کشمیر کی بھارت نواز لیڈر شپ کی پریشانی اور گپکار ڈیکلریشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز عناصر پر مشتمل لیڈر شپ ان دنوں واضح طور پر پریشانی، تشویش اور خوف کا شکار دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ مودی حکومت اجیت دوگل فارمولے کے تحت ان کو ماضی کی کانگریسی حکومت کی پالیسی کے برخلاف، کسی قسم کی کوئی اہمیت دینے پر تیار نظر نہیں آتی مسئلہ کشمیر کے بارے میں مودی حکومت کی طرف سے اپنائی جانے والی نئی جارحانہ حکمت عملی کے مطابق کشمیر پالیسی میں اب پہلے کی روایتی پالیسی کی طرح ضمیر فروش اور قوم فروش نام نہاد مقامی لیڈر شپ جو خود پر اپنی اپنی قیمت کے ٹیگ لگاے ہمیشہ ”مارکیٹ میں برائے فروخت موجود رہا کرتے تھی، اجیت دوگل فارمولہ کے تحت ان پر انحصار کی پالیسی کو ترک کر دیا گیا ہے، یوں یہ عناصر مالی اور سیاسی طور پر عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں، جس خوف کی عکاسی خودان کے اور ان کے گنتی کے ہمدردوں اور کارکنوں میں دکھائی دے رہی ہے۔

منتقی طور پر یہ عناصر اپنا“ دھندہ ”بدستور جاری رکھنے کے لیے اب ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت اپنا جھکاؤ پاکستان کی طرف ظاہر کرنے کا ڈرامہ کر رہے ہیں، اس کو اہمیت دینے اور دلوانے کے لیے اپنی تشویش اور رجہان کا اظہار دونوں طرف کے سامنے“ گپکار ڈیکلریشن ”کے نام سے کیا گیا ہے، جس کا“ زکر خیر ”پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھی اپنے ایک بیان میں بظاہر سرسری طور پر فرمایا ہے، یہ بھارت نواز کشمیری لیڈر شپ“ گپکار ڈیکلریشن جیسے بیانات سے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش میں ہیں، کہ ایک تو وہ اپنے بھارتی آقاؤں کو سیاسی طور پر بلیک میل کرنے کی کوشش میں ہیں، اور دوسری طرف کشمیر کی سیاست اور مزاج سے نابلد موجودہ پاکستانی قیادت پر بھی کانٹا پھینک رہے ہیں، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کوشش میں ان کو بھارتی خفیہ اداروں کے بعض ”سابق سربراہوں“ کی آشیر واد کے ”پگ مارک“ بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

اور اس سرپرستی کے بارے میں پاکستان کے پالیسی سازوں کو لازماً پوری طرح باخبر اور ہوشیار رہنا چاہیے۔ طویل عرصہ سے جارحیت، ظلم اور سازشوں کا شکار کشمیری عوام یہ شبہ کرنے میں بھی حق بجانب ہوں گے کہ کہیں جنرل (ر ) اسد درانی اور سابقہ را چیف دولت کی مشترکہ برادرانہ ماحول میں تحریر کردہ کتاب ”دا سپائی کرانیکلز“ کی طرح کہیں یہ پالیسی دونوں اطراف کی کسی ”خفیہ مفاہمت“ پر مشتمل نہ ہو، کیونکہ اس مشترکہ پالیسی کے اوپر امریکہ کی پالیسی اور ہدایات کا گہرا سایہ ماضی قریب کے اقدامات اور بیانات کی روشنی میں واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔

تعمیراتی شعبے میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ ”کوئی بھی، پراجکٹ اپنے آغاز، اور اختتام پر خصوصی توجہ اور خصوصی اقدامات کا متقاضی ہوتا ہے، کہیں“ خدانخواستہ ”یہ کشمیر پراجکٹ کے اختتام کرنے کے اقدامات نہ ہوں۔ بھارت نواز نام نہاد لیڈران کی اصل اوقات سے تو ہم بہت پہلے سے آگاہ ہیں۔ یہ تو اب مودی ہے یہاں تو پنڈت نہرو جیسے لیڈر نے شیخ عبداللہ کو جیل میں ڈال دیا تھا وہ تو ہمارے“ شیر ”کا حوصلہ جواب دے گیا، اور سوے دار سے سیدھا“ تختہ حکمرانی ”تک پہنچ گئے کشمیر کی دیرینہ صورتحال میں تخت حکمرانی کو“ تختہ حکمرانی ”لکھنا زیادہ برمحل، معنی خیز اور مناسب ہو گا، اور اس طرح شیخ صاحب کا طویل سیاسی سفر، بدنام زمانہ“ ایکارڈ ”تک آن پہنچا، اور شکرگزاری اور خوشامد کے طور پر لال چوک کا نام اسی قید کرنے اور آنکھیں بدل لینے والے نہرو کے نام پر رکھ دیا۔

لہذا آج کی اس چھوٹے درجے کے ضمیر فروشوں پر مشتمل بھارت نواز قیادت جو ہمیشہ اپنی قوم کے خلاف بھارت کی سازشوں کا حصہ بنتے آئے اور مناسب صلہ اور معاوضہ پاتے آئے آج مودی نے اور اجیت دوگل نے ان کو ان کی اصل اوقات دکھا دی ہے تو حیرت کیسی اور“ افسوس ”کیسا؟ اس گروہ ضمیر و قوم فروشاں کے پاس اب دوسرا والا آپشن تک نہیں جس کی دھمکی دے کر یہ بھارتی“ پاپولر ”لیڈر شپ کو بلیک میل کر سکیں جیسا کہ“ دوسری طرف کے لیڈرز کے گروپ کو حاصل رہی ہے کہ وہ کم از کم پاکستان کا نام لے کر تو کسی بھی طرف سے مفادات حاصل کر لیا کرتے تھے، اور اس موقف کے بل بوتے پر عوام میں بھی اپنی مقبولیت قائم کر لیا کرتے تھے۔ یہ دونوں گروپ سوچ اور حالات کا تجزیہ کرنے کے لحاظ سے اسی پرانے دور میں زندہ ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ ”امیرا کدل“ کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے اور جس پانی کو یہ اب تک وہیں قیاس کر رہے ہیں وہ مظفرآباد، منگلہ سے ہوتا ہوا کب کا ”بحیرہ عرب“ تک پہنچ کر تحلیل بھی ہو چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •