانوں میں تیزی کا یہ تاثر شاید اس لئے نہ ہو کہ ابھی زندگی کے ساتھ آگے جانے کے امکانات ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔

وقت کے سست یا تیز رفتار ہونے سے قطع نظر، وقت کے منظر نامے پر تسلسل سے ابھرنے والے نقوش، بلاشبہ معا شرتی زوال کی تشویشناک تصویر بنتے جا رہے ہیں اور اس بات پر، ہر عمر کے افراد کے درمیان اتفاق پایا جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں انسانیت سوز اور شرمناک خبروں کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ ایک نیا سانحہ، ایک نیا المیہ، ایک نئی دکھ بھری ببپتا، ہمارے مقابل ہوتی ہے۔ کالے کرتوتوں کی ایسی ایسی خبریں، ایسے ایسے مقامات سے، ایسے ایسے حالات اور تفصیلات کے ساتھ منظر عام پر آتی ہیں کہ انسانیت لرز کر رہ جائے۔

ان افسوسناک واقعات اور اطلاعات کا تعلق عموماً ”اس درجہ پستی اور اخلاقی گراوٹ سے ہوتا ہے کہ“ انسانیت سوز ”اور“ شرمناک ”کے الفاظ ان کے آگے حقیر اور ان جرائم کی عکاسی سے عاجز دکھائی دیتے ہیں۔

دلخراش پہلو یہ ہے کہ وہ ادارے جن سے کسی معاشرے میں بہتری، تبدیلی اور اصلاحات کی توقع کی جاتی ہے، ان میں اس لہر کی روک تھام، اس کی بیخ کنی اور اس کے سدباب کے لئے وہ جوش و خروش اور تڑپ سرے سے عنقا نظر آتی ہے جس کے لئے معاشرہ، ان کی تشکیل کرتا ہے، بلکہ اس سے زیادہ دکھ اور تشویش کی بات یہ ہے کہ وہ اس قسم کے ناپسندیدہ اور ناخوشگوار واقعات میں پوری طرح شامل بھی نظر آتے ہیں اور بالواسطہ اور بلاواسطہ اس کی پشت پنا ہی کے مرتکب بھی!

ہمارے معاشرے میں، نصابی اور کتابی تشریحات اور توجیہات کی لوریاں سنا سنا کر ذہن اور اس کے نتیجے میں، طرز فکر کو، جس نہج پر لے آیا گیا ہے وہ خوش گمانی کا ایسا سرور ہے کہ اس آئنے میں اپنے سوا سب بھدے اور بد ہیت نظر آتے ہیں اور اپنی ہر، بدچلنی، بد نیتی، بے کر داری اور بے راہ روی کے اتنے جواز گڑھ لئے گئے ہیں کہ، اصل منظر دیکھنے، سمجھنے اور جانچنے کی اہلیت ہی ختم ہونے کو ہے۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کی روش اس قدر دیرینہ، پختہ اور گہری ہو چکی ہے کہ اپنا گریبان دکھائی ہی نہیں دیتا۔

خوش فہمی کی اسی ریت کا کمال ہے کہ بے حسی اس عروج پر آچکی ہے کہ پورا معاشرہ ایک لا یعنی فوری ردعمل کے بعد، اگلے سانحے تک کے لئے سو جاتا ہے۔ نہ ماہرین نفسیات کی نیندیں اڑتی ہیں، نہ ماہرین قانون مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔ نہ معاشرہ سدھار، متحرک ہوتے ہیں نہ فیصلہ ساز، بیدار ہوتے ہیں۔ نہ ماہرین سماجیات، عوامل و اسباب کا تعاقب کرتے ہیں نہ درس و تدریس کے جہاں دیدہ نباظ، وجوہات اور اقدامات جاننے میں دلچسپی لیتے ہیں۔

نامور ماہر سماجیات و عمرانیات تھامس ہابز نے ایک معاشرے کی ضرورت بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسانی زندگی معاشرے کے بغیر شر انگیز، اور حیوانیت سے بھر پور ہو سکتی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ انسان، فطری طور پر صرف اپنی نگہداشت کا اہل ہے اس لئے وہ، معاشرہ کی عدم موجودگی کی صورت میں، لوگوں کی غذائی اشیا چرائے گا، دوسرے گھروں کی خواتین کو ورغلائے گا اور اس راستے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو مار ڈالے گا۔

اس توجیح کی صورت میں، یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے اردگرد جنم لینے والی اور تیزی سے پھیلتی ہوئی، یہ لا قانونیت اور وحشت، کیا یہ کہہ رہی ہے کہ ایک معاشرے کے طور پر ناکامی اب زیادہ دور نہیں (کہ آثار کی نشاندہی یہی ہے ) ۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے خوف آتا ہے کہ، اگر

کل کلاں کسی بین الا اقوامی ادار ے نے، غربت کی لکیر کی طرح عزت کی لکیر بھی، کھینچ دی، تو خدا نہ خواستہ ہم، اس لکیر کے زیریں حصے میں نمایاں نہ ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •