عورت کا منکر نکیر سے مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


وہ اپنی قبر کے سرہانے بیٹھی تھی۔ بہت سے لوگ کلمہ شہادت پڑھتے، مٹھیاں بھر بھر کے قبر پر مٹی ڈال رہے تھے۔ وہ بال کھولے حیراں پریشاں اپنی قبر پہ بنتی مٹی کا پہاڑ دیکھ رہی تھی۔ اسے خیال آیا کہ عمر بھر وہ اسی پہاڑ کا بوجھ اپنے کندھوں پہ اٹھائے گھسٹتی رہی تھی۔ آج اس کے کندھے ہلکے ہو گئے تھے اور اس کا وجود منوں مٹی تلے دب چکا تھا۔ کچھ دیر میں اسکی قبر تیار ہو گئی۔ وہاں جمع سب لوگوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔

اسکے بیٹوں نے آخری سسکیوں کا قرض اتارا اور دھیرے دھیرے سب لوگ قبرستان سے نکلتے چلے گئے۔ وہ خالی آنکھوں سے لوگوں کو جاتا دیکھتی رہ گئی۔ ایک گہرے سکوت نے پورے قبرستان کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ درختوں کے سائے لمبے ہونا شروع ہوئے۔ اسنے مغربی پہاڑیوں کی طرف دیکھا تو سورج اپنی لال لال آنکھیں ملتا، جمائیاں لیتا، آہستہ آہستہ پہاڑیوں کی اوٹ میں اتر رہا تھا۔ اسنے پلٹ کر اپنی قبر کو دیکھا۔ اسے قبر کے پار کفن میں لپٹا اپنا وجود نظر آیا۔

سکڑا اور سمٹا ہوا۔ اس نے سوچا بلاوے کا وقت آ گیا ہے شاید۔ وہ اٹھی دو قدم چلی اور اپنی قبر میں اتر گئی۔ اسنے اپنے وجود کی قبر کو چھوا اور اس میں سرایت کرتی چلی گئی۔ روح پھر جسم میں داخل ہوچکی تھی۔ اس نے آنکھیں کھول دیں۔ گو قبر میں گھپ اندھیرا تھا مگر عمر بھر وہ اس تیرگی کی عادی رہی تھی اس لئے اسے ڈر نہیں لگا۔ گو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی مگر عمر بھر اس نے کب کھل کے سانس لی تھی؟ اس نے کروٹ بدلی، کفن کی بندش میں کسمسائی اور دیوار کا سہارا لے کر اٹھ بیٹھی۔

ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اس کے سامنے والی دیوار دائیں طرف کو سرکنے لگی۔ دیوار اپنی جگہ سے ہٹ گئی تو ایک در وا ہوا۔ بہت تیز دودھیا روشنی پوری قبر میں بھر گئی۔ پہلے تو اس کی آنکھیں چندھیا گئیں مگر آہستہ آہستہ اسکی آنکھیں اس روشنی کی عادی ہو گئیں۔ اسنے پروں کی پھڑپھراہٹ سنی اور پھر سامنے کھلنے والے دروازے سے ایک عجیب الخلقت مخلوق قبر میں داخل ہوئی۔ اس عجیب الخلقت مخلوق کو جو انسانوں اور پرندوں کے باہمی امتزاج کا نتیجہ دکھائی دیتی تھی اس نے خالی خالی آنکھوں سے گھورا۔

یہ شاید حساب کتاب کا فرشتہ تھا۔ فرشتے نے ہاتھ میں پکڑی تختی کو اپنی گود میں رکھا اور آلتی پالتی مار کر اسکے سامنے بیٹھ گیا۔ دونوں کچھ دیر تک ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔ فرشتے نے اسے ڈرانے کے لئے ایک پل میں ایک ہزار بار اپنی آنکھوں کا رنگ بدلا۔ اس کی آنکھوں سے قہر برس رہا تھا۔ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اس کے چہرے پہ پھیلی طنزیہ مسکراہٹ میں کوئی کمی نہ آئی۔ تمام عمر اس نے نظروں کے جو تازیانے سہے تھے وہ اس فرشتے کی قہر آلود آنکھوں سے زیادہ ہولناک تھے۔

آخر گہرے سکوت کو فرشتے کی گونجدار آواز نے توڑا۔ ’بی بی میں حساب کتاب کا فرشتہ ہوں۔ آج تجھے اپنی ساری زندگی کے اعمال کا حساب دینا ہوگا ’ وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر طنزیہ انداز میں ہنسنے لگی۔ ’کھی کھی کھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھی‘ وہ دیوانہ وار ہنستی چلی گئی۔ پھر اسنے دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت فرشتے کی طرف اٹھا تے ہوئے ہنستے ہوئے کہا: ’آج کے دن تو حساب لینے آیا ہے۔ مجھ سے حساب لینے آیا ہے۔ کھی کھی کھی کھی کھی۔

۔ ۔ میری زندگی کا حساب لینے آیا ہے؟ ’ فرشتے نے پریشان ہو کر کہا: ’ہاں تیری زندگی کا حساب لینے آیا ہوں‘ اس پر پھر ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔ وہ اتنا ہنسی اتنا ہنسی کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ ذرا سا سنبھلی تو اس نے تلخ لہجے میں پوچھا: ’کیا مجھے زندگی ملی تھی جو تو حساب لینے آ گیا؟ ’ فرشتہ ذرا سا کسمسایا اور پھر اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے بولا: ’تو کیسی باتیں کر رہی ہے۔ کہیں پاگل تو نہیں ہو گئی۔ آج تک مجھ سے کسی نے ایسے بات نہیں کی۔ سیدھی طرح اپنی زندگی کا حساب دے کہ تیری منزل کا فیصلہ کیا جا سکے۔ ’ اب اس کے چہرے پہ سنجیدگی طاری ہو گئی۔ اس نے ایسی قہر آلود آنکھوں سے فرشتے کو دیکھا کہ اس کے پر جلنے لگے۔ وہ تلخ لہجے میں چیخی: ’لے سن پھر! ساری زندگی اپنے پل پل کا حساب دیتی آئی ہوں۔ تو بھی لے لے حساب۔ ’ فرشتہ گود میں رکھی تختی پر جھک کر بولا: ’بول!‘ وہ پھر ہنسی۔ ’چل تو نے اتنا تو کہا کہ‘ بول ’۔

چل سن سکتا ہے تو پھر سن!‘ اس نے بولنا شروع کیا تو اس کے لہجے میں صدیوں کی تلخی بھر گئی۔ ’میں نے ہر سانس زنجیروں کے بوجھ تلے گزاری ہے۔ میں پیدا ہوئی تو مجھے آہنی لبادہ پہنا دیا گیا کہ سب کو ڈر تھا کہ کہیں میری ٹانگوں کے درمیاں رکھے تخم تخلیق کو کوئی چرا نہ لے۔ عمر بھر للچائی گھورتی آنکھوں کے شعلے میرے جسم کو پگھلاتے رہے۔ میرا وجود گناہ کی پوٹلی ٹھہرایا گیا۔ مجھے روایتوؤں کی منڈی میں بیچا گیا۔ میں تو عمر بھر اپنی مرضی سے ایک قدم نہ اٹھا سکی۔

میں نے کبھی اپنے جسم پہ اپنے حق کی بات بھی کی تو مجھے فاحشہ قرار دے دیا گیا۔ میری آواز گالیوں کے شور میں دبا دی گئی۔ تو مجھ سے کیا حساب لینے آیا ہے۔ میں تو اپنا نام بھی بھول گئی کہ میں تو ہمیشہ کسی کی دختر، کسی کی زوجہ کسی والدہ کے نام سے پہچانی گئی۔ ’ وہ روانی میں بولتے بولتے چپ ہو گئی۔ اس نے گہری آنکھوں سے فرشتے کے دھواں ہوتے چہرے کو دیکھا اور تلخ لہجے میں چلائی: ’ میں تیرے سب سوالوں کے جواب دینے کو حاضر ہوں مگر پہلے میرے ایک سوال کا جواب دے دے۔ ’ ’ جس زندگی کا حساب تو مجھ سے لینے آیا ہے کیا وہ زندگی میری تھی؟‘ فرشتے کے ہاتھ سے تختی زمین پر گری اور کانچ کی طرح کرچی کرچی ہو گئی۔ پورا قبرستان نسوانی قہقہوں سے گونجنے لگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •